NorAI in darululoom islamaiyyah kamran Blake lahor
(Dr wali khan almuzaffar, Lahor)
|
دارالعلوم اسلامیہ کامران بلاک کا یادگار علمی و تعلیمی دورہ
قرآن، عربی زبان اور مصنوعی ذہانت کے حسین امتزاج کی جانب ایک اہم قدم
تحریر: ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر
25 اکتوبر 2026ء
الحمدللہ! آج دارالعلوم اسلامیہ، کامران بلاک کا ایک نہایت خوش گوار، بامقصد اور علمی و تعلیمی اعتبار سے مفید دورہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس دورے میں جہاں ممتاز اہلِ علم سے ملاقات اور علمی تبادلۂ خیال کا موقع میسر آیا، وہیں اساتذۂ کرام اور عزیز طلبہ کے سامنے عربی زبان کی عظمت و اہمیت، قرآنِ کریم سے اس کے گہرے تعلق اور جدید مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیم و تعلم کے نئے امکانات پر تفصیلی گفتگو کا شرف بھی حاصل ہوا۔
اس موقع پر محترم ڈاکٹر قاری احمد میاں تھانوی صاحب اور معروف محقق و صاحبِ علم ڈاکٹر خلیق احمد تھانوی صاحب سے نہایت مفید اور خوش گوار ملاقات ہوئی، جبکہ گزشتہ روز حضرت مولانا ڈاکٹر اشرف مشرف علی صاحب سے بھی ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی۔
ان بزرگوں کے ساتھ علمی و تعلیمی موضوعات پر تبادلۂ خیال میرے لیے مسرت و اطمینان کا باعث بنا۔
عربی زبان: محض ایک ذریعہ نہیں، ایک عظیم علمی و تہذیبی مقصد
دارالعلوم کی مسجد میں اساتذہ اور طلبہ کے سامنے اپنے تفصیلی خطاب میں عربی زبان کی دینی، علمی، تہذیبی اور عالمی اہمیت کو اجاگر کیا۔
میں نے اس حقیقت پر زور دیا کہ عربی زبان کو صرف نحو و صرف کے قواعد، امتحانی نصاب یا چند مخصوص دینی کتابوں تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ یہ ایک زندہ، توانا، عالم گیر اور نہایت وسیع علمی و تہذیبی زبان ہے۔
یہ قرآنِ مجید کی زبان ہے، سنتِ نبویہ کی زبان ہے، اسلامی علوم و معارف کا عظیم خزانہ اسی زبان میں محفوظ ہے، اور صدیوں تک دنیا کے مختلف خطوں میں علمی تحقیق، فلسفے، طب، ریاضیات، تاریخ، ادب اور تہذیب کی مؤثر زبان رہی ہے۔
میں نے اپنا دیرینہ علمی مؤقف بھی دہرایا:
«العَرَبِيَّةُ غَايَةٌ مَقْصُودَةٌ، وَلَيْسَتْ وَسِيلَةً فَحَسْبُ»
یعنی:
عربی زبان بذاتِ خود ایک مطلوبہ علمی و تہذیبی مقصد ہے، محض دوسرے علوم تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں۔
برصغیر کے دینی مدارس نے عربی علوم کی حفاظت، تدریس اور اشاعت میں تاریخ ساز خدمات انجام دی ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ عربی زبان کو صرف پڑھنے اور سمجھنے کی حد تک محدود رکھنے کے بجائے اسے بول چال، تحریر، تقریر، تحقیق، تدریس اور روزمرہ علمی ماحول کی فعال زبان بنایا جائے۔
ہمارا طالب علم عربی عبارت حل کرنے کے ساتھ ساتھ عربی میں اپنے خیالات کا اظہار بھی کر سکے، علمی مباحثے کر سکے، مضمون لکھ سکے اور عرب دنیا کے اہلِ علم سے بلاواسطہ علمی رابطہ قائم کر سکے۔
قرآن اور عربی: دو الگ راستے نہیں، ایک دوسرے کے معاون
خطاب کا ایک اہم موضوع قرآنِ کریم اور عربی زبان کی مربوط تعلیم تھا۔
میں نے عرض کیا کہ قرآنِ کریم اور عربی زبان کی تعلیم کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے کے بجائے دونوں کو ایک مربوط تعلیمی نظام میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
قرآنِ کریم کی تلاوت، تجوید، حفظ اور فہم اپنی اپنی جگہ انتہائی اہم ہیں، لیکن جب طالب علم کو عربی زبان سے بھی مناسب واقفیت حاصل ہو جاتی ہے تو قرآن کے الفاظ، اسالیب، تراکیب اور معانی کو سمجھنے کے لیے اس کے سامنے نئے دروازے کھلتے ہیں۔
قرآن کی تعلیم عربی زبان سے محبت پیدا کرتی ہے اور عربی زبان کی تعلیم قرآن فہمی میں گہرائی پیدا کرتی ہے۔
اس لیے ہماری تعلیمی حکمتِ عملی یہ ہونی چاہیے کہ:
قرآن بھی ساتھ چلے، عربی بھی ساتھ چلے، اور دونوں مل کر ایک ایسی نسل تیار کریں جو تلاوت میں پختہ، فہم میں گہری، اظہار میں مؤثر اور علمی شعور میں بلند ہو۔
نور AI: دینی تعلیم اور مصنوعی ذہانت کا نیا افق
اس دورے کی ایک خاص اور اہم سرگرمی جدید تعلیمی منصوبے NorAI (نور اے آئی) کا تفصیلی تعارف اور اس کی پریزنٹیشن تھی۔
میں نے حاضرین کے سامنے نور AI کے تعلیمی تصور، مقاصد، امکانات اور اس بات کی وضاحت کی کہ مصنوعی ذہانت کو دینی مدارس، خصوصاً قرآن اور عربی زبان کی تدریس میں کس طرح مؤثر اور مفید بنایا جا سکتا ہے۔
آج دنیا میں مصنوعی ذہانت تعلیم، تحقیق اور ابلاغ کے میدانوں میں تیزی سے تبدیلیاں پیدا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں دینی مدارس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علمی روایت اور دینی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں۔
نور AI کے حوالے سے گفتگو میں بالخصوص اساتذہ اور طلبہ کے لیے اس کے ممکنہ فوائد اور عملی استعمال کی جہتوں کو واضح کیا گیا۔
طلبہ کے لیے:
نور AI کو قرآن و عربی کی تعلیم کے سلسلے میں ایک معاون تعلیمی وسیلے کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات پر گفتگو ہوئی، تاکہ طلبہ اپنی استعداد کے مطابق مشق، تکرار، الفاظ و تراکیب کی تفہیم اور عربی زبان کی مہارتوں میں ترقی کر سکیں۔
اساتذہ کے لیے:
اس امر پر روشنی ڈالی گئی کہ جدید ڈیجیٹل وسائل اور مصنوعی ذہانت تدریسی تیاری، تعلیمی مشقوں، طلبہ کی انفرادی رہنمائی اور تدریسی عمل کو زیادہ منظم اور مؤثر بنانے میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
قرآن اور عربی کی مشترکہ تعلیم کے لیے:
خصوصی طور پر اس تصور کو اجاگر کیا گیا کہ ایک ایسا مربوط تعلیمی ماحول تشکیل دیا جائے جس میں طالب علم قرآنِ کریم کی تعلیم کے ساتھ عربی زبان کی مہارتیں بھی تدریجی انداز میں حاصل کرتا رہے۔
اس موقع پر میں نے یہ بات بھی واضح کی کہ:
مصنوعی ذہانت استاد کا متبادل نہیں، بلکہ استاد کی صلاحیتوں اور تدریسی امکانات میں اضافہ کرنے کا ایک طاقت ور معاون ذریعہ ہے۔
دینی علوم میں مستند استاد، علمی سند، صحیح رہنمائی، تربیت اور اہلِ علم کی نگرانی کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہے گی۔
ہمیں ٹیکنالوجی سے مرعوب ہونے کے بجائے اسے اپنی دینی، علمی اور تعلیمی ضروریات کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔
سوال و جواب کی مفید نشست
خطاب اور پریزنٹیشن کے بعد اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ سوال و جواب کی ایک نہایت مفید نشست بھی منعقد ہوئی۔
اس نشست میں عربی زبان سیکھنے اور سکھانے کے طریقوں، قرآن فہمی کے لیے عربی کی اہمیت، جدید تعلیمی وسائل اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تدریسی عمل کو بہتر بنانے جیسے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔
میں نے مختلف سوالات کے تفصیلی جوابات پیش کیے اور اس بات پر زور دیا کہ عربی زبان میں مہارت حاصل کرنے کے لیے صرف قواعد یاد کرنا کافی نہیں، بلکہ مسلسل مطالعہ، سماعت، مکالمہ، تحریر اور عملی مشق بھی ضروری ہے۔
اسی طرح مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھاتے وقت علمی صحت، مواد کی تحقیق، مستند دینی مصادر سے رجوع اور اساتذہ کی نگرانی کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔
مدارسِ دینیہ اور آنے والے دور کے تقاضے
میں نے اس موقع پر اپنے اس دیرینہ تصور کو بھی واضح کیا کہ پاکستان، افغانستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور پورے برصغیر کے دینی مدارس عربی زبان کے فروغ میں ایک غیر معمولی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان مدارس کے پاس قرآن و حدیث کے علوم، عربی قواعد، فقہ، تفسیر اور دیگر اسلامی علوم کی ایک عظیم علمی میراث موجود ہے۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس مضبوط علمی بنیاد کو جدید زبان آموزی، مؤثر تدریسی طریقوں اور مناسب ڈیجیٹل وسائل کے ساتھ مربوط کر دیا جائے۔
میری خواہش ہے کہ ہمارے مدارس سے ایسے علماء فارغ ہوں جو ایک طرف قرآن و سنت کے گہرے فہم اور اسلامی علوم میں رسوخ رکھتے ہوں اور دوسری طرف عربی میں بے تکلف گفتگو، اعلیٰ درجے کی تحریر، علمی تحقیق اور عالمی سطح پر مؤثر ابلاغ کی صلاحیتوں سے بھی آراستہ ہوں۔
ہماری نئی نسل کو اپنے علمی ماضی کی عظمت سے آگاہ ہونے کے ساتھ مستقبل کے تقاضوں کا بھی شعور ہونا چاہیے۔
مدارس کی عظمت صرف ان کے شاندار ماضی میں نہیں، بلکہ اس صلاحیت میں بھی ہے کہ وہ اپنے علمی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے آنے والے زمانوں کی علمی قیادت کے لیے تیار ہوں۔
اہلِ علم کی صحبت اور ادارے کی خدمات
دارالعلوم اسلامیہ کے اس دورے میں ڈاکٹر قاری احمد میاں تھانوی صاحب، ڈاکٹر خلیق احمد تھانوی صاحب اور دیگر اہلِ علم کے ساتھ ملاقاتیں میرے لیے باعثِ مسرت رہیں۔
اسی طرح حضرت مولانا ڈاکٹر اشرف مشرف علی صاحب سے گزشتہ روز ہونے والی ملاقات بھی خوش گوار یادوں کا حصہ ہے۔
میں ان تمام حضرات کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں، نیز دارالعلوم اسلامیہ کی انتظامیہ، اساتذۂ کرام اور عزیز طلبہ کے لیے بھی شکریے اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ اس ادارے کو علم و عمل، تحقیق و تدریس، قرآن و سنت کی خدمت اور عربی زبان کی ترویج کا ایک مؤثر مرکز بنائے۔
ایک خواب، ایک عزم، ایک تعلیمی تحریک
اس دورے نے میرے اس یقین کو مزید تقویت دی کہ اگر دینی مدارس کی علمی روایت، عربی زبان کی عملی مہارت، قرآنِ کریم کی بامقصد تعلیم اور مصنوعی ذہانت کے مفید وسائل ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہو جائیں تو ہماری نئی نسل کے سامنے ترقی کے غیر معمولی امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہی وہ تعلیمی تصور ہے جسے میں ایک وسیع تحریک کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔
ہمارا نصب العین یہ ہے کہ قرآن ہر دل تک پہنچے، عربی ہر زبان پر آئے، علم ہر ذہن کو روشن کرے اور جدید ٹیکنالوجی انسانیت کی علمی و اخلاقی ترقی کا ذریعہ بنے۔
نور AI اسی بڑے تعلیمی خواب کو عملی صورت دینے کی ایک کوشش ہے۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کوشش کو قبول فرمائے، ہمارے علماء و اساتذہ کو نئے زمانے کے تقاضوں کا صحیح شعور عطا فرمائے اور ہمارے مدارس کو علم، تحقیق، کردار سازی اور عالمی علمی رہنمائی کا مرکز بنائے۔
ہم روایت کے محافظ بھی ہیں اور مستقبل کے معمار بھی!
قرآن ہمارا نور، عربی ہماری علمی شناخت، اور جدید ٹیکنالوجی ہمارے تعلیمی سفر کی معاون ہے۔
وما توفيقي إلا بالله، عليه توكلت وإليه أنيب.
✍️ الدكتور الشيخ ولي خان المظفر ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر مشیرِ صدر، جامعہ غزالی، کراچی 25 اکتوبر 2026ء
#دارالعلوم_اسلامیہ #کامران_بلاک #ڈاکٹر_ولی_خان_المظفر #عربی_زبان #قرآن_کریم #NorAI #ArtificialIntelligence #IslamicEducation #ArabicLanguage #تعلیم_اور_ٹیکنالوجی |