سخاوت
(Dr abu tufail wali khan almuzaffar, Lahor)
|
سخاوت.
بچوں کےمعصوم سوالات بھی بعض دفعہ کتنے گہرے اور کھرے ہوتے ہیں۔ سخاوت کی بات چلی تو بچوں نے پوچھا
"آپ کے دوستوں میں سب سے زیادہ سخی کون ہیں؟"
کچھ سوچا دماغ کےسکرین پر ایک ہی تصویر تھی،بلاجھجھک کہہ دیا۔ استاذ ولی خان صاحب! اور کون؟ کوئی نہیں! اچھا اتنےزیادہ،وہ کیسے؟۔ عرض کیا وہ ایسے کہ ان کےدنیاجہاں کےدوست تھےجو آتے تھے اور پڑے رہتےتھے،ان کاکھاناپیناچلتا تھا،کمرے میں بنتاتھا،ہوٹلوں سےآتاتھا،کینٹین میں مستقل کھاتہ ہوتاتھا۔ استاذ نہیں بھی ہوتے تھے تو "صاحبان" بڑے طمطراق سےجاکر کھالیتے تھے اور استاذ کےکھاتے میں لکھوا آتے تھے۔
مدرسے سےتنخواہ ملتی تھی تواستاذ اپنےلئے کتابیں خریدتے۔جو لائق طالب راستے میں ملتا یاکمرے میں آتا یاپھر ذہن میں آتا بلالیتے اور پیسے دے دیتے فلاں کتاب خریدلو،پڑھ لو۔ تنخواہ سےجو تھوڑے بہت بچ جاتے کینٹین والے،باہر دوکان والےاور دوسروں کے قرضے چکاتے 5، 6 تاریخ کو جیب مکمل خالی ہوتی تھی۔ خیر پیسوں اور کھانے پینےکےسخی تو آپ نے بھی دیکھے ہوں گے۔ استاذچیزوں میں بھی اتنے ہی سخی تھے۔ مہنگی گھڑی ہاتھ میں ہوتی یا جیب میں قیمتی قلم،جو مانگتا دےدیتا،بن مانگے بھی دیتا۔ ان کی اپنی کوئی خاص چیزیں اور چیزوں کا کوئی خصوصی بکس،صندوق وغیرہ تھا ہی نہیں جو چیزیں ہوتیں عام سی ہوتی تھیں سب کے دسترس میں، سب کومعلوم۔ دکان جاتے تو ساتھ جو بھی ہوتا،طالب،رشتہ دار حتی کہ ٹیکسی والا ہی کیوں نہ ہوتا اس کےلئے بھی ویسی ہی خریداری کرتےجیسی اپنےلئے۔
لوگ مہنگے ہوٹلوں میں کھانا کھاتے ہیں تو ٹپ دیتے ہیں وہ ٹیکسی والے کو، بس والے کو اور دوکان والے کو بھی اس کے بننے والے پیسوں سے زیادہ دیتے تھے اتنے زیادہ کہ آٹھ سو بنے تو ہزار دیے ہزار بنے تو پندرہ سو دیے۔ آپ سوچتے ہوں گے یہ تو بھئی پاگل پن ہے۔ جی ہاں آپ درست کہتے ہوں گے،لوگ ایسوں کوپاگل ہی کہتے ہیں۔ وہ بھی خود کوکہتے تھے "پاگل آدمی ہوں" مگر ان کی سوچ یہ ہوتی تھی کہ یہ بھی عبید ہے یہ بھی بحراللہ جیساہے۔ اجنبی کو حقیقی بھائی سمجھنے والے سخی آپ نے شاید نہیں دیکھے ہوں گے۔ اسی لئے میں بھی کہتاہوں میں نے ان جیسا سخی کوئی نہیں دیکھا۔
پیسوں کےسخی تو آپ نے اور بھی دیکھے ہوں گے،کم یازیادہ سخی مگر ہوتے ہیں۔ وہ تو وقت کےسخی تھے جو ٹائم گھر والوں کاہونا چاہئے،چھٹیوں کا،ڈیوٹی کےبعد کاٹائم وہ بھی وہ لوگوں کو دیتے تھے۔ کیسے لوگوں میں بانٹتے تھے؟ یوں کہ طلبہ کو بٹھاکر مطالعہ کرواتے کتاب یاد کرواتے،مضمون لکھواتے،ان کی تعمیر کرتے ۔
یاپھر خود کوتیار کرتے۔لوگوں کےلئے بہترین تقریر،شاندار تحریر،معیاری کتاب۔ کسی دینی نظریے اوراسلامی مسئلے،علمی موقف سمجھنے میں دماغ کھپاتے کہ اس کی منفعت فکر ونظر کے تہی دامنوں،احتیاج رکھنے والوں میں بانٹیں۔ ان کی ضرورت پوری کریں۔ اپنے علم میں زیادہ سے زیادہ افراد کوشریک کریں۔
آپ سوچتے ہوں گے گھر والوں کاٹائم کسی اور کو دینا تو ٹھیک نہیں جی،لیکن سخی بھی کبھی یہ نہیں سوچتا کہ اس کے مال کی اس کے گھر والوں کو ضرورت ہے یا نہیں۔ وہ کھلاتاہے تو خود کو اور اہل خانہ کو فاقوں کی بھی نوبت آتی ہے،ان کےحصے میں ضرور کمی تو آتی ہے مگر وہ دینے سے باز نہیں آتا،اس کو ذاتی اور قومی مفاد میں فرق کاہی ادراک نہیں ہوتا۔ وہ دوسروں کو بھی اپنےجیسا سمجھتاہے، بالکل اہل وعیال کی طرح۔
وقت ہی کیا وہ تو عزت کےبھی ایسےسخی تھے کہ مت پوچھیں جو ان کےلئے سب سے قیمتی متاع کی حیثیت رکھتی تھی۔ وہ ایسی اور اتنی عزت دیتے تھے کہ لوگ ان کودیکھ کر اپنی عزت کرنے لگتے تھےاور کبھی تو ان سے بھی زیادہ معزز بننے کی جسارت کرلیتے تھے۔
ہم نے ایسے بہت دیکھے ہیں جن کو سب لوفر، نکما،مردوداور گم راہ کہتے تھے،گھر سے بھی دھتکارے ہوئے۔ استاذ ایسوں کوبھی عزت وشہامت کے تخت پر بٹھاتے تھے،ان کے اندر چھپے آثار نجابت کو دریافت کرتے پھر اس کے ابا کو بتاتے یہ بڑا کام کاانسان ہے،یہ مستقبل کا امام ہے۔ جس کی بدولت وہ حوصلہ پاکر یاشرماکر خود بھی کچھ کرنے لگتا اور جب تھوڑا سا معتبر ہوا،کچھ انسان بنا۔ توپہلا پتھر استاذ پر پھینکا۔ استاذ مگر اتنے سخی تھے کہ کہتے آپ نے بالکل ٹھیک وار کیا،ایسا کرتے رہاکرو یہی آپ کا امتیاز ہے۔اس سےآپ میں جرات آئےگی یہی حق ہرستی کاتقاضاہے،اس سے آپ اور آگے بڑھوگے۔عظیم بنوگے۔ ہم تو ہیں ہی نشانہ بننے کےلئے،نشانہ ٹھیک کرنے کے لئے،بس فیلڈ میں فیل نہیں ہونا۔ یقین جانئے یہ اداکاری نہیں ہوتی تھی وہ یہ سب دل سے کرتے تھے اور دل کے اتنے صاف تھے کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔
عزت کے تو وہ اتنے سخی تھے کہ ہر دوست کے ابا کو اپنے بابا اوراس کی اماں کو اپنی ابئی کہتے نہ تھےسمجھتے بھی تھے۔ ان کے دوستوں کی مائیں اور ابے اسی لئے انہیں اپنے بچوں سے زیادہ چاہتے تھے کیونکہ یہ شخص ان کے بچوں سے زیادہ انہیں عزت دیتاتھا، اور وہ دیکھتے تھے کہ ان کی اولاد کو اس شخص نے ماں باپ کی قدر سکھائی ۔ایساوہ ان کاخیال رکھتاتھا۔
ان کی سخاوت کی ایک شکل یہ بھی تھی کہ دنیا میں ہرمعزز اور چئیر پرسن کو اپنی چئیر بہت عزیز ہوتی ہے استاذ محترم مگر ہر جوہر قابل کو اپنی کرسی کےقابل بنانے کی فراخ دلی کی طبیعت رکھتےتھے،زبانی نہیں،دل وجان سے کوشش کرتے تھے کہ ان کے شاگرد ان سے آگے جائیں۔ اور جب وہ فاروقیہ سے جارہے تھے تو الفاروق عربی، عربی معہد،وفاق کی نظامت،شیخ کی خدمت جیسے مناصب کے لئے کئی کئی افراد تیار کرکے جارہے تھے۔ تاکہ ان کی کمی محسوس نہ ہو۔ کیا ایسا کوئی سخی آپ بھی جانتے ہیں۔
اور وہ قیمتی کتابیں
جو صحیح معنوں میں ان کے جگر کے ٹکڑے تھے۔ ان کی خریداری،ان کی حفاظت،ان سےمحبت ان میں دوران مطالعہ نشانات لگانا اسی کی علامت تھی-وہ اسی گھر میں چھوڑ کر وہ ہاتھ اور دامن جھاڑ کر نکلے۔ اور کہا یہ دولفظ بھی میں نے یہاں سیکھے تھے،اور اسی ادارے سےملی دولت نے مجھے یہ کتابیں دلائیں جنہیں یہاں سےلےجانے کی مجھ میں سکت نہیں،ان کی وہ کتابیں ان کےجیتی جی لائبریری اور تخصص فی الادب میں بٹ رہی تھیں تو میں اس شخص کی سخاوت کو سوچ کر آب دیدہ ہورہاتھا۔
عزیز عظیمی |