آئی ایس آئی، طاقت کا ڈھانچہ اور بدلتا ہوا پاکستان: ماضی کے سوال آج بھی زندہ ہیں


پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس، یعنی آئی ایس آئی، پر بحث نئی نہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود اس ادارے سے متعلق بنیادی سوالات آج بھی وہی ہیں: آئی ایس آئی کا اصل کردار کیا ہے؟ اس کی پالیسی کون طے کرتا ہے؟ سویلین حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان اس کا مقام کیا ہے؟ اور افغانستان، بھارت، داخلی سیاست اور قومی سلامتی کے معاملات میں اس کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں؟

اوون ایل سِرس کی 2017 میں شائع ہونے والی کتاب Pakistan‘s Inter-Services Intelligence Directorate: Covert Action and Internal Operations انہی سوالات کو تاریخی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ کتاب پر گورڈن بونن کے تبصرے سے ایک بنیادی نکتہ سامنے آتا ہے: آئی ایس آئی کو صرف ایک خفیہ ایجنسی سمجھنا شاید اس کے کردار کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔

سِرس کے مطابق آئی ایس آئی بنیادی طور پر ایک فوجی ادارہ ہے۔ ان کے تجزیے میں اس کی اہمیت اس لیے ہے کہ آئی ایس آئی کے اقدامات کو سمجھنے کے لیے صرف ادارے کے اندرونی فیصلوں کو نہیں بلکہ پاکستانی فوج کی وسیع تر پالیسی اور قیادت کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔یہ نکتہ آج بھی اہم ہے۔ پاکستان میں قومی سلامتی، افغانستان، بھارت، دہشت گردی، داخلی سیاست اور بعض اوقات میڈیا سے متعلق مباحث میں آئی ایس آئی کا نام بار بار سامنے آتا ہے۔ لیکن کسی بھی دعوے کو سمجھنے کے لیے بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا یہ ادارے کی اپنی کارروائی تھی، فوجی قیادت کی پالیسی تھی، کسی سویلین حکومت کا فیصلہ تھا یا کسی انفرادی افسر کی سرگرمی؟یہ فرق اکثر عوامی بحث میں ختم ہو جاتا ہے، جبکہ انٹیلی جنس کی دنیا میں یہی فرق سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔

سِرس کی کتاب میں آئی ایس آئی کے داخلی کردار کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 1975ئ میں ادارے کے اندرونی ونگ کا کردار زیادہ باقاعدہ ہوا۔یہاں پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم تضاد سامنے آتا ہے۔ سویلین سیاسی قیادت عمومی طور پر فوجی اداروں کی سیاسی مداخلت کی مخالفت کرتی رہی، لیکن آئی ایس آئی کے داخلی کردار کو ادارہ جاتی شکل دینے کا عمل ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھی ہوا۔اس تاریخی حقیقت سے ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے: پاکستان میں انٹیلی جنس اداروں کا داخلی کردار صرف فوجی ادوار کا نتیجہ تھا یا سویلین حکومتیں بھی وقتاً فوقتاً ان اداروں کو سیاسی اور داخلی مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہیں؟یہ سوال آج بھی اہم ہے، کیونکہ ریاستی اداروں کے کردار پر بحث صرف اس بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے کہ حکومت سویلین ہے یا فوجی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ادارے کو اختیار کس نے دیا، کس مقصد کے لیے دیا اور اس اختیار کی نگرانی کیسے ہوئی؟

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو آئی ایس آئی کے کردار کے بغیر مکمل طور پر سمجھنا مشکل ہے۔سِرس کے مطابق 1980ئ کی دہائی میں سوویت افواج کے خلاف افغان مزاحمت کی حمایت آئی ایس آئی کی سب سے نمایاں کامیابیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ تاہم اسی عمل نے پاکستان کو افغان سیاست میں گہرائی تک داخل بھی کیا۔یہاں ایک اہم فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔کسی گروہ کی حمایت اور کسی گروہ پر مکمل کنٹرول ایک ہی چیز نہیں۔سِرس کے مطابق افغان مزاحمتی گروہوں کے معاملے میں آئی ایس آئی کی ترجیح کنٹرول تھی۔ لیکن ان کے مطابق طویل مدت میں یہی پالیسی بعض افغان حلقوں میں پاکستان کے خلاف ناراضی کا سبب بھی بنی۔یہ تاریخ آج کے افغانستان کو سمجھنے میں بھی اہم ہے۔ 1980ئ کی دہائی میں بننے والے تعلقات، نیٹ ورک، اعتماد اور بداعتمادی نے بعد کے عشروں کی افغان سیاست پر اثر ڈالا۔
2001ئ کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی۔ امریکا کی فوری ترجیح القاعدہ کے خلاف جنگ تھی، جبکہ پاکستان کے اپنے علاقائی مفادات موجود تھے۔ سِرس کے مطابق پاکستان افغانستان میں ایک ایسی حکومت چاہتا تھا جو اس کے لیے قابل قبول ہو اور افغانستان کو بھارت کے مقابلے میں اسٹریٹجک اہمیت حاصل تھی۔یہاں سے پاکستان اور امریکا کے درمیان ایک بنیادی تضاد سامنے آیا۔ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف تعاون کر رہے تھے، لیکن افغانستان کے مستقبل کے بارے میں ان کے مفادات ہمیشہ ایک جیسے نہیں تھے۔ یہ تضاد آج کے دور کو سمجھنے کے لیے بھی اہم ہے۔ ریاستیں ایک دوسرے کی اتحادی ہو سکتی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر علاقائی مسئلے پر ان کے مفادات مکمل طور پر یکساں ہوں۔

آئی ایس آئی سے متعلق سب سے زیادہ پراسرار تصورات میں سے ایک ڈائریکٹوریٹ ایس ہے۔سِرس نے اسے ایک انتہائی خفیہ ڈھانچے کے طور پر بیان کیا، جس کا تعلق افغان عسکریت پسند گروہوں کی مدد اور ایسی کارروائیوں سے تھا جن میں براہ راست ریاستی ذمہ داری کو پوشیدہ رکھا جا سکتا تھا۔ لیکن گورڈن بونن نے سِرس کی اسی تشریح پر سوال اٹھایا ہے۔ یہ تنقید اہم ہے۔ انٹیلی جنس سے متعلق تحقیق میں کسی خفیہ ادارے یا یونٹ کا نام مل جانا اس بات کا ثبوت نہیں ہوتا کہ اس کی مکمل ساخت، کمانڈ چین اور عملی ذمہ داریاں بھی ثابت ہو گئی ہیں۔یہاں صحافتی تحقیق کے لیے اصول سادہ ہے نام سے زیادہ دستاویز اہم ہے۔
اگر کسی دستاویز میں کسی افسر، دفتر، یونٹ، مقام، فنڈنگ، ہتھیاروں کی ترسیل یا آپریشن کا ذکر ہے تو اسے الگ الگ دستاویزات سے ملانا ضروری ہے۔ صرف کسی کتاب، یادداشت یا انٹیلی جنس افسر کے دعوے پر حتمی نتیجہ اخذ کرنا کمزور تحقیق ہوگی۔

افغان جنگ کی تاریخ میں پشاور کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 1980ئ کی دہائی میں پشاور افغان مزاحمتی سیاست، افغان مہاجرین، سیاسی جماعتوں، بین الاقوامی امداد، صحافت، سفارتی سرگرمیوں اور جنگی نیٹ ورکس کے ایک اہم مرکز کے طور پر سامنے آیا۔اسی لیے اگر آج کوئی صحافی 1979ئ سے 1989ئ تک آئی ایس آئی اور افغان مزاحمت کے تعلقات کی حقیقی دستاویزی تصویر بنانا چاہتا ہے تو اسے صرف اسلام آباد یا کابل نہیں دیکھنا چاہیے۔ پشاور کے ریکارڈ بھی تلاش کرنے ہوں گے۔اس میں افغان جماعتوں کے دفاتر، مہاجر کیمپ، اسلحہ کی ترسیل کے راستے، تربیتی مراکز، سرحدی علاقوں، پاکستانی سرکاری مراسلات، امریکی سفارتی کیبلز اور اس دور کی خفیہ دستاویزات شامل ہیں۔یہی وہ جگہ ہے جہاں تاریخی تحقیق اور موجودہ دور کی صحافت ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔

سِرس کی کتاب میں اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں موجود ہونے کے سوال پر بھی بحث کی گئی ہے۔ یہاں بھی اصل مسئلہ الزام لگانا نہیں بلکہ شواہد کا معیار ہے۔کیا پاکستانی ریاستی اداروں کو علم تھا؟ کیا کسی مخصوص ادارے کے کسی مخصوص اہلکار کو علم تھا؟ کیا یہ لاعلمی تھی، غفلت تھی، یا دانستہ سہولت کاری؟ ان تینوں امکانات کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ گورڈن بونن کی تنقید یہی ہے کہ سِرس نے ان سوالات کو مکمل طور پر حل نہیں کیا۔ یہ سبق آج کی صحافت کے لیے بھی اہم ہے۔ کسی بڑے دعوے کی طاقت اس کی سنسنی میں نہیں بلکہ اس کے دستاویزی ثبوت میں ہوتی ہے۔

آج جب پاکستان میں قومی سلامتی، دہشت گردی، افغانستان، ٹی ٹی پی، سرحدی سیکیورٹی، سیاسی استحکام اور ریاستی اداروں کے کردار پر بحث جاری ہے، تو ماضی کی انٹیلی جنس تاریخ محض پرانی کہانی نہیں رہی۔ 1980ئ کی دہائی میں بننے والے ادارہ جاتی طریقہ کار، علاقائی تعلقات اور سیکیورٹی تصورات کے اثرات بعد کی دہائیوں میں بھی نظر آتے ہیں۔ لیکن ماضی کو آج پر لاگو کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے 1980ئ کی دہائی کی آئی ایس آئی، 1990ئ کی دہائی کی آئی ایس آئی، 2001ئ کے بعد کی آئی ایس آئی اور آج کا ادارہ ایک ہی تاریخی ماحول میں کام نہیں کر رہے تھے۔ علاقائی حالات، عالمی طاقتوں کی ترجیحات، افغانستان کی حکومتیں، دہشت گرد گروہوں کی نوعیت اور پاکستان کی داخلی سیاست سب بدل چکے ہیں۔اس لیے ہر موجودہ واقعے کو ماضی کی کسی ایک پالیسی کا براہ راست تسلسل قرار دینا بھی اتنا ہی کمزور تجزیہ ہے جتنا ماضی کو مکمل طور پر موجودہ حالات سے الگ سمجھنا

اصل ضرورت دستاویزی تسلسل تلاش کرنے کی ہے۔ کون سا فیصلہ کب ہوا؟ کس ادارے نے کیا؟ کس افسر نے کیا؟ کس حکومت کے دور میں کیا؟ فنڈنگ کہاں سے آئی؟ ہتھیار کہاں گئے؟ تربیت کہاں ہوئی؟ اور ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کہاں موجود ہے؟ یہ سوالات ہی کسی بھی سنجیدہ تحقیق کو افواہ، سیاسی الزام اور تاریخی حقیقت کے درمیان فرق کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ آئی ایس آئی کی تاریخ پر سب سے اہم سبق شاید یہی ہے کہ خفیہ اداروں کو سمجھنے کے لیے صرف خفیہ کہانیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی اصل کہانی انہی عوامی دستاویزات میں چھپی ہوتی ہے جنہیں برسوں تک کسی نے سنجیدگی سے نہیں پڑھا۔

#Pakistan #ISI #InterServicesIntelligence #PakistanArmy #Peshawar #KhyberPakhtunkhwa #NWFP #Afghanistan #AfghanMujahideen #AfghanWar #SovietAfghanWar #CIA #Intelligence #CovertOperations #DirectorateS #Taliban #NationalSecurity #PakistanAfghanistan #IntelligenceHistory #InvestigativeJournalism #DeclassifiedDocuments #SouthAsia #PeshawarHistory #AfghanResistance #Geopolitics

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1072 Articles with 821903 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More