وقت کی پیمائش میں نئی پیش رفت
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
وقت کی پیمائش میں نئی پیش رفت تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
وقت کی درست پیمائش جدید سائنس، سیٹلائٹ نیویگیشن اور خلائی تحقیق کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ چین کے سائنس دانوں نے اس میدان میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایسا نیوکلیئر کلاک تیار کیا ہے جس نے مستحکم طور پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی میں وقت کی پیمائش کے لیے ایٹم کے اندر الیکٹرانوں کے بجائے اس کے مرکزے میں ہونے والی توانائی کی تبدیلیوں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت کوانٹم سائنس کے ذریعے انتہائی درست پیمائش کے شعبے میں نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی سے سیٹلائٹ نیویگیشن، گہرے خلاء کی تحقیق اور دیگر ایسے نظاموں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جہاں وقت اور فریکوئنسی کی انتہائی درست پیمائش ضروری ہوتی ہے۔
روایتی ایٹمی گھڑیاں ایٹم کے اندر الیکٹرانوں کی مخصوص توانائی کی سطحوں کے درمیان تبدیلیوں کو وقت کے پیمانے کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ یہی طریقہ انہیں آج دستیاب انتہائی درست وقت پیما آلات میں شامل کرتا ہے۔ اس کے برعکس نیوکلیئر کلاک ایٹم کے مرکزے میں توانائی کی سطحوں کے درمیان ہونے والی تبدیلیوں کی فریکوئنسی کو بنیاد بناتی ہے۔
ایٹم کا مرکزہ انتہائی چھوٹا ہوتا ہے اور اس میں ہونے والی بعض تبدیلیاں بیرونی برقی مقناطیسی اثرات سے نسبتاً کم متاثر ہو سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے سائنس دان توقع کرتے ہیں کہ نیوکلیئر کلاک مستقبل میں وقت کی پیمائش کو مزید درست اور عملی طور پر قابلِ اعتماد بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ٹھوس مادے پر مبنی اس نوعیت کی گھڑیوں کو چھوٹے حجم میں تیار کرنے اور مختلف آلات میں نصب کرنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔
اس نئی گھڑی کی تیاری میں تھوریم۔229 نامی تابکار آئسوٹوپ کے مرکزے میں توانائی کی تبدیلیوں کو استعمال کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے سائنس دانوں نے ایک خصوصی لیزر تیار کیا، جو 148 نینو میٹر طولِ موج کی مسلسل بالائے بنفشی شعاعیں پیدا کرتا ہے۔ یہ لیزر مرکزے میں مطلوبہ توانائی کی تبدیلی کو متحرک کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تحقیقی ٹیم نے تھوریم۔229 ملے کیلشیم فلورائیڈ کا ایک مخصوص کرسٹل بھی تیار کیا، جس میں تھوریم کی مقدار صرف 1.4 مائیکروگرام تھی۔ لیزر اور اس کرسٹل کی مدد سے نیوکلیئر تبدیلیوں کو متحرک کرنے اور ان کی پیمائش کے لیے درکار بنیادی تکنیکی نظام قائم کیا گیا۔
اس منصوبے سے وابستہ سائنس دانوں کے مطابق 148 نینو میٹر طولِ موج پر مسلسل کام کرنے والا لیزر تیار کرنا اس تحقیق کا ایک اہم مرحلہ تھا، کیونکہ مرکزے میں مطلوبہ توانائی کی تبدیلی کو درست طور پر متحرک کرنے کے لیے مخصوص خصوصیات کی روشنی درکار تھی۔ اس کے بعد کرسٹل، نیوکلیئر تبدیلیوں کے طیف اور گھڑی کے مسلسل آپریشن کو یکجا کرکے ایک مکمل نظام تیار کیا گیا۔
چینی ماہرین کے مطابق نیوکلیئر کلاک کی کامیاب تیاری اور مستحکم آپریشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوانٹم نظاموں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت اب ایٹم کے مرکزے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ یہ پیش رفت مستقبل میں وقت اور فریکوئنسی کے نئے معیارات کی تشکیل کی بنیاد بن سکتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال میں سیٹلائٹ نیویگیشن خاص اہمیت رکھتی ہے، جہاں وقت کی معمولی سی غلطی بھی مقام کے تعین میں فرق پیدا کر سکتی ہے۔ اسی طرح خلائی تحقیق، انتہائی درست سائنسی تجربات اور جدید مواصلاتی نظاموں میں بھی بہتر وقت پیما آلات کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم نیوکلیئر کلاک کی عملی افادیت کا مکمل اندازہ لگانے کے لیے اس کی درستگی، طویل مدتی استحکام اور مختلف ماحول میں کارکردگی کا مزید جائزہ ضروری ہوگا۔ اس کے باوجود موجودہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ انتہائی درست وقت کی پیمائش کے لیے سائنس دان اب ایٹم کے مرکزے کو بھی ایک نئے ممکنہ معیار کے طور پر استعمال کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ |