حضرت خالد بن ولید کی پگڑی
(Mufti Md Faiyaz Qasmi, Kolkata)
فیس بک میڈیا پر Think Talk کے نام سے ایک پروفائل ہے،اسی پرکسی نوجوان کے ایک ویڈیو کلپ کی یہ بعینہ اردو تحریر ہے؛یہی ویڈیو میری اس تحقیقی تحریر کا سبب بنا، تاکہ ویڈیو میں کہی گئی باتوں کا تجزیہ کیا جائے اوریہ واضح کیا جاسکے کہ اصل بات کیا ہے اور شوشل میڈیا کے دَور میں اسے کس طرح بے دیانتی سے پیش کیا گیا ہے۔
ویڈیو میں نوجوان کہتے ہیں: ”حضرت خالد بن ولید واقعتاً ایک بہت کیریزمیٹک جنرل تھے،چیف آف آرمی اسٹاف تھے، دو سوپر پاورز سے جنگ جیت چکے تھے، سیف اللہ بھی تھے اور یہ بات مسلمانوں میں مشہور ہو گئی تھی کہ جس جنگ کی قیادت خالد کے پاس ہو وہ تو ہم ہارہی نہیں سکتے۔ عرب کا ایک دوسرا جوان ارانہ اور وہ جوان کہ جب قریش نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا کہا ابو طالب سے کہ آپ محمد کو ہمارے حوالے کر دیجئے تو جواب میں کہا،ہم خالد کو آپ کو دے دیتے ہیں،تو حضرت ابو طالب نے کہا تھا، مجھ سے میرا بیٹا مانگتے ہو قتل کے لیے اور اپنے بیٹے دیتے ہو مجھے پالنے کے لیے۔وہ خالد بن ولید جب دمشق کی فتح پر خوش ہو کر کے ایک شاعر نے ان کی شان میں قصیدہ لکھا،تو انہوں نے اسے خوش ہو کر کے دس ہزار درہم انعام میں دئیے۔پہلے سے کچھ معاملات ایسے چل رہے تھے، مسلمانوں کی ذہنیت جو آپ نے بتایا ڈیولپ ہو گئی تھی کچھ اور اس طرح کے پھر اور بھی اس طرح کی چیزیں تھیں۔حضرت عمر حضرتِ بلال کو منصف مقرر کرتے ہیں یعنی آج اہلِ صفا مردودِ حرم مسند پہ بٹھائے جا رہے ہیں۔تخت گرائے جا رہے ہیں۔ تاج اچھا لے جا رہے ہیں۔ جو کل ایک کموڈیٹی تھے آج وہ اپنے آقاؤں کے فیصلے کرنے جا رہے ہیں۔ حضرتِ بلال کو ہدایت دے کر کے بھیجتے ہیں کہ تمام فوج کو جمع کرو عدالت لگاؤ، خالد کو کٹہرے میں کھڑا کرو، اس کی پگڑی سے اس کے پیر باندھو اور اس سے پوچھو کہ اس نے شاعر کو نظرانہ کہاں سے دیا ہے؟اگر کہتا ہے کہ بیت المال سے دیا ہے تو اس نے خیانت کیے۔ اگر کہتا ہے کہ ذاتی مال سے دیا ہے تو اس نے اسراف کیا ہے۔ ہر دو صورتوں میں معذول کر کے میرے پاس بھیجو۔ آپ کیا سمجھ رہے ہیں؟مارشال لا لگ گیا ہوگا؟بغاوت ہو گئی ہوگی؟کیا رہا ہوگا؟حضرت بلال دمشق میں جاتے ہیں، عدالت لگاتے ہیں، خالد لائے جاتے ہیں، حرکارہ انہیں پکارتا ہے، کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں، پگڑی کھولی جاتی ہے، پیروں میں باندھی جاتی ہے اور سب کے سامنے پوچھا جاتا ہے کہ خالد تم نے شاعر کو پیسے کہاں سے دیئے تھے؟بیت المال سے دیئے تھے یا ذاتی مال سے دیئے تھے؟وہ کہتے ہیں میرے ذاتی مال سے۔ خالد تمہیں معزول کیا جاتا ہے، تم ایک تیز رفتار گھوڑا لو اور امیر المومنین کے حضور پیش ہو۔ اور پھر عدالت اپنا فیصلہ سنانے کے بعد جب وہ پگڑی کھولنے کے لیے آتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں وہ بلال کہ جو سحراپہ لٹائے جاتے تھے جو تپتی ریت میں لٹائے جاتے تھے جو برابر بیٹھ نہیں سکتے تھے ان سردارانِ قریش کے۔ خالد تو ولید بن مغیرہ کے بیٹے ہیں نا سردارِ قریش کے بیٹے ہیں۔ آج وہ خالد کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ بلال کہتے ہیں کہ خالد میں نہیں چاہتا تھا یہ کرنا۔ عمر کے سامنے کسی کی کچھ نہیں چلتی۔ یہ کیا نظام؟یہ کیا انقلاب آگیا تھا؟کچھ تو تھا نا۔ یہ کیا بدل کے رکھ دیئے تھی؟یہ کیا کایا پلٹ ہو گئی تھی؟کہ وہی بلال آج خالد کا فیصلہ کر رہا ہے۔ وہ مکہ کا غلام مکہ کے سردار کے بیٹے کا فیصلہ کر رہا ہے۔ یہ انقلاب، یہ مساوات کہاں ہیں اب؟کہاں ہیں وہ درس دینے والے جو مساوات کا درس دیتے ہیں ہم کو؟کہاں ہیں جو ہم کو عدلِ اجتماعی کی باتیں کرتے ہیں؟
حضرت خالد بن ولیدؓ کی پگڑی کا اُتارا جانا (ایک تاریخی واقعے کی تحقیق اور اس کے پس منظر کا مطالعہ)
از... مفتی محمد فیاض قاسمی، رہوا، رامپور،وارث نگر،سمستی پور مصنفِ ریاضی، و شریعہ ایڈوائزر نیچروویدا ہیلتھ ورلڈ، کلکتہ، مغربی بنگال E-mail: [email protected]
تمہید: اسلامی تاریخ کے صفحات میں بعض واقعات ایسے ہیں جو بظاہر مختصر ہوتے ہیں، لیکن ان کے اندر عہدِ صحابہؓ کے نظمِ حکومت، احتساب، اطاعتِ امیر اور باہمی احترام کی پوری تصویر سمٹ آتی ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قنسرین کی ولایت سے معزولی اور اس موقع پر حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ان کی عمامہ کھولنے کا واقعہ بھی انہی واقعات میں سے ہے۔ یہ واقعہ عوامی مجالس اور بعض تحریروں میں کبھی اس انداز سے بیان کیا جاتا ہے، کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کا پاؤں ان کی پگڑی سے باندھنے کا حکم دیا تھا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے بہ حیثیت امیراس حکم کو نافذ کیا۔ لیکن جب اصل تاریخی روایت کی طرف رجوع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ واقعے کی اصل صورت اس سے قدرے مختلف ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسے جذباتی یا روایتی انداز کے بجائے تاریخی ماخذ کی روشنی میں دیکھا جائے۔ واقعہ کی تاریخ: یہ واقعہ مشہور تاریخی روایت کے مطابق سنہ 17 ہجری میں پیش آیا۔ اس وقت امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے اور شام کی مختلف سرحدی و انتظامی اکائیوں پر متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مقرر تھے۔اس زمانے میں حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ شام کے بڑے امیر تھے، جبکہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ قنسرین کے والی تھے اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے ماتحت کام کرتے تھے۔ابن جریر طبری نے اس دَور کی انتظامی صورت حال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حمص پر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا اختیار تھا، خالد رضی اللہ عنہ قنسرین میں ان کے ماتحت تھے، جبکہ دمشق اور دوسرے علاقوں کے لیے الگ الگ عامل مقرر تھے۔(...قالوا: وأدرب سنۃ سبع عشرۃ خالد وعیاض، فسارا فأصابا أموالا عظیمۃ، وکانا توجّہا من الجابیۃ، مرجع عمر إلی المدینۃ، وعلی حمص أبو عبیدۃ وخالد تحت یدیہ علی قنّسرین، وعلی دمشق یزید بن أبی سفیان، وعلی الأردنّ معاویۃ، وعلی فلسطین علقمۃ بن مجزّز، وعلی الأہراء عمرو بن عبسۃ، وعلی السواحل عبد اللہ بن قیس، وعلی کلّ عمل عامل. فقامت مسالح الشأم ومصر والعراق علی ذلک إلی الیوم لم تجز أمّۃ إلی أخری عملہا بعد؛ تاریخ طبری جلد ۴،ذکرخبر عزل خالد بن ولید)۔ لہذا یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس واقعہ کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ نہ شام کے حاکم تھے، نہ دمشق کے امیر،نہ قنسرین کے والی اور نہ ہی حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے برابر کسی انتظامی منصب پر فائز تھے۔ واقعہ کا آغاز: کتب ِتاریخ میں ہے کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ اور حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے رومی سرحد کی طرف ایک فوجی مہم کی۔ اس مہم سے واپسی پر مسلمانوں کے ہاتھ خاصا مال آیا۔جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے پاس مال موجود ہے تو بعض لوگ ان کے پاس انعام کی امید سے آنے لگے۔ انہی لوگوں میں اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔طبری کی روایت کے مطابق اشعث بن قیس حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے پاس قنسرین پہنچے اور حضرت خالد نے انہیں دس ہزار عطا کیے۔”فاِن الأشعث بن قیس ممن انتجع خالدا بقنسرین، فأجازہ بعشرۃآلاف“۔ یعنی اشعث بن قیس ان لوگوں میں تھے جو قنسرین میں خالد کے پاس آئے اور خالد نے انہیں دس ہزار عطا کیے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اصل روایت میں صرف "دس ہزار" کا ذکر ہے؛ اس رقم کو کسی خاص کرنسی، مثلاً درہم یا دینار، کے ساتھ متعین نہیں کیا گیااور نہ ہی اس رقم کو حضرت خالد کی شان میں قصیدہ گوئی کی اجرت قرار دیا گیا۔ امیر المومنین حضرت عمرؓ کی کارروائی: حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی طرف سے اشعث کو اتنی بڑی رقم دیے جانے کی خبر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے معاملے کی تحقیق ضروری سمجھی۔چنا نچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے نام ایک تحریر روانہ کی۔ اس تحریر میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو حاضر کرنے، ان کی عمامہ(پگڑی) کھولنے، قلنسوہ(ٹوپی) اتارنے اور عمامہ کے ذریعہ انہیں مقیدکرنے (باندھنے)کا حکم دیا گیا، تاکہ معلوم ہو کہ اشعث کو دی گئی رقم کہاں سے آئی تھی۔ طبری کی روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم کے الفاظ یہ ہیں: ”أن یقیم خالدا ویعقلہ بعمامتہ، وینزع عنہ قلنسوتہ حتی یعلمہم من أین إجازۃ الأشعث؛ أمن مالہ أم من إصابۃ أصابہا؟ فإن زعم أنہا من إصابۃ أصابہا فقد أقر بخیانۃ، وإن زعم أنہا من مالہ فقد أسرف۔ وأعزلہ علی کل حال، وأضمم إلیک عملہ“۔ یعنی خالد کو حاضر کیا جائے، انہیں ان کی عمامہ کے ذریعہ مقید کیا جائے اور ان کی قلنسوہ اتاری جائے، یہاں تک کہ معلوم ہوجائے کہ اشعث کو دی گئی رقم ان کے اپنے مال سے تھی یا جنگ میں حاصل ہونے والے مال سے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی حکم میں یہ بھی واضح کیا کہ اگر حضرت خالد کہیں کہ رقم جنگ میں حاصل ہونے والے مال سے دی تھی تو یہ خیانت ہوگی اور اگر کہیں کہ اپنے مال سے دی تھی تو یہ اسراف ہوگا؛ چنانچہ دونوں صورتوں میں انہیں ان کے منصب سے معزول کرنے کا حکم دیا گیا۔ ایک بنیادی تاریخی تصحیح: یہی وہ مقام ہے جہاں عوامی روایت اور اصل تاریخی عبارت میں فرق سامنے آتا ہے۔ چنانچہ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کا پاؤں ان کی پگڑی سے باندھنے کا حکم دیا۔“ لیکن اصل تاریخی روایت میں ”پاؤں“ کا لفظ نہیں ہے۔ طبری کے الفاظ ہیں: ”ویعقلہ بعمامتہ“۔ یعنی انہیں ان کے عمامہ سے باندھا جائے۔اور ابن کثیر کے ہاں:”ویقید بعمامتہ“ہے۔یعنی انہیں عمامہ کے ذریعہ مقید کیا جائے۔اس لیے پاؤں کو پگڑی سے باندھنے کی قطعی تعبیر اختیار کرنا مناسب نہیں۔ لہذازیادہ درست بات یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو ان کی عمامہ کے ذریعہ مقید کرنے کا حکم دیا تھا۔ حضرت خالدؓ کی پیشی: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حکم پہنچنے کے بعد حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس طلب کیا۔حضرت خالد رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا اور منبر پر بیٹھ گئے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ ان کے سامنے موجود تھے۔اس منظر میں اسلامی حکومت کے نظم و ضبط کی ایک اہم تصویر نظر آتی کہ ہے ایک طرف وہ خالد بن ولید ہیں جنہوں نے اسلامی فتوحات میں غیر معمولی کردار ادا کیااور دوسری طرف وہ امیر ہیں جنہیں خلیفہ وقت کا حکم پہنچا ہے اور جن کے لیے اس حکم کی تعمیل ضروری ہے۔الغرض حضرت خالد رضی اللہ عنہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور انہی کی مجلس میں یہ کارروائی عمل میں آئی۔ معلوم ہوا کہ یہ عدالت یا یہ مجلس حضرت بلال ؓ کی نہیں تھی۔(حوالہ بالا) حضرت ابو عبیدہ ؓکی خاموشی: اس موقع پر تاریخی روایت ایک نہایت مختصر مگر معنی خیز جملہ نقل کرتی ہے:”وأبو عبیدۃ ساکت لا یقول شیئا“۔ابو عبیدہ خاموش رہے، کچھ نہیں بول رہے تھے۔ہمیں یہ ضرور معلوم ہے کہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ خاموش رہے، لیکن روایت ان کی خاموشی کی کوئی صریح وجہ بیان نہیں کرتی۔ اس لیے اس خاموشی کے بارے میں کسی مخصوص نفسیاتی یا جذباتی سبب کو یقینی طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔ حضرت بلالؓ کا اقدام: اسی مجلس میں حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے آنے والے برید(سرکاری قاصد) نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فوری جواب نہیں دیا اور ادھر حضرت ابوعبیدہ ؓ بھی خاموش تھے؛ تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔روایت کے الفاظ ہیں:”فقام البریدُ فساَل خالدا“...”وأبو عبیدۃ ساکت لا یقول شیئا“...”فقام بلال فقال: إن أمیر المؤمنین أمَرَ فیک بکذا وکذا“۔ بلال کھڑے ہوئے اور کہا: امیر المؤمنین نے آپ کے بارے میں یہ یہ حکم دیا ہے۔اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی عمامہ کھولی، ان کی قلنسوہ اتاری اور انہیں عمامہ کے ذریعہ مقید کردیا۔(تناولَ عمامتَہ فنقضھا،وضع قَلَنْسُوَتَہ فعَقلَہ بعمامتہ)۔یہاں ایک بات نہایت صاف ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے یہ کام اپنی طرف سے نہیں کیا تھا۔ ان کے اپنے الفاظ ہیں:”إن أمیر المؤمنین أمر فیک...“یعنی امیر المؤمنین نے یہ حکم دیا ہے۔ لہٰذا یہ کسی شخصی اختیار یا ذاتی اقدام کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ خلیفہ وقت کے حکم کی تعمیل تھی۔ حضرت بلالؓ کا منصب اس واقعہ کے سلسلے میں ایک سوال خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ حضرت بلال ؓ کے ہاتھوں جب پگڑی کے اتارے جانے کا عمل پیش آیا، تو کیا وہ بھی اس وقت کسی سرکاری عہدہ اور منصب پر فائز تھے؟تو جواب یہ ہے کہ اس واقعہ کی اصل روایت میں انہیں کسی والی، حاکم، قاضی یا امیرِ لشکر کی حیثیت سے پیش نہیں کیا گیا۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اس وقت شام یا دمشق کے حاکم تھے یا حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی جگہ کوئی حکومتی اختیار رکھتے تھے۔اسی طرح انہیں اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ”برید“ یعنی سرکاری قاصد بھی قرار نہیں دیا جاسکتا؛کیوں کہ روایت میں ”البرید“ کا الگ ذکر ہے اور اس کے بعد الگ سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کھڑے ہونے کا بیان ہے۔چنانچہ تاریخی طور پر محتاط تعبیر یہی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اس وقت شام میں موجود ایک جلیل القدر صحابی تھے۔جہاد میں شریک ہوا کرتے تھے اور اس مخصوص کارروائی میں انہوں نے صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم کی تعمیل کی۔ رہی بات حکومت کی، تو اس وقت کے حاکم اور خلیفہ وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔شام کے بڑے امیر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ تھے اور ان کے ماتحت قنسرین کے والی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔مگر حضرت بلال رضی اللہ عنہ اس انتظامی سلسلے میں کسی ولایت کے حاکم نہیں تھے۔ رقم کا حصول اور خیانت کا ثبوت: جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے اشعث بن قیس کو دی گئی رقم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا:”بَل مِنْ مَالي“۔بلکہ وہ رقم خود میرے اپنے مال سے تھی۔یہ جواب ملنے کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو آزاد کردیا، ان کی قلنسوہ واپس کی اور ان کی عمامہ دوبارہ باندھی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تحقیق اس لیے کرائی تھی کہ معلوم ہو کہ اشعث کو دی گئی رقم کس مال سے تھی۔اس پورے واقعہ میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی طرف سے مالِ مسلمین میں خیانت ثابت ہونے کا کوئی فیصلہ موجود نہیں اور اس کارروائی کا اختتام اسی مجلس میں کردیا گیااور انہیں حضرت عمرؓ کے پاس بھیج دیا گیا۔ حضرت بلالؓ نے خود عمامہ باندھا: یہ واقعہ کا نہایت اہم حصہ ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص صرف عمامہ کھولنے والی تفصیل بیان کرے اور اس کے بعد کا حصہ چھوڑ دے تو واقعہ کی تصویر ادھوری رہ جاتی ہے۔چنانچہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی جانب سے رقم کی وضاحت کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے انہیں کھول کیا، قلنسوہ واپس پہنائی اور پھر ان کی عمامہ اپنے ہاتھ سے باندھی۔(فاَطلَقَہ واعادقلنسوتَہ،ثم عَمَّمَہ بِیَدِہ)۔ اس موقع پرحضرت بلالؓ سے یہ الفاظ بھی منقول ہیں:”نَسمَعُ ونُطِیعُ لِوُلاتِنَا ونفخم ونخدم موالینا۔“ہم اپنے حکام کی بات سنتے اور اطاعت کرتے ہیں اور اپنے بڑوں کی تعظیم اور خدمت کرتے ہیں۔ یہ الفاظ واقعہ کے مزاج کو سمجھنے میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔پہلے امیر المؤمنین کے حکم کی تعمیل ہوئی، پھر جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی طرف سے وضاحت آگئی تو کارروائی ختم کردی گئی اور ان کی ظاہری عزت بحال کردی گئی۔اس لیے صرف یہ کہنا کہ حضرت بلالؓ نے خالدؓ کی پگڑی اتار کر انہیں ذلیل کیا، تاریخی روایت کے پورے متن کی ترجمانی نہیں کرتا۔ روایت کا اختتام اس کے بالکل برعکس ایک ایسے منظر پر ہوتا ہے جس میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ خود ان کی عمامہ دوبارہ باندھتے ہیں۔ وضاحت کے بعد بھی حضرت خالدؓ کی معزولی: حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی معزولی کے بارے میں روایات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک اہم وضاحت نقل ہوئی ہے۔ابن کثیر کے بیان کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بعد میں لوگوں کے سامنے واضح کیا کہ انہوں نے خالد کو کسی ناراضگی یا خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا؛بلکہ انہیں اندیشہ تھا کہ لوگ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی شخصیت سے بہت زیادہ متاثر ہوکر فتوحات کو رب تعالی کی نصرت کے بجائے ان کی ذات سے وابستہ نہ کرنے لگیں۔اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے خلاف ذاتی دشمنی یا بغض کا دعویٰ تاریخی روایت کے مجموعی بیان سے ثابت نہیں ہوتا۔ معزولی کے بعد: حضرت خالد رضی اللہ عنہ قنسرین سے روانہ ہوئے، لوگوں سے رخصت ہوئے اور پھر حمص کی طرف گئے۔ بعد میں وہ مدینہ منورہ پہنچے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی۔تاریخی روایتوں میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان اس معاملے پر گفتگو بھی نقل ہوئی ہے۔یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی معزولی کو ان کی اسلامی خدمات، شجاعت یا صحابیت کی تنقیص کے معنی میں نہیں لینا چاہیے۔کیوں کہ عہدہ ایک انتظامی ذمہ داری ہے، جبکہ صحابیت اور دینی فضیلت الگ حیثیت رکھتی ہے۔ واقعہ کا سیاق وسباق اورعجیب تاریخی منظر: ایک طرف خلیفہ وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں، جن کے نزدیک ایک بڑے سے بڑے سپہ سالار کو بھی احتساب سے بالاتر نہیں سمجھا جاسکتا۔ دوسری طرف حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں، جو شام کے بڑے امیر ہیں اور جنہیں خلیفہ وقت کا حکم موصول ہوتا ہے۔سامنے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہیں، جو اپنی عسکری عظمت کے باوجود حکومتی نظم سے باہر نہیں (فلم یمنعہ سمعاً وطاعۃً) اور سپہ سالار اعظم ہونے کے باوجود ریاستی نظم و ضبط کو مقدم رکھا۔ ادھر حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ ہیں، جو کسی منصب ِحکومت کی وجہ سے نہیں، بلکہ حکمِ امیر کی تعمیل کی وجہ سے اس واقعے میں نمایاں ہوتے ہیں۔حکم آتا ہے، کارروائی ہوتی ہے، سوال کیا جاتا ہے، جواب ملتا ہے اور پھر کارروائی ختم کردی جاتی ہے۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ پہلے عمامہ کھولتے ہیں اور پھر اسی عمامہ کو اپنے ہاتھ سے دوبارہ باندھتے ہیں۔یہی آخری منظر اس واقعے کو محض ایک سخت انتظامی کارروائی کے بجائے ایک ایسے تاریخی واقعے میں بدل دیتا ہے جس میں حکم کی اطاعت کے ساتھ شخصیت کی تکریم بھی باقی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ پورے واقعہ کا اخیر حصہ جو مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد حضرت عمرؓ اور حضرت خالدؓ کی گفتگو کا ٹکڑا ہے،اس میں تو ایک دوسرے کے تئیں تعظیم وتکریم کے باضابطہ واضح الفاظ درج ہیں:”اور عمر نے مختلف شہروں کے حکام کے نام لکھا کہ میں نے خالد کو کسی ناراضی یا خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا، بلکہ لوگوں نے انہیں بہت بڑا مقام دے دیا تھا اور ان کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہو گئے تھے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ لوگ ان ہی پر بھروسا کرنے لگیں گے۔ اس لیے میں نے پسند کیا کہ لوگ جان لیں کہ کارساز اور کام بنانے والا اللہ ہی ہے اور یہ کہ وہ کسی فتنے کے خطرے میں نہ پڑیں“۔ (......وأقام خالد متحیرا لا یدری أمعزول أم غیر معزول، ولا یعلمہ أبو عبیدۃ بذلک تکرمۃ وتفخمۃ. فلما تأخر قدومہ علی عمر ظن الذی کان، فکتب إلی خالد بالإقبال إلیہ، فرجع إلی قنسرین، فخطب الناس وودعہم، ورجع إلی حمص فخطبہم ثم سار إلی المدینۃ، فلما قدم علی عمر شکاہ وقال: قد شکوتک إلی المسلمین، فباللہ إنک فی أمری لغیر مجمل. فقال لہ عمر: من أین ہذا الثراء؟ قال: من الأنفال والسہمان، ما زاد علی ستین ألفا فلک، فقوم عمر مالہ فزاد عشرین ألفا، فجعلہا فی بیت المال، ثم قال: یا خالد واللہ إنک علی لکریم، وإنک إلی لحبیب۔ وکتب إلی الأمصار: إنی لم أعزل خالدا عن سخطۃ ولا خیانۃ، ولکن الناس فخموہ وفتنوا بہ، فخفت أن یوکلوا إلیہ، فأحببت أن یعلموا أن اللہ ہو الصانع، وأن لا یکونوا بعرض فتنۃ. وعوضہ عما أخذ منہ.(الکامل فی التاریخ لابن الاثیر۔ باب ذکر عزل خالد بن ولیدؓ)و تاریخ طبری جلد ۴،ذکرخبر عزل خالد بن ولید) الغرض اس واقعے کی سب سے بڑی معنویت یہی ہے کہ عہدِ صحابہؓ میں عظمتِ شخصیت اور نظمِ حکومت ایک دوسرے کے مقابل نہیں تھے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ اپنی عظمت کے باوجود احتساب سے بالاتر نہیں تھے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی حکمِ امیر کی تعمیل میں کسی زیادتی کے مرتکب یا کسی بڑپن کے زعم کا شکار نہیں ہوئے اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ منصبِ امارت پر فائز ہونے کے باوجود اپنے ساتھی اور رفیق کی عزت و حرمت سے بے نیاز نہیں تھے۔یہی وہ توازن ہے جسے اس تاریخی واقعے کو بیان کرتے ہوئے برقرار رکھنا چاہیے۔ واقعے کی سند: اب اس پورے واقعے کے سلسلے میں ایک ایسی بات جسے کسی تحقیقی مضمون میں چھپانا مناسب نہیں۔یہ واقعہ تاریخ طبری میں سیف بن عمر کے طریق سے نقل ہوا ہے۔ طبری کی سند یوں ہے: ”کتب إلی السری، عن شعیب، عن سیف، عن أبی المجالد وأبی عثمان والربیع وأبی حارثۃ، قالوا...“ یعنی اس روایت کا مدار سیف بن عمر کی روایت پر ہے۔ ابن کثیر نے بھی یہ واقعہ ابن جریر طبری سے نقل کیا ہے اور سیف بن عمر کے طریق کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس لیے اس واقعے کو صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی مرفوع حدیث کی طرح قطعی صحیح حدیث کہنا درست نہیں ہوگا۔ یہ بنیادی طور پر ایک تاریخی روایت ہے، جسے طبری نے نقل کیا اور بعد کے مؤرخین نے اسے اپنی کتابوں میں درج کیا۔ اس لیے علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ اسے”تاریخی روایت“ کے طور پر بیان کیا جائے، نہ کہ صحیح حدیث یا حدیث مرفوع کے طور پر۔ مراجع: ۱) محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم والملوک، حوادث سنہ۷۱ ہجری، واقعہ عزل خالد بن الولید عن قنسرین(۲) اسماعیل بن عمر ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، حوادث سنہ ۷۱ ہجری، واقعہ عزل خالد بن الولید عن قنسرین(۳) عز الدین ابن الاثیر، الکامل فی التاریخ، حوادث سنہ ۷۱ ہجری (۴) ابن عساکر، تاریخ دمشق، ترجمہ خالد بن الولیداور اس سے متعلق منقول تاریخی روایات۔ ٭ ٭ ٭
ااس |
|