مٹی سونگھ کر راز سے پردہ ہٹ گیا-قسط اول

(DR ZAHOOR AHMED DANISH, NAKYAL KOTLE AK)
محترم قارئین اہم سیرت کے گوشوں سے مرحلہ بہ مرحلہ نابغہ ئ روزگاہستیوں کے متعلق جاننے کا شرف پاآرہے ہیں ایک نئے نام ایک نئے کردار ایک نئی ہستی کے ساتھ پھر حاضرِ خدمت ہیں ۔

کنیت اور لقب :
حضرت علی بن موسیٰ بن جعفر بارہ آئمہ کرام میں سے آٹھویں امام ہیں، آپ کی کنیت ابوالحسن ہے ، جس طرح کہ آپ کے با پ کی کنیت کاظم ہے، حضرت کاظم سے مروی ہے کہ
'' میں نے اپنی کنیت انہیں دے دی۔''
آپ کا لقب رضا ہے۔

َلفظ رضا کی وجہ تسمیہ :
حضرت ابی جعفر محمد بن علی رضا سے کہا گیا کہ ان کا نام ان کے باپ نے مامون الرضا رکھا تھا اور انہیں عہدئہ ولایت کی بھی وصیت فرمائی تھی تو آپ نے کہا اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا نام الرضا رکھا کیونکہ وہ سموات میں اللہ کی رضا تھے، اور زمین میں اللہ کے محبوب کی رضا تھے۔

لقب رضا کی اہمیت و افادیت :
آپ سے پہلے جو امام گزر چکے ہیں، ان پر اس بناء پر خصوصیت حاصل ہے کہ آپ اپنے رفقاء کی طرح اغیار سے بھی راضی رہے، آپ کے والدِ گرامی حضرت موسیٰ کاظم نے فرمایا :
'' میرے فرزند کو رضا کے نام سے پکارا کرو۔''
آپ جب بھی انہیں بلاتے تو فرماتے۔
'' ارے ابوالحسن!''

ولادتِ باسعادت :
آپ مدینہ شریف ١١ ربیع الاول ١٥٣ ہجری بروز پنج شنبہ کو پیدا ہوئے یعنی اپنے دادا حضرت جعفر صادق کے وصال شریف کے پینتس سال بعد ۔

وصالِ مبارک :
آپ کا وصال مبارک طوس میں سناباد کے گاؤں میں ہوا۔

مرقد مبار ک :
آپ کا مرقد مبارک خلیفہ ہارون الرشید کی قبر کے مغرب کی جانب ہے، جسے سرائے حمید بن قحبطتہ الطائی کہا جاتا ہے۔ آپ نے ٢٠٢ ہجری بروز جمعۃ المبارک کو وصال فرمایا ۔

والدہ ماجدہ کا اسم گرامی :
کہا جاتا ہے کہ حضرت حمید ہ حضرت امام کاظم رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کی کنیز تھیں، ایک شب حضرت حمید ہ نے مخبر صادق نبی غیب علیہ الصلوۃ والسلام کو خواب میں دیکھا تو آپ نے فرمایا :
'' اے حمیدو) نجمہ کا عقد اپنے فرزند موسیٰ سے کردو کیونکہ ان سے ایک ایسا فرزند پیدا ہوگا جو تمام زمین والوں سے بہتر ہوگا۔''

سبحان اللہ کی آوازیں سنائی دینا:
آپ کی والدہ محترمہ سے مروی ہے کہ جب میں حاملہ ہوئی تو مجھے کسی قسم کا بوجھ محسوس نہ ہوا اور سوتے وقت مجھے اپنے یپٹ میں سبحان اللہ اور اللہ کی آواز سنائی تھی، مجھ پر ایک ہیبت سی چھ جاتی تھی اور میںبیدار ہوجاتی پھر کوئی آواز سنائی نہ دیتی۔

ولادت کا منظر :
جب آپ پیدا ہوئے تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھ لیے اور چہرہ آسمان کی طرف کرکے لبوں کو تبسم فرمانے لگے اس طرح جس طرح کوئی گفتگو کرتا ہے اور دعا مانگتا ہے، حضرت کاظم رضی اللہ عنہ کے ایک رفیق نے مجھ سے کہا۔
'' کیا تم علم رکھتے ہو کہ مغرب کے تجار میں سے کوئی آیا ہے یا نہیں۔''
میں نے کہا :
'' مجھے اس کا علم نہیں۔''
اس نے کہا :
'' آیا ہے ؟''
'' میں اس کے ہمراہ سوار ہو کر چلا آیا یہا ں تک کہ ہم اس تاجر کے ہاں پہنچ گئے اس نے ہمارے سامنے سات کنیزیں پیش کیں لیکن انہوں نے کسی کو قبول نہ فرمایا : اور فرمایا :
'' کوئی اور دکھاؤ۔''
اس نے کہا :
''اور تو کوئی نہیں مگرایک کنیز ہے جو اکثر بیمار رہتی ہے ۔''

آپ واپس چلے گئے اور پھر آپ نے مجھے دوسرے دن بھیجا اور فرمایا کہ :
'' اس سے زیادہ سے زیادہ قیمت دریافت کرو۔ جتنی قیمت بھی طلب کرے اسے دے کر خرید لو۔''
میں نے اس کے پاس جا کر پوچھا تو اس نے کہا :
'' میں اس کنیز کی قیمت سے ایک پیسہ بھی کم نہ لوں گا۔''
میں نے کہا :
'' جو چاہو لے لو میں اسے خریدنے کی تیاری میں ہوں۔''
اس نے کہا :
'' جاؤ میں تمہارے ہاتھ فروخت کردی، لیکن یہ بتا کہ اس کنیز کا خاوند کون ہوگا؟''میں نے کہا :
'' تجھے ایک بات سے آگاہ کرتا ہوں کہ جب میں نے اس کنیز کو مغرب کے ایک دُور دراز شہر سے خریدا تو ایک اہلِ کتاب عورت کی مجھ پر نظر پڑی تو اس نے مجھ سے کہا یہ کنیز کس کے لیے ہے۔''
'' میں نے اپنے لیے خریدی ہے ۔''
و ہ بولی ۔
'' یہ کنیز ایسی نہیں کہ جو تیرے لیے ہو یہ تو کسی ایسے آدمی کے لیے ہے جو تمام دنیا میں بہتر انسان ہو کیونکہ اس کے شکم سے بہت جلد ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جو بہت عظیم ہوگا اور مشرق و مغرب میں بے مثال ہوگا۔''

راوی نے کہا کہ جب میں اس کنیز کو لایا تو کچھ دیر یہ کنیز حضرت کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس رہی اور اس سے حضرت امام رضا پیدا ہوئے۔

حضر تِ موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آ پ نے فرمایاکہ میں نے حضور خواجہ کونین علیہ الصلوۃ والسلام کے ہمراہ حضرت علی المرتصی رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔
تیرا بیٹا علی اللہ تعالیٰ کے نور سے ہے جو اس کی حکمتیں بیان کرے گا، اس کی رائے سب پر فائق ہوگی جو خطا سے پاک ہوگی، وہ جاہل نہیں بلکہ عالم ہوگا اور اس کی محفل میں دانا اور اہل علم ہوں گے۔''

محترم قارئین انہی کی سیرت کے مزید گوشے اگلے کالم میں ۔ہمارے ساتھ رہیے ۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 517 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 231 Articles with 219574 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

dil khush ker dia.ap title nam aesa date hain k bnda perne pe majboor hojata hy.ki apse mulaqat mumkin hy.ager ap apna cell no send kerdain to boht mehrbane hoge.
By: abu jaish muhammad okasha, jahang on Sep, 16 2012
Reply Reply
0 Like
boht bakam haste mashallah .apne boht salees andaz me serat ka pegham hum tak pohnchaya hy.plzzzzzzzzzzzzzzzz ap aik dam short ho jate hain.likte rahain.hmain apke article ka intezar rehta hy.
By: mustanser , islamabad on Sep, 16 2012
Reply Reply
0 Like
likte rahain.ap jese likne walon ke boht zarorat hy .dr sahb itne bussy hoge..me mustaqil apke qaree hon.
By: SANA SAEED, karachi on Sep, 15 2012
Reply Reply
0 Like
SUBHANALLAH ........
By: shabana.kousar , hong kong on Sep, 13 2012
Reply Reply
0 Like
Language: