ملبے سے تعمیر تک۔۔۔ مگر کیا ہم بھی تعمیر ہوئے؟
(Raja Muhammad Attique Afsar, Peshawar)
| (8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کی یاد میں) |
|
راجہ محمد عتیق افسر، ایگزیکٹو کوآرڈینیٹرلائف اینڈ لیونگ ، رفاہ انٹر نیشنل یونیورسٹی اسلام آباد۔
یہ زلزلے کا جھٹکا ہے یا رب نے کہا ہے اس شہر میں جو کچھ بھی ہوا، دیکھ رہا ہوں انسان کس حد تک بے بس ہے، کس قدر غافل ہے اور کس حد تک حریص ہو سکتا ہے—اس کا عملی ادراک مجھے 8 اکتوبر 2005ء کے اس قیامت خیز دن ہوا، جب زمین کی ایک ہی جنبش نے چشمِ زدن میں ہزاروں انسانوں کی زندگیاں چھین لیں، لاکھوں کو زخمی اور بے گھر کر دیا، اور نہ جانے کتنے دلوں میں اپنوں کی جدائی کا ایسا گھاؤ چھوڑ دیا جو آج بھی مندمل نہیں ہوا۔ وہ انسان جو اپنی دنیا بسانے میں مگن تھا، بلند و بالا عمارتیں اور خوب صورت گھروندے تعمیر کر رہا تھا، اسے کیا خبر تھی کہ وہ اپنی ہی بے بسی اور تباہی کا سامان تیار کر رہا ہے۔ اس دن انسان کی بے بسی اور غفلت تو آشکار ہوئی ہی، لیکن اس کی حرص کے کئی پہلو بھی سامنے آئے۔ پھر یہی انسان، جو چند لمحے پہلے اپنے پیاروں کی زندگی کے لیے پریشان تھا، امدادی سامان کے حصول میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے لگا۔ قدرتی آفات صرف مادی تباہی نہیں لاتیں؛ وہ معاشرے کے باطن کو بھی بے نقاب کر دیتی ہیں۔ گھروں کے در و دیوار انسان کی شرم و حیا کے پردے بھی قائم رکھتے ہیں۔ اللہ کی ستّار ذات انسان کے کتنے ہی عیوب کو دنیا کی نظروں سے چھپائے رکھتی ہے، لیکن جب یہ قلعے مسمار ہو جاتے ہیں تو انسان کے کئی پوشیدہ پہلو بھی بے حجاب ہو جاتے ہیں۔ عمارتوں کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی اس کی خودی، خودداری اور عزتِ نفس کا بھرم بھی زمین بوس ہو جاتا ہے۔ ضمیر نہیں کانپے یہاں زمین کانپ جاتی ہے وہ دردناک صبح یہ 8 اکتوبر 2005ء کی ایک معمول کی صبح تھی۔ سورج حسبِ معمول طلوع ہوا تھا۔ اس کی سنہری کرنوں نے رات کے اندھیروں کو شکست دے کر اجالا بکھیر دیا تھا۔ زندگی اپنے معمول کے مطابق رواں دواں تھی، لیکن کسی کو کیا خبر تھی کہ چند ہی لمحوں بعد منظر بدلنے والا ہے۔ جوں ہی گھڑی کی سوئیوں نے 8 بج کر 52 منٹ کا اعلان کیا، مظفرآباد، بالاکوٹ، باغ اور گردونواح کے علاقے شدید زلزلے کی زد میں آ گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بستیاں اجڑ گئیں، عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، ہزاروں انسان لقمۂ اجل بن گئے، لاکھوں زخمی ہوئے اور بے شمار لوگ اپنے گھروں سے محروم ہو گئے۔یہ ایک قیامتِ صغریٰ تھی جس نے صرف اہلِ پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کے دل دہلا دیے۔ پاکستان کے مختلف شہروں سے امدادی سامان سے لدے قافلے متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ ہونے لگے۔ اہلِ پاکستان نے مالی ایثار اور انسانی ہمدردی کی ایسی مثال قائم کی جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ لوگوں نے اپنی استطاعت کے مطابق وہ سب کچھ عطیہ کیا جو مصیبت زدہ انسانوں کے کام آ سکتا تھا۔ دنیا کے دوسرے ممالک نے بھی متاثرین کے لیے اپنے خزانے کھول دیے۔ مگر ہماری بدقسمتی یہ تھی کہ اتنی بڑی قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس کوئی ایسا جامع اور مربوط نظام موجود نہ تھا جو امداد، بحالی اور تعمیرِ نو کو منظم انداز میں آگے بڑھا سکتا۔ نتیجتاً امدادی سامان کا ایک حصہ بدانتظامی کی نذر ہوا اور ایک حصہ بدعنوانی کا شکار بھی ہوا۔بہرحال، حکومتی اداروں، نجی تنظیموں اور عام لوگوں کی کوششوں سے متاثرین تک کسی نہ کسی صورت امداد پہنچتی رہی۔ یہ زلزلے کا جھٹکا ہے یا رب نے کہا ہے اس شہر میں جو کچھ بھی ہوا، دیکھ رہا ہوں جب دوسروں کا دکھ اپنا دکھ بن گیا اس سے پہلے میں نے افغان مہاجرین کے کیمپ بھی دیکھے تھے، کشمیری مہاجرین کے کیمپ بھی، اور اپنے علاقے میں ان خانہ بدوش خاندانوں کو بھی دیکھا تھا جو اپنے مویشیوں کے ریوڑ لیے کبھی ایک علاقے تو کبھی دوسرے علاقے کی طرف محوِ سفر رہتے تھے۔انہیں بے گھر اور بے در تو ضرور دیکھا تھا، مگر ان کے دکھ کی حقیقی شدت کا احساس مجھے اسی دن ہوا جب اپنے ہی گھر کے شکستہ در و دیوار کے سامنے خود کو بے بس پایا۔ میں اس وقت بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا طالب علم تھا۔ تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے HOPE (Health Orientation & Poverty Eradication) Foundation Islamabad میں بطور کوآرڈینیٹر کام کر رہا تھا۔ چونکہ یہ تنظیم تحصیل باغ میں رفاہی سرگرمیوں میں مصروف تھی، اس لیے اس علاقے سے میری خصوصی وابستگی بھی تھی۔ تنظیمی امور کی انجام دہی کے لیے میں اس روز باغ کی طرف محوِ سفر تھا۔ زلزلے کے شدید جھٹکے مجھے محسوس نہیں ہوئے۔ گاڑی باغ کی جانب رواں دواں تھی اور میں اپنے دیگر ہم سفروں کی طرح اس تباہی سے بے خبر تھا۔آزاد کشمیر کی حدود میں داخل ہونے کے بعد جب ہم کھڈ بازار پہنچے تو ہمیں زلزلے کی تباہ کاری کا اندازہ ہوا۔ ابتدا میں ذہن نے یہی سوچا کہ شاید صرف کچے مکانات متاثر ہوئے ہوں گے۔ گاڑی میں بیٹھا ہر شخص اپنے پیاروں کے لیے فکرمند ہو گیا۔ جب گاڑی ماہل کا پل پار کرکے باغ کی حدود میں داخل ہوئی تو چیخ و پکار سنائی دینے لگی۔ عمارتیں زمین بوس نظر آئیں، بازار ویران تھے اور ہر طرف خوف، بے بسی اور موت کا راج تھا۔اس دن انسان کی بے بسی کا وہ منظر دیکھا جو شاید پوری زندگی نہ بھول سکوں۔لاشوں کو دفنانے کے لیے کفن دستیاب نہیں تھے۔قبریں کھودنے کے لیے اوزار نہیں تھے۔مسیحاؤں کے پاس زخمیوں کے زخموں پر رکھنے کے لیے مرہم اور درد کم کرنے کے لیے دوائیں نہیں تھیں۔اور ملبے تلے دبے انسانوں کو نکالنے کے لیے مناسب وسائل تک میسر نہیں تھے۔ میں انہی آہوں، سسکیوں اور چیخوں کے درمیان اپنے گاؤں پہنچا تو وہاں بھی یہی منظر تھا۔ اگرچہ میرے انتہائی قریبی رشتہ داروں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، تاہم میری دادی جان، تایا جان اور دیگر کئی افراد زخمی ہوئے تھے۔ ایک رات، کھلے آسمان تلے رات ہوئی تو پانچ گھروں کے افراد ایک کھیت میں کھلے آسمان تلے جمع ہو گئے۔ ہم نے ایک ترپال اور چند کمبلوں کے ذریعے اپنے آپ کو موسم کی شدت سے بچانے کی کوشش کی۔بادلوں نے آسمان پر ڈیرے ڈالے تو یوں محسوس ہوا جیسے زمین کی آزمائش کے بعد آسمان بھی امتحان لینے آ گیا ہو۔ بارش اور اولے برسنے لگے۔ جن کمبلوں نے ہمیں سردی سے بچانا تھا، وہ برفانی پانی سے بھیگ کر خود سردی کی علامت بن گئے۔دن بھر کے ہولناک مناظر نے آنکھوں سے نیند چھین لی تھی، اور رات کی بارش و ژالہ باری نے جسمانی طور پر بھی آرام کی کوئی گنجائش نہ چھوڑی۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس دن ہمارے ہاں سحری اور افطاری کا کسی نہ کسی طرح انتظام تھا، لیکن ہمارے اردگرد بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو اس بنیادی سہولت سے محروم تھے۔ زخمیوں کی کراہیں، ملبے تلے دبے لوگوں کی بے بسی اور اپنے پیاروں کی لاشوں کے گرد بیٹھے خاندانوں کا دکھ—یہ سب منظر آج بھی ذہن کے پردے پر نقش ہیں۔ دن بھر بے بسی اور رات کو بے گھری و بے دری کا جو سبق ملا، وہ زندگی بھر بھلائے نہیں بھول سکتا۔ ملبے سے زندگی سمیٹنا ہم نے اگلی صبح سحری کے بعد اپنے ٹوٹے پھوٹے گھروندوں سے ضروری اشیا نکالنے کا سلسلہ شروع کیا۔ہمارا گھر کم تجربے رکھنے والے مستریوں نے تعمیر کیا تھا، اس لیے اس میں اعلیٰ درجے کی کاریگری کا فقدان تھا۔ کاریگروں نے ناتجربہ کاری کی وجہ سے جستی چادروں کی چھت دیواروں پر رکھنے کے بجائے لکڑی کے ستونوں پر کھڑی کی اور بعد میں دیواریں چھت تک اٹھا دی تھیں۔ یہی ناتجربہ کاری ہمارے لیے رحمت بن گئی۔ زلزلے سے دیواریں گر گئیں، مگر چھت لکڑی کے ستونوں کے سہارے قائم رہی۔البتہ برآمدے کی ایک جانب کی چھت مکمل طور پر گر چکی تھی۔ میرے والد صاحب نے گھر سے نکلنے والے برتن، بستر اور منہدم برآمدے کی جستی چادریں بھی اپنے متاثرہ بہن بھائیوں میں تقسیم کر دیں تاکہ وہ عارضی طور پر اپنے سروں پر چھت کا انتظام کر سکیں۔ انہوں نے انہیں یہ پیشکش بھی کی کہ گھر کی صفائی کر کے یہاں قیام کر لیں اور اپنے گھروں کی ازسرِ نو تعمیر کا انتظام کریں۔اگرچہ سب لوگ یہ پیشکش قبول نہ کر سکے، لیکن میرے ایک پھوپھی زاد بھائی نے اسے قبول کیا اور تقریباً دو برس اسی شکستہ گھر میں مقیم رہے۔یہ صرف ایک گھر نہیں تھا جو ٹوٹا تھا؛ ایک پوری بستی کی زندگی کا معمول ٹوٹ گیا تھا۔ بحالی کا سفر ریلیف اور بحالی کا کام شروع ہوا تو میں نے بھی اپنے علاقے کی تعمیرِ نو میں حتی المقدور حصہ لیا۔ اپنی رفاہی تنظیم کے پلیٹ فارم سے ہم نے بحالی کے متعدد منصوبے مکمل کیے۔ان میں تقریباً تین سو گھروں کی تعمیر، جستی چادروں کی تقسیم، کمبلوں، خیموں، ادویات اور اشیائے خورونوش کی فراہمی اور پانچ فنی تربیتی مراکز کا قیام شامل تھا۔اس کے علاوہ چار یونین کونسلوں سے یتیم بچوں کے کوائف جمع کیے گئے اور ان میں کتب، بستے اور نقد رقوم تقسیم کی گئیں۔ان سرگرمیوں نے میرے اندر چھپی کئی صلاحیتوں کو نکھارا، مگر اس سے بھی بڑھ کر مجھے انسانوں کی خدمت، ضرورت مندوں کا سہارا بننے اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور عطا کیا۔ اسی دوران مرشدِ اقبالؒ کا یہ شعر میرے لیے محض شعر نہیں رہا بلکہ زندگی کے مقصد کا حصہ بن گیا: ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا امداد، خودداری اور انسانی نفسیات جوں جوں امدادی سامان متاثرین تک پہنچنا شروع ہوا، ایک عجیب تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی۔ ابتدائی خوف رفتہ رفتہ امداد کے حصول کی دوڑ میں تبدیل ہونے لگا۔ زیادہ سے زیادہ سامان حاصل کرنے کا رجحان پیدا ہوا اور بعض لوگوں نے خودداری کو پسِ پشت ڈال کر امداد کے لیے ہاتھ پھیلانا شروع کر دیے۔یہاں ایک تلخ حقیقت سامنے آئی: مسلسل امداد اگر خود انحصاری کی جگہ لے لے تو انسان کے ہاتھ تو بھر سکتے ہیں، مگر اس کی خودی خالی ہو سکتی ہے۔ لوگوں نے امدادی سامان کو ضرورت سے زیادہ حاصل کرنے میں فخر محسوس کرنا شروع کیا۔ بعض جگہوں پر امداد نے ضرورت مند کو بااختیار بنانے کے بجائے اسے دوسروں کا محتاج بنا دیا۔ گھروں کی تعمیرِ نو میں بھی ایک طویل عرصہ لگا۔ حکومت نے فی گھرانہ تقریباً پونے دو لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا، جو مختلف مراحل میں ادا ہونی تھی۔ لیکن بیوروکریسی کے پیچیدہ مراحل اور معائنوں کے باعث لوگ ایک مرحلے کی تکمیل کے بعد اگلی قسط کے منتظر رہتے۔ یہاں بھی کرپشن کے دروازے کھلنے لگے۔تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور سرکاری عمارات کی تعمیر کے لیے آنے والے بعض فنڈز بھی بدعنوانی سے محفوظ نہ رہ سکے۔یہ سانحہ ہمیں ایک اور سبق دے گیا: قدرتی آفت انسان کو نہیں بناتی یا بگاڑتی؛ وہ اس کے اندر چھپی حقیقت کو نمایاں کر دیتی ہے۔ تعمیر تو ہوئی، مگر کیا ہم بھی تعمیر ہوئے؟ آج میرے علاقے کا نقشہ بدل چکا ہے۔ کچے گھروں کی جگہ پختہ اور نیم پختہ عمارات نے لے لی ہے۔ اسکول، کالج، یونیورسٹیاں اور ہسپتال پہلے سے بہتر عمارات میں قائم ہیں۔ سڑکوں کا نظام بہتر ہوا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کا رجحان بڑھا ہے اور بظاہر زندگی پہلے سے زیادہ سہل دکھائی دیتی ہے۔مگر سوال یہ ہے: کیا صرف عمارتیں تعمیر ہونے سے معاشرہ بھی تعمیر ہو جاتا ہے؟ میرا مشاہدہ اس سوال کا جواب آسان نہیں سمجھتا۔مادی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشرتی حالت کے بعض پہلو ابتر بھی ہوئے۔ جرائم میں اضافہ ہوا، اخلاقی معیار میں کمی آئی، باہمی تعاون کی جگہ نفسا نفسی نے لے لی، خاندانی نظام میں دراڑیں پڑیں اور بزرگوں کی وہ گرفت جو کبھی خاندان کو جوڑے رکھتی تھی، کمزور ہوئی۔ نوجوانوں میں بے راہ روی بڑھی اور بعض علاقوں میں جرائم نے بھی جڑ پکڑی۔ایسا محسوس ہوا جیسے ہم نے زلزلے سے ٹوٹنے والی عمارتیں تو دوبارہ تعمیر کر لیں، مگر وہ اقدار جو ملبے تلے دب گئی تھیں، انہیں تلاش کرنا بھول گئے۔ہم نے اینٹیں بچا لیں، مگر اخلاص نہ بچا سکے۔ہم نے چھتیں بنا لیں، مگر محبت کی چھاؤں کم ہو گئی۔ہم نے سڑکیں بنا لیں، مگر ایک دوسرے تک پہنچنے کے راستے دشوار ہو گئے۔ ملبے تلے دبی ہوئی اقدار کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کوئی ایسی مشین ایجاد ہو جائے جو ملبے کے نیچے دبے ہوئے گھروں کے ساتھ ساتھ خلوص، محبت، ایثار، خودداری، بھائی چارے اور اجتماعی ذمہ داری کو بھی تلاش کرکے باہر نکال لائے۔کوئی ایسی قوت ہو جو ہمارے معاشرے سے نفسا نفسی کا ملبہ ہٹا دے۔کوئی ایسا نظام ہو جو انسان کو پھر سے انسان بنا دے۔پھر میری سوچ بھول بھلیوں سے گزرتی ہوئی ایک ایسی روشنی پر آ کر رک جاتی ہے جس کا نام قرآن ہے۔اللہ رب العزت نے چودہ سو سال پہلے وہ رہنمائی عطا کر دی تھی جس کی تلاش میں ہم آج نئے نئے نظام اور طریقے تلاش کر رہے ہیں۔قرآن انسان کو صرف عبادت نہیں سکھاتا؛ وہ اسے عدل، احسان، ایثار، امانت، صبر، اخوت، خود احتسابی اور اجتماعی ذمہ داری بھی سکھاتا ہے۔قرآن پر عمل کرنے سے ایسی شخصیات وجود میں آتی ہیں جو زلزلہ زدہ زمین پر بھی ثابت قدم رہتی ہیں اور معاشرے کو بھی استقامت عطا کرتی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں سیدنا عمر فاروقؓ کی شخصیت اسی کردار کی ایک عظیم مثال ہے—ایسا حاکم جس کے نزدیک رعایا کی تکلیف ذاتی ذمہ داری تھی، اور جس کی خود احتسابی نے حکمرانی کو امانت بنا دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دور میں زلزلہ آیا تو انہوں نے زمین کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ٹھہر جاکیا تجھ پہ عدل قائم نہیں ؟ تو زمین بھی رک گئی ۔اقبال اسی روح کو زندہ دیکھنا چاہتے تھے۔اسی لیے ان کی شاعری میں بار بار خودی، کردار، خدمت اور ملت کا تصور سامنے آتا ہے۔ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ زلزلہ گزر گیا، مگر سوال باقی ہے آج 8 اکتوبر 2005ء کو گزرے برسوں بیت چکے ہیں۔ زمین کے وہ جھٹکے رک گئے، ملبہ صاف ہو گیا، گھر دوبارہ بن گئے، سڑکیں تعمیر ہو گئیں، اسکول آباد ہو گئے اور زندگی بظاہر اپنے معمول پر واپس آ گئی۔لیکن میرے لیے 8 اکتوبر آج بھی ایک تاریخ نہیں، ایک سوال ہے۔ کیا ہم نے اس دن سے کچھ سیکھا؟کیا ہم نے اپنی بے بسی کو یاد رکھا؟کیا ہم نے اپنے اجتماعی نظام کو مضبوط کیا؟کیا ہم نے اپنی خودداری محفوظ رکھی؟کیا ہم نے ان اقدار کو بچایا جنہوں نے اس سانحے کے دن ایک پاکستانی کو دوسرے پاکستانی کا سہارا بنایا تھا؟اور سب سے بڑھ کر: کیا ہم نے اللہ کی اس تنبیہ کو سمجھا جو چند لمحوں میں ہماری دنیا بدل کر رکھ دیتی ہے؟ زلزلہ ہمیں یہ بھی سکھا گیا کہ انسان جتنی بھی مضبوط عمارت بنا لے، وہ اللہ کی قدرت کے سامنے کمزور ہے۔ لیکن یہی کمزوری انسان کو تکبر سے نکال کر شکر، عاجزی اور خدمت کی طرف لے جا سکتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صرف زلزلہ پروف عمارتیں نہ بنائیں، بلکہ کردار پروف نسلیں بھی تیار کریں۔ایسی نسلیں جو مشکل میں دوسروں کا ہاتھ تھامیں۔ایسی نسلیں جو امداد لیتے وقت اپنی عزتِ نفس نہ بیچیں۔ایسی نسلیں جو مصیبت کو کاروبار نہ بنائیں۔ایسی نسلیں جو قدرتی آفت سے صرف عمارتیں دوبارہ تعمیر کرنے کا سبق نہ لیں بلکہ انسان اور معاشرے کی تعمیر کا سبق بھی حاصل کریں۔آخرکار میری سوچ پھر اقبال کی طرف لوٹتی ہے: دنیا کو ہے اس مہدیِ برحق کی ضرورت ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالمِ افکار شاید ہمیں کسی نئے زلزلے کی نہیں، بلکہ ایک نئے فکری زلزلے کی ضرورت ہے؛ ایسا زلزلہ جو ہمارے ذہنوں کو جھنجھوڑ دے، ہماری غفلت توڑ دے، ہماری خودی جگا دے اور ہمیں قرآن کی ان تعلیمات کی طرف واپس لے جائے جو انسان کو انسان، معاشرے کو معاشرہ اور قوم کو قوم بناتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ 8 اکتوبر کے تمام مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں اور متاثرین کی تکالیف کو اپنی رحمت سے آسان فرمائے، اور ہمیں اس سانحے سے حقیقی عبرت حاصل کرکے ایک بااخلاق، خوددار، باہمی محبت اور اخوت رکھنے والا معاشرہ تشکیل دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
|