سعودیہ کو امن کے لیے آگے بڑھنا چاہیے کہیں اقتصادی ترقی کے بجائے مزید وسائل فوجی اخراجات کی طرف نہ جانا پڑے.


عرصہ کئی دہائیوں سے بالخصوص 2016 سے سعودی عرب کو یمن میں ایک دہائی سے زائد فوجی مداخلت کے بعد ایسے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے اثرات میدان جنگ سے بھی آگے بڑھ کر اس کے اہم بنیادی ڈھانچے کی سلامتی، بین الاقوامی ساکھ اور محمد بن سلمان کے اقتصادی منصوبوں اور سعودی کنگ کے اقتدار کی دیواروں تک پہنچ گئے ہیں۔ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملوں اور یمن کے مختلف محاذوں پر لڑائی میں جس تیزی سے شدت سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی علاقائی پالیسی کے سکیورٹی اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ان حالات نے خلیج مُلکوں پر ایک بار پھر واضح ہوگیا ہے کہ جدید ہتھیاروں کی خریداری اور بیرونی طاقتوں کی حمایت یا مُشترکہ جنگی حکمت عملی پر انحصار، پائیدار سلامتی کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا۔
ریاض ایئرپورٹ پر حملے اور ان میں دفاعی کمزوریاں نے جہاں سعودی انتظامیہ کو ُمشکل میں ڈالدیا وہاں ان واقعات کے بعد ہوائی اڈے کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازیں منسوخ کردیں۔ اس سے سعودی عربیہ کی کافی سُبکی دنیا بھر میں ہوئی.
ان حملوں نے سعودی عرب کی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف ان کی جو دنیا بھر میں دفاعی صلاحیت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا تھا اُس پر ملک سے اور دنیا بھر سے ان کی صلاحیت پر سوالات اٹھا جارہے ہیں۔ ان حملوں کی اہمیت صرف جانی یا مالی نقصان یا تباہی تک محدود نہیں۔ ریاض کا ہوائی اڈہ دنیا بھر کے سعودی عرب کے اہم مواصلاتی مراکز میں شامل ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں، بین الاقوامی کمپنیوں کے منتظمین اور سیاحوں کی آمد کا اہم راستہ مانا جاتا ہے۔ اس جیسے مرکز کی سرگرمیوں میں خلل پڑنے سے اقتصادی شعبے پر بھی انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور سرمایہ کاروں کا سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے ماحول کے استحکام پر اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ کچھ مہینہ پہلے بھی دُبی میں اس ہی طرح کی صورتحال نظر آئی تھی. یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اپنے اقتصادی منصوبے ویژن 2030 کے تحت تیل پر انحصار کم کرنے اور سیاحت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کا علاقائی مرکز بننے کی کوشش کی بھاگ دوڑ میں لگا ہوا ہے.اس وقت محمد بن سلمان کے اقتصادی منصوبوں کو چاروں طرف سے خطرہ مُنڈلارہا ہے.
سعودی عربیہ کے کنگ محمد بن سلمان گزشتہ برسوں کے دوران نیوم سمیت بڑے منصوبوں کے ذریعے سعودی عرب کی اقتصادی ساخت تبدیل کرنے کی کوشش میں متواتر اپنی کوشش میں لگے رہے ہیں۔ تاہم، ان منصوبوں کی کامیابی کے لیے مستحکم ماحول، محفوظ بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی اس وقت سعودیہ عرب کو اشد ضرورت ہے۔
دنیا میں جب بھی کوئی دارالحکومت کا ہوائی اڈہ حملوں کی زد میں آجائے اور فضائی کمپنیوں کو پروازیں منسوخ کرنا پڑیں تو معاملہ صرف فوجی حملے کا مقابلہ کرنے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس ملک کی بین الاقوامی ساکھ بھی آزمائش سے دوچار ہوجاتی ہے جو خود کو تجارت اور سیاحت کے لیے ایک محفوظ مقام کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔
اس وقت سعودی عرب کے موجودہ بحران کا ایک اہم پہلو بیرونی اتحادیوں پر اس کا بہت زیادہ انحصار انکی اس سوچ نے جس نے انہیں آج اپنی حدود کی حد واضع نظر آرہی ہیں. ریاض گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران جدید ہتھیاروں، فضائی دفاعی نظاموں اور مغربی جنگی طیاروں کی خریداری پر اندھا دھند بھاری اخراجات کرتا رہا ہے۔ اس کے باوجود حالیہ حملوں نے ظاہر کیا ہے کہ جدید فوجی سازوسامان کی موجودگی لازماً حملوں سے تحفظ کی ضمانت نہیں بنتی۔
ایک وسیع رقبے کو اور اہم بنیادی ڈھانچے کو میزائلوں اور ڈرونز کے مشترکہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے عملی تیاری، میزائل شکن ذخائر کی مناسب مقدار، بروقت اطلاع دینے والے نظام اور مسلسل دفاعی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایسے حالات میں فضائی دفاع مضبوط بنانے کے لیے اتحادیوں سے مدد طلب کرنا سعودی عرب کی فوری ضروریات کا کچھ حصہ تو پورا کرسکتا ہے، لیکن ریاض میں یہ پائیدار و فول پروف سکیورٹی حکمت عملی کا متبادل کبھی نہیں بن سکتا۔ ہتھیاروں کی فروخت، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، تکنیکی معاونت اور کسی جنگ میں براہ راست شرکت ایک دوسرے سے مختلف امور ہیں۔
ہوسکتا ہے کہ مغربی حکومتیں اپنے مفادات کے تحت سعودی عرب کی حمایت کرسکتی ہیں، لیکن اس حمایت کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ وہ ( حوثیوں )کے ساتھ طویل اور خطرناک فوجی تصادم کے تمام اخراجات برداشت کرنے پر بھی آمادہ ہوں گی۔
اس وقت امریکہ کا دارلحکومت (واشنگٹن) کا طرزعمل بھی اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے۔ امریکہ نے 2025 میں( حوثیوں ) کے خلاف تقریباً 52 روز تک فضائی حملے کرنے کے بعد عمان کی ثالثی سے ہونے والے ایک معاہدے کے تحت اپنی کارروائیاں روک دی تھیں۔
اس وقت ان موجودہ حالات میں امریکہ کی جانب سے سعودی عرب اور ( حوثیوں ) کے درمیان تنازع میں براہ راست شرکت بھی نئے اخراجات اور پیچیدگیاں پیدا کرسکتی ہے۔ فوجی کارروائیوں میں توسیع، میزائل شکن ذخائر کا استعمال اور بحری راستوں کو لاحق خطرات میں اضافے کا امکان واشنگٹن کے لیے فیصلے کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بحران سمیت علاقائی صورت حال نے امریکی فوجی وسائل اور تصوراتی فیصلوں پر اضافی دباؤ ڈال رکھا ہے۔ اس لیے ریاض بیرونی حمایت کو حملوں کی روک تھام یا طویل جنگ میں فتح کی یقینی ضمانت نہیں سمجھ سکتا۔
جو اس وقت نظر آرہا ہے کہ سعودی عرب کی موجودہ مشکلات کی جڑیں اس کی پالیسی میں تلاش کی جاسکتی ہیں جس کا آغاز 2015 میں یمن میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کے لیے جو مُشترکہ اتحاد اس مقصد سے کیا گیا تھا۔ سعودی قیادت میں اتحاد کی فوجی مداخلت اور متحدہ عرب امارات کی شمولیت ( حوثیوں ) کو یمن کے سیاسی اور فوجی منظرنامے سے باہر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
اس کے برعکس، برسوں کے دوران اس جنگ نے انسانی، اقتصادی اور سکیورٹی کے شعبوں میں بھاری اخراجات پیدا کیے۔
فضائی حملوں، اشیائے ضروریہ کی آمد پر پابندیوں اور خوراک، ادویات اور طبی خدمات تک رسائی میں مشکلات نے یمنی معاشرے پر بے حد شدید دباؤ ڈالا ہے۔
اس وقت لڑائی میں دوبارہ شدت کے ساتھ اس پالیسی کے بعض نتائج سعودی عرب کے اندر بھی بہت زیادہ ہی محسوس کیے جارہے ہیں۔ یمن کے مختلف محاذوں، خصوصاً تعز کے اطراف اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں ہونے والی پیش رفت کی بہت ہی زیادہ اس کی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ اسی طرح ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب صورت حال سعودی عرب کے سکیورٹی اندازوں کو مزید مُشکل و پیچیدہ بناسکتی ہے۔ تاہم، ان علاقوں پر کنٹرول کی صورت حال میدان جنگ میں تبدیل ہوتی رہتی ہے.
باب المندب عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم بحری راستوں میں شامل ہے۔ اس علاقے میں لڑائی بڑھنے سے سمندری نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ اور تجارتی راستوں کی سلامتی کو درپیش مُشکلات ہوسکتی ہے۔
اس ہی تناظر میں یمن کا بحران اب محض داخلی مسئلہ یا ریاض اور ( حوثیوں ) کے درمیان تنازع نہیں رہا، بلکہ اس کا تعلق بحیرہ احمر کی سلامتی، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی و عالمی طاقتوں کے مفادات سے بھی جڑ گیا ہے۔
سیاسی اعتبار سے بھی موجودہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ فوجی دباؤ کسی ایسے فریق کی سیاسی قوت اور ارادے کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں جو یمن کے داخلی سیاسی اور سماجی حالات میں گہری جڑیں رکھتا ہو۔
( حوثی ) گزشتہ برسوں کے دوران وسیع حملوں اور اقتصادی و فوجی دباؤ کے باوجود اپنا سیاسی اور فوجی ڈھانچہ برقرار رکھنے میں کچھ کامیاب رہے ہیں اور اس نے اپنے علاقائی حریفوں پر بھی اخراجات مسلط کیے ہیں۔
اس حقیقت کا مطلب یہ نہیں کہ ( حوثیوں ) کو ہر لحاظ سے برتری حاصل ہے یا سعودی عرب کی فوجی صلاحیت ختم ہوگئی ہے، بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ فوجی طاقت کے ذریعے سیاسی اہداف حاصل کرنے کی کوششوں کو سنگین حدود کا سامنا ہے۔
دیکھا جائے تو سعودی عرب کو اس وقت بیک وقت دو دباؤ کا سامنا ہے۔ ایک طرف اسے اپنے اہم بنیادی ڈھانچے کا دفاع کرنے اور حملوں کے مقابلے میں اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی بے احد ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف یمن میں مداخلت کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور پائیدار سیاسی نتیجے تک پہنچنے میں مشکلات اس کے لیے چیلنج بنتی جارہی ہیں۔ حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہنے سے نقصانات بڑھ سکتے ہیں، بحری راستوں کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے اور اقتصادی ترقی کے بجائے مزید وسائل فوجی اخراجات پر صرف کرنا پڑسکتے ہیں۔

اس صورت حال سے نکلنے کا راستہ صرف ہتھیاروں کی خریداری میں اضافہ یا بیرونی طاقتوں کی براہ راست مداخلت کی امید لگانا نہیں ہے۔ ریاض کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یمن کی سیاسی اور سماجی حقیقتوں کو نظرانداز کرکے اپنی جنوبی سرحدوں پر پائیدار سلامتی قائم نہیں کی جاسکتی۔ حملوں کا خاتمہ، پابندیوں میں کمی، ایک جامع سیاسی معاہدے کی جانب پیش رفت اور یمن کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں خود یمنی عوام کے بنیادی کردار کو تسلیم کرنا کشیدگی کم کرنے کی ہی بنیاد بن سکتا ہے۔
یمن میں ایک دہائی سے زائد فوجی مداخلت کا تجربہ سعودی عرب اور خطے کے دوسرے ممالک کے لیے ایک اہم تصویراتی سبق رکھتا ہے کہ فوجی طاقت اور بیرونی حمایت، زمینی حقائق کو سمجھنے اور اختلافات کے سیاسی حل کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ اگر ریاض اپنی سلامتی کو بدستور ہتھیاروں کی خریداری اور بیرونی اتحادیوں کے وعدوں سے وابستہ رکھتا ہے اور اپنی علاقائی پالیسی پر نظرثانی سے گریز کرتا ہے تو اسے مستقبل میں بھی ایسے سخت بحرانوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ بالآخر، علاقائی اختلافات کے پائیدار حل کے بغیر بیرونی طاقتوں پر انحصار ہوا کے سہارے کھڑے ہونے کے مترادف ہے۔

 

انجینئر! شاہد صدیق خانزادہ
About the Author: انجینئر! شاہد صدیق خانزادہ Read More Articles by انجینئر! شاہد صدیق خانزادہ: 3 Articles with 2415 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.