پبی سے افغانستان تک، مائن ڈیٹیکشن کتوں کا امریکی معاونت یافتہ نظام

سوویت افغان جنگ کے آخری مرحلے میں شروع ہونے والا پروگرام آج بھی جنگی بارودی سرنگوں کے تاریخی اثرات کو سمجھنے کے لیے اہم

آج افغانستان میں بارودی سرنگوں اور جنگی باقیات کا مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ سوویت افغان جنگ، اس کے بعد ہونے والی خانہ جنگیوں اور مختلف ادوار کی مسلح کشمکش کے دوران بچھائی جانے والی بارودی سرنگوں نے آنے والی نسلوں کے لیے بھی خطرات پیدا کیے۔ اسی پس منظر میں امریکی سرکاری ریکارڈ میں موجود ایک پروگرام خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جس میں بارودی سرنگوں کی نشاندہی کے لیے تربیت یافتہ کتوں کو استعمال کیا گیا اور اس نظام کا ایک اہم حصہ پاکستان میں، پشاور کے قریب پبی اور رسالپور میں قائم تھا۔

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی، یعنی یو ایس ایڈ، کی اپریل 1993 کی جائزہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں بارودی سرنگوں کی تلاش اور صفائی کے لیے کتوں کا یہ پروگرام 1989 میں شروع ہوا۔ پاکستان میں پبی اور رسالپور اس پروگرام کی تربیت اور عملی تیاری کے اہم مراکز بنے۔یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ دستیاب سرکاری ریکارڈ اس پروگرام کو براہ راست امریکی فوج کا جنگی کتوں کا پروگرام قرار نہیں دیتا۔ یہ بنیادی طور پر امریکی معاونت سے چلنے والا بارودی سرنگوں کی صفائی کا پروگرام تھا، جس کے انتظامی اور عملی ڈھانچے میں رونکو نامی کمپنی بھی شامل تھی۔

یو ایس ایڈ کی رپورٹ کے مطابق جون 1989 میں پروگرام کے ابتدائی مرحلے کے لیے 14 مکمل تربیت یافتہ بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے کتے فراہم کیے گئے۔یہ کتے تھائی حکومت نے امریکی معاونت یافتہ پروگرام کے لیے فراہم کیے تھے۔ ان کتوں کے ساتھ آٹھ رکنی تھائی تربیتی ٹیم بھی پاکستان پہنچی، جہاں افغان کتوں کے تربیت کاروں کو ان کے استعمال اور دیکھ بھال کی تربیت دی گئی۔اس لیے 14 کتوں کو امریکی فوج کے جنگی کتوں کی تعداد قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ یہ 1989 میں شروع ہونے والے امریکی معاونت یافتہ مائن ڈاگ پروگرام کے ابتدائی کتوں کی تعداد تھی۔

اس پروگرام کا پاکستان سے تعلق محض جغرافیائی قربت تک محدود نہیں تھا۔ یو ایس ایڈ کی رپورٹ کے مطابق پبی میں مائن ڈاگ سینٹر قائم کیا گیا، جبکہ رسالپور میں پاکستان آرمی کی تربیتی سہولیات استعمال کی گئیں۔ پبی اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبہ میں واقع تھا اور پشاور کے قریب ہونے کی وجہ سے افغانستان جانے والے تربیتی اور عملی نظام کے لیے اہم مقام بن گیا تھا۔ پبی کے قریب ناصرپور میں گاڑیوں کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے بھی سہولت موجود تھی۔یوں دستیاب سرکاری ریکارڈ سے ایک عملی سلسلہ سامنے آتا ہے

امریکی معاونت ’ انتظامی و عملی ڈھانچہ ’ پبی ’ رسالپور ’ افغان تربیت کار ’ افغانستان میں مائن کلیئرنس کا پروگرام ’ یہی وجہ ہے کہ آج اس پروگرام کا جائزہ لیتے وقت پبی اور رسالپور کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔یہ کتے حملوں یا دشمن پر کارروائی کے لیے استعمال ہونے والے جنگی کتے نہیں تھے۔ان کا بنیادی کام بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کا سراغ لگانا تھا۔تربیت یافتہ کتے مختلف اقسام کے دھماکہ خیز مواد کی بو شناخت کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ جب کتا کسی مقام پر بارودی مواد کی موجودگی محسوس کرتا تو مخصوص انداز میں اشارہ کرتا، جس کے بعد مائن کلیئرنس کا تربیت یافتہ عملہ اس جگہ کی مزید جانچ کرتا۔یعنی کتے کا بنیادی کردار بارودی سرنگ کو تلاش کرنے میں مدد دینا تھا، اسے خود ناکارہ بنانا نہیں۔

1989 کے ابتدائی مرحلے میں 14 جرمن شیفرڈ کتوں کے ذریعے افغانستان میں ایک اہم کارروائی کی گئی۔ دستیاب تاریخی تحقیق کے مطابق پکتیکا کے علاقے ارغون کے اردگرد تقریباً 137 کلومیٹر سڑک کو بارودی سرنگوں کے لیے تلاش کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 734 بارودی سرنگیں دریافت کرکے صاف یا تباہ کی گئیں۔ اس کارروائی میں افغان اور پاکستانی تربیت کار بھی شامل تھے۔یہ اعداد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پروگرام محض پاکستان میں تربیتی سرگرمی نہیں تھا بلکہ تربیت کے بعد کتوں اور ان کے تربیت کاروں کو افغانستان میں عملی مائن کلیئرنس کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔

اس پروگرام کا ایک حساس پہلو یہ بھی تھا کہ مائن کلیئرنس کی ٹیمیں ایسے علاقوں میں پہنچتی تھیں جو اس وقت افغان مزاحمت کاروں یا مقامی مجاہدین کے زیر اثر تھے۔ ایک تاریخی تحقیقی مطالعے کے مطابق ارغون کے آپریشن کے دوران مقامی افغان کمانڈر حاجی زرباد نے ٹیم کو علاقے میں داخل ہونے اور وہاں قیام کرنے میں مدد فراہم کی۔ اس میں خوراک اور رہائش کی سہولت بھی شامل تھی۔لیکن اس حقیقت کو سی آئی اے کے براہ راست کنٹرول کے ثبوت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ دستیاب بنیادی سرکاری دستاویزات کے مطابق مائن ڈاگ سینٹر کا واضح تعلق یو ایس ایڈ کے پروگرام سے ہے، جبکہ رونکو اس کے انتظامی اور عملی ڈھانچے میں شامل تھی۔

کیا یہ سی آئی اے کا پروگرام تھا؟یہ سوال آج بھی اس موضوع کی تحقیق میں اہم ہے۔ سوویت افغان جنگ کے دوران سی آئی اے، پاکستان اور آئی ایس آئی کی جانب سے افغان مزاحمت کی حمایت کا ایک وسیع خفیہ نظام موجود تھا۔ دوسری طرف یو ایس ایڈ بھی پاکستان کے ذریعے افغانستان میں سرحد پار انسانی امداد اور دیگر پروگراموں میں شامل تھی۔اس تاریخی پس منظر کی وجہ سے مختلف امریکی سرگرمیوں کے درمیان تعلق تلاش کرنا فطری ہے۔لیکن دستیاب مائن ڈاگ سینٹر کے ریکارڈ کی بنیاد پر یہ کہنا کہ ‘‘سی آئی اے پبی مائن ڈاگ سینٹر چلا رہی تھی’’ ثابت شدہ بات نہیں۔

سی آئی اے کی افغانستان میں خفیہ سرگرمیاں ایک الگ تاریخی حقیقت ہیں، جبکہ مائن ڈاگ سینٹر کا دستاویزی انتظامی تعلق یو ایس ایڈ سے سامنے آتا ہے۔ دونوں کے درمیان براہ راست تعلق ثابت کرنے کے لیے مزید دستاویزی شواہد درکار ہوں گے۔14 سے 45 اور پھر 92 کتے’ پروگرام چند سالوں میں بڑھا۔’ دستیاب ریکارڈ میں مختلف ادوار کے اعداد اس طرح سامنے آتے ہیں:’ 1989: 14 کتے’ 1991: 45 کتے’ 1993: 92 کتے ظاہر ہیں. ان اعداد کو جمع کرکے کتوں کی مجموعی تعداد نکالنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ یہ مختلف برسوں میں پروگرام کے تحت موجود کتوں کی تعداد ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی 14، 45 اور 92 تین مختلف ادوار کے اعداد ہیں، نہ کہ ایک ہی عرصے میں استعمال ہونے والے کتوں کا مجموعہ۔

پاکستان صرف گزرگاہ نہیں تھااس پروگرام سے متعلق دستیاب ریکارڈ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کا کردار صرف کتوں کو افغانستان منتقل کرنے تک محدود نہیں تھا۔پبی میں مائن ڈاگ سینٹر، رسالپور میں تربیتی سہولیات اور ناصرپور میں گاڑیوں کی دیکھ بھال کا انتظام موجود تھا۔بعد کے مرحلے میں نئے کتوں کو امریکہ میں بھی تربیت دی جاتی، پھر پاکستان لایا جاتا اور یہاں افغان تربیت کاروں کے ساتھ مزید تربیت دی جاتی۔ اس طرح پاکستان اس پورے نظام میں تربیت، رہائش، رسد، گاڑیوں کی دیکھ بھال اور افغانستان میں تعیناتی کی تیاری کا ایک اہم مرکز تھا۔

دوسری طرف سوویت فوج بھی تربیت یافتہ کتے استعمال کرتی تھییہ کہانی صرف امریکی معاونت یافتہ مائن ڈاگ پروگرام تک محدود نہیں۔ سوویت افغان جنگ کے دوران سوویت افواج کی جانب سے بھی بارودی سرنگوں کی نشاندہی کے لیے تربیت یافتہ کتوں کے استعمال کے شواہد موجود ہیں۔ سی آئی اے کی ایک ڈیکلاسفائیڈ دستاویز میں افغانستان میں سوویت مائن کلیئرنس اہلکاروں کے ساتھ تربیت یافتہ کتوں کے استعمال کا ذکر ملتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جنگ میں بارودی سرنگوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ کتوں کا استعمال ایک سے زیادہ فریقوں کی عملی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ تاہم سوویت افواج کی جانب سے افغانستان میں استعمال کیے گئے ایسے کتوں کی مجموعی تعداد کا کوئی مستند سرکاری عدد فی الحال سامنے نہیں آتا۔
آج جب افغانستان میں بارودی سرنگوں، جنگی باقیات اور ناچاودہ دھماکہ خیز مواد کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے تو 1989 میں شروع ہونے والا یہ پروگرام ایک تاریخی پس منظر فراہم کرتا ہے۔اس پروگرام نے ظاہر کیا کہ جنگ ختم ہونے کے باوجود میدان جنگ میں موجود بارودی سرنگیں ایک طویل المدتی انسانی مسئلہ بن سکتی ہیں۔ 1989 میں 14 کتوں سے شروع ہونے والا پروگرام 1991 تک 45 اور 1993 تک 92 کتوں تک پہنچ گیا۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ بارودی سرنگوں کا مسئلہ محدود نہیں تھا بلکہ اس کے لیے باقاعدہ تربیت، عملہ، گاڑیاں، رسد اور سرحد پار عملی کارروائیوں پر مشتمل ایک وسیع نظام درکار تھا۔

یہ سوال آج بھی اہم ہے کہ افغانستان میں جنگی باقیات کے خاتمے کے لیے ماضی میں پاکستان کے ذریعے چلنے والے ان پروگراموں کا مکمل ریکارڈ کہاں ہے، ان پر کتنی رقم خرچ ہوئی، کتنے تربیت کار تیار ہوئے، کتنے کتوں کو افغانستان بھیجا گیا اور ان کارروائیوں کے نتائج کیا تھے؟ اسی طرح یہ بھی تحقیق طلب ہے کہ 1989 کے بعد مائن ڈاگ سینٹر کا نظام کس طرح تبدیل ہوا اور بعد کے افغان جنگی ادوار میں اس کا کیا کردار رہا۔

دستیاب امریکی سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر اس وقت سب سے محتاط اور مستند نتیجہ یہ ہے کہ 1989 میں امریکی معاونت سے افغانستان میں بارودی سرنگوں کی تلاش اور صفائی کے لیے تربیت یافتہ کتوں کا ایک باقاعدہ پروگرام شروع ہوا، جس کے اہم تربیتی اور معاون مراکز پبی، رسالپور اور ناصرپور میں تھے۔یہ پروگرام 14 کتوں سے شروع ہوا، چند برسوں میں اس کی تعداد بڑھی، اور تربیت یافتہ کتے افغانستان میں عملی مائن کلیئرنس کارروائیوں میں استعمال ہوئے۔ لیکن اس پروگرام کو براہ راست سی آئی اے کا پروگرام قرار دینے کے لیے مزید ثبوت درکار ہیں۔آج کے تناظر میں اس کہانی کی اصل اہمیت یہی ہے کہ افغانستان کی موجودہ بارودی سرنگوں کی تباہ کاری کو سمجھنے کے لیے 1980 اور 1990 کی دہائی کے ان پروگراموں، ان کے مالی وسائل، تربیتی مراکز اور سرحد پار نیٹ ورک کا ریکارڈ دوبارہ سامنے لانا ضروری ہے۔

#AfghanistanWar #SovietAfghanWar #MineDetectionDogs #MineClearance #Peshawar #Pabbi #Risalpur #KhyberPakhtunkhwa #NWFP #USAID #RONCO #Afghanistan #Pakistan #CIAArchives #DeclassifiedDocuments #AfghanMujahideen #MilitaryHistory #InvestigativeJournalism #WarHistory #Landmines

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1070 Articles with 821505 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More