مسلم دنیا:انتشار و انتشار

(Prof Jamil Chohdury, Lahore)
کچھ عرصے سے ترکی کو ہم ایک طاقتور ملک دیکھنے کے عادی سے ہوگئے تھے۔لیکن موجودہ فوجی بغاوت نے ایسی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔فوجی بغاوت ظاہراً ناکام کردی گئی ہے۔لیکن یہ ترکی کے نظام میں خرابیوں کو واشکاف بھی کرگئی۔چند سال پہلے بھی کئی افسروں کو نکالا گیا تھا اور سزائیں سنائی گئی تھیں۔ لیکن لگتا ایسا ہے کہ مسلح افواج اردوان کے نظریاتی خیالات کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔اردوان بہت دھیمے انداز سے ریاست کو اسلام کی طرف لارہے ہیں۔ترکی کا سول معاشرہ اسے قبول بھی کراتاجارہا ہے۔لیکن مسلح افواج نے سیکولرازم کو اپنے دل پہ لکھا ہوا ہے۔افواج اب بھی مصطفی کمال کو ہی اپنا"اتاترک"مانتی ہیں۔ترکی میں افواج کی طرف سے کامیاب اور ناکام کئی کوششیں ہوچکی ہیں۔اس دفعہ جو خبریں آرہی ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغاوت سول سے فوجی اداروں تک پھیلی ہوئی تھی۔تانے بانے بھی ایک دینی لیڈر فتح اﷲ گولین سے جوڑے جارہے ہیں۔اردوان اور فتح اﷲ گولین کے نظریات استاد سعید نورسی ہی کے توہیں۔اتاترک کے بعد مذہبی احیاء کا سبق دونوں نے وہیں سے سیکھا۔سابق وزیر اعظم نجم الدین اربکان بھی کبھی انہی کے نظریاتی ساتھی تھے۔پھر اقتدار کے حصول کے لئے ان تینوں کی راہیں اور حکمت عملیاں انہیں جدا کرتی رہیں۔فتح اﷲ گولین کے تعلیمی اداروں کا نیٹ ورک پورے ترکی میں پھیلا ہوا ہے۔اس کے نظریاتی حامی اقتدار کی راہ داریوں میں بھی موجود ہیں۔باغیوں کے ساتھ انکا تعلق کسی نہ کسی سطح پر ثابت بھی ہو جائے گا۔لیکن ان سب کو پھانسیوں پر لٹکانا بھی ناممکن ہوگا۔طیب اردوان کی ایک ناکامی تو واضح نظر آتی ہے کہ وہ جس نظریاتی راہ پر خود چل رہے ہیں۔افواج کی اسی راہ پر نہیں چلا سکے۔کہا جارہا ہے کہ بغاوت میں موجود نوجوان آفیسرز زیادہ پیش پیش تھے۔تو ثابت ہوتا ہے کہ ان سب نوجوان آفیسرز نے اردوان کے آنے کے بعد ہی فوج میں شمولیت اختیار کی۔فوجی اکیڈمیوں میں انہیں کمال ازم ہی سکھایا گیا۔اب یہ خبر یں بھی آچکی ہیں کہ فوج کے گرفتار ہونے والوں میں112جنرلز اور ایڈمرلز رینک کے آفیسر شامل ہیں۔ترکی کا آئین ابھی بھی سیکولر ہی تو ہے۔لگتا ہے کہ اردوان کے زمانے میں بھی سول معاشرہ کو ایک طرف اور مسلح افواج کو دوسری طرف لے جایا جارہا تھا۔یہ نظریاتی تفریق بہت واضح نظر آتی ہے۔اس نظریاتی تفریق سے ترکی ایک قوت بنتا نظر نہیں آتا۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق7500باغی گرفتار ہوچکے ہیں۔ان میں فوجی اور غیر فوجی ہر طرح کے لوگ ہیں۔9ہزار سول ملازمین کو ملازمت سے فارغ کردیاگیا ہے۔ججز کی گرفتاری کی خبریں بھی آئی ہیں۔آرمی کے علاوہ ہوائی فوج اور بحریہ کے لوگ بھی گرفتار ہونے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔بغاوت ہمہ جہتی نظر آتی ہے۔اب اگر سخت سزائیں شروع کی گئیں تو اس کا بھی شدید ردعمل ہوگا۔یورپی یونین کے پورے علاقے میں موت کی سزا ختم کردی گئی ہے۔ترکی کی کوشش یونین میں شامل ہونے کی بہت دیر سے ہے۔لہذا موت کی سزا دینا اب ترکی کے لئے ناممکن ہوگیا ہے۔فوج نے بغاوت کرکے (بیشک ناکام) اردوان پر عدم اعتماد کردیا ہے۔عدم اعتماد کے معنی اردوان کی اندرونی نظریاتی اور بیرونی نظریاتی پالیسیوں سے اختلاف ہے۔آئندہ کا سبق یہی ہے کہ ملک کو جس نظریاتی سمت میں لے کرجانا ہے اس کے نقاط بہت ہی واضح طورپر ملک کے اداروں اور عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ نظریاتی راستے کے تعین کے لئے ریفرنڈم بھی کرایا جاسکتا ہے۔فوجی آفیسرز پر نظریات ٹھونسے نہ جائیں بلکہ ان کے ساتھ کھلے مذاکرات ہوں۔ان کی رائے کا احترام کئے بغیر ترکی ایک قوت نہیں بن سکتا۔ ترک افواج نے بغاوت کرکے ترکی کی ترقی کی فلاسفی کو باسفورس میں ڈبو دیا ہے۔سخت سزاؤں سے بھی مسٔلہ حل ہوتا نظر نہیں آتا۔ چند سال پہلے بھی کئی جرنیلوں کو نکالا گیا اور سزائیں سنائی گئیں۔ لیکن فوج اپنا سیکولر کلچر تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔کیا فوج کے بغیر ترکی قوت کا کوئی تصور بنتا ہے۔اور فوج بھی تعداد کے لہاظ سے نیٹو کی دوسری بڑی فوج۔ترکی کے استحکام کے راستے میں کرد پہلے ہی رکاوٹ تھے۔اور یہ اب بھی ایک بڑے گروہ کی شکل میں موجود ہیں۔ داعش کی ریاست بھی اب ترکی میں کئی دھماکے کرا رہی ہے۔چند ہفتے پہلے ہی ایک بڑا دھماکہ ہوا اور درجنوں لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے۔اندرونی انتشار میں مبتلا ترکی کو باہرکی دنیا میں ایک طاقتور ملک نہیں سمجھا جائیگا۔پندروہیں بڑی معیشت کو اپنے اندرونی استحکام کی طرف سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مسلم دنیا اب تمام انتشار میں مبتلا نظر آتی ہے۔چند دہائیاں قبل استعما ر سے آزادی کے بعد توقع تھی کہ یہ ممالک جدید علوم ،سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھیں گے اور متحد ہوکر کرۂ ارض پر ایک قوت بن جائیں گے۔لیکن اب آکر معلوم ہواکہ یہ ہمارے خواب تھے۔فرقہ واریت نے گزشتہ چند سالوں میں مسلم دنیا کو واضح گروہوں میں تقسیم کردیا ہے۔عراق اب ایک ملک نہیں رہا۔شام میں بشارالاسد دمشق اور اردگرد کے علاقے تک محدود ہے۔باقی شام میں متحارب گروپ قابض ہیں۔شامی لوگ پناہ کی تلاش میں دنیا بھر میں ٹھوکریں کھارہے ہیں۔کئی کشتیاں بحرروم میں ڈوب بھی چکی ہیں۔یورپ میں کوئی آنے کی اجازت دیتا ہے اور کہیں انکار ہوجاتا ہے۔داعش اب تک معمہ بنی ہوئی ہے۔اس کے پیچھے کونسی طاقت ہے۔روس اور امریکہ دونوں اس کے خلاف ہیں۔ایران اورسعودی عرب بھی اسکا خاتمہ چاہتے ہیں۔مغرب اور مشرق وسطیٰ دونوں اس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔لیکن دہشت گردوں کی یہ جنت ابھی تک جوں کی توں ہے۔اور اس کے دھماکے تو یورپ سے لیکر سعودی عرب تک پھیل چکے ہیں۔ساری دنیا اس سے تنگ ہے۔بیانات بھی بہت دیئے جارہے ہیں۔لیکن اس کے خاتمے کی سنجیدہ کوششیں کوئی بھی نہیں کررہا۔یہ بات ثابت ہوتی جارہی ہے کہ عالمی پالیسیوں کو خفیہ طاقتیں،خفیہ ہتھکنڈوں سے کنٹرول کرتی ہیں۔آخر دنیا کا کونسا ملک ہے جہاں داعش نے دھماکے نہ کئے ہوں لیکن اس کے خاتمے کی کوششیں ناکام۔افریقی ممالک میں بھی اندرونی طورپر امن و استحکام ندارد ہے۔قذافی کے جانے کے بعد لیبیا والے گروہوں کی شکل میں لٹرتے نظر آتے ہیں۔قذافی کے خاتمے کے لئے نیٹو یہاں بھی گھس آیا تھا۔نتیجہ انتشارو انتشار۔مصر ایک بڑا عرب ملک شمار ہوتا ہے۔لیکن فوج یہاں بھی اقتدار کے بغیر رہ نہیں سکتی۔غیر فوجی صدر مرسی کو صرف ایک سال ہی برداشت کیاگیا۔پھر جنرل السیسی نے اپنے ہی ملک کوشان وشوکت سے فتح کرلیا۔اور اب دوسروں کی گرانٹ پر گزارہ ہورہا ہے۔مشرق وسطیٰ میں کہیں بھی امن و استحکام نظر نہیں آتا۔اب تو داعش کے دھماکوں کی گونج دوردراز بنگلا دیش تک میں سنی جارہی ہے۔مسلمان کیوں دہشت گرد تنظیموں کی طرف جارہے ہیں؟۔اس پر تو ٹھنڈے دل سے تحقیق کی ضرورت ہے۔دہشت گرد تنظیموں کے سینکڑوں نام ہیں۔لیکن ان سب کا مقصد طے شد ہے۔انسانوں کو مارنا اورمسلم اور غیر مسلم حکومتوں کو غیر مستحکم کرنا۔ہمیں ان مقاصد میں کہیں بھی"بھلائی"نظر نہیں آتی۔اس انتشار کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے۔کہ امریکہ یورپ اور روس اپنے قدم آگے بڑھائیں گے۔انتشار کو استحکام میں بدلنے کے بہانے مسلم علاقوں پر پھر قابض ہوجائیں گے۔بحیرہ روم کے گرد واقع مسلم ممالک میں تو حالات استعمار کے لئے دوبارہ ساز گار ہوچکے ہیں۔تدبیر کرنے کے لئے مسلم لیڈر شپ دوردور بھی نظر نہیں آتی۔آخر میں روایتی بات"اﷲ بھلا کرے گا"
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Jamil Chohdury

Read More Articles by Prof Jamil Chohdury: 72 Articles with 31728 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jul, 2016 Views: 346

Comments

آپ کی رائے