جب انسان اپنے ہی جذبات کے سامنے بے بس ہو جائے

### خلاصہ

انسان کے جذبات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ ہر درد آنسوؤں میں ظاہر نہیں ہوتا اور ہر خاموشی کے پیچھے سکون نہیں ہوتا۔ کبھی انسان اپنے ہی احساسات کے سامنے اتنا بے بس ہو جاتا ہے کہ نہ اپنی تکلیف بیان کر پاتا ہے اور نہ کسی سے مدد مانگ پاتا ہے۔ وہ مسکراتا رہتا ہے، لوگوں کو حوصلہ دیتا ہے، مگر اندر ہی اندر کئی جنگیں لڑ رہا ہوتا ہے۔

زندگی میں کچھ دکھ ہمیں توڑتے ضرور ہیں، لیکن یہی دکھ ہمیں خود کو سمجھنا بھی سکھاتے ہیں۔ وقت ہر زخم کو مٹا نہیں دیتا، مگر انسان کو اس درد کے ساتھ جینا سکھا دیتا ہے۔ آخرکار ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ کمزور پڑ جانا شکست نہیں، بلکہ انسان ہونے کی ایک حقیقت ہے۔


انسان اور اس کے جزبات

�# جب انسان اپنے ہی جذبات کے سامنے بے بس ہو جائے

کبھی کبھی انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے، مگر الفاظ نہیں ہوتے۔ دل میں ایک شور سا برپا ہوتا ہے، آنکھوں میں کئی سوال ٹھہرے ہوتے ہیں، مگر زبان خاموش رہتی ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ کسی کے سامنے بیٹھ کر سب کچھ کہہ دے، اپنے دل کا بوجھ اتار دے، مگر پھر نہ جانے کیوں خاموشی اسے اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔

شاید انسان کی سب سے بڑی بے بسی یہی ہے کہ وہ اپنے جذبات کو محسوس تو کر سکتا ہے، مگر ہر احساس کو بیان نہیں کر سکتا۔

کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے آنسو بھی کم پڑ جاتے ہیں۔ انسان رونا چاہتا ہے، مگر آنکھیں خشک رہتی ہیں۔ وہ چیخنا چاہتا ہے، مگر آواز حلق میں کہیں رک جاتی ہے۔ وہ کسی کو پکارنا چاہتا ہے، مگر دل کہتا ہے کہ شاید کوئی سننے والا ہی نہیں۔

اور پھر انسان مسکرانا سیکھ لیتا ہے۔

وہ لوگوں کے درمیان بیٹھ کر ہنستا ہے، باتیں کرتا ہے، سب کو یقین دلاتا ہے کہ وہ ٹھیک ہے۔ لیکن جب رات خاموش ہوتی ہے اور سب سو جاتے ہیں، تب وہی انسان اپنے خیالات کے ساتھ اکیلا رہ جاتا ہے۔ کچھ یادیں واپس آتی ہیں، کچھ چہرے یاد آتے ہیں، کچھ باتیں دل کو پھر سے توڑ دیتی ہیں۔

کبھی کبھی ہم کسی شخص کو نہیں، بلکہ اس شخص کے ساتھ جڑی ہوئی اپنی دنیا کو کھوتے ہیں۔

وہ عادتیں، وہ باتیں، وہ انتظار، وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں… سب اچانک اجنبی لگنے لگتی ہیں۔ انسان خود سے پوچھتا ہے کہ آخر اتنا سب کچھ بدل کیسے گیا؟ جو کل تک اپنا تھا، آج اتنا دور کیوں ہے؟

سب سے زیادہ تکلیف شاید تب ہوتی ہے جب انسان کو معلوم ہو کہ وہ کچھ بدل نہیں سکتا۔

وہ چاہ کر بھی کسی کو روک نہیں سکتا۔
چاہ کر بھی گزرا ہوا وقت واپس نہیں لا سکتا۔
چاہ کر بھی کسی کے دل میں اپنی جگہ دوبارہ نہیں بنا سکتا۔

اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان اپنی بے بسی کو سب سے زیادہ محسوس کرتا ہے۔

کبھی ہم دوسروں سے نہیں، خود سے ہار جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں آگے بڑھنا چاہیے، مگر دل پیچھے رہ جاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کچھ رشتے ختم ہو چکے ہیں، مگر دل اب بھی ان کے لوٹ آنے کا انتظار کرتا رہتا ہے۔

