پاک افغان سرحد: چار دہائیاں بعد بھی وہی سوال، پشاور آج بھی کیوں اہم ہے؟

افغانستان کی جنگ ختم ہوئی، سوویت فوج واپس چلی گئی، طالبان پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے، 2001 کے بعد ایک نئی جنگ شروع ہوئی، امریکی اور نیٹو افواج افغانستان میں داخل ہوئیں، پھر 2021 میں ان کا انخلا ہوا۔ لیکن ان تمام تبدیلیوں کے باوجود ایک بنیادی جغرافیائی حقیقت آج بھی تبدیل نہیں ہوئی: افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد صرف نقشے پر کھینچی گئی ایک لکیر نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سماجی، قبائلی، تجارتی اور سکیورٹی نظام ہے۔

تقریباً چار دہائیاں پہلے CIA نے افغان پاکستانی سرحد کے بارے میں جو جائزہ پیش کیا تھا، اس میں ایک بنیادی مسئلہ نمایاں کیا گیا تھا’ اتنی طویل اور دشوار گزار سرحد کو مکمل طور پر بند کرنا انتہائی مشکل ہے۔آج بھی یہی سوال ایک نئے تناظر میں ہمارے سامنے موجود ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ 1980 کی دہائی میں سوال سوویت فوج کے خلاف افغان مزاحمت کاروں کی سرحد پار نقل و حرکت کا تھا، جبکہ آج بحث سرحدی سکیورٹی، غیر قانونی آمدورفت، عسکریت پسندی، تجارت، مہاجرین اور پاکستان افغانستان تعلقات کے گرد گھومتی ہے۔

تاریخ بدل گئی، جغرافیہ نہیں’ 1980 کی دہائی کی CIA assessment میں تقریباً 2,400 کلومیٹر طویل افغان پاکستانی سرحد کو ایک ایسے علاقے کے طور پر دیکھا گیا جہاں پہاڑوں، وادیوں، قبائلی علاقوں اور بے شمار چھوٹے راستوں کی وجہ سے مکمل نگرانی ایک غیر معمولی مشکل کام تھا۔ خیبر پاس اس نظام کا ایک اہم حصہ تھا، لیکن واحد راستہ نہیں۔ مہمند، باجوڑ، کرم، وزیرستان، ٹوچی، گومل اور بلوچستان کی سمت موجود مختلف راستے اس سرحدی جغرافیے کو مزید پیچیدہ بناتے تھے۔ آج جب سرحدی باڑ، چیک پوسٹوں، کراسنگ پوائنٹس اور نگرانی کے جدید نظام کی بات کی جاتی ہے تو یہ تاریخی حقیقت نظر انداز نہیں ہونی چاہیے کہ سرحد کے دونوں اطراف انسانی اور معاشرتی روابط بہت پرانے ہیں۔ریاست سرحد کو انتظامی طور پر کنٹرول کر سکتی ہے، لیکن سرحد کے ساتھ صدیوں سے تشکیل پانے والے سماجی روابط کو ایک دن میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔

پشاور کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ یہ افغانستان کے قریب ہے۔ اس شہر کی جغرافیائی حیثیت اسے خیبر، قبائلی اضلاع، افغانستان کے مشرقی صوبوں اور پاکستان کے بڑے شہری مراکز کے درمیان ایک قدرتی رابطہ بناتی ہے۔1980 کی دہائی میں یہی جغرافیہ افغان جنگ کے سیاسی اور لاجسٹک پس منظر کو سمجھنے میں اہم تھا۔ آج بھی پشاور کو افغانستان سے متعلق ہر بڑے سوال میں نظر انداز کرنا مشکل ہے۔سرحدی تجارت ہو، افغان مہاجرین کا مسئلہ ہو، طورخم کی صورتحال ہو، افغانستان سے سکیورٹی خدشات ہوں یا دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی، پشاور ان تمام معاملات کے اثرات محسوس کرنے والے اہم شہروں میں شامل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماضی کے CIA documents کا مطالعہ صرف تاریخ جاننے کے لیے نہیں بلکہ اس خطے کی موجودہ پیچیدگی کو سمجھنے کے لیے بھی مفید ہے۔ لیکن ماضی کو آج پر منطبق کرنا خطرناک ہے یہاں ایک اہم فرق ضروری ہے۔ 1980 کی دہائی کے افغان مزاحمت کار اور آج کے مسلح گروہ ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ اس وقت افغانستان میں سوویت فوجی موجودگی کے خلاف مختلف افغان گروہ لڑ رہے تھے۔ آج خطے میں موجود سکیورٹی مسائل، ریاستی پالیسیوں، مسلح تنظیموں اور علاقائی تعلقات کی نوعیت مختلف ہے۔اسی طرح آج کے پاکستان کو 1980 کی دہائی کے پاکستان کے برابر رکھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ ریاستی ادارے، سرحدی انتظام، علاقائی سیاست، عالمی طاقتوں کا کردار اور افغانستان کی اندرونی صورتحال سب تبدیل ہو چکے ہیں۔

لیکن ایک چیز برقرار ہے: جغرافیہ۔ اصل سوال آج بھی سرحد کے آر پار ہے آج پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے پیچیدہ سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ سرحد کے آر پار موجود سکیورٹی خطرات کو کیسے روکا جائے، جبکہ دونوں طرف رہنے والے لوگوں کے تاریخی، خاندانی اور معاشی روابط بھی موجود ہیں۔ یہ وہ مسئلہ ہے جسے صرف فوجی یا انتظامی نقطۂ نظر سے دیکھنے سے مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔1980 کی CIA assessment میں بھی یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ سرحد پر فوجی دباؤ کے باوجود متبادل راستے، مقامی روابط اور جغرافیہ سرحدی نقل و حرکت کو جاری رکھنے میں کردار ادا کرتے تھے۔

آج جدید ٹیکنالوجی، باڑ اور نگرانی کے نظام نے صورتحال ضرور تبدیل کی ہے، لیکن پہاڑ، وادیاں اور سرحدی آبادیوں کی سماجی حقیقت اپنی جگہ موجود ہے۔ مہاجرین کا مسئلہ بھی تاریخ سے جڑا ہے افغان مہاجرین کا مسئلہ بھی صرف آج کا سیاسی مسئلہ نہیں۔ 1980 کی دہائی میں لاکھوں افغان شہری پاکستان آئے۔ بعض مزاحمت کار بھی سرحد پار کرکے پاکستان میں داخل ہوتے تھے۔ CIA کی اس وقت کی assessment میں بعض مزاحمت کاروں کے مہاجر کیمپوں میں عارضی طور پر منتقل ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔لیکن اس تاریخی حوالے کو آج کے تمام افغان مہاجرین پر لاگو کرنا درست نہیں۔ مہاجرین کی ایک بڑی تعداد جنگ سے متاثرہ عام شہریوں پر مشتمل تھی، جبکہ جنگی نیٹ ورک الگ معاملہ تھا۔

یہ فرق آج کے پالیسی مباحث میں بھی اہم ہے۔ISI کا سوال اب بھی موجود ہے، مگر جواب دستاویزات سے دینا ہوگا افغان جنگ کی تاریخ میں ISI کے کردار پر کئی دعوے کیے جاتے ہیں۔لیکن ایک تحقیقی سوال اور سیاسی دعوے میں فرق ہوتا ہے۔ اگر یہ معلوم کرنا ہو کہ 1980 کی دہائی میں ISI نے افغان مزاحمتی گروہوں کے ساتھ کس نوعیت کے روابط رکھے، اسلحہ کس طریقے سے تقسیم ہوا، پشاور میں کون سی تنظیمیں فعال تھیں، کون سے افراد اہم رابطہ کار تھے اور کن راستوں سے سامان افغانستان پہنچتا تھا تو اس کے لیے مخصوص archival documents درکار ہیں صرف یہ حقیقت کہ افغان مزاحمت کار پاکستان سے اسلحہ حاصل کرتے تھے، اپنے آپ میں ہر مخصوص ادارے یا فرد کے عملی کردار کا مکمل ثبوت نہیں بنتی۔ اسی طرح آج کے کسی سکیورٹی مسئلے کی جڑ براہ راست 1980 کی دہائی میں تلاش کرنا بھی دستاویزی تحقیق کے بغیر درست طریقہ نہیں۔

چار دہائیاں، مگر سوال وہی ہیں آج پاکستان افغانستان سرحد پر جو بحث ہو رہی ہے، اس میں ماضی کے تجربات کو سمجھنا ضروری ہے۔ 1980 کی دہائی نے یہ دکھایا کہ صرف فوجی طاقت سے ایک انتہائی پیچیدہ سرحد کو مکمل طور پر کنٹرول کرنا آسان نہیں۔ بعد کی دہائیوں نے یہ بھی دکھایا کہ افغانستان میں پیدا ہونے والی سیاسی اور عسکری تبدیلیاں پاکستان کے سرحدی علاقوں، خصوصاً خیبر پختونخوا، پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔ آج صورتحال مختلف ہے، لیکن پشاور اب بھی اس جغرافیائی حقیقت کے مرکز کے قریب کھڑا ہے۔اسی لیے پرانی CIA files محض تاریخ کی الماری میں بند کاغذات نہیں۔

ان میں ایسے مشاہدات موجود ہیں جو یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو صرف دارالحکومتوں کی سیاست سے نہیں سمجھا جا سکتا۔اصل کہانی سرحد، جغرافیہ، مقامی آبادی، تجارت، مہاجرین، مسلح گروہوں، ریاستی اداروں اور علاقائی سیاست کے باہمی تعلق میں چھپی ہے۔چار دہائیاں پہلے سوال یہ تھا کہ سوویت فوج افغان پاکستانی سرحد کو کیسے بند کرے گی۔ آج سوال یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان ایک ایسی سرحد کو کیسے منظم کریں گے جہاں سکیورٹی، تجارت، انسانی نقل و حرکت اور تاریخی روابط ایک دوسرے سے مسلسل ٹکراتے ہیں۔ اور اس سوال کا جواب صرف ماضی کو دہرانے میں نہیں، بلکہ ماضی کی دستاویزات کو آج کے حقائق کے ساتھ رکھ کر دیکھنے میں ہے۔

#Pakistan #Afghanistan #Peshawar #KhyberPakhtunkhwa #PakAfghanBorder #KhyberPass #Torkham #CIA #ISI #AfghanWar #AfghanHistory #BorderSecurity #AfghanRefugees #PakistanAfghanistanRelations #Khyber #InvestigativeJournalism #DeclassifiedDocuments #Geopolitics #PashtunBelt

پاک افغان سرحد: چار دہائیاں بعد بھی وہی سوال، پشاور آج بھی کیوں اہم ہے؟

مسرت اللہ جان

افغانستان کی جنگ ختم ہوئی، سوویت فوج واپس چلی گئی، طالبان پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے، 2001 کے بعد ایک نئی جنگ شروع ہوئی، امریکی اور نیٹو افواج افغانستان میں داخل ہوئیں، پھر 2021 میں ان کا انخلا ہوا۔ لیکن ان تمام تبدیلیوں کے باوجود ایک بنیادی جغرافیائی حقیقت آج بھی تبدیل نہیں ہوئی: افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد صرف نقشے پر کھینچی گئی ایک لکیر نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سماجی، قبائلی، تجارتی اور سکیورٹی نظام ہے۔

تقریباً چار دہائیاں پہلے CIA نے افغان پاکستانی سرحد کے بارے میں جو جائزہ پیش کیا تھا، اس میں ایک بنیادی مسئلہ نمایاں کیا گیا تھا’ اتنی طویل اور دشوار گزار سرحد کو مکمل طور پر بند کرنا انتہائی مشکل ہے۔آج بھی یہی سوال ایک نئے تناظر میں ہمارے سامنے موجود ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ 1980 کی دہائی میں سوال سوویت فوج کے خلاف افغان مزاحمت کاروں کی سرحد پار نقل و حرکت کا تھا، جبکہ آج بحث سرحدی سکیورٹی، غیر قانونی آمدورفت، عسکریت پسندی، تجارت، مہاجرین اور پاکستان افغانستان تعلقات کے گرد گھومتی ہے۔

تاریخ بدل گئی، جغرافیہ نہیں’ 1980 کی دہائی کی CIA assessment میں تقریباً 2,400 کلومیٹر طویل افغان پاکستانی سرحد کو ایک ایسے علاقے کے طور پر دیکھا گیا جہاں پہاڑوں، وادیوں، قبائلی علاقوں اور بے شمار چھوٹے راستوں کی وجہ سے مکمل نگرانی ایک غیر معمولی مشکل کام تھا۔ خیبر پاس اس نظام کا ایک اہم حصہ تھا، لیکن واحد راستہ نہیں۔ مہمند، باجوڑ، کرم، وزیرستان، ٹوچی، گومل اور بلوچستان کی سمت موجود مختلف راستے اس سرحدی جغرافیے کو مزید پیچیدہ بناتے تھے۔ آج جب سرحدی باڑ، چیک پوسٹوں، کراسنگ پوائنٹس اور نگرانی کے جدید نظام کی بات کی جاتی ہے تو یہ تاریخی حقیقت نظر انداز نہیں ہونی چاہیے کہ سرحد کے دونوں اطراف انسانی اور معاشرتی روابط بہت پرانے ہیں۔ریاست سرحد کو انتظامی طور پر کنٹرول کر سکتی ہے، لیکن سرحد کے ساتھ صدیوں سے تشکیل پانے والے سماجی روابط کو ایک دن میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔

پشاور کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ یہ افغانستان کے قریب ہے۔ اس شہر کی جغرافیائی حیثیت اسے خیبر، قبائلی اضلاع، افغانستان کے مشرقی صوبوں اور پاکستان کے بڑے شہری مراکز کے درمیان ایک قدرتی رابطہ بناتی ہے۔1980 کی دہائی میں یہی جغرافیہ افغان جنگ کے سیاسی اور لاجسٹک پس منظر کو سمجھنے میں اہم تھا۔ آج بھی پشاور کو افغانستان سے متعلق ہر بڑے سوال میں نظر انداز کرنا مشکل ہے۔سرحدی تجارت ہو، افغان مہاجرین کا مسئلہ ہو، طورخم کی صورتحال ہو، افغانستان سے سکیورٹی خدشات ہوں یا دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی، پشاور ان تمام معاملات کے اثرات محسوس کرنے والے اہم شہروں میں شامل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماضی کے CIA documents کا مطالعہ صرف تاریخ جاننے کے لیے نہیں بلکہ اس خطے کی موجودہ پیچیدگی کو سمجھنے کے لیے بھی مفید ہے۔ لیکن ماضی کو آج پر منطبق کرنا خطرناک ہے یہاں ایک اہم فرق ضروری ہے۔ 1980 کی دہائی کے افغان مزاحمت کار اور آج کے مسلح گروہ ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ اس وقت افغانستان میں سوویت فوجی موجودگی کے خلاف مختلف افغان گروہ لڑ رہے تھے۔ آج خطے میں موجود سکیورٹی مسائل، ریاستی پالیسیوں، مسلح تنظیموں اور علاقائی تعلقات کی نوعیت مختلف ہے۔اسی طرح آج کے پاکستان کو 1980 کی دہائی کے پاکستان کے برابر رکھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ ریاستی ادارے، سرحدی انتظام، علاقائی سیاست، عالمی طاقتوں کا کردار اور افغانستان کی اندرونی صورتحال سب تبدیل ہو چکے ہیں۔

لیکن ایک چیز برقرار ہے: جغرافیہ۔ اصل سوال آج بھی سرحد کے آر پار ہے آج پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے پیچیدہ سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ سرحد کے آر پار موجود سکیورٹی خطرات کو کیسے روکا جائے، جبکہ دونوں طرف رہنے والے لوگوں کے تاریخی، خاندانی اور معاشی روابط بھی موجود ہیں۔ یہ وہ مسئلہ ہے جسے صرف فوجی یا انتظامی نقطۂ نظر سے دیکھنے سے مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔1980 کی CIA assessment میں بھی یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ سرحد پر فوجی دباؤ کے باوجود متبادل راستے، مقامی روابط اور جغرافیہ سرحدی نقل و حرکت کو جاری رکھنے میں کردار ادا کرتے تھے۔

آج جدید ٹیکنالوجی، باڑ اور نگرانی کے نظام نے صورتحال ضرور تبدیل کی ہے، لیکن پہاڑ، وادیاں اور سرحدی آبادیوں کی سماجی حقیقت اپنی جگہ موجود ہے۔ مہاجرین کا مسئلہ بھی تاریخ سے جڑا ہے افغان مہاجرین کا مسئلہ بھی صرف آج کا سیاسی مسئلہ نہیں۔ 1980 کی دہائی میں لاکھوں افغان شہری پاکستان آئے۔ بعض مزاحمت کار بھی سرحد پار کرکے پاکستان میں داخل ہوتے تھے۔ CIA کی اس وقت کی assessment میں بعض مزاحمت کاروں کے مہاجر کیمپوں میں عارضی طور پر منتقل ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔لیکن اس تاریخی حوالے کو آج کے تمام افغان مہاجرین پر لاگو کرنا درست نہیں۔ مہاجرین کی ایک بڑی تعداد جنگ سے متاثرہ عام شہریوں پر مشتمل تھی، جبکہ جنگی نیٹ ورک الگ معاملہ تھا۔

یہ فرق آج کے پالیسی مباحث میں بھی اہم ہے۔ISI کا سوال اب بھی موجود ہے، مگر جواب دستاویزات سے دینا ہوگا افغان جنگ کی تاریخ میں ISI کے کردار پر کئی دعوے کیے جاتے ہیں۔لیکن ایک تحقیقی سوال اور سیاسی دعوے میں فرق ہوتا ہے۔ اگر یہ معلوم کرنا ہو کہ 1980 کی دہائی میں ISI نے افغان مزاحمتی گروہوں کے ساتھ کس نوعیت کے روابط رکھے، اسلحہ کس طریقے سے تقسیم ہوا، پشاور میں کون سی تنظیمیں فعال تھیں، کون سے افراد اہم رابطہ کار تھے اور کن راستوں سے سامان افغانستان پہنچتا تھا تو اس کے لیے مخصوص archival documents درکار ہیں صرف یہ حقیقت کہ افغان مزاحمت کار پاکستان سے اسلحہ حاصل کرتے تھے، اپنے آپ میں ہر مخصوص ادارے یا فرد کے عملی کردار کا مکمل ثبوت نہیں بنتی۔ اسی طرح آج کے کسی سکیورٹی مسئلے کی جڑ براہ راست 1980 کی دہائی میں تلاش کرنا بھی دستاویزی تحقیق کے بغیر درست طریقہ نہیں۔

چار دہائیاں، مگر سوال وہی ہیں آج پاکستان افغانستان سرحد پر جو بحث ہو رہی ہے، اس میں ماضی کے تجربات کو سمجھنا ضروری ہے۔ 1980 کی دہائی نے یہ دکھایا کہ صرف فوجی طاقت سے ایک انتہائی پیچیدہ سرحد کو مکمل طور پر کنٹرول کرنا آسان نہیں۔ بعد کی دہائیوں نے یہ بھی دکھایا کہ افغانستان میں پیدا ہونے والی سیاسی اور عسکری تبدیلیاں پاکستان کے سرحدی علاقوں، خصوصاً خیبر پختونخوا، پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔ آج صورتحال مختلف ہے، لیکن پشاور اب بھی اس جغرافیائی حقیقت کے مرکز کے قریب کھڑا ہے۔اسی لیے پرانی CIA files محض تاریخ کی الماری میں بند کاغذات نہیں۔

ان میں ایسے مشاہدات موجود ہیں جو یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو صرف دارالحکومتوں کی سیاست سے نہیں سمجھا جا سکتا۔اصل کہانی سرحد، جغرافیہ، مقامی آبادی، تجارت، مہاجرین، مسلح گروہوں، ریاستی اداروں اور علاقائی سیاست کے باہمی تعلق میں چھپی ہے۔چار دہائیاں پہلے سوال یہ تھا کہ سوویت فوج افغان پاکستانی سرحد کو کیسے بند کرے گی۔ آج سوال یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان ایک ایسی سرحد کو کیسے منظم کریں گے جہاں سکیورٹی، تجارت، انسانی نقل و حرکت اور تاریخی روابط ایک دوسرے سے مسلسل ٹکراتے ہیں۔ اور اس سوال کا جواب صرف ماضی کو دہرانے میں نہیں، بلکہ ماضی کی دستاویزات کو آج کے حقائق کے ساتھ رکھ کر دیکھنے میں ہے۔

#Pakistan #Afghanistan #Peshawar #KhyberPakhtunkhwa #PakAfghanBorder #KhyberPass #Torkham #CIA #ISI #AfghanWar #AfghanHistory #BorderSecurity #AfghanRefugees #PakistanAfghanistanRelations #Khyber #InvestigativeJournalism #DeclassifiedDocuments #Geopolitics #PashtunBelt



Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1072 Articles with 821903 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More