چین، عالمی تحقیق اور جدت کا مرکز
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین، عالمی تحقیق اور جدت کا مرکز تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
عالمی صنعت میں اب کامیابی کا انحصار صرف مصنوعات کی تیاری پر نہیں بلکہ نئی ٹیکنالوجی، تحقیق اور صارفین کی ضروریات کو سمجھنے پر بھی ہے۔ اسی لیے متعدد بین الاقوامی کمپنیاں چین میں اپنی موجودگی کو پیداواری مراکز سے آگے بڑھاتے ہوئے تحقیق و ترقی کے ادارے قائم کر رہی ہیں، جہاں نئی مصنوعات تیار کرنے کے ساتھ مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔
اس رجحان کی ایک مثال شنگھائی میں قائم آڈی انوویشن اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر ہے، جسے جرمن کار ساز کمپنی آڈی اور چینی کمپنی ایس اے آئی سی موٹر نے مشترکہ طور پر قائم کیا ہے۔ یہ مرکز اسمارٹ الیکٹرک گاڑیوں اور مکمل گاڑیوں کی تیاری پر توجہ دے گا۔ دونوں کمپنیوں نے جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر مبنی چار نئے ماڈلز مشترکہ طور پر تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے، جن میں پہلا ماڈل 2028 میں متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔
جرمنی سے باہر آڈی کا یہ پہلا تحقیقی مرکز ہے جہاں تحقیق سے لے کر گاڑی کی مکمل تیاری تک تمام مراحل کو یکجا کیا گیا ہے۔ یہاں ہونے والی جدت نہ صرف چینی صارفین کی ضروریات پوری کرے گی بلکہ اسے کمپنی کے عالمی کاروبار میں بھی شامل کیا جا سکے گا۔ یوں چین کا کردار گاڑیوں کی تیاری سے بڑھ کر ڈیزائن، انجینئرنگ اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی تک پھیل رہا ہے۔
یہ تبدیلی آٹو موبائل صنعت تک محدود نہیں۔ 2025 میں چین کے سائنسی تحقیق اور تکنیکی خدمات کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصہ مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کے تقریباً پانچویں حصے تک پہنچ گیا۔ اسی سال اس شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے 14 ہزار نئی کمپنیاں قائم ہوئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 27.2 فیصد زیادہ تھیں۔ دوا سازی، الیکٹرانکس، صنعتی ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں کی متعدد بین الاقوامی کمپنیوں نے بھی چین میں اپنے تحقیقی مراکز قائم کیے ہیں۔
اس توسیع کے پیچھے چین کی وسیع صارف منڈی، مضبوط صنعتی نظام اور نئی ٹیکنالوجی کو تیزی سے عملی شکل دینے کی صلاحیت اہم عوامل ہیں۔ یہاں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں، پرزہ ساز اداروں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کے درمیان قریبی تعاون سے نئی مصنوعات تیار کرنے اور انہیں مارکیٹ میں متعارف کرانے کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔ آٹو موبائل صنعت کو پرزے فراہم کرنے والی بعض بین الاقوامی کمپنیوں نے چین میں تیار کردہ مصنوعات پہلے مقامی مارکیٹ میں متعارف کرائیں اور بعد میں انہیں عالمی سطح پر پیش کیا۔ اس طریقے سے صارفین کے تجربات کی بنیاد پر مصنوعات بہتر بنانے اور نئی ٹیکنالوجی کی افادیت جانچنے کے مواقع ملتے ہیں۔ اسی طرح گاڑیوں میں شور، ارتعاش اور آرام سے متعلق جدید نظام تیار کرنے والی کمپنیاں بھی چینی کار ساز اداروں کے ساتھ مل کر نئی مصنوعات پر کام کر رہی ہیں۔
تحقیق و ترقی کے لیے ہنرمند افرادی قوت کی دستیابی بھی اہم ہے۔ چین میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں سے ہر سال 50 لاکھ سے زیادہ طلبہ فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ انجینئرز اور محققین کی یہ بڑی تعداد مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، سافٹ ویئر اور جدید مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں تحقیق کے لیے افرادی قوت فراہم کرتی ہے۔
بین الاقوامی کمپنیوں کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی انجینئرز اب صرف موجودہ مصنوعات کو بہتر بنانے تک محدود نہیں بلکہ نئی ٹیکنالوجیز کی تیاری اور انہیں تجارتی پیمانے پر متعارف کرانے میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ سیمی کنڈکٹرز کے لیے مواد تیار کرنے سے لے کر گاڑیوں اور الیکٹرانکس کی صنعت تک، چین میں ہونے والی تحقیق عالمی صنعتی نیٹ ورک کا حصہ بن رہی ہے۔ چین غیر ملکی تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے پالیسی اقدامات بھی کر رہا ہے۔ 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) میں غیر ملکی کمپنیوں کے مزید علاقائی ہیڈکوارٹرز اور تحقیق و ترقی کے مراکز قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اختراعی ادویات اور ڈیجیٹل تخلیقی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے ساتھ اہل تحقیقی مراکز کو درآمدی تحقیقی سامان پر ٹیکس میں رعایتیں بھی دی جا رہی ہیں۔
ان اقدامات کا مقصد چین کے صنعتی نظام، ہنرمند افرادی قوت اور وسیع مارکیٹ کو عالمی تحقیق و جدت سے جوڑنا ہے۔ اس عمل میں بین الاقوامی تعاون کی اہمیت بھی نمایاں ہے، کیونکہ جدید صنعتی مسائل کے حل کے لیے مختلف ممالک کے محققین، انجینئرز اور کمپنیوں کے درمیان علم اور تجربات کا تبادلہ ضروری ہے۔
چین میں بین الاقوامی کمپنیوں کے تحقیقی مراکز کی توسیع اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی کاروبار میں توجہ اب صرف پیداوار کے مقام پر نہیں بلکہ جدت پیدا کرنے کی صلاحیت پر بھی مرکوز ہے۔ اس رجحان کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تحقیق کس حد تک نئی مصنوعات، بہتر صنعتی کارکردگی اور عالمی منڈیوں کے لیے قابلِ استعمال ٹیکنالوجی میں تبدیل ہوتی ہے۔ |
|