21 ستمبر عالمی یوم امن

لیگ آف نیشنز سے قوام متحدہ تک
"عالمی یوم امن"
لیگ آف نیشنز سے اقوام متحدہ تک کا سفر
تحریر: رفیع عباسی
دنیا میں امن کا قیام محض ایک خواہش نہیں بلکہ انسانیت کی بقاء ترقی اور خوش حالی کے لیے ناگزیر ضرورت ہے۔ جنگیں، منافرت، مذہبی و نسلی تعصبات اور باہمی اختلافات انسانی معاشروں کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں، جبکہ امن و امان کی فضاء انہیں استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ اقوام متحدہ نے 1981ء میں’’عالمی یومِ امن‘‘ منانے کا فیصلہ کیا، جبکہ 2001ء میں 21/ ستمبر کو عدم تشدد اور جنگ بندی کے عالمی دن کے طور پر مقرر کیا گیا۔ اس دن کا مقصد دنیا بھر میں امن کے تصورات کو فروغ دینا اور قوموں کے درمیان مفاہمت و تعاون کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔اقوام متحدہ کے عالمی یومِ امن 2026ء کا موضوع ’’امن میں سرمایہ کاری ، ہر فرد کے لیے، ہر جگہ، ہر روز‘‘ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پائیدار امن کے لیے مسلسل عملی کوششیں، باہمی تعاون اور اجتماعی ذمہ داری ضروری ہیں۔
دنیا میں بنی نوع انسان کے قدم رکھنے کے چند صدیوں بعد سے ہی چھوٹے تنازعات بعد ازاں جنگ و جدل کا باعث بنے۔ اس دور میں جنگوں کی روک تھام کے لئے کوئی مصالحتی ادارہ وجود میں نہیں آیا تھا۔ ممالک اور ریاستیں اپنے طور سے تنازعات نمٹاتی تھیں۔ دنیا میں پہلی بڑی جنگ، ’’جنگ قادش‘‘ 1259 قبل مسیح میں، سلطنت مصر اور حتیّ سلطنت کے مابین لڑی گئی ، کئی ماہ تک جاری خون ریزی کے بعد بھی فاتح اور مفتوح کا فیصلہ نہیں ہوسکا اور یہ جنگ بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہوگئی۔ جنگ قادش کے خاتمے کے لیے مصر کے شہنشاہ ، فرعون رعمسیس اور سلطنت حتی کے بادشاہ حتوسیلی سوم کے درمیان ’’معاہدہ قادش ‘‘ طے پایا۔ اسے دنیا کا پہلا امن معاہدہ کہا جاتا ہے۔اس معاہدے کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر، اس کی ایک تانبے کی نقل اقوامِ متحدہ (UN) کے ہیڈکوارٹر نیو یارک میں سلامتی کونسل کے ہال کے باہر آویزاں ہے۔
حضور پاکﷺ نے حرمین شریفین میں امن وامان کے قیام کے لئے کفار مکہ کے ساتھ معاہدے کیے جن میں صلح حدیبیہ اور میثاقِ مدینہ قابل ذکر ہیں جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں مسلمانوں کو فتح مبین کی نوید دی ۔
17ویں صدی عیسوی یورپی باشندوں کے لیے مصیبت اور ابتلاء کا زمانہ رہا۔ 1648 میں یورپ میں جاری 30 سالہ جنگوں کا خاتمہ کرنے کے لیے معاہدہ ویستفالیاPeace of Westphalia ہوا۔ اس معاہدے کے اطلاق سے نہ صرف یورپی ممالک کے درمیان طویل جنگوں کا خاتمہ ہوا بلکہ بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد رکھی گئی۔
بیسویں صدی کے آغاز میں یورپی ممالک خاص طور پر جرمنی اور برطانیہ کے درمیان جدید جنگی ہتھیار، بحری جہاز اور افواج بڑھانے کی مسابقت شروع ہوئی، جس نے دوسری عظیم جنگ کا ماحول تیار کیا۔ یورپ کی بڑی طاقتیں دو بڑے خفیہ اور اعلانیہ اتحادوں میں بٹی ہوئی تھیں۔ ایک طرف "اتحادی قوتیں" برطانیہ، فرانس اور روس تھیں، دوسری جانب مرکزی طاقتیں‘‘جرمنی، آسٹریا،ہنگری اور سلطنت عثمانیہ یعنی ترکی تھیں۔یورپ بالخصوص بلقان کے خطے میں قوم پرستی کا رجحان عروج پر تھا۔ مختلف النسل لوگ اپنی آزاد ریاستیں قائم کرنا چاہتے تھے، جس کی وجہ سے آسٹریا اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
جنگ کا لاوا پہلے ہی پک رہا تھا اس پر 28/فروری 1914ء کو آسٹروی شہزادے آرک ڈیوک فرڈی ننڈ اور اس کی اہلیہ، صوفی ، ڈچز آف ہونیبرگ کے سرائیو کے دورے کے دوران قتل نے جلتی پر تیل کا کام کیا جو پہلی جنگ عظیم کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ 23/جولائی 1914 کو آسٹریا نے سرائیو کو جنگ کا الٹی میٹم دیا اور 28/ جولائی 1914ءکو ایسی خوفناک جنگ شروع ہوئی جس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس جنگ میں دونوں متحارب فریقین کے نصف درجن سے زیادہ ممالک برسر پیکار تھے جب کہ 1917ء میں ریاست ہائے متحدہ امریکا بھی جنگ میں شامل ہوگیا۔
نومبر 1918ء میں جرمنی اور اس کے اتحادیوں کی شکست کے ساتھ جنگ کا خاتمہ ہوا۔ جنگ کے دوران 2 کروڑ فوجی اور عام شہری ہلاک جبکہ اتنی ہی تعداد زخمیوں کی تھی۔۔جنگ کے بعد دنیا کو شدید ترین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔
مستقبل میں ایسی کسی بھی تباہ کن جنگ کی روک تھام کرنے اور عالمی تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے یکم جنوری 1920ء کو لیگ آف نیشنز( جمعیت اقوام) قائم کی گئی۔ ابتدا میں اس ادارے میں 28 اتحادی اور 14 غیر جانبدار ممالک شامل ہوئے، بعد میں ارکان کی تعداد 60 ممالک تک پہنچ گئی۔1934 میں روس اور افغانستان نے بھی اس کی رکنیت حاصل کرلی۔ 1935ء میں جاپان اور جرمنی نے لیگ آف نیشنز کو خیرباد کہہ دیا جب کہ 1937ء میں اٹلی نے بھی اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔لیگ آف نیشنز یا جمعیت اقوام اسمبلی کے پہلے صدر بیلجیم کے سیاستدان اور سفارتکار پال ہائمنز (Paul Hymans) جبکہ لیگ آف نیشنز کی کونسل کے پہلے صدر فرانسیسی سیاستدان لیوں بورجوا (Léon Bourgeois) تھے۔
لیگ آف نیشنز پہلی جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد 1919ء میں قائم ہونے والا ایک ایسا عالمی ادارہ تھا جس کا بنیادی مقصد دنیا میں امن قائم رکھنا اور تنازعات کو سفارتی طریقے سے حل کرنا تھا۔ تاہم، یہ ادارہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ لیگ آف نیشنز کے قیام اور اس کی تشکیل میں امریکی صدر ووڈرو ولسن کا اہم کردار تھا، لیکن امریکی کانگریس کی عدم دلچسپی کے باعث امریکا اس کا رکن نہیں بن سکا جس سے ادارے کے وقار اور اثر و رسوخ کو شدید دھچکا لگا۔ لیگ آف نیشنز کے پاس اپنی کوئی باقاعدہ فوج یا عسکری طاقت نہیں تھی جس کی مدد سے وہ جارح ملکوں کو بذریعہ قوت روک سکتا۔ یہ صرف معاشی پابندیوں پر اکتفا کرتا تھا جو کہ اکثر ناکافی ثابت ہوتی تھیں۔یہ ادارہ برطانیہ اور فرانس جیسے بڑے ارکان کے سامنے بے بسی کا شکار تھا۔ جب طاقتور ممالک نے کمزور ممالک پر حملے کیے تو جمعیت اقوام انہیں روکنے میں ناکام ثابت ہوئی۔ ادارے کے قوانین کے مطابق اہم فیصلوں کے لیے تمام ارکان کی متفقہ رائے ضروری تھی، جس کی وجہ سے اکثر اہم معاملات پر بروقت اور فیصلہ کن اقدامات کرنا ناممکن ہو گیا۔ 1930ء کی دہائی میں جرمنی میں ہٹلر، اٹلی میں مسولینی اور جاپان کی جارحانہ پالیسیوں کے سامنے یہ ادارہ مکمل طور سے بے بس ہو گیا اور 1939ء میں دوسری جنگ عظیم کو شروع ہونے سے نہیں روک سکا۔اس ادارے کی ناکامی کے بعد دنیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے 1945ء میں اقوام متحدہ (United Nations) کی تشکیل ہوئی اور 20/ اپریل 1946ء کو لیگ آف نیشنز باضابطہ طور پر ختم کر دی گئی۔1919 کی پیرس امن کانفرنس میں جنگوں کی روک تھام کے لیے ”لیگ آف نیشنز“ کے قیام کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ یہ ادارہ قیام امن کے لیے موثر ثابت ہو گا۔ جنگ کے بعد ایک دہائی تک فضا نسبتاً سازگار رہی مگر 1930 کے بعد صورت حال بدل گئی۔ 30 کی دہائی میں پیش آنے والے حالات اور واقعات نے جنگ کے امکانات بڑھا دئیے لیگ آف نیشنز طاقتور ممالک کی جارحیت، جاپان کے چین پر حملے اور اٹلی کا ایتھوپیا پر حملہ روکنے میں ناکام رہی۔
پہلی جنگ عظیم کے اختتام کے بعد پیرس میں ورسائےمعاہدہ ہوا جس میں شکست خوردہ جرمنی پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔ جرمنی میں ایڈولف ہٹلر اور اٹلی میں بینیتو مسولینی کی فاشسٹ حکومتوں نے قوم پرستی اور توسیع پسندانہ پالیسیاں اپنائیں۔ 1930ء کی دہائی کے عالمی معاشی بحران نے یورپ میں بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام پیدا کردیا، جس نے انتہا پسندوں کو اقتدار تک پہنچنے کا فراہم کیا۔
دوسری جنگ عظیم دو طاقتور اتحادوں،محوری قوت اور اتحادی طاقتوں کا ٹکراؤ تھا۔محوری قوتوں میں جرمنی، اٹلی اور جاپان جب کہ اتحادیوں کے ساتھ برطانیہ، سوویت یونین (روس) ریاست ہائے متحدہ امریکہ، فرانس، چین کے علاوہ پچاس سے زائد دیگر ممالک شامل تھے۔ جنگ کا آغاز یکم ستمبر 1939ء کو اس وقت ہوا جب جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا، جس کے بعد برطانیہ اور فرانس نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔اس جنگ میں انسانی جانوں کا زیاں اور تباہ کاریاں پہلی عالمی جنگ کی نسبت کئی گنا زیادہ تھیں۔دوسری عالمی جنگ میں تقریباً 7 سے 8 کروڑ افراد ہلاک ہوئے۔ جرمنی کی نازی حکومت نے ہولوکاسٹ کے نام پر یہودیوں اور دیگر اقلیتوں کی نسل کشی کی، جس میں لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ مئی 1945ء میں جرمنی کی شکست کے ساتھ یورپ میں جنگ ختم ہوگئی لیکن جاپانی فوجوں نے ہتھیار نہیں ڈالے تھے اور ان کے حملے جاری تھے۔جنگ کا دائرہ بڑھتا جارہا تھا اور پانچ سال گزرنے کے باوجود اس کے اختتام کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔اس صورت حال کو مدنظر رکھ کر ا مریکہ نے اگست 1945ء میں جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے، جنہوں نے چند ہی سیکنڈ میں لاکھوں انسانوں کی زندگیاں ختم کر دیں ۔ جاپان میں ہولناک تباہی کے بعد اس میں مزید جنگ کی سکت نہیں رہی اور اس نے بھی ہتھیار ڈال دیے اور جنگ کا باضابط طور سے خاتمہ ہوگیا۔
دوسر ی جنگ عظیم کے اختتام کے بعد لیگ آف نیشنز کی جگہ ایک نئے اور موثر عالمی ادارے کی ضرورت محسوس کی گئی جو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے خطرات سے بچاسکے۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا۔ اقوام متحدہ کا باضابطہ آغاز 24 اکتوبر 1945 میں اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کے بعد ہوا۔ دوسری جنگ عظیم کے فاتح ممالک بشمول چین، فرانس، سوویت یونین، برطانیہ اور امریکہ اقوام متحدہ کے بانیوں میں شامل تھے۔
اقوام متحدہ (UN) کی سب سے بڑی کامیابی دوسری جنگِ عظیم کے بعد تیسری عالمی جنگ کو روکنا اور بین الاقوامی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔عالمی ادارے نے دنیا کے مختلف ممالک میں تنازعات کو حل کرنے اور جنگ بندی کرانے کے لیے امن فوج (Peace keeping Forces) تعینات کی۔ 1948ء میں انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ (Universal Declaration of Human Rights) منظور کیا۔دُنیا بھر کے درجنوں غلام اور مقبوضہ ممالک کو آزادی دلانے میں اس نے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ذریعے دنیا سے چیچک جیسی خطرناک بیماری کا خاتمہ کیا اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے یونیسف (UNICEF) کے ذریعے نمایاں خدمات انجام دیں ۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بین الاقوامی معاہدے ترتیب دیے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1981ء میں21 ستمبر کو امن کے عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ اس کا مقصد دنیا بھر میں امن کی اہمیت اجاگر کرنا، جنگوں، تشدد اور نفرتوں کا خاتمہ کرنا اور باہمی محبت، برداشت اور عدم تشدد کے فلسفے کو فروغ دینا تھا۔ اس روز دنیا بھر میں سیمینارز اور امن واک کا انعقاد کیا جاتا ہے۔جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امن کی بحالی اور جنگ بندی کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

 

Rafi Abbasi
About the Author: Rafi Abbasi Read More Articles by Rafi Abbasi: 2 Articles with 129 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.