جاسوسی کے لیے پرندوں پر کام آج سے نہیں، نصف صدی پہلے شروع ہو چکا تھا

سی آئی اے کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات نے خفیہ فضائی نگرانی کے ایک دلچسپ سفر سے پردہ اٹھا دیا

آج دنیا مصنوعی سیاروں، ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور جدید نگرانی کے نظام کے دور میں داخل ہو چکی ہے، لیکن خفیہ نگرانی کے لیے غیر روایتی ذرائع استعمال کرنے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں۔امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے کئی دہائیوں پہلے ہی پرندوں کو معلومات کے حصول، خفیہ مواصلات اور فضائی فوٹوگرافی کے لیے استعمال کرنے کے تجربات کر رہے تھے۔

سی آئی اے کے اپنے ایک پس منظر دستاویز کے مطابق اس کے دفتر برائے تحقیق و ترقی نے مختلف اقسام کے پرندوں کو انٹیلی جنس جمع کرنے کے کام کے لیے تربیت دینے پر کئی سال تک تجربات کیے۔ ان تجربات میں شکاری پرندوں کو مخصوص اہداف تک درجنوں میل کے راستوں پر بھیجنے اور کوّوں کو چھوٹے پیکیج پہنچانے کی تربیت شامل تھی۔ ایک سابقہ خفیہ کارروائی میں ایک پرندے کے ذریعے ایک کھڑکی تک صوتی نگرانی کا آلہ پہنچانے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔

1974 کی دستاویزات میں پرندوں کو طویل فاصلے تک مخصوص اہداف تک پہنچانے، پیکیج لے جانے اور ممکنہ خفیہ فوٹوگرافی کے لیے تربیت دینے کے شواہد ملتے ہیں۔
یعنی اس مرحلے پر بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا ایک عام نظر آنے والے پرندے کو ایسی خفیہ سرگرمی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کا زمین پر موجود شخص کو اندازہ بھی نہ ہو؟یہی تصور آگے چل کر ایک زیادہ جدید مرحلے میں داخل ہوا۔

دسمبر 1975 کی ایک سی آئی اے دستاویز میں ‘‘برڈ کیمرہ پروگرام’’ کے حوالے سے دو کیمروں کو تیار کرنے اور پرندوں پر آزمائش کی منصوبہ بندی کا ذکر موجود ہے۔
دستاویز کے مطابق کیمرے کو زیادہ تیز شٹر کے ساتھ تیار کیا جا رہا تھا تاکہ پرندے کی حرکت کے باعث تصویر دھندلی نہ ہو۔ کیمرے کے ساتھ خصوصی ہارنس اور ایسا حفاظتی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا تھا جو پرندے کے جسم کے ساتھ لگایا جا سکے اور پرواز کے دوران ہوا کی مزاحمت کم کرے۔

5 فروری 1976 کی دستاویز میں بتایا گیا کہ 23 جنوری کو دو کیمروں کو زندہ پرندوں پر نصب کرکے دورانِ پرواز آزمایا گیا۔تقریباً 100 فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے کیمرہ مسلسل تصاویر حاصل کر رہا تھا۔ ایک فلم رول میں تقریباً 140 تصاویر بن سکتی تھیں اور ابتدائی تجربات میں تقریباً 70 تصاویر اچھی کوالٹی کی قرار دی گئیں۔دستاویز کے مطابق ایک فلم رول کے ذریعے تقریباً 14.5 ایکڑ رقبے پر مشتمل زمینی پٹی کی تصاویر حاصل کی جا سکتی تھیں۔ یہ محض نظری منصوبہ نہیں تھا، بلکہ پرندہ، کیمرہ، فلم، پرواز کی رفتار، بلندی اور تصویر کے معیار کو ایک ہی نظام کے طور پر آزمایا جا رہا تھا۔

بعد کی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پورے منصوبے کا ایک اہم مقصد ایسے حساس علاقوں کی زیادہ قریب سے فوٹوگرافی حاصل کرنا تھا جہاں بڑے طیاروں یا سیٹلائٹس سے مطلوبہ تفصیل حاصل کرنا مشکل ہو سکتی تھی۔سی آئی اے کے مطابق کبوتر کے ذریعے حاصل ہونے والی تصاویر چند سو فٹ کی بلندی سے لی جا سکتی تھیں، جس سے نسبتاً زیادہ تفصیل حاصل ہوتی تھی۔ سی آئی اے کا کہنا ہے کہ کبوتر عام پرندہ ہونے کی وجہ سے اپنے خفیہ کردار کو چھپا بھی سکتا تھا۔

یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ 1976 کے پرندہ کیمرہ کو آج کے ڈرون کے برابر قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس وقت نظام میں فلم، مکینیکل کیمرہ، بیٹری، ٹائمر، پرندے کی تربیت اور دستی فلم پروسیسنگ شامل تھی۔ آج نگرانی کی ٹیکنالوجی بہت آگے بڑھ چکی ہے، جہاں چھوٹے بغیر پائلٹ طیارے، برقی سینسر، ڈیجیٹل کیمرے، مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ نظام کہیں زیادہ جدید صلاحیتیں فراہم کرتے ہیں۔لیکن بنیادی تصور میں ایک مماثلت ضرور موجود ہے ایسا پلیٹ فارم استعمال کرنا جو خود عام یا غیر نمایاں دکھائی دے، ہدف کے قریب پہنچ سکے اور وہاں سے معلومات حاصل کر سکے۔1970 کی دہائی میں اس تصور کے لیے پرندے استعمال کیے جا رہے تھے؛ آج اسی وسیع مسئلے کو حل کرنے کے لیے انتہائی چھوٹے ڈرونز، خودکار نظام اور دیگر کم نمایاں نگرانی کے ذرائع پر کام ہوتا ہے۔

سی آئی اے کے موجودہ تاریخی مواد کے مطابق پرندوں سے متعلق اس کے کئی تجربات عملی طور پر کامیاب نہیں ہوئے یا تکنیکی اور عملی مشکلات کی وجہ سے محدود رہے۔ خود سی آئی اے کہتی ہے کہ جانوروں سے متعلق اس کے متعدد پروگرام کبھی عملی طور پر تعینات نہیں ہوئے یا تکنیکی، انتظامی اور حیوانی رویوں سے متعلق مسائل کی وجہ سے ناکام رہے۔ تاہم ادارہ یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ ان تجربات نے انٹیلی جنس جمع کرنے، خفیہ مواصلات اور فوٹو نگرانی کے لیے غیر روایتی طریقوں پر تحقیق کو آگے بڑھایا۔ کبوتر کیمرہ کے بارے میں سی آئی اے کا موجودہ ریکارڈ بھی بتاتا ہے کہ اس پروگرام کے بعض مشنوں کی تفصیلات آج تک خفیہ ہیں۔

اگر 1970 کی دہائی میں امریکی خفیہ ادارے پرندوں کو مخصوص اہداف تک پہنچانے، پیکیج پہنچانے اور کیمرے کے ذریعے فضائی تصاویر لینے کے لیے استعمال کرنے کی تکنیک پر کام کر رہے تھے، تو ایک اہم تاریخی سوال یہ بنتا ہے: 1976 کے بعد یہ پروگرام کہاں تک پہنچا؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس ٹیکنالوجی کے تجربات یا اس سے حاصل ہونے والی مہارت بعد میں افغانستان، پاکستان، پشاور یا سوویت افغان جنگ کے دوران کسی خفیہ نگرانی کے پروگرام سے منسلک ہوئی؟
موجودہ دستیاب دستاویز کی بنیاد پر افغانستان یا پاکستان میں اس مخصوص ‘‘برڈ کیمرہ’’ نظام کے استعمال کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے 1976 سے 1989 کے درمیان کی مزید ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات تلاش کرنا ضروری ہے۔

البتہ ایک بات واضح ہے: خفیہ نگرانی کے لیے پرندوں کو استعمال کرنے کا تصور آج کا نہیں بلکہ کم از کم 1970 کی دہائی میں باقاعدہ سائنسی اور عملی تجربات کے مرحلے تک پہنچ چکا تھا۔اور 1976 کی دستاویز اس سفر کا ایک انتہائی اہم تکنیکی ثبوت ہے۔

#CIA #DeclassifiedFiles #BirdCamera #SpyPigeon #IntelligenceHistory #CovertSurveillance #AerialReconnaissance #ColdWar #CIAArchives #SpyTechnology #SurveillanceTechnology #Afghanistan #Pakistan #Peshawar #Intelligence

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1070 Articles with 821506 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More