پاکستان میں داعش کا پھیلتا ہوا خطرہ: بدلتی حکمتِ عملی، فرقہ وارانہ تشدد اور انٹیلی جنس کے چیلنجز

پاکستان میں دہشت گردی کے خطرات کا جائزہ لیتے وقت تحریکِ طالبان پاکستان (TTP)، بلوچ مسلح تنظیموں اور داعش سے وابستہ نیٹ ورکس کو ایک ہی تنظیم یا ایک جیسے مقاصد رکھنے والے گروہوں کے طور پر دیکھنا درست نہیں۔ ان کے نظریات، اہداف اور عملی طریقۂ کار مختلف ہیں۔ تاہم، ان تمام خطرات کے بیک وقت موجود ہونے سے ریاستی اداروں کے لیے سکیورٹی کی منصوبہ بندی مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ داعش پاکستان صوبہ (ISPP) اور داعش خراسان صوبہ (ISKP) کی سرگرمیاں اسی وسیع تر صورتِ حال کا اہم حصہ ہیں۔

یورپی یونین ایجنسی برائے پناہ (EUAA) کی اکتوبر 2026 میں تازہ کردہ پاکستان سے متعلق رہنمائی کے مطابق، ملک کی سکیورٹی صورتِ حال 2024 کے اواخر سے غیرمستحکم رہی ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تشدد کے واقعات اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں نمایاں ہیں، جبکہ اسلام آباد، کراچی اور پنجاب کے بعض علاقوں تک بھی سکیورٹی خدشات کی جغرافیائی وسعت دیکھی گئی ہے۔ اسی جائزے میں داعش سے وابستہ گروہوں کو بھی ان تنظیموں میں شامل کیا گیا ہے جو فرقہ وارانہ محرکات کے تحت حملے کرتی ہیں۔

داعش کی سرگرمیوں کو سمجھنے کے لیے اس کے تنظیمی ڈھانچے اور تشہیری حکمتِ عملی دونوں کا جائزہ ضروری ہے۔ افغانستان میں داعش خراسان کو مختلف فوجی کارروائیوں اور تنظیمی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اس کی سرگرمیوں میں غیرمرکزی نیٹ ورکس، شہری حملوں، فرقہ وارانہ تشدد اور ڈیجیٹل پروپیگنڈے کی اہمیت پر توجہ دی گئی ہے۔ پاکستان میں بھی داعش سے وابستہ عناصر کی سرگرمیوں کو اسی وسیع تر تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔تاہم، کسی حملے کے بعد داعش کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کو اس بات کا قطعی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہ تنظیم نے ہر مرحلے کی براہِ راست منصوبہ بندی کی تھی۔ ذمہ داری کے دعوے، سرکاری تحقیقات اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ شواہد الگ الگ چیزیں ہیں۔ دہشت گردی کے تجزیے میں یہ فرق برقرار رکھنا نہ صرف صحافتی دیانت بلکہ درست سکیورٹی پالیسی کے لیے بھی ضروری ہے۔

بلوچستان میں داعش سے وابستہ سرگرمیوں کے تناظر میں فرقہ وارانہ تشدد ایک اہم تشویش ہے۔ کوئٹہ اور مستونگ جیسے علاقوں میں ماضی کے حملوں نے ظاہر کیا کہ مذہبی اجتماعات، اقلیتی برادریوں اور سیاسی شخصیات کو نشانہ بنانے والے واقعات وسیع سماجی اثرات مرتب کرتے ہیں۔جنوبی ایشیا ٹیررازم پورٹل (SATP) کے 14 ستمبر 2026 کے جائزے میں مستونگ کے علاقے کانک زیارت میں 8 ستمبر کو خورشید پندرانی رئیسانی کے قتل کی ذمہ داری داعش پاکستان صوبہ کی جانب سے قبول کرنے کا ذکر کیا گیا۔ اسی جائزے میں 2026 کے دوران پاکستان میں داعش خراسان سے منسوب واقعات میں اضافے کی بھی نشاندہی کی گئی۔ ان اعدادوشمار کو متعلقہ ادارے کی اپنی درجہ بندی اور طریقۂ کار کے مطابق سمجھنا چاہیے؛ ہر واقعے کی ذمہ داری اور تفصیلات کی آزادانہ تصدیق اپنی اہمیت رکھتی ہے۔

بلوچستان کا مسئلہ محض دہشت گردوں کی تلاش یا کارروائیوں تک محدود نہیں۔ شہریوں کی حفاظت، مذہبی اجتماعات کے لیے مؤثر حفاظتی انتظامات، خطرات کی پیشگی نشاندہی اور مقامی آبادی کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی اسی مسئلے کے بنیادی پہلو ہیں۔ جب کسی برادری کو بار بار نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات خوف، معاشرتی تقسیم اور روزگار و تعلیم کی سرگرمیوں میں خلل کی صورت میں بھی سامنے آتے ہیں۔

خیبر پختونخوا، بالخصوص افغانستان سے متصل سابق قبائلی اضلاع، طویل عرصے سے عسکریت پسندی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس خطے میں سرحد پار نقل و حرکت، مقامی عسکریت پسند نیٹ ورکس اور مختلف تنظیموں کے درمیان افراد کی وابستگیوں میں تبدیلی سکیورٹی اداروں کے لیے مسلسل چیلنج ہیں۔اسلام آباد میں فروری 2026 کے امام بارگاہ حملے نے یہ سوال بھی نمایاں کیا کہ دارالحکومت جیسے حساس علاقے میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والے حملوں کو کیسے روکا جائے۔ اس حملے کے بارے میں داعش خراسان کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں، لیکن کسی بھی دعوے کو حتمی نتیجہ قرار دینے کے لیے تفتیشی شواہد کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔
اس صورتِ حال کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کے تمام شہری مراکز یکساں خطرے سے دوچار ہیں۔ اس کے بجائے، خطرات کی نوعیت، مقامی حالات، دستیاب انٹیلی جنس اور حفاظتی انتظامات کی بنیاد پر الگ الگ جائزہ ضروری ہے۔ سکیورٹی پالیسی کو عمومی خوف یا غیرمصدقہ اطلاعات کے بجائے قابلِ اعتماد شواہد پر استوار ہونا چاہیے۔

داعش پاکستان صوبہ (ISPP) اور داعش خراسان صوبہ (ISKP) کے درمیان تعلقات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اگرچہ دونوں داعش کے وسیع تر نظریاتی ڈھانچے سے وابستہ ہیں، ان کی تنظیمی حیثیت اور جغرافیائی سرگرمیوں میں فرق بیان کیا جاتا ہے۔ 2019 میں پاکستان کے لیے الگ شاخ کے اعلان کے بعد بھی بعض علاقوں میں ان سے وابستہ نیٹ ورکس اور سرگرمیوں کی تمیز کرنا مشکل رہا ہے۔ یورپی یونین ایجنسی برائے پناہ کے اکتوبر 2026 کے جائزے میں بھی پاکستان میں دونوں شاخوں کی موجودگی اور بلوچستان میں ان کی سرگرمیوں کے درمیان فرق متعین کرنے کی دشواری کا ذکر ہے

اس فرق کو نظرانداز کرنے سے اعدادوشمار، ذمہ داری کے تعین اور پالیسی کے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح داعش، تحریکِ طالبان پاکستان اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کو ایک ہی زمرے میں رکھنا تجزیاتی غلطی ہوگی۔ ان کے مقاصد اور اہداف مختلف ہیں، اس لیے ان کے خلاف حکمتِ عملی بھی مخصوص شواہد اور مقامی حالات کے مطابق ہونی چاہیے۔داعش کی ڈیجیٹل تشہیر محض نظریاتی مواد کی اشاعت تک محدود نہیں رہتی۔ ایسے مواد کے ذریعے تشدد کو جواز دینے، مخالف فرقوں کے خلاف نفرت بڑھانے، ممکنہ حامیوں سے رابطہ قائم کرنے اور حملوں کو عالمی تشہیر دینے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ داعش سے منسوب کثیراللسانی میڈیا مواد اور آن لائن فنڈنگ کے طریقوں پر بھی تحقیقی توجہ دی گئی ہے

اس چیلنج کا جواب صرف مواد ہٹانے یا اکاؤنٹس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ قانونی طریقۂ کار کے تحت ڈیجیٹل شواہد کا تحفظ، پرتشدد بھرتی کے نیٹ ورکس کی تحقیقات، عوامی آگاہی، مقامی زبانوں میں قابلِ اعتماد متبادل بیانیہ اور متاثرہ برادریوں کے ساتھ مؤثر رابطہ زیادہ جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی، جائز مذہبی اظہار یا سیاسی اختلاف کو بلا ثبوت انتہاپسندی سے جوڑنے سے گریز ضروری ہے۔پاکستان کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ مختلف خطرات کے باوجود محدود وسائل کو مؤثر انداز میں کیسے استعمال کیا جائے۔ اس کے لیے انسانی ذرائع سے انٹیلی جنس (HUMINT)، پولیس کی تفتیشی صلاحیت، وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان معلومات کا بروقت تبادلہ اور خطرے کی اطلاعات کا منظم تجزیہ اہم ہیں۔

ہر حملے کے بعد صرف فوری کارروائی کافی نہیں۔ یہ جانچنا بھی ضروری ہے کہ پیشگی اطلاعات موجود تھیں یا نہیں، ان کا جائزہ کس سطح پر لیا گیا، اداروں کے درمیان رابطے میں کوئی خلا تھا یا نہیں، اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کون سے اقدامات مؤثر ثابت ہو سکتے تھے۔ اس عمل میں احتساب، قانون کی پابندی اور شہری حقوق کا تحفظ بنیادی اصول رہنے چاہییں۔داعش پاکستان صوبہ اور داعش خراسان سے وابستہ نیٹ ورکس کا خطرہ پاکستان کی پیچیدہ سکیورٹی صورتِ حال کا ایک حصہ ہے، مگر اسے دیگر تمام عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد، خیبر پختونخوا میں سرحدی سلامتی کے مسائل اور اسلام آباد جیسے شہری مراکز میں حملوں کے خطرات کے لیے مختلف مگر مربوط اقدامات درکار ہیں۔

مؤثر حکمتِ عملی کی بنیاد قابلِ اعتماد انٹیلی جنس، شواہد پر مبنی تحقیقات، ادارہ جاتی تعاون، شہریوں کا تحفظ اور شدت پسند پروپیگنڈے کا مؤثر مقابلہ ہونا چاہیے۔ کسی بھی گروہ کے دعوے کو تصدیق کے بغیر حقیقت سمجھنا یا پورے معاشرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنا مسئلے کا حل نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ممکن ہے جب ریاست دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ ساتھ قانون، شفافیت اور شہری اعتماد کو بھی مضبوط بنائے۔

#ISPP #ISKP #PakistanSecurity #CounterTerrorism #KhyberPakhtunkhwa #Balochistan #Islamabad #SectarianViolence #IntelligenceSharing #DigitalPropaganda #RegionalSecurity #CivilianProtection

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1080 Articles with 836765 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More