رینجرز کے اختیارات میں توسیع ‘ حکمران جماعت کا سیاسی امتحان ہے
(Mian Khalid Jamil, Lahore)
کراچی میں جاری خلفشار‘ بدامنی اور قتل و غارت گری پر قابو پانے کے انتظامی اقدامات اٹھانے کیلئے وفاقی حکومت کے پاس بے شمار آئینی آپشنز موجود ہیں جسکے تحت وہ رینجرز کے اختیارات میں ازخود توسیع کرنے کی مجاز ہے اس تناظر میں اب گیند وفاقی حکومت ہی کی کورٹ میں ہے۔ وہ چاہے تو اپنے آئینی اختیارات کو بروئے کار لا کر رینجرز کے ٹارگٹڈ اپریشن کے مطلوبہ نتائج حاصل کرسکتی ہے اگر سندھ حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ ا گیا تو س صورت میں کسی سیاسی جماعت سے وابستہ یا اسکی چھتری کے نیچے موجود جرائم پیشہ عناصر بشمول قاتلوں‘ بھتہ خوروں اور فرقہ ورانہ قتل و غارت گری میں ملوث عناصر پر ہاتھ ڈالنا خواب ہی بنا رہے گا۔ |
|
کراچی میں گزشتہ اڑھائی سال سے جاری ٹارگٹڈ
اپریشن میں رینجرزآئین کے تقاضوں کے مطابق سندھ حکومت کی متعین کردہ حدود و
قیود اور اپنے اختیارات کے دائرۂ کار میںرہتے ہوئے ہی پیشہ ورانہ فرائض
سرانجام دے رہی ہے تاہم اس اپریشن کے نتیجے میں ان ملزمان بشمول ٹارگٹ
کلرز‘ بھتہ مافیا اور دوسرے سنگین جرائم میں ملوث افراد پر ہاتھ پڑنا شروع
ہوا جو سندھ کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی سمیت بعض سیاسی جماعتوں کی چھتری
کے نیچے اپنی مجرمانہ زندگی گزار رہے تھے تو ان جماعتوں کی جانب سے اس
اپریشن پر نہ صرف تحفظات کا اظہار کیا گیا بلکہ اپریشن کی راہ میں رکاوٹیں
ڈالنے کے حربے بھی اختیار کئے جانے لگے۔ اس حوالے سے پہلے ایم کیو ایم
متحدہ اور پھر پیپلزپارٹی کی قیادت اپریشن کے طریقہ کار پر سیخ پا نظر آئی‘
چونکہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اس لئے پیپلزپارٹی کے لو گوں
بالخصوص سابق وفاقی مشیر ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کو سندھ حکومت نے اپنے
انتظامی معاملات میں مداخلت سے تعبیر کیا۔ یہ امر واقع ہے کہ کراچی اپریشن
وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی اور نگرانی میں شروع کیا گیا جبکہ رینجرز نے
اپنی متعینہ حدود کے اندر ٹارگٹ کلرز‘ بھتہ خوروں اور فرقہ ورانہ دہشت گردی
میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائی شروع کی ہے تاہم گرفت میں آنیوالے ملزمان
کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہونے کے باعث اس پر ہاتھ ڈالنا شجر ممنوعہ
ہرگزنہیں۔ اگر ان عناصر کی گرفت نہ کی جائے تو بے لاگ اپریشن کا تقاضا کسی
صورت پورا نہیں ہو سکتا اس لئے اپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے اور اسکے
نتیجہ میں کراچی میں امن و امان کی بحالی یقینی بنانے کیلئے اس کا بے لاگ
ہونا ضروری ہے۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ سیاسی جماعتیں اور انکے قائدین معاشرے
کو کرپشن سے پاک کرنے کا تقاضا کرتے ہیں مگر جب اس کیلئے عملی اقدامات کا
آغاز کیا جاتا ہے تو خود کو یا اپنے لوگوں کو زد میں آتا دیکھ کر اس کیخلاف
سراپا احتجاج نظر آتے ہیں۔ رینجرز کو وزیراعظم نوازشریف کی طلب کردہ آل
پارٹیز کانفرنس کے فیصلہ کے تحت وفاقی حکومت کی مشاورت سے سندھ حکومت نے ہی
ٹارگٹڈ اپریشن کی ذمہ داریاں تفویض کی تھیں مگر پھر اسکی جانب سے ہی اپریشن
پر تحفظات کا اظہار شروع ہو گیا اور متعینہ مدت کے بعد رینجرز کے قیام اور
اسکے اختیارات میں توسیع کیلئے حیلے بہانے سے روڑے اٹکائے جاتے رہے۔ چار
ماہ قبل بھی سندھ حکومت نے پس و پیش کے بعد بادل نخواستہ رینجرز کے
اختیارات میں توسیع دی جبکہ اب رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملہ میں
سندھ حکومت کو اپنے آئینی اختیارات یاد آگئے اور سندھ اسمبلی سے اسکی
منظوری لینے کی الجھن ڈال دی ۔
رینجرز وفاقی حکومت کے ماتحت قومی ادارہ ہے یوں سندھ اسمبلی کا رینجرز کے
اختیارات مین کمی کی کو ئی آئینی و قانقنی حیثیت نہیں اور ویسے بھی اگر
موجودہ صورتحال میں ٹارگٹڈ اپریشن ادھورا چھوڑا جائیگا تو اس سے جرائم پیشہ
عناصر کے حوصلے مزید بلند ہونگے اس لئے اب اپریشن کا معاملہ وفاقی حکومت
کیلئے غوروفکر کا متقاضی ہے کہ وہ اسے جاری رکھنے کیلئے اپنے آئینی
اختیارات بروئے کار لاتی ہے یا وہ بھی اسے بادل نخواستہ ادھورا چھوڑنے پر
ہی صاد کرلیتی ہے۔ اگر وفاقی حکومت کراچی میں رینجرز کے جاری بے لاگ اپریشن
کو منطقی انجام تک پہنچانے میں سنجیدہ ہو تو اسکے پاس اس اپریشن کو جاری
رکھنے کے بے شمار آئینی اختیارات موجود ہیں۔ آئین کی دفعہ 148 شق 3 کے تحت
ہر صوبے کو کسی بیرونی جارحیت یا اندرونی خلفشار سے بچانا وفاق کی ذمہ داری
ہے جبکہ آئین کی دفعہ 234 (الف) کے تحت کسی صوبے کے امن و امان کے حالات
متعلقہ صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہونے کی صورت میں وہاں صدر مملکت
خود یا وہاں کے گورنر کو اپنے اختیارات تفویض کرکے صوبائی نظم و نسق اپنے
ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔ اسی طرح آئین کی دفعہ 232 شق 2(سی) پارلیمنٹ کو اس
امر کا اختیار دیتی ہے کہ کسی صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں
وہ وہاں کی اسمبلی کے اختیارات استعمال کر سکتی ہے جبکہ آئین کی دفعہ 232
وفاقی حکومت کو کسی بیرونی جارحیت یا اندرونی خلفشار کی صورت میں ایمرجنسی
کے نفاذ کا اختیار بھی دیتی ہے۔ اسی طرح آئین کی دفعہ 245 کے تحت وفاقی
حکومت نے ہی کسی بیرونی خطرے یا اندرونی خلفشار کی صورت میں ملک کی سکیورٹی
فورسز کو سول اختیارات تفویض کرنا ہوتے ہیں چنانچہ کراچی میں جاری خلفشار‘
بدامنی اور قتل و غارت گری پر قابو پانے کے انتظامی اقدامات اٹھانے کیلئے
وفاقی حکومت کے پاس بے شمار آئینی آپشنز موجود ہیں جسکے تحت وہ رینجرز کے
اختیارات میں ازخود توسیع کرنے کی مجاز ہے اس تناظر میں اب گیند وفاقی
حکومت ہی کی کورٹ میں ہے۔ وہ چاہے تو اپنے آئینی اختیارات کو بروئے کار لا
کر رینجرز کے ٹارگٹڈ اپریشن کے مطلوبہ نتائج حاصل کرسکتی ہے اگر سندھ حکومت
کے رحم و کرم پر چھوڑ ا گیا تو س صورت میں کسی سیاسی جماعت سے وابستہ یا
اسکی چھتری کے نیچے موجود جرائم پیشہ عناصر بشمول قاتلوں‘ بھتہ خوروں اور
فرقہ ورانہ قتل و غارت گری میں ملوث عناصر پر ہاتھ ڈالنا خواب ہی بنا رہے
گا۔ یہ یقیناً حکمران مسلم لیگ (ن) کا سیاسی امتحان بھی ہے کہ وہ ملک میں
جرائم کی بیخ کنی اور کرپشن فری معاشرے کی تشکیل کیلئے بھرپور قوت کیساتھ
سیاسی فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہے تاہم کسی سیاسی مصلحت‘ مجبوری یا مفاہمت
کی بنیاد پر رینجرز اپریشن ادھورا چھوڑا گیا تو یہ ملک و قوم کی بدقسمتی ہو
گی جبکہ اس سے سیاست دانوں پر اپنے مفادات کیلئے ایک دوسرے کیساتھ مفاہمت
کا تاثر پختہ ہوگا تو اس کا ملبہ جمہوری نظام پر ہی گرے گا۔ |
|