جیشِ محمد کی خواتین ونگ ‘‘جماعت المؤمنات’’: پاکستان کی سلامتی، آن لائن انتہاپسندی اور علاقائی دہشت گردی کے نئے چیلنجز

پاکستان میں سرگرم کالعدم تنظیم جیشِ محمد کی جانب سے خواتین کے لیے ‘‘جماعت المؤمنات’’ کے نام سے الگ شعبہ قائم کرنے کی اطلاعات نے جنوبی ایشیا کی سلامتی کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ اس پیش رفت کی اہمیت محض خواتین کی تنظیمی شمولیت تک محدود نہیں، بلکہ اس پہلو سے بھی جڑی ہے کہ انتہاپسند تنظیمیں مذہبی تعلیم، خاندانی روابط اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کو اپنے نظریاتی اثرورسوخ اور تنظیمی نیٹ ورک کی توسیع کے لیے کس طرح استعمال کر سکتی ہیں۔

اکتوبر 2025 میں جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی جانب سے خواتین کے اس شعبے کے قیام کا اعلان کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، اس شعبے کی قیادت مسعود اظہر کی بہن سعدیہ اظہر سے منسوب کی گئی، جبکہ خواتین کو آن لائن تربیتی پروگراموں اور سوشل میڈیا کے ذریعے متحرک کرنے کی کوششوں کے دعوے بھی سامنے آئے۔دسمبر 2025 میں بعض بھارتی میڈیا اداروں نے مسعود اظہر سے منسوب اس دعوے کی رپورٹنگ کی کہ اس پروگرام میں پانچ ہزار سے زیادہ خواتین شامل ہو چکی ہیں۔ تاہم یہ تعداد تنظیم کے سربراہ سے منسوب دعویٰ ہے، اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ رکنیت کی تعداد نہیں۔

ماضی میں متعدد انتہاپسند تنظیموں نے خواتین کو نظریاتی تبلیغ، پیغامات کی ترسیل، خاندانی روابط برقرار رکھنے اور سماجی حلقوں میں اثرورسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ خواتین کے لیے الگ تنظیمی شعبے کا قیام ان سرگرمیوں کو زیادہ منظم کرنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔تاہم اس معاملے میں ایک بنیادی فرق کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ خواتین کی مذہبی تعلیم، تنظیمی تبلیغ، مالی معاونت، لاجسٹک سرگرمیوں اور براہِ راست مسلح کارروائیوں میں شرکت الگ الگ نوعیت کے معاملات ہیں۔ صرف خواتین کی ایک شاخ قائم ہونے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے ارکان لازماً جنگی کارروائیوں یا خودکش حملوں میں بھی حصہ لیں گے۔

اصل سوال یہ ہے کہ جماعت المؤمنات کا کردار نظریاتی اثرورسوخ اور بھرتی تک محدود ہے یا اس کے ذریعے کسی وسیع تر تنظیمی نیٹ ورک کی معاونت بھی کی جا رہی ہے۔ اس سوال کا جواب تنظیمی دعوؤں یا سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے مواد کی بنیاد پر نہیں، بلکہ آزادانہ طور پر تصدیق شدہ شواہد کی مدد سے تلاش کرنا چاہیے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، جماعت المؤمنات کے لیے آن لائن اجلاسوں، سوشل میڈیا اور مذہبی تعلیم کی طرز پر ترتیب دیے گئے پروگراموں کے ذریعے خواتین تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ بعض رپورٹس میں مختصر تربیتی کورسز، فیس اور آن لائن رجسٹریشن کے طریقہ? کار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم ان تفصیلات کی تصدیق کی سطح کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

اس معاملے میں اصل خطرہ مذہبی تعلیم نہیں، بلکہ مذہبی تصورات کو تشدد کے جواز، دوسرے گروہوں کے خلاف نفرت، مسلح کارروائیوں کی حمایت یا کسی کالعدم تنظیم کی اطاعت کے لیے استعمال کرنا ہے۔دینی مدارس، مذہبی اساتذہ اور آن لائن تعلیم کے تمام پروگراموں کو انتہاپسندی سے جوڑنا نہ درست ہے اور نہ ہی مسئلے کا مؤثر حل۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مخصوص مواد، بیانات، مالی روابط اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے اور جہاں تشدد پر اکسانے یا دہشت گردی کی معاونت کے شواہد موجود ہوں، وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اس حوالے سے ایک اہم پہلو ہیں۔ آن لائن رابطوں کے ذریعے تنظیمیں جغرافیائی فاصلے کے باوجود لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ لیکن کسی آن لائن مذہبی گروپ، کورس یا پیغام کو محض اس کی نوعیت کی بنیاد پر مشکوک قرار دینے کے بجائے اس کے اصل مواد، مقاصد اور سرگرمیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔مئی 2025 میں بھارت نے ‘‘آپریشن سندور’’ کے نام سے کارروائی کی، جس کے دوران پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ جیشِ محمد سے منسوب مراکز کو پہنچنے والے نقصان اور تنظیم سے وابستہ افراد کی ہلاکتوں کے بارے میں بھی رپورٹس شائع ہوئیں۔

ان واقعات کے بعد تنظیم کے مستقبل، اس کی قیادت اور تنظیمی ڈھانچے کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے۔ اسی پس منظر میں خواتین کے لیے الگ شعبے کے قیام کو بعض تجزیہ کار تنظیمی سرگرمیوں میں توسیع کی ممکنہ کوشش قرار دیتے ہیں۔تاہم یہ کہنا کہ جماعت المؤمنات کا قیام براہِ راست آپریشن سندور کے نتیجے میں عمل میں آیا، ایک تجزیاتی مفروضہ ہے، ثابت شدہ حقیقت نہیں۔ کسی تنظیم کے فیصلے کے محرکات جاننے کے لیے اس کی قیادت کے بیانات، تنظیمی تبدیلیوں اور عملی سرگرمیوں کے درمیان قابلِ تصدیق تعلق قائم کرنا ضروری ہے۔

یہ امکان موجود ہے کہ خواتین کے لیے مخصوص شعبہ قائم کرنے سے کسی تنظیم کو خاندانی اور سماجی روابط کے ذریعے اپنے پیغامات پھیلانے اور نئے حلقوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے۔ لیکن ممکنہ فائدے اور ثابت شدہ عملی صلاحیت کو ایک ہی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔10 نومبر 2025 کو نئی دہلی میں تاریخی لال قلعے کے قریب ایک کار بم دھماکا ہوا، جس میں جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس واقعے کے بعد بھارتی حکام نے مختلف افراد اور مبینہ انتہاپسند نیٹ ورکس کے کردار کی تحقیقات کیں۔

بھارتی قومی تحقیقاتی ادارے (NIA) سے منسوب 2026 کی رپورٹنگ میں ایسے طبی پیشہ ور افراد کے ایک نیٹ ورک کا ذکر سامنے آیا جسے حکام نے القاعدہ سے وابستہ ایک گروہ سے جوڑا۔ اس مقدمے میں متعدد افراد پر الزامات عائد کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ تاہم جماعت المؤمنات کے قیام اور لال قلعے کے قریب ہونے والے دھماکے کے درمیان براہِ راست تعلق کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں، جب تک معتبر شواہد اس تعلق کی تصدیق نہ کریں۔

اس معاملے میں تین سوالات الگ الگ رکھنا ضروری ہیں: جیشِ محمد کی خواتین ونگ کا قیام، بھارت میں مبینہ انتہاپسند نیٹ ورکس کی سرگرمیاں، اور لال قلعے کے قریب دھماکے کی تحقیقات۔ ان معاملات کو صرف زمانی قربت یا عمومی نظریاتی مماثلت کی بنیاد پر ایک ہی تنظیمی منصوبے کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔سیکیورٹی تجزیے میں غلط نسبت نہ صرف حقائق کو مسخ کرتی ہے بلکہ اصل نیٹ ورک، اس کے روابط اور اس کے ممکنہ خطرات کی درست شناخت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

جماعت المؤمنات کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات پاکستان کے لیے کئی اہم سوالات پیدا کرتی ہیں۔ کیا کالعدم تنظیموں کے آن لائن پروپیگنڈے اور بھرتی کی کوششوں کی نگرانی کے لیے موجودہ نظام مؤثر ہے؟ کیا مالی معاونت اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کے ممکنہ غیرقانونی استعمال کی تحقیقات شواہد کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں؟ اور کیا انتہاپسندی کے خلاف اقدامات کے دوران خواتین کی جائز مذہبی تعلیم اور پُرامن سماجی سرگرمیوں کو غیرضروری طور پر متاثر ہونے سے بچایا جا رہا ہے؟

ایک مؤثر حکمتِ عملی کے لیے چند اقدامات اہم ہیں: *اول، شواہد پر مبنی تحقیقات:* کسی بھی فرد یا گروہ کے خلاف کارروائی قابلِ تصدیق معلومات اور قانونی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ *دوم، مذہبی تعلیم اور انتہاپسندی میں فرق:* مذہبی تعلیم کو عمومی طور پر مشکوک قرار دینے کے بجائے تشدد پر اکسانے اور دہشت گردی کی معاونت کے مخصوص شواہد کا جائزہ لیا جائے۔ *سوم، ڈیجیٹل سرگرمیوں کی قانونی نگرانی:* آن لائن بھرتی، مالی معاونت اور تشدد پر اکسانے کے مستند شواہد سامنے آنے پر متعلقہ قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے۔ *چہارم، خواتین کا تحفظ:* اگر کسی خاتون کو دھوکے، دباؤ، دھمکی یا جبر کے ذریعے کسی مسلح تنظیم میں شامل کیا گیا ہو تو اسے قانونی تحفظ، منصفانہ سماعت اور ضروری معاونت فراہم کی جائے۔ *پنجم، سماجی سطح پر انتہاپسندی کی روک تھام:* تعلیم، تنقیدی سوچ، ذمہ دارانہ مذہبی رہنمائی اور خواتین کے لیے جائز سماجی و معاشی مواقع کی فراہمی طویل مدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہونی چاہیے۔

جیشِ محمد کی سرگرمیوں اور اس کے خلاف بھارتی کارروائیوں کا معاملہ پاکستان اور بھارت کے پہلے سے کشیدہ تعلقات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اس نوعیت کے واقعات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان الزامات، جوابی بیانات اور سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ایسے ماحول میں صحافتی اور تجزیاتی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ کسی تنظیم کی سرگرمیوں، کسی حملے کے ذمہ داروں اور کسی مبینہ رابطے کے بارے میں دعووں کو الگ الگ جانچنا ضروری ہے۔ غیرمصدقہ اطلاعات کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا نہ صرف عوامی رائے کو گمراہ کر سکتا ہے بلکہ علاقائی کشیدگی میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں سے متعلق قوانین پر یکساں اور مؤثر عمل درآمد کرے اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں شفافیت اور قانونی احتساب کو یقینی بنائے۔جیشِ محمد کی خواتین ونگ ‘‘جماعت المؤمنات’’ کے قیام سے متعلق اطلاعات اس امکان کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انتہاپسند تنظیمیں خواتین تک رسائی اور اپنے نظریاتی پیغامات کی تشہیر کے لیے نئی تنظیمی اور ڈیجیٹل راہیں اختیار کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ سلامتی کے اداروں، محققین اور پالیسی سازوں کے لیے سنجیدہ توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔

تاہم خواتین کی اس شاخ کے حقیقی حجم، اس کی عملی صلاحیت اور دیگر واقعات سے اس کے ممکنہ تعلقات کے بارے میں حتمی نتائج صرف آزادانہ طور پر تصدیق شدہ شواہد کی بنیاد پر اخذ کیے جانے چاہییں۔پاکستان کے لیے اصل چیلنج دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق اور معاشرتی اعتماد کو برقرار رکھنا ہے۔ مذہبی تعلیم اور انتہاپسندی میں واضح فرق، خواتین کی جائز سرگرمیوں کا تحفظ، اور تشدد کی ترغیب یا دہشت گردی کی معاونت کے خلاف قانونی اقدامات ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک جامع حکمتِ عملی کے ضروری حصے ہیں۔

بنیادی اصول یہی ہے کہ کسی تنظیم کا دعویٰ اس کی حقیقی طاقت کا ثبوت نہیں، اور کسی واقعے سے تعلق کا الزام اس تعلق کی تصدیق نہیں۔ پاکستان اور خطے کی سلامتی کے لیے درست معلومات، آزادانہ تحقیق اور شواہد پر مبنی فیصلے ناگزیر ہیں۔

#JaishEMohammed #JamaatUlMuminat #PakistanSecurity #CounterTerrorism #OnlineRadicalization #WomenAndExtremism #SouthAsiaSecurity #TerrorismAnalysis #DigitalPropaganda #RegionalSecurity

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1080 Articles with 836764 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More