چین کی سیاہ مٹی، زراعت کے مستقبل کی بنیاد

چین کی سیاہ مٹی، زراعت کے مستقبل کی بنیاد
تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ

زمین مسلسل فصلیں دیتی رہے تو بظاہر اس کی زرخیزی کبھی ختم ہوتی محسوس نہیں ہوتی، لیکن مٹی بھی نگہداشت کی محتاج ہوتی ہے۔ ایک ہی فصل بار بار اگانے، کھاد اور زرعی ادویات کے بے تحاشا استعمال اور مسلسل کاشت سے زمین آہستہ آہستہ اپنی قدرتی طاقت کھونے لگتی ہے۔ چین کے شمال مشرقی علاقوں میں پھیلی زرخیز سیاہ مٹی کو بھی طویل عرصے سے ایسے ہی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔

یہ سیاہ مٹی اپنی زرخیزی اور مستحکم پیداوار کے باعث چین کی غذائی سلامتی کی اہم بنیاد ہے اور اسے قابل کاشت زمین کا ’’جائنٹ پانڈا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم مسلسل زرعی سرگرمیوں سے کہیں مٹی کا کٹاؤ بڑھا، کہیں تیزابیت پیدا ہوئی اور کہیں زمین کی ساخت متاثر ہوئی۔ چنانچہ سائنس دانوں نے مٹی کے تحفظ، جدید کاشت کاری اور فصلوں کی بہتر اقسام کو ایک مربوط نظام میں شامل کرنے پر توجہ مرکوز کی۔

سیاہ مٹی کے تحفظ کے لیے قائم جامع سائنسی پروگرام کے تحت فضائی اور زمینی نگرانی کا نظام تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے مٹی کی کیفیت، نامیاتی مادے اور زرخیزی میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ پورے سیاہ مٹی والے خطے کا جامع معلوماتی نقشہ بھی مرتب کیا گیا ہے تاکہ مختلف علاقوں کے مسائل کو سمجھ کر مناسب زرعی طریقے اختیار کیے جا سکیں۔

اب ہر جگہ ایک ہی طریقہ اپنانے کے بجائے مقامی حالات کے مطابق کاشت کاری کے ماڈل تیار کیے جا رہے ہیں۔ فصلوں کی گردش اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ سویابین، گندم، سرسوں اور جوار جیسی مختلف فصلوں کو ترتیب کے ساتھ اگانے سے ایک ہی فصل کے مسلسل دباؤ کو کم کیا جاتا ہے، بیماریوں اور کیڑوں کے امکانات گھٹتے ہیں اور مٹی کے کٹاؤ پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

فصلوں کی باقیات کو بھی دوبارہ زمین کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ بھوسے، نامیاتی کھاد کے امتزاج سے مٹی میں کاربن بڑھانے، تیزابیت کم کرنے اور زرخیزی بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محفوظ کاشت کاری میں زمین کو غیر ضروری طور پر بار بار الٹنے پلٹنے کے بجائے مخصوص پٹیوں میں کاشت اور سطح زمین پر فصلوں کی باقیات برقرار رکھنے جیسے طریقے بھی استعمال ہو رہے ہیں، جس سے ہوا اور پانی کے باعث مٹی کے کٹاؤ میں کمی آتی ہے۔

زرعی فضلے کو وسائل میں تبدیل کرنا بھی اس عمل کا اہم حصہ ہے۔ مویشیوں اور مرغیوں کے فضلے کو جمع کرکے حیاتیاتی خمیر کے ذریعے قابل استعمال بنایا جاتا ہے اور پھر اسے کھیتوں میں واپس پہنچایا جاتا ہے۔ اس طریقے سے کیمیائی کھاد پر انحصار کم کرنے اور زمین کی قدرتی زرخیزی بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ بعض کم پیداواری ڈھلوانی زمینوں پر جنگلات کی بحالی اور ان کے نیچے سبزیوں و ادویاتی پودوں کی کاشت جیسے متبادل طریقے بھی اختیار کیے جا رہے ہیں، تاکہ زمین کا تحفظ اور کسانوں کی آمدنی ساتھ ساتھ بہتر ہو۔

سیاہ مٹی کے تحفظ کے ساتھ فصلوں کی نئی اور زیادہ مضبوط اقسام تیار کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ مالیکیولر افزائش نسل میں جین چپس کے ذریعے سویابین کے جینیاتی خواص سے متعلق اہم مقامات کی شناخت کی جاتی ہے۔ اس عمل سے زیادہ پیداوار، بیماریوں کے خلاف مزاحمت اور مشکل ماحولیاتی حالات برداشت کرنے والی اقسام کے انتخاب میں مدد ملتی ہے۔

چین میں تیار کی جانے والی مقامی جین چپ ٹیکنالوجی نے سویابین کے ہزاروں اہم جینیاتی مقامات کی جانچ ممکن بنائی ہے، جبکہ ان معلومات کو تیزی سے پڑھنے کے لیے خصوصی آلات بھی تیار کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ دوبارہ استعمال ہونے والی جین چپس تیار کرنے پر بھی کام جاری ہے، جس کا مقصد افزائش نسل کی لاگت کم کرنا اور جدید طریقوں کو وسیع پیمانے پر قابل عمل بنانا ہے۔
مالیکیولر افزائش نسل کے ذریعے نمکیاتی اور الکلائن زمینوں کے لیے موزوں سویابین کی نئی اقسام تیار کرنے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ایسے طریقوں نے روایتی افزائش نسل کے مقابلے میں نئی اقسام تیار کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے امکانات پیدا کیے ہیں۔ یوں زمین کے تحفظ کے ساتھ ساتھ فصل کی جینیاتی صلاحیت بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔

سیاہ مٹی کے تحفظ کی یہ کوششیں دراصل زراعت کے بدلتے ہوئے تصور کی عکاسی کرتی ہیں۔ اب مقصد صرف زیادہ پیداوار حاصل کرنا نہیں بلکہ زمین کو بھی صحت مند رکھنا ہے۔ مٹی کی نگرانی، فصلوں کی گردش، نامیاتی وسائل کا استعمال، محفوظ کاشت کاری اور جدید افزائش نسل جب ایک ہی نظام کا حصہ بنتے ہیں تو زراعت زیادہ پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھ سکتی ہے۔

چین میں سیاہ مٹی کے تحفظ کا موجودہ سفر یہی دکھاتا ہے کہ غذائی سلامتی صرف زیادہ فصل اگانے کا نام نہیں بلکہ اس زمین کو محفوظ رکھنے کا عمل بھی ہے جو ان فصلوں کو جنم دیتی ہے۔ جب جدید سائنس زمین کی صحت، کسان کی آمدنی اور زرعی پیداوار کو ایک ساتھ دیکھتی ہے تو سیاہ مٹی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں رہتی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ زرعی سرمایہ بن جاتی ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1972 Articles with 1161525 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More