پشاور کا گندا پانی: تین دہائیاں پہلے بنے صفائی کے منصوبے کہاں گئے؟
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پشاور میں گندے پانی کی صفائی کا مسئلہ آج کا نہیں۔ شہر میں گھروں، بازاروں اور آبادیوں سے نکلنے والے گندے پانی کو دریاوں، نالوں اور نہروں میں جانے سے پہلے صاف کرنے کے لیے عملی منصوبہ بندی کئی دہائیاں پہلے شروع ہوچکی تھی۔ لیکن دستیاب سرکاری ریکارڈ، اخباری رپورٹس، عدالتی کارروائیوں اور سرکاری جانچ پڑتال کی دستاویزات ایک اہم سوال اٹھاتی ہیں عوام کے پیسے سے گندے پانی کی صفائی کے لیے بنائے گئے منصوبوں کا انجام کیا ہوا؟ اور آج پشاور کا گندا پانی کہاں جا رہا ہے؟
دستیاب ریکارڈ کے مطابق پشاور میں گندے پانی کی صفائی کے ایک اہم منصوبے پر کام 1987 میں شروع ہوا۔ منصوبے کے لیے زمین حاصل کی گئی اور گندے پانی کو صاف کرنے کے لیے بڑے تالاب تعمیر کیے گئے۔منصوبے کا بنیادی تصور یہ تھا کہ گھروں اور آبادیوں سے نکلنے والا گندا پانی پہلے ان تالابوں میں پہنچے، جہاں اسے ایک مقررہ مدت تک رکھا جائے تاکہ پانی میں موجود آلودگی اور ٹھوس مادے الگ ہوسکیں اور پانی کو ماحول میں چھوڑنے سے پہلے اس کی صفائی ہوسکے۔
سال2010 کی ایک رپورٹ کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً 12 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے اور منصوبے کا بڑا حصہ 1999 تک مکمل ہوچکا تھا۔ لیکن گندے پانی کو آبادیوں سے ان صفائی کے تالابوں تک پہنچانے والی ضروری پائپ لائنیں مکمل نہ ہوسکیں۔یعنی ایک طرف گندے پانی کی صفائی کے لیے بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا گیا، لیکن دوسری طرف وہ نظام مکمل نہ کیا گیا جو گندا پانی وہاں تک پہنچاتا۔نتیجہ یہ نکلا کہ صفائی کا منصوبہ موجود ہونے کے باوجود گندا پانی صفائی کے مرحلے تک پہنچ ہی نہ سکا۔
سال1993 میں پشاور کے لیے گندے پانی کی صفائی کا ایک مزید بڑا منصوبہ سامنے آیا۔ اس کے تحت چار مقامات پر گندے پانی کی صفائی کے مراکز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا،،حیات آباد، ،ورسک روڈ،رنگ روڈ،چارسدہ روڈ، یہ چاروں اطراف شہر کے ہیں جس پر مختلف علاقے آباد ہیں مقصد یہ تھا کہ شہر کا گندا پانی براہ راست دریائے کابل، نہروں اور نالوں میں جانے کے بجائے پہلے صاف کیا جائے۔بعد کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ ان منصوبوں کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت حاصل تھی۔لیکن یہاں سے اس منصوبے کی کامیابی کے بجائے ناکامی کی کہانی سامنے آتی ہے۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق 1999 میں ایشیائی ترقیاتی بینک کا منصوبہ ختم کردیا گیا۔رپورٹس کے مطابق بینک نے صوبائی حکومت کو باقی ضروری کام مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی، خصوصاً گندے پانی کو صفائی کے مراکز تک پہنچانے والی پائپ لائنوں کا نظام۔لیکن یہ کام مکمل نہ ہوسکا۔ یوں ایک عجیب صورتحال پیدا ہوگئی زمین موجود تھی۔صفائی کے تالاب موجود تھے۔ تعمیراتی کام موجود تھا۔ لیکن گندا پانی وہاں پہنچانے کا مکمل نظام موجود نہیں تھا۔اس کے نتیجے میں پشاور کا گندا پانی دوبارہ نالوں، نہروں اور دیگر آبی راستوں کی طرف جاتا رہا۔رنگ روڈ: صفائی کے تالاب کچرے کے ڈھیر بن گئے اس پوری کہانی کا ایک اہم باب رنگ روڈ کے قریب ہزارخوانی میں قائم گندے پانی کی صفائی کا مرکز ہے۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق اس مرکز کی زمین تقریباً 253 کنال تھی۔ لیکن بعد کے برسوں میں گندے پانی کی صفائی کے لیے بنائے گئے تالابوں میں شہر کا ٹھوس کچرا ڈالنا شروع کردیا گیا۔2014 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس مقام کے دو بڑے تالاب کچرے سے بھر چکے تھے۔یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ صفائی کا مرکز کیوں بند ہوا۔اصل سوال یہ ہے کہ جس زمین کو عوامی رقم سے گندے پانی کی صفائی کے لیے حاصل کیا گیا تھا، اسے بعد میں کچرا پھینکنے کے لیے کس اختیار کے تحت استعمال کیا گیا؟ورسک روڈ، چارسدہ روڈ اور حیات آباد 2014 کی ایک رپورٹ کے مطابق چار مراکز میں سے صرف ورسک روڈ کا مرکز فعال بتایا گیا تھا جبکہ باقی مراکز غیر فعال ہوچکے تھے۔لیکن بعد کے سرکاری منصوبہ بندی کے ریکارڈ میں صورتحال مزید خراب نظر آتی ہے۔
پشاور کے پانی اور صفائی کے جامع منصوبے میں ورسک روڈ، چارسدہ روڈ اور رنگ روڈ کے موجودہ گندے پانی کی صفائی کے مراکز کا جائزہ لیا گیا۔اس جائزے میں بتایا گیا کہ یہ مراکز اس وقت فعال نہیں تھے۔بعض مقامات پر مٹی اور پودوں کی تہہ جمع ہوچکی تھی، جبکہ بعض جگہوں پر ٹھوس کچرا بھی موجود تھا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پشاور میں گندے پانی کی صفائی کے لیے بنایا گیا بنیادی ڈھانچہ صرف غیر فعال نہیں ہوا بلکہ وقت کے ساتھ بعض مقامات پر اپنی اصل مقصدیت بھی کھو بیٹھا۔
بدھنی کو اس تحقیق میں خصوصی اہمیت حاصل ہے، لیکن یہاں ایک بنیادی فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔بدھنی کو براہ راست گندے پانی کی صفائی کا مرکز قرار دینا درست نہیں ہوگا جب تک اصل انجینئرنگ ریکارڈ اس کی تصدیق نہ کریں۔زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ پشاور کے مختلف علاقوں سے نکلنے والا گندا پانی کن نالوں اور آبی راستوں کے ذریعے بدھنی نالے تک پہنچتا رہا اور وہاں سے آخرکار کہاں جاتا ہےاگر گندا پانی صفائی کے بغیر بدھنی یا دوسرے آبی راستوں میں داخل ہورہا ہے تو یہ صرف نکاسی آب کا مسئلہ نہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ بھی ہے۔
یہ معاملہ صرف اخباری رپورٹس تک محدود نہیں۔آڈیٹر جنرل پاکستان کی پشاور کے پانی اور صفائی سے متعلق کارکردگی کی جانچ پڑتال میں شاہدھنڈ، ورسک روڈ اور چارسدہ روڈ کے گندے پانی کی صفائی کے مراکز کو غیر فعال قرار دیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعض صفائی کے تالابوں میں مٹی اور پودے جمع ہوگئے تھے، بعض مقامات پر ٹھوس کچرا موجود تھا اور گندے پانی کو نالوں اور نہروں کی طرف منتقل کیا جارہا تھا۔یہ ایک اہم دستاویزی حقیقت ہے۔کیونکہ اب یہ مسئلہ صرف کسی سیاسی شخصیت، افسر یا اخبار کے دعوے تک محدود نہیں رہتا بلکہ سرکاری جانچ پڑتال کے ریکارڈ میں بھی ان مراکز کی غیر فعالیت اور گندے پانی کے مسئلے کی نشاندہی موجود ہے۔
