NorAI in Jamia ashrafiyyah lahor

جامعہ اشرفیہ لاہور میں ایک یادگار علمی نشست

قرآن اور عربی ساتھ ساتھ — روایت کی عظمت اور ٹیکنالوجی کی جدت کا حسین امتزاج

✍️ ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر

24 اکتوبر 2026ء، لاہور

الحمدللہ! گزشتہ روز پاکستان کی ممتاز اور تاریخی دینی درس گاہ جامعہ اشرفیہ لاہور میں حاضری اور ایک نہایت مفید علمی و تعلیمی نشست میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔

اس موقع پر پنجاب قرآن بورڈ کے چیئرمین اور جامعہ اشرفیہ کی معزز علمی شخصیت حضرت مولانا ڈاکٹر زبیر الحسن صاحب سے نہایت خوش گوار اور بامقصد ملاقات ہوئی۔

ہمارے وفد میں نور AI کے روحِ رواں حافظ سمیع صاحب، قاری سید عالم صاحب، قاری ظہور اسلام صاحب، حمزہ خان صاحب اور طفیل خان طوفان صاحب بھی شریک تھے۔

جامعہ اشرفیہ: ایک ادارہ نہیں، ایک علمی روایت

جامعہ اشرفیہ لاہور برصغیر کی اس عظیم علمی روایت کا امین ہے جس کی بنیاد قرآن و سنت کی خدمت، دینی علوم کی حفاظت، علم و عمل کی یکجائی، اصلاحِ باطن اور امت کی دینی و اخلاقی رہنمائی پر استوار ہے۔

اس عظیم ادارے کی بنیاد حضرت مولانا مفتی محمد حسن امرتسری رحمہ اللہ نے رکھی، جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے ممتاز خلفاء میں شمار ہوتے تھے۔

جامعہ اشرفیہ کی علمی و فکری شناخت میں اعتدال، تحقیق، تربیت، اصلاح اور دینی روایت سے وابستگی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

اس ادارے کی عظمت صرف اس کی عمارتوں یا تاریخی حیثیت میں نہیں، بلکہ ان علمی شخصیات، اساتذہ، فضلاء اور خدمات میں ہے جنہوں نے نسل در نسل قرآن و حدیث اور اسلامی علوم کی شمع روشن رکھی۔

نور AI: قرآن فہمی اور عربی تعلیم کے نئے امکانات

اس علمی ملاقات کا ایک اہم موضوع NorAI (نور اے آئی) کا تعارف اور اس کی تفصیلی پریزنٹیشن تھی، جو محترم حافظ سمیع صاحب نے نہایت عمدگی کے ساتھ پیش کی۔

پریزنٹیشن میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے قرآنِ کریم اور عربی زبان کی تعلیم کو سہل، منظم، مؤثر اور وسیع تر بنانے کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی۔

بالخصوص یہ واضح کیا گیا کہ جدید ڈیجیٹل تعلیمی وسائل کس طرح طلبہ کی انفرادی استعداد، اساتذہ کی تدریسی ضروریات اور قرآن و عربی کی مشترکہ تعلیم میں معاون بن سکتے ہیں۔

ہماری بنیادی سوچ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت دینی مدارس کی علمی روایت سے متصادم نہیں، بلکہ صحیح رہنمائی اور علمی نگرانی میں اس روایت کی افادیت بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔

ٹیکنالوجی استاد کی جگہ نہیں لے سکتی، لیکن استاد کے ہاتھ میں ایک مؤثر تعلیمی وسیلہ ضرور بن سکتی ہے۔

قرآن اور عربی ساتھ ساتھ: ہماری تحریک کا بنیادی پیغام

اس موقع پر میں نے اپنے دیرینہ علمی نظریے کو ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ:

«العَرَبِيَّةُ غَايَةٌ مَقْصُودَةٌ، وَلَيْسَتْ وَسِيلَةً فَحَسْبُ»

یعنی عربی زبان بذاتِ خود ایک مطلوبہ علمی و تہذیبی مقصد ہے، محض دوسرے علوم تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں۔

قرآنِ مجید کی تلاوت، تجوید، حفظ اور فہم کے ساتھ عربی زبان کی تعلیم کو مربوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ طالب علم قرآن پڑھتے ہوئے عربی بھی سیکھے، عربی سیکھتے ہوئے قرآن بھی سمجھے، اور قرآن سمجھتے ہوئے اس کے پیغام کو اپنی زندگی میں بھی اتارے۔

یہی ہے ہمارا تصور:

قرآن اور عربی ساتھ ساتھ!

اگر ہمارے مدارس میں قرآنِ کریم کی تعلیم کے ساتھ عربی سماعت، گفتگو، مطالعہ، تحریر اور فہم کی تدریجی مشقوں کو مربوط کر دیا جائے تو ایک ایسی نسل تیار ہو سکتی ہے جو قرآنِ کریم سے محبت کے ساتھ اس کی زبان میں بھی مہارت رکھتی ہو۔

ہماری آرزو ہے کہ برصغیر کے دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والا عالم نہ صرف عربی کتابیں پڑھ سکے، بلکہ عربی زبان میں فصیح گفتگو، مؤثر خطاب، معیاری تحریر اور علمی تحقیق کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔

قدیم علمی میراث اور جدید تعلیمی امکانات کا ملاپ

جامعہ اشرفیہ جیسے عظیم علمی اداروں کے ساتھ اس نوعیت کے تعلیمی مکالمے نہایت اہم ہیں۔

ہمارے مدارس کے پاس صدیوں کا محفوظ علمی سرمایہ، مستند تدریسی روایت، تجربہ کار علماء اور طلبہ کی ایک عظیم تعداد موجود ہے۔

دوسری طرف جدید ٹیکنالوجی تعلیم کو زیادہ قابلِ رسائی اور منظم بنانے کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہے۔

اگر ان دونوں قوتوں کو حکمت، بصیرت اور اخلاص کے ساتھ یکجا کیا جائے تو پاکستان ہی نہیں، پوری دنیا میں قرآنِ کریم اور عربی زبان کی تعلیم و ترویج کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

ہمیں اپنی علمی روایت سے دست بردار نہیں ہونا، بلکہ اسی مضبوط بنیاد پر مستقبل کی نئی عمارت تعمیر کرنی ہے۔

اظہارِ تشکر اور نیک تمنائیں

میں محترم حضرت مولانا ڈاکٹر زبیر الحسن صاحب اور جامعہ اشرفیہ لاہور کے معزز ذمہ داران کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ملاقات اور علمی تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کیا۔

اسی طرح اپنے تمام رفقائے سفر، بالخصوص حافظ سمیع صاحب اور ان کے ساتھیوں کا بھی ممنون ہوں، جو قرآن اور عربی زبان کی تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کے لیے کوشاں ہیں۔

اللہ تعالیٰ جامعہ اشرفیہ لاہور اور تمام دینی درس گاہوں کو مزید ترقی عطا فرمائے اور انہیں قرآن و سنت کی خدمت، عربی زبان کی ترویج، علمی تحقیق اور امت کی فکری رہنمائی کا مؤثر مرکز بنائے۔

ہمارا پیغام واضح ہے:

📖 قرآن ہماری اساس ہے۔

🌍 عربی ہماری علمی و تہذیبی شناخت ہے۔

💡 مصنوعی ذہانت ہمارے تعلیمی سفر کی معاون ہے۔

🎓 اور ان تینوں کا بامقصد امتزاج ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن علمی مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

قرآن اور عربی ساتھ ساتھ — یہی ہمارا خواب، یہی ہمارا عزم اور یہی ہماری تعلیمی تحریک ہے!

وما توفيقي إلا بالله عليه توكلت وإليه أنيب۔

ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر
مشیرِ صدر، جامعہ غزالی، کراچی
25 اکتوبر 2026ء

#جامعہ_اشرفیہ_لاہور
#قرآن_اور_عربی_ساتھ_ساتھ
#NorAI #نور_AI
#ڈاکٹر_ولی_خان_المظفر
#ArabicLanguage
#QuranEducation
#ArtificialIntelligence
#IslamicEducation
Dr shaikh wali khan almuzaffar
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 465 Articles with 1000906 views نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More