پریس کلب میں اچانک عزت کی بارش، کہیں الیکشن تو نہیں آ رہے؟
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں ایک صاحب نے بڑے تپاک سے ہاتھ ملایا۔ میں نے بھی ہاتھ ملا لیا، لیکن دل میں ایک سوال اٹھا کہ یا اللہ! آج مجھ میں ایسی کون سی خوبی پیدا ہوگئی ہے جس کا مجھے خود بھی علم نہیں؟ نہ جوتے نئے، نہ کپڑے نئے، نہ بیگ تبدیل ہوا۔ وہی پرانا حلیہ، وہی پرانا بیگ اور وہی چھ سال پرانا صحافتی اسٹائل۔ پھر یہ اچانک عزت کہاں سے نازل ہوگئی؟
مزید حیرت اس بات پر ہوئی کہ گزشتہ چھ ماہ سے تو خاکسار موصوف کی گڈ بُک میں بھی شامل نہیں تھا۔ کبھی لہجے میں طنز، کبھی اپنی بڑائی کا احساس دلانے کی کوشش، اور کبھی ایسا رویہ جیسے صحافت کا سارا نظام انہی کے کندھوں پر چل رہا ہو۔ لیکن گزشتہ روز ہاتھ ملانے کا انداز ایسا تھا جیسے ہم دونوں برسوں سے بچھڑے ہوئے بھائی ہوں اور آج اچانک کسی ڈرامے کی آخری قسط میں ملاقات ہوگئی ہو۔
پہلے تو سوچا کہ شاید میری شخصیت میں کوئی انقلابی تبدیلی آگئی ہے۔ پھر خیال آیا کہ عمر کے پچاسویں پڑاؤ پر پہنچ کر انسان کو اتنا تجربہ تو ہو ہی جاتا ہے کہ لوگوں کے رویوں پر زیادہ حیران نہیں ہونا چاہیے۔ جوانی میں لوگ کیا کہتے ہیں، اس کی فکر ہوتی ہے۔ اب تو یہ سمجھ آگئی ہے کہ لوگ بدلتے کم ہیں، ان کے مفادات کا موسم بدلتا رہتا ہے۔
پھر کیلنڈر پر نظر پڑی تو سارا معاملہ سمجھ میں آگیا۔ اکتوبر کا آخری ہفتہ ہے، نومبر میں موجودہ کابینہ کی مدت ختم ہونے والی ہے اور پریس کلب کے انتخابات سر پر ہیں۔بس پھر کیا تھا! ذہن کی بتی جل اٹھی۔
ارے بھائی! یہ ہاتھ ملانا محبت نہیں، ووٹ سے پہلے تعلقات کی مرمت بھی ہوسکتی ہے!
ممکن ہے صاحب کو اچانک یاد آگیا ہو کہ اس پرانے بیگ والے صحافی کے پاس بھی ایک ووٹ موجود ہے۔ اور اگر خود ووٹ نہ بھی ڈالے تو شاید دو چار دوستوں کو سمجھا بجھا کر ادھر اُدھر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ یعنی جس شخص کو چھ ماہ سے نظرانداز کیا جا رہا تھا، وہ اچانک انتخابی سیاست میں ایک اہم اثاثہ بن گیا۔
پریس کلب کے انتخابات بھی عجیب چیز ہیں۔ عام دنوں میں آپ کی رائے کی قیمت شاید ایک چائے کے کپ سے بھی کم ہو، لیکن الیکشن قریب آتے ہی آپ کی شخصیت میں ایسی جمہوری اہمیت پیدا ہوجاتی ہے کہ بڑے بڑے لوگ آپ سے مصافحہ کرنے کو اعزاز سمجھنے لگتے ہیں۔
خاکسار کو پشاور پریس کلب کی نائب صدارت چھوڑے بھی کم و بیش پندرہ سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ الحمدللہ، ان عہدوں کے بعد بھی زندگی چل رہی ہے۔ نہ کسی عہدے کی بھوک ہے، نہ کسی کی خوشنودی کی ضرورت۔ ہر مرتبہ اپنی مرضی کا ووٹ دیا اور یہی کوشش کی کہ ووٹ کسی کے دباؤ، تعلق یا وقتی خوش اخلاقی کے بجائے اپنی سمجھ کے مطابق استعمال ہو۔
لیکن افسوس! ہم صحافی دوسروں کے معاملات پر تو پوری دنیا کو لیکچر دیتے ہیں۔ حکومت کی کارکردگی، سیاست دانوں کے وعدے، اداروں کی خامیاں اور معاشرے کی خرابیاں، سب پر ہماری نظر ہوتی ہے۔ مگر جب اپنے پریس کلب کے انتخابات آتے ہیں تو بعض اوقات ہمارا سیاسی شعور چھٹی پر چلا جاتا ہے۔
وہی چہرے، وہی وعدے، وہی نعرے اور ہر سال ایک نئی امید۔ انتخابی مہم میں سب کچھ بدلنے کا اعلان ہوتا ہے، لیکن انتخاب کے بعد اکثر صرف عہدے داروں کی کرسیاں بدلتی ہیں، نظام نہیں۔
یہ تبدیلی کا سال ہے۔ صوبے کی سیاست میں تبدیلی آئے یا نہ آئے، امید ہے کہ اس مرتبہ پریس کلب میں کچھ نئے چہرے بھی سامنے آئیں گے۔ تاہم نئے چہرے لانے کا مطلب صرف نئے نام نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا نئے لوگ نئی سوچ، بہتر رویہ اور صحافیوں کے مسائل حل کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں؟ کیونکہ کسی صحافی کی تضحیک کرنا، اسے کمتر سمجھنا اور پھر ووٹ کے موسم میں اس کے ساتھ غیرمعمولی محبت جتانا کوئی جمہوری خدمت نہیں۔ یہ تو انتخابی موسم کی وہ خاص فصل ہے جو صرف ووٹوں کی کٹائی کے وقت پک کر تیار ہوتی ہے۔
اور جہاں تک صحافیوں کی پہچان کا تعلق ہے، اس پر بھی سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ صحافت کا معیار صرف پریس کارڈ، عہدے یا کسی چینل کے نام سے طے نہیں ہوسکتا۔ صحافتی کام، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور متعلقہ ریکارڈ کی شفاف جانچ ضروری ہے۔ سرکاری ملازمت یا کسی ادارے سے وابستگی کے بارے میں بھی بات ہو تو اسے واضح قواعد اور مستند ریکارڈ کے مطابق دیکھا جانا چاہیے، محض الزامات کی بنیاد پر نہیں۔
آخر میں ایک چھوٹی سی گزارش ہے:
پریس کلب کے انتخابات میں اگر کسی پرانے صحافی سے ہاتھ ملانا ضروری محسوس ہونے لگے تو کم از کم یہ بھی یاد رکھیے کہ وہی ہاتھ پچھلے چھ ماہ سے موجود تھا۔ صرف ووٹ کی تاریخ قریب آئی ہے، صحافی نہیں بدلا!
اور ہاں، میرا پرانا بیگ ابھی بھی میرے ساتھ ہے۔ اس میں نہ کوئی انتخابی منشور ہے، نہ کسی امیدوار کی ضمانت۔ بس صحافت کے کچھ پرانے تجربے ہیں، اپنی مرضی کا ووٹ ہے اور لوگوں کے بدلتے رویوں پر مسکرانے کی تھوڑی سی عادت۔
کیونکہ پریس کلب میں انتخابات آتے جاتے رہیں گے، مگر ووٹ کو عزت دینے اور ووٹر کو عزت دینے میں فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔ |