باپ کبھی بیمار کیوں نہیں ہوتا۔۔۔!!

باپ کبھی بیمار کیوں نہیں ہوتا۔۔۔!!
(تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان)
گھر میں کوئی بیمار ہو جائے تو سب کو فکر ہونے لگتی ہے۔ ماں کو بخار ہو تو گھر کی فضا بدل جاتی ہے، بچے بیمار ہوں تو والدین رات بھر جاگتے ہیں۔ مگر باپ؟
باپ کو ہم نے شاید کبھی بیمار دیکھا ہی نہیں۔ وہ تھکا ہوا گھر آتا ہے، مگر پوچھنے پر کہتا ہے:
"میں بالکل ٹھیک ہوں۔"
اس کے سر میں درد ہو تو بھی یہی جواب ہوتا ہے۔ کمر میں تکلیف ہو تو بھی یہی۔ بخار ہو تو دوا کھا کر کام پر نکل جاتا ہے۔ جیب میں پیسے کم ہوں تو خاموش رہتا ہے۔ گھر کی ضرورتیں بڑھ جائیں تو اپنی خواہشیں کم کر دیتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں باپ مضبوط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ باپ بھی اتنا ہی کمزور، حساس اور درد محسوس کرنے والا انسان ہے جتنے ہم سب۔
فرق صرف یہ ہے کہ وہ اپنی کمزوری ظاہر نہیں کرتا۔
باپ کو بیماری سے زیادہ ذمہ داری یاد رہتی ہے۔ باپ کو بخار ہو تو اسے بچوں کی فیس یاد آتی ہے۔ کمر میں درد ہو تو گھر کا کرایہ یاد آتا ہے۔ جیب خالی ہو تو راشن کا خیال آتا ہے۔
بیٹی کی شادی سامنے ہو تو اپنی ضرورتیں پیچھے چلی جاتی ہیں۔
وہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے سوچتا ہے:
"اگر آج کام پر نہ گیا تو کیا ہوگا؟"
اور کئی مرتبہ اپنی تکلیف کو یہ کہہ کر ٹال دیتا ہے:
"کچھ نہیں، معمولی سا درد ہے۔"
شاید باپ کی زندگی میں "معمولی درد" نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، وہ ہر درد کو معمولی اس لیے کہتا ہے کہ گھر والوں کو پریشانی نہ ہو۔
ہم باپ کو صرف ضرورت کے وقت یاد کرتے ہیں۔ بچپن میں ہمیں ہر چیز کے لیے باپ چاہیے ہوتا ہے۔ فیس چاہیے، ابو۔ کتابیں چاہیے، ابو۔ نیا جوتا چاہیے، ابو۔ سائیکل چاہیے، ابو۔
اور جب ہم بڑے ہوجاتے ہیں تو بھی ضرورتیں ختم نہیں ہوتیں، صرف ہماری توجہ بدل جاتی ہے۔
ہم اپنی مصروفیات میں اتنے گم ہوجاتے ہیں کہ کبھی یہ نہیں پوچھتے:
"ابو! آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟"
ہم نے باپ کو گھر کی ایک ایسی ضرورت سمجھ لیا ہے جو ہمیشہ پوری ہوتی رہے گی۔
مگر باپ کوئی مشین نہیں۔ اسے بھی آرام چاہیے۔ اسے بھی توجہ چاہیے۔ اسے بھی کبھی کسی کے کندھے کی ضرورت ہوتی ہے۔
باپ کی خاموشی کو پڑھنا سیکھیں۔ باپ کی محبت اکثر الفاظ میں نہیں ہوتی۔ وہ اپنی اولاد کے لیے صبح سویرے گھر سے نکلنے میں ہوتی ہے۔ اس جوتے میں ہوتی ہے جسے وہ کئی سال چلاتا رہتا ہے۔ اس کپڑے میں ہوتی ہے جسے وہ نیا لینے کے بجائے پرانا ہی پہن لیتا ہے۔
اس وقت میں ہوتی ہے جو وہ اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے قربان کر دیتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے ہمیں کیا دیا۔ ہم کم ہی دیکھتے ہیں کہ اس نے ہمیں دینے کے لیے اپنے پاس سے کیا چھوڑا۔ باپ کی جیب میں موجود آخری نوٹ بھی کبھی کبھی اولاد کے لیے ہوتا ہے۔ اس کی اپنی خواہشیں اکثر ایک لمبی فہرست ہوتی ہیں جس کے ہر صفحے پر لکھا ہوتا ہے:
"کبھی۔۔۔بعد میں۔"
ایک دن جب باپ واقعی بیمار ہوجاتا ہے۔ پھر زندگی میں ایک دن ایسا آتا ہے جب باپ پہلی بار کہتا ہے:
"آج طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔"
تب گھر کو اندازہ ہوتا ہے کہ جس شخص کو ہم ہمیشہ مضبوط سمجھتے رہے، وہ بھی تھکتا تھا۔
اسے بھی درد ہوتا تھا۔ اسے بھی فکر ہوتی تھی۔ اسے بھی کبھی ڈر لگتا تھا۔ بس اس نے اپنی پریشانی کو اولاد کی پریشانی نہیں بننے دیا اور تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جس شخص نے ساری عمر ہمارے لیے سہارا بن کر زندگی گزاری، اسے بھی کبھی سہارے کی ضرورت تھی۔ ہم آج جو کچھ ہیں، اس کے پیچھے کسی باپ کی محنت اور کسی ماں کی دعائیں شامل ہیں۔ اس لیے اگر باپ زندہ ہے تو اس سے بات کیجیے۔ اس کے پاس بیٹھیں۔ اس کی طبیعت پوچھیں اور جب وہ حسبِ معمول کہے:
"میں بالکل ٹھیک ہوں۔"
تو کبھی اس جواب پر فوراً یقین نہ کریں۔
دوبارہ پوچھیں:
"ابو! سچ بتائیں، آپ واقعی ٹھیک ہیں؟"
شاید اسے پہلی بار محسوس ہو کہ کوئی اس کی ضرورتوں کے پیچھے چھپی ہوئی انسان کو بھی دیکھ رہا ہے اور شاید یہی وہ وقت ہے جب ہمیں سمجھ آ جائے کہ:
باپ کبھی بیمار نہیں ہوتا۔۔۔یہ صرف اولاد کی خوش فہمی ہے۔
باپ بیمار بھی ہوتا ہے، تھکتا بھی ہے، ٹوٹتا بھی ہے، مگر اپنی اولاد کے سامنے اکثر صرف اس لیے مسکراتا رہتا ہے کہ اس کے بچوں کو یہ یقین رہے کہ ابھی ہمارا باپ ہمارے ساتھ ہے۔ 
Dr. Talib Ali Awan
About the Author: Dr. Talib Ali Awan Read More Articles by Dr. Talib Ali Awan: 76 Articles with 119063 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.