خیبر پختونخوا میں آبپاشی نظام کی 300 سالہ تاریخ، مغلیہ دور سے جدید آبپاشی محکمے تک
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
خیبر پختونخوا میں آبپاشی کا نظام کوئی جدید تصور نہیں بلکہ اس کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ دریائے کابل کے پانی سے کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے مغلیہ دور میں بنائے گئے نہری نظام سے شروع ہونے والا یہ سفر برطانوی دور، قیام پاکستان، ون یونٹ، واپڈا کے قیام اور مختلف انتظامی تبدیلیوں سے گزرتا ہوا آج کے آبپاشی محکمے تک پہنچا۔دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق خیبر پختونخوا میں باقاعدہ آبپاشی نظام کی ابتدائی اہم مثال مغل بادشاہ اورنگزیب کے دور میں ملتی ہے۔
17ویں صدی میں دریائے کابل کے دائیں کنارے سے جوئے شیخ انیڈیٹیشن کینال تعمیر کی گئی۔ اس نہر کا مقصد پشاور کے گردونواح کے علاقوں کو آبپاشی کی سہولت فراہم کرنا تھا۔یہ منصوبہ اس خطے میں دریائی پانی کو زرعی زمینوں تک پہنچانے کے منظم طریقہ کار کی ابتدائی مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔
سال1786 میں ہندوستان میں سرکاری تعمیراتی امور کی نگرانی کے لیے ملٹری بورڈ قائم کیا گیا، جبکہ 1854 میں پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ وجود میں آیا۔ اس ادارے کے دائرہ کار میں سڑکوں، عمارتوں، ریلوے، سیلاب سے بچاو، آبپاشی اور فوجی تعمیرات شامل تھیں۔اسی سال رابرٹ نیپیئر کو ہندوستان میں سول، فوجی اور عوامی تعمیراتی امور کی نگرانی کے لیے چیف انجینئر مقرر کیا گیا، جبکہ نہروں کے امور کے لیے الگ ڈائریکٹوریٹ آف کینالز بھی قائم کیا گیا۔
سال1866 میں مختلف صوبوں میں پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ قائم کیے گئے جن میں فوجی تعمیرات، سول ورکس بشمول آبپاشی اور ریلوے کے الگ شعبے شامل تھے۔1873 میں ناردرن انڈیا کینال اینڈ ڈرینیج ایکٹ نافذ کیا گیا، جس نے نہری نظام اور آبپاشی کے انتظام کو قانونی بنیاد فراہم کی۔1895 میں پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کو بنیادی طور پر سول تعمیرات، بشمول آبپاشی کے کاموں تک محدود کر دیا گیا۔
سال 1895 ہی میں لوئر سوات کینال تعمیر کی گئی، جس کی ڈیزائن گنجائش 830 کیوسک تھی۔1905 میں ہندوستان میں باقاعدہ آبپاشی محکمہ قائم کیا گیا، جس کی سربراہی چیف انجینئر اور سیکریٹری کرتے تھے اور اس کے تحت سات سرکلز کام کرتے تھے۔1908 میں پہاڑپور آبپاشی نہری نظام تعمیر کیا گیا، جس کی مجموعی لمبائی تقریباً 50 میل تھی۔1914 میں اپر سوات کینال تعمیر ہوئی، جس کی ڈیزائن گنجائش 2,200 کیوسک مقرر کی گئی۔
اگلے ہی سال 1915 میں سوات کینال سرکل کو شمال مغربی سرحدی صوبے کی حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔1925 میں مالیک پور میں ہائیڈرولک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا، جبکہ 1939 میں آبپاشی محکمہ میں ڈیزائن ڈائریکٹوریٹ قائم ہوا۔یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اس دور میں آبپاشی صرف نہریں تعمیر کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیزائن، تحقیق اور پانی کے انجینئرنگ انتظام کو بھی ادارہ جاتی شکل دی گئی۔
قیام پاکستان کے بعد بھی آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع جاری رہی۔1955 میں ملک کے چاروں صوبوں اور ریاستوں کو ون یونٹ کے تحت مغربی پاکستان میں ضم کیا گیا۔ آبپاشی کے انتظام کے لیے چیف انجینئر ویسٹ پاکستان کے ماتحت نظام تشکیل دیا گیا۔1957 میں پہور مین کینال تعمیر کی گئی، جس کی گنجائش 250 کیوسک تھی اور اس کے ذریعے تقریباً 43 ہزار ایکڑ اراضی کو آبپاشی فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔1958 میں واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم ہوئی، جس نے ملک میں پانی اور بجلی کے بڑے منصوبوں میں اہم کردار ادا کیا۔ سال1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا، جس کے بعد دریائی پانی کے استعمال اور بڑے آبی منصوبوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ 1962 میں باران ریزروائر مکمل ہوا، جبکہ اسی سال شمال مغربی سرحدی صوبے میں آبپاشی کے لیے آزاد چیف انجینئر کا عہدہ بھی قائم کیا گیا۔1965 میں کرم گڑھی منصوبہ مکمل ہوا، جس کی نہری گنجائش 650 کیوسک تھی۔1967 میں ٹنڈہ ڈیم منصوبہ مکمل ہوا۔ اس منصوبے کا ڈیزائن کردہ کمانڈ ایریا 32 ہزار ایکڑ تھا، جبکہ اس سے منسلک چینل کی گنجائش 263 کیوسک تھی۔
1977 میں پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کو تقسیم کرکے ورکس اینڈ سروسز اور آبپاشی و پبلک ہیلتھ کے محکمے قائم کیے گئے۔ 1985 میں خانپور ڈیم کینال سسٹم مکمل کیا گیا۔ اس نہری نظام کی گنجائش 118 کیوسک جبکہ ڈیزائن کردہ کمانڈ ایریا 18 ہزار ایکڑ تھا۔ 1991 میں پاکستان کے صوبوں کے درمیان واٹر ایکارڈ طے پایا، جس کا مقصد صوبوں کے درمیان دریائی پانی کی تقسیم کے اصول وضع کرنا تھا۔1992 میں پبلک ہیلتھ کا شعبہ آبپاشی محکمہ سے الگ کر دیا گیا۔
1997 میں آبپاشی محکمہ کا نام تبدیل کرکے آبپاشی و بجلی محکمہ رکھا گیا۔2005 میں پہور ہائی لیول کینال مکمل ہوئی، جس کی ڈیزائن گنجائش 1,000 کیوسک تھی اور اس کے ذریعے مزید 12,500 ایکڑ اراضی کو آبپاشی کے نظام میں شامل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔2008 میں بجلی کا محکمہ آبپاشی سے الگ کر دیا گیا اور آبپاشی کا شعبہ دوبارہ ایک الگ محکمہ بن گیا۔
خیبر پختونخوا کے آبپاشی نظام کی یہ تاریخ محض نہروں، ڈیموں اور کیوسک کی فہرست نہیں۔ یہ اس بات کی دستاویز بھی ہے کہ پشاور اور صوبے کے زرعی علاقوں میں پانی کی ضرورت نے کس طرح مختلف ادوار میں اداروں، قوانین، انجینئرنگ نظام اور انتظامی ڈھانچوں کو جنم دیا۔اورنگزیب کے دور میں دریائے کابل سے نکالی گئی ابتدائی نہر سے شروع ہونے والا سفر لوئر اور اپر سوات کینال، پہاڑپور، پہور، کرم گڑھی، ٹنڈہ اور خانپور جیسے منصوبوں تک پہنچا۔آج خیبر پختونخوا کا آبپاشی نظام اسی طویل تاریخی ارتقا کا نتیجہ ہے، جس میں مغلیہ دور کی ابتدائی نہری کوششوں سے لے کر برطانوی دور کی ادارہ سازی اور قیام پاکستان کے بعد بڑے آبی منصوبوں تک مختلف ادوار کی تعمیراتی اور انتظامی میراث شامل ہے۔
#IrrigationHistory #KhyberPakhtunkhwa #IrrigationDepartment #Peshawar #SwatCanal #PehurCanal #PaharpurCanal #KurramGhari #TandaDam #KhanpurDam #IndusWatersTreaty #WaterManagement #CanalSystem #Agriculture #WaterHistory #PakistanHistory #MughalEra #BritishIndia #KPHistory #PublicWorksDepartment
|