کشمیر میں الیکشن۔۔۔

(Shafqat Ullah, )
آزاد جمو ں و کشمیر پاکستان کی انتظامیہ کے زیر سایہ چلنے والی آزاد ریاست ہے جس پر پہلے پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعہ رہا ہے اور اب بھی کشمیر کا بیشتر حصہ بھارت کا مقبوضہ ہے ۔آزاد جموں و کشمیر میں ضمنی انتخابات کا شور ہے اور سرحد کے اس پار بھارتی بربریت کا جن بے قابو ہو چکا ہے جس کے بارے میں اقوام متحدہ نے بھی بھارت کو طلب کر لیا ہے لیکن سرحد کے اس پار کشمیر میں جو مظالم اور قتل عام جاری ہے اس وقت سرحد کے اِ س پار کے انتخابات کی سیاست بھی اسی مدعا پر چل رہی ہے ۔لیکن آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ میں ضمنی انتخابات میں ہمیشہ وہی پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے جس کی حکومت وفاق میں تھی پچھلے دور میں پاکستان میں وفاقی حکومت پیپلز پارٹی نے بنائی تو کشمیر میں بھی پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی تھی اس بار بھی زیادہ تر شور مسلم لیگ ن کا ہے کیونکہ وفاقی حکومت اس وقت مسلم لیگ ن کے پاس ہے لیکن امسال کچھ باتیں الگ ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف نے نا صرف کشمیر میں دھماکے دار انٹری ماری ہے بلکہ وہاں کی ایک قدیم اور بااثر سیاسی جماعت مسلم کانفرنس کے ساتھ گٹھ جوڑ بھی کر لیا ہے ۔مسلم کانفرنس سردار قیوم خان نے بنائی تھی جو مجاہد اوّل کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں لیکن اب ان کی وفات کے بعد جماعت کی سربراہی انکے بیٹے سردار عتیق خان کر رہے ہیں اس گٹھ جوڑ سے پاکستان پیپلز پارٹی کو اور ن لیگ کو کافی نقصان ہونے کا امکان ہے جس کا مؤجب مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے سر ڈال رہی ہیں کہ ان کی کمزوری سے پاکستان تحریک انصاف کشمیر میں داخل ہو سکی ہے ۔ کشمیر بھر میں ٹوٹل بیالیس سیٹیں ہیں جن پر الیکشن ہوں گے اور دوسری طرف دوسرے نمبر پر جانے والی جماعت کو فائدہ بھی تحریک انصاف اور مسلم کانفرنس کے گٹھ جوڑ سے ہو سکتا ہے اس کے علاوہ مذہبی جماعتیں جو سیاست میں حصہ لیتی ہیں وہ بھی سیٹیں توڑیں گی۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ آزاد جموں و کشمیر میں شرح خواندگی پینسٹھ فیصد ہے جو کہ پاکستان کی نسبت سات فیصد زیادہ ہے یوں کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی نسبت کشمیر میں نظریاتی لوگ اور ووٹ دونوں زیادہ ہوں گے ۔یہ باتیں تو الگ ملک بھی اس وقت اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن حکومت خارجی ،داخلی اور معاشی طور پر ملک میں استحکام لانے میں نا کام ہو چکی ہے اوپر سے پاناما کا شور الگ ہے کہ جب وزیر اعظم پاکستان کا پورا خاندان اس میں ملوث پایا گیا ہے اور انکی نا اہلی کیلئے تین بڑی پارٹیوں کی جانب سے الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر ہو چکی ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی کلنگ اور بھارتی بربریت پر وزیر اعظم کی خاموشی اور اس سے پہلے بھارت کی جانب سے ملکی سالمیت مخالف سرگرمیوں پر بھی وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے کوئی بیان دینا پسند نہیں کیاگیا ہے جسکی وجہ سے بھی مسلم لیگ ن کیلئے لوگوں کے دلوں میں ایک نفرت کی لہر دوڑ رہی ہے اور انکی بزدلی کے قصے زبان زد عام ہیں ۔سندھ کے حالات بھی دنیا کے سامنے ہیں جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے کہ بنیادی سہولیات کا انتہائی حد تک فقدان ہے نہ تعلیم ،نہ صاف پانی نہ بجلی نہ صحت اورنہ سیوریج کا نظام موجود ہے بلکہ گندے نالوں کی زمین پر قبضہ مافیا کا راج ہے جن کی کمر حکومت خود تھپکتی ہے اتنی شدت کے ساتھ گرمی ہونے کی وجہ سے ہر سال کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی عوام کا کوئی پرسان حال نہیں روشنیوں کے شہر کے چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں کشمیری عوام بھی سابقہ حکومت سے کافی حد تک بے نیاز ہو چکی ہے حال ہی میں جب انتخابات کی دوڑ شروع ہوئی اور جلسے ،جلوس ،ریلیاں کشمیر میں نکالی گئیں تو بھی سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں کے مابین جھڑپیں ہوئیں جس میں بے گنا معصوم لوگ مارے گئے جن کی ذمہ داری لینے کی بجائے لیڈرز اپنے اپنے کارکنوں کو اور زیادہ لڑائی کی تلقین کرتے رہے ہیں پاکستان کی سیاست تو پاناما کا معاملہ لے کر غیر سنجیدہ ہو چکی ہے لیکن یہی رنگ کشمیر میں بھی دیکھنے کو ملا ہے ۔پاکستان تