دہشت گردی کا ڈیجیٹل محاذ: پاکستان میں جنگ اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
سوشل میڈیا پر شدت پسندانہ پروپیگنڈا، جذباتی بیانیے اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے خطرات؛ مؤثر حکمتِ عملی کے ساتھ شہری آزادیوں کا تحفظ بھی ضروری ہیآج کے دور میں دہشت گردی کا خطرہ صرف اسلحے، بارود اور میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہا، بلکہ انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کے ذرائع بھی شدت پسند تنظیموں کے لیے اہم میدان بن چکے ہیں۔ ویڈیوز، تصاویر، جذباتی تقاریر اور گمراہ کن پیغامات کے ذریعے لوگوں کی سوچ پر اثر انداز ہونے، نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرنے اور تشدد کو جائز ثابت کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا، کے حالات میں اس مسئلے کو سمجھنا نہایت اہم ہے۔ یہاں دہشت گردی کے اثرات کا سامنا کرنے والے معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف زمینی خطرات کو سمجھے بلکہ ان پیغامات اور بیانیوں کا بھی جائزہ لے جو موبائل فون کی اسکرینوں کے ذریعے لوگوں تک پہنچتے ہیں۔۔شدت پسند تنظیمیں ویڈیوز کو محض اپنی سرگرمیوں کی نمائش کے لیے استعمال نہیں کرتیں، بلکہ ان کے ذریعے مخصوص تاثر پیدا کرنے، خوف پھیلانے، اپنی طاقت کا اظہار کرنے اور لوگوں کے جذبات کو ابھارنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ بعض مواد میں تشدد کو بہادری، انتقام کو انصاف اور انتہا پسندی کو مذہبی یا سیاسی جدوجہد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
ایسی ویڈیوز کی ظاہری شکل، پس منظر میں استعمال ہونے والی آوازیں، جذباتی گفتگو اور منتخب مناظر ناظرین کے ذہن پر اثر ڈالنے کے لیے ترتیب دیے جا سکتے ہیں۔ اسی لیے کسی ویڈیو کا تجزیہ کرتے وقت صرف اس کے الفاظ نہیں، بلکہ اس کا مقصد، سیاق و سباق، پیش کش اور ممکنہ اثرات بھی دیکھنا ضروری ہے۔
شدت پسند گروہوں کی ویڈیوز پر ہونے والی ایک تحقیقی کاوش میں عراق میں ۲۰۰۶ئ کے دوران سامنے آنے والی ساٹھ ویڈیوز کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس تحقیق میں یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی کہ شدت پسند گروہ ویڈیوز کے ذریعے اپنے پیغامات کس انداز میں پیش کرتے ہیں اور تشدد، شناخت، دشمنی اور حمایت کے تصورات کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔
یہ تحقیق موجودہ پاکستان کی صورتِ حال کا براہِ راست ثبوت نہیں، کیونکہ اس کا تعلق ایک مختلف ملک اور مختلف زمانے سے تھا۔ تاہم اس سے ایک اہم اصول سامنے آتا ہے: شدت پسندانہ مواد کا مؤثر تجزیہ کرنے کے لیے اس کے پیغام، اندازِ پیش کش اور ممکنہ مقصد کو منظم طریقے سے سمجھنا ضروری ہے۔پاکستان میں بھی اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے آن لائن مواد کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، لیکن کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مقامی شواہد، تازہ تحقیق اور قابلِ اعتماد معلومات ضروری ہیں۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد روزانہ سماجی رابطوں کے ذرائع پر خبریں، تبصرے، ویڈیوز اور مختلف نوعیت کا مواد دیکھتی ہے۔ اس ماحول میں جذباتی یا اشتعال انگیز پیغام تیزی سے پھیل سکتا ہے، خصوصاً جب اسے بار بار دکھایا جائے یا صارفین اسے بغیر تصدیق آگے بھیجتے رہیں تاہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہر نوجوان جو متنازع مواد دیکھتا ہے، لازماً شدت پسندی کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ اصل خطرہ اس وقت بڑھ سکتا ہے جب گمراہ کن معلومات، نفرت انگیز پیغامات، تشدد کی حمایت اور مسلسل یک طرفہ مواد مل کر کسی شخص کی سوچ کو متاثر کریں۔
اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں میں تنقیدی سوچ، معلومات کی تصدیق اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویے کو فروغ دینا ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں، خاندانوں، صحافیوں اور سماجی رہنماؤں کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان میں شدت پسندی کی روک تھام کے لیے قومی سطح پر پالیسی اور ادارہ جاتی کوششیں موجود ہیں۔ تاہم ڈیجیٹل میدان میں مؤثر حکمتِ عملی صرف مواد ہٹانے یا نگرانی بڑھانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اس میں واضح قانونی ضابطے، شفاف طریقۂ کار، قابلِ اعتماد شواہد اور بنیادی حقوق کا تحفظ بھی شامل ہونا چاہیے۔
دہشت گردی سے متعلق حقیقی خطرات کے خلاف کارروائی ضروری ہے، لیکن اختلافِ رائے، صحافتی تنقید اور پُرامن سیاسی اظہار کو بلاجواز شدت پسندی سے جوڑنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ کسی مواد کے خلاف کارروائی کرتے وقت اس کے اصل ماخذ، سیاق و سباق اور قانون کے مطابق حیثیت کا جائزہ لینا چاہیے۔ اسی طرح سماجی رابطوں کے ذرائع چلانے والی کمپنیوں کو بھی دہشت گردانہ تشہیر اور تشدد پر اکسانے والے مواد کے خلاف اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ اس عمل میں غلط شناخت، غیر ضروری پابندی اور جائز معلومات کو ہٹانے سے بچنے کے لیے واضح اصول اپنانا ضروری ہے۔
صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ شدت پسندانہ ویڈیوز کو سنسنی خیزی کے لیے بار بار نشر کرنے کے بجائے ان کی تصدیق، پس منظر اور ممکنہ اثرات کو اہمیت دیں۔ کسی بھی غیر مصدقہ ویڈیو یا دعوے کو حقیقت کے طور پر پیش کرنا خوف، افواہوں اور غلط معلومات کو بڑھا سکتا ہے۔عام شہری بھی کسی اشتعال انگیز پیغام کو آگے بھیجنے سے پہلے اس کی حقیقت جانچیں۔ اگر کسی مواد میں تشدد کی ترغیب، بھرتی کی کوشش یا فوری خطرے کی نشاندہی ہو تو اسے پھیلانے کے بجائے متعلقہ حکام یا مناسب اطلاع دینے کے طریقۂ کار سے رجوع کرنا زیادہ ذمہ دارانہ عمل ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو ڈیجیٹل میدان میں بھی سنجیدہ، تحقیق پر مبنی اور قانونی اصولوں کے مطابق آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ شدت پسندانہ پروپیگنڈے کو سمجھنا، نوجوانوں کو گمراہ کن مواد سے بچانا، صحافتی ذمہ داری کو مضبوط کرنا اور سماجی رابطوں کے ذرائع کو جواب دہ بنانا اس حکمتِ عملی کے اہم حصے ہیں۔لیکن کامیابی صرف نگرانی یا پابندیوں سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے تعلیم، قابلِ اعتماد معلومات، عوامی اعتماد، قانون کی حکمرانی اور شہری آزادیوں کا تحفظ بھی لازم ہے۔ ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جو تشدد اور نفرت کا مقابلہ کرتے ہوئے سچائی، انصاف اور ذمہ دارانہ اظہار کو بھی برقرار رکھے۔اصل مقابلہ صرف دہشت گردی کے پھیلاؤ کو روکنے کا نہیں، بلکہ اس سوچ اور پروپیگنڈے کو سمجھنے کا بھی ہے جو تشدد کو قابلِ قبول بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
#Pakistan #DigitalExtremism #OnlinePropaganda #CounterTerrorism #KhyberPakhtunkhwa #DigitalLiteracy #MediaResponsibility #SocialMedia #FreedomOfExpression #OnlineSafety
|