انسان عجیب مخلوق ہے۔

وہ ٹوٹ کر بھی دوسروں کو سنبھالتا ہے۔
خود اداس ہو کر بھی دوسروں کو ہنساتا ہے۔
خود اندر سے خالی ہو کر بھی کسی اور کو حوصلہ دیتا ہے۔

اور شاید اسی لیے بہت سے لوگ ہمیں مضبوط نظر آتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ صرف اپنی کمزوری چھپانے کا ہنر سیکھ چکے ہوتے ہیں۔

کچھ لوگ اپنی تکلیف بتاتے نہیں، بس بدل جاتے ہیں۔

ان کی باتوں میں پہلے جیسی گرمی نہیں رہتی۔ وہ زیادہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ ہر بات پر بحث کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ شکایتیں کم ہو جاتی ہیں، توقعات ختم ہو جاتی ہیں۔ اور ایک دن وہ اتنے خاموش ہو جاتے ہیں کہ ان کے اندر کیا چل رہا ہے، یہ جاننے کی کوشش بھی کوئی نہیں کرتا۔

شاید سب سے بڑا دکھ یہی ہے۔

کہ انسان کے اندر طوفان ہو اور دنیا اسے صرف خاموش دیکھے۔

کبھی کبھی دل چاہتا ہے کوئی بغیر پوچھے سمجھ جائے۔ کوئی صرف اتنا کہہ دے:

**"تمہیں مضبوط بننے کی ضرورت نہیں، میرے سامنے تم جیسے ہو ویسے ہی رہ سکتے ہو۔"**

مگر زندگی میں ہر کسی کو ایسا شخص نہیں ملتا۔

اس لیے انسان آہستہ آہستہ خود کو خود ہی سنبھالنا سیکھ لیتا ہے۔ اپنے آنسو خود پونچھتا ہے، اپنی راتیں خود گزارتا ہے اور اپنے دل کو خود سمجھاتا ہے کہ شاید کل بہتر ہو۔

لیکن سچ یہ ہے کہ کچھ زخم کبھی مکمل طور پر نہیں بھرتے۔

وہ بس ہمیں بدل دیتے ہیں۔

ہم پہلے جیسے نہیں رہتے۔ ہم زیادہ سوچنے لگتے ہیں، زیادہ محسوس کرنے لگتے ہیں، اور لوگوں کو اپنے قریب آنے سے پہلے کئی بار سوچتے ہیں۔

پھر بھی کہیں نہ کہیں دل کے کسی کونے میں امید باقی رہتی ہے۔

ایک چھوٹی سی امید کہ شاید کبھی کوئی ایسا دن آئے گا جب دل پر اتنا بوجھ نہیں ہوگا۔ جب ماضی یاد آئے گا تو آنکھیں نم نہیں ہوں گی۔ جب انسان اپنے گزرے ہوئے کل کو دیکھ کر صرف اتنا کہے گا:

**"ہاں، وہ وقت مشکل تھا… مگر میں گزر گیا۔"**

اور شاید یہی زندگی ہے۔

کچھ لوگ ہمارے ساتھ رہنے کے لیے آتے ہیں، کچھ ہمیں سبق دینے کے لیے، اور کچھ صرف یہ سکھانے کے لیے کہ ہمیں خود کو کبھی نہیں کھونا چاہیے۔

آخر میں انسان کے پاس سب سے زیادہ جو چیز رہ جاتی ہے، وہ اس کی اپنی ذات ہوتی ہے۔

اس لیے اگر آج تم تھکے ہوئے ہو، اگر تمہارے دل میں بہت کچھ ہے اور تم کسی سے کہہ نہیں پا رہے، تو خود کو کمزور مت سمجھنا۔

تم انسان ہو۔

تمہیں درد محسوس کرنے کا حق ہے۔
تمہیں رونے کا حق ہے۔
تمہیں تھک جانے کا حق ہے۔

ہر وقت مضبوط رہنا ضروری نہیں۔

کبھی کبھی خود کو ٹوٹنے دینا بھی ضروری ہوتا ہے، تاکہ انسان اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو دوبارہ جمع کر سکے۔

اور شاید ایک دن…

تم اپنے ہی دل کی طرف دیکھ کر مسکرا دو گے۔

کیونکہ تمہیں احساس ہوگا کہ جس درد نے کبھی تمہیں بے بس کر دیا تھا، وہی درد تمہیں پہلے سے زیادہ گہرا، زیادہ سمجھدار اور زیادہ انسان بنا گیا۔

**— nr**

 

Noor
About the Author: Noor Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.