2018 میں پشاور ہائی کورٹ کے سامنے بھی یہ معاملہ آیا۔قومی احتساب بیورو کی کارروائی کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ایک غیر فعال صفائی کے مرکز پر صرف تعمیراتی کام کی مد میں تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے گئے تھے، جبکہ مشینری نصب نہیں کی گئی یا بعد میں خراب ہوگئی۔قومی احتساب بیورو کے تحقیقاتی افسر نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ محکموں سے ریکارڈ حاصل کرنے میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔عدالت نے 1993 سے گندے پانی کی صفائی کے مراکز سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:اگر منصوبہ 1990 کی دہائی میں شروع ہوا، عوامی رقم خرچ ہوئی، زمین خریدی گئی، صفائی کے تالاب بنائے گئے اور تعمیراتی کام مکمل کیا گیا تو اس پورے منصوبے کا مکمل ریکارڈ کہاں ہے؟ 120 ملین یا 3.4 ارب روپے؟ اس معاملے میں ایک اور اہم تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک اخباری رپورٹ میں منصوبے کی لاگت تقریباً 12 کروڑ روپے بتائی گئی، جبکہ 2018 کی عدالتی کارروائی سے متعلق رپورٹ میں 3.4 ارب روپے کے منصوبے کا ذکر سامنے آیا۔یہ دونوں اعداد ایک جیسے نہیں ہیں۔یہ فرق خود ایک الگ تحقیق کا موضوع بن سکتا ہے:
12 کروڑ روپے کہاں خرچ ہوئے؟3.4 ارب روپے کس منصوبے یا کس مرحلے کے لیے تھے؟نظرثانی شدہ لاگت کتنی تھی؟ کتنی رقم بیرونی مالی معاونت سے آئی؟کتنی رقم صوبائی حکومت نے ادا کی؟ اور آخرکار کتنی رقم حقیقی طور پر زمین پر تعمیراتی کام اور مشینری پر خرچ ہوئی؟ آج کا سوال: گندا پانی صاف کہاں ہوتا ہے؟پشاور میں گندے پانی کی صفائی کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ شہری علاقوں سے نکلنے والے آلودہ پانی کو ماحول میں واپس چھوڑنے سے پہلے صاف کیا جائے۔
لیکن دستیاب ریکارڈ ایک مختلف تصویر دکھاتا ہے۔صفائی کے مراکز بنے۔زمین خریدی گئی۔ تالاب تعمیر ہوئے۔ مالی معاونت حاصل ہوئی۔ تعمیراتی کام ہوا۔ لیکن کئی مراکز غیر فعال ہوگئے۔ کچھ مقامات پر کچرا جمع ہوگیا۔ کچھ تالاب مٹی اور پودوں سے بھر گئے۔ اور گندا پانی دوبارہ نالوں، نہروں اور دوسرے آبی راستوں کی طرف جانے لگا۔اس کے بعد اصل سوال یہ نہیں کہ پشاور میں گندے پانی کی صفائی کا منصوبہ کبھی بنا تھا یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی پشاور کے گندے پانی کی صفائی کا مستقل نظام کیوں قائم نہیں ہوسکا؟ عوام کے پیسے سے بنائے گئے پرانے مراکز کیوں غیر فعال ہوئے؟ ان کی مشینری کہاں گئی؟ان کی زمین آج کس استعمال میں ہے؟گندے پانی کی صفائی کے لیے مختص زمین پر کچرا کس نے ڈالا؟مرمت اور بحالی کے لیے بعد میں کتنی رقم خرچ ہوئی؟اور سب سے بڑھ کر، آج پشاور کا گندا پانی آخر کہاں جا رہا ہے؟اس معاملے کو مکمل تحقیقاتی رپورٹ بنانے کے لیے 1987 اور 1993 کے اصل منصوبہ بندی دستاویزات حاصل کرنا ضروری ہے۔
#Peshawar #SewageTreatment #Wastewater #PeshawarSewerage #Budhni #Hayatabad #WarsakRoad #RingRoad #CharsaddaRoad #KhyberPakhtunkhwa #WaterPollution #EnvironmentalPollution #PublicMoney #ADB #NAB #PeshawarHighCourt #WSSP #LocalGovernment #InvestigativeJournalism #Pakistan #WaterCrisis #SewerageSystem #WastewaterManagement
پشاور کا گندا پانی: تین دہائیاں پہلے بنے صفائی کے منصوبے کہاں گئے؟
مسرت اللہ جان
پشاور میں گندے پانی کی صفائی کا مسئلہ آج کا نہیں۔ شہر میں گھروں، بازاروں اور آبادیوں سے نکلنے والے گندے پانی کو دریاو¿ں، نالوں اور نہروں میں جانے سے پہلے صاف کرنے کے لیے عملی منصوبہ بندی کئی دہائیاں پہلے شروع ہوچکی تھی۔ لیکن دستیاب سرکاری ریکارڈ، اخباری رپورٹس، عدالتی کارروائیوں اور سرکاری جانچ پڑتال کی دستاویزات ایک اہم سوال اٹھاتی ہیں عوام کے پیسے سے گندے پانی کی صفائی کے لیے بنائے گئے منصوبوں کا انجام کیا ہوا؟ اور آج پشاور کا گندا پانی کہاں جا رہا ہے؟
دستیاب ریکارڈ کے مطابق پشاور میں گندے پانی کی صفائی کے ایک اہم منصوبے پر کام 1987 میں شروع ہوا۔ منصوبے کے لیے زمین حاصل کی گئی اور گندے پانی کو صاف کرنے کے لیے بڑے تالاب تعمیر کیے گئے۔منصوبے کا بنیادی تصور یہ تھا کہ گھروں اور آبادیوں سے نکلنے والا گندا پانی پہلے ان تالابوں میں پہنچے، جہاں اسے ایک مقررہ مدت تک رکھا جائے تاکہ پانی میں موجود آلودگی اور ٹھوس مادے الگ ہوسکیں اور پانی کو ماحول میں چھوڑنے سے پہلے اس کی صفائی ہوسکے۔
سال2010 کی ایک رپورٹ کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً 12 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے اور منصوبے کا بڑا حصہ 1999 تک مکمل ہوچکا تھا۔ لیکن گندے پانی کو آبادیوں سے ان صفائی کے تالابوں تک پہنچانے والی ضروری پائپ لائنیں مکمل نہ ہوسکیں۔یعنی ایک طرف گندے پانی کی صفائی کے لیے بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا گیا، لیکن دوسری طرف وہ نظام مکمل نہ کیا گیا جو گندا پانی وہاں تک پہنچاتا۔نتیجہ یہ نکلا کہ صفائی کا منصوبہ موجود ہونے کے باوجود گندا پانی صفائی کے مرحلے تک پہنچ ہی نہ سکا۔
سال1993 میں پشاور کے لیے گندے پانی کی صفائی کا ایک مزید بڑا منصوبہ سامنے آیا۔ اس کے تحت چار مقامات پر گندے پانی کی صفائی کے مراکز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا،،حیات آباد، ،ورسک روڈ،رنگ روڈ،چارسدہ روڈ، یہ چاروں اطراف شہر کے ہیں جس پر مختلف علاقے آباد ہیں مقصد یہ تھا کہ شہر کا گندا پانی براہ راست دریائے کابل، نہروں اور نالوں میں جانے کے بجائے پہلے صاف کیا جائے۔بعد کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ ان منصوبوں کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت حاصل تھی۔لیکن یہاں سے اس منصوبے کی کامیابی کے بجائے ناکامی کی کہانی سامنے آتی ہے۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق 1999 میں ایشیائی ترقیاتی بینک کا منصوبہ ختم کردیا گیا۔رپورٹس کے مطابق بینک نے صوبائی حکومت کو باقی ضروری کام مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی، خصوصاً گندے پانی کو صفائی کے مراکز تک پہنچانے والی پائپ لائنوں کا نظام۔لیکن یہ کام مکمل نہ ہوسکا۔ یوں ایک عجیب صورتحال پیدا ہوگئی زمین موجود تھی۔صفائی کے تالاب موجود تھے۔ تعمیراتی کام موجود تھا۔ لیکن گندا پانی وہاں پہنچانے کا مکمل نظام موجود نہیں تھا۔اس کے نتیجے میں پشاور کا گندا پانی دوبارہ نالوں، نہروں اور دیگر آبی راستوں کی طرف جاتا رہا۔رنگ روڈ: صفائی کے تالاب کچرے کے ڈھیر بن گئے اس پوری کہانی کا ایک اہم باب رنگ روڈ کے قریب ہزارخوانی میں قائم گندے پانی کی صفائی کا مرکز ہے۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق اس مرکز کی زمین تقریباً 253 کنال تھی۔ لیکن بعد کے برسوں میں گندے پانی کی صفائی کے لیے بنائے گئے تالابوں میں شہر کا ٹھوس کچرا ڈالنا شروع کردیا گیا۔2014 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس مقام کے دو بڑے تالاب کچرے سے بھر چکے تھے۔یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ صفائی کا مرکز کیوں بند ہوا۔اصل سوال یہ ہے کہ جس زمین کو عوامی رقم سے گندے پانی کی صفائی کے لیے حاصل کیا گیا تھا، اسے بعد میں کچرا پھینکنے کے لیے کس اختیار کے تحت استعمال کیا گیا؟ورسک روڈ، چارسدہ روڈ اور حیات آباد 2014 کی ایک رپورٹ کے مطابق چار مراکز میں سے صرف ورسک روڈ کا مرکز فعال بتایا گیا تھا جبکہ باقی مراکز غیر فعال ہوچکے تھے۔لیکن بعد کے سرکاری منصوبہ بندی کے ریکارڈ میں صورتحال مزید خراب نظر آتی ہے۔
پشاور کے پانی اور صفائی کے جامع منصوبے میں ورسک روڈ، چارسدہ روڈ اور رنگ روڈ کے موجودہ گندے پانی کی صفائی کے مراکز کا جائزہ لیا گیا۔اس جائزے میں بتایا گیا کہ یہ مراکز اس وقت فعال نہیں تھے۔بعض مقامات پر مٹی اور پودوں کی تہہ جمع ہوچکی تھی، جبکہ بعض جگہوں پر ٹھوس کچرا بھی موجود تھا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پشاور میں گندے پانی کی صفائی کے لیے بنایا گیا بنیادی ڈھانچہ صرف غیر فعال نہیں ہوا بلکہ وقت کے ساتھ بعض مقامات پر اپنی اصل مقصدیت بھی کھو بیٹھا۔
بدھنی کو اس تحقیق میں خصوصی اہمیت حاصل ہے، لیکن یہاں ایک بنیادی فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔بدھنی کو براہ راست گندے پانی کی صفائی کا مرکز قرار دینا درست نہیں ہوگا جب تک اصل انجینئرنگ ریکارڈ اس کی تصدیق نہ کریں۔زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ پشاور کے مختلف علاقوں سے نکلنے والا گندا پانی کن نالوں اور آبی راستوں کے ذریعے بدھنی نالے تک پہنچتا رہا اور وہاں سے آخرکار کہاں جاتا ہےاگر گندا پانی صفائی کے بغیر بدھنی یا دوسرے آبی راستوں میں داخل ہورہا ہے تو یہ صرف نکاسی آب کا مسئلہ نہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ بھی ہے۔
یہ معاملہ صرف اخباری رپورٹس تک محدود نہیں۔آڈیٹر جنرل پاکستان کی پشاور کے پانی اور صفائی سے متعلق کارکردگی کی جانچ پڑتال میں شاہدھنڈ، ورسک روڈ اور چارسدہ روڈ کے گندے پانی کی صفائی کے مراکز کو غیر فعال قرار دیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعض صفائی کے تالابوں میں مٹی اور پودے جمع ہوگئے تھے، بعض مقامات پر ٹھوس کچرا موجود تھا اور گندے پانی کو نالوں اور نہروں کی طرف منتقل کیا جارہا تھا۔یہ ایک اہم دستاویزی حقیقت ہے۔کیونکہ اب یہ مسئلہ صرف کسی سیاسی شخصیت، افسر یا اخبار کے دعوے تک محدود نہیں رہتا بلکہ سرکاری جانچ پڑتال کے ریکارڈ میں بھی ان مراکز کی غیر فعالیت اور گندے پانی کے مسئلے کی نشاندہی موجود ہے۔
2018 میں پشاور ہائی کورٹ کے سامنے بھی یہ معاملہ آیا۔قومی احتساب بیورو کی کارروائی کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ایک غیر فعال صفائی کے مرکز پر صرف تعمیراتی کام کی مد میں تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے گئے تھے، جبکہ مشینری نصب نہیں کی گئی یا بعد میں خراب ہوگئی۔قومی احتساب بیورو کے تحقیقاتی افسر نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ محکموں سے ریکارڈ حاصل کرنے میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔عدالت نے 1993 سے گندے پانی کی صفائی کے مراکز سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:اگر منصوبہ 1990 کی دہائی میں شروع ہوا، عوامی رقم خرچ ہوئی، زمین خریدی گئی، صفائی کے تالاب بنائے گئے اور تعمیراتی کام مکمل کیا گیا تو اس پورے منصوبے کا مکمل ریکارڈ کہاں ہے؟ 120 ملین یا 3.4 ارب روپے؟ اس معاملے میں ایک اور اہم تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک اخباری رپورٹ میں منصوبے کی لاگت تقریباً 12 کروڑ روپے بتائی گئی، جبکہ 2018 کی عدالتی کارروائی سے متعلق رپورٹ میں 3.4 ارب روپے کے منصوبے کا ذکر سامنے آیا۔یہ دونوں اعداد ایک جیسے نہیں ہیں۔یہ فرق خود ایک الگ تحقیق کا موضوع بن سکتا ہے:
12 کروڑ روپے کہاں خرچ ہوئے؟3.4 ارب روپے کس منصوبے یا کس مرحلے کے لیے تھے؟نظرثانی شدہ لاگت کتنی تھی؟ کتنی رقم بیرونی مالی معاونت سے آئی؟کتنی رقم صوبائی حکومت نے ادا کی؟ اور آخرکار کتنی رقم حقیقی طور پر زمین پر تعمیراتی کام اور مشینری پر خرچ ہوئی؟ آج کا سوال: گندا پانی صاف کہاں ہوتا ہے؟پشاور میں گندے پانی کی صفائی کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ شہری علاقوں سے نکلنے والے آلودہ پانی کو ماحول میں واپس چھوڑنے سے پہلے صاف کیا جائے۔
لیکن دستیاب ریکارڈ ایک مختلف تصویر دکھاتا ہے۔صفائی کے مراکز بنے۔زمین خریدی گئی۔ تالاب تعمیر ہوئے۔ مالی معاونت حاصل ہوئی۔ تعمیراتی کام ہوا۔ لیکن کئی مراکز غیر فعال ہوگئے۔ کچھ مقامات پر کچرا جمع ہوگیا۔ کچھ تالاب مٹی اور پودوں سے بھر گئے۔ اور گندا پانی دوبارہ نالوں، نہروں اور دوسرے آبی راستوں کی طرف جانے لگا۔اس کے بعد اصل سوال یہ نہیں کہ پشاور میں گندے پانی کی صفائی کا منصوبہ کبھی بنا تھا یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی پشاور کے گندے پانی کی صفائی کا مستقل نظام کیوں قائم نہیں ہوسکا؟ عوام کے پیسے سے بنائے گئے پرانے مراکز کیوں غیر فعال ہوئے؟ ان کی مشینری کہاں گئی؟ان کی زمین آج کس استعمال میں ہے؟گندے پانی کی صفائی کے لیے مختص زمین پر کچرا کس نے ڈالا؟مرمت اور بحالی کے لیے بعد میں کتنی رقم خرچ ہوئی؟اور سب سے بڑھ کر، آج پشاور کا گندا پانی آخر کہاں جا رہا ہے؟اس معاملے کو مکمل تحقیقاتی رپورٹ بنانے کے لیے 1987 اور 1993 کے اصل منصوبہ بندی دستاویزات حاصل کرنا ضروری ہے۔
#Peshawar #SewageTreatment #Wastewater #PeshawarSewerage #Budhni #Hayatabad #WarsakRoad #RingRoad #CharsaddaRoad #KhyberPakhtunkhwa #WaterPollution #EnvironmentalPollution #PublicMoney #ADB #NAB #PeshawarHighCourt #WSSP #LocalGovernment #InvestigativeJournalism #Pakistan #WaterCrisis #SewerageSystem #WastewaterManagement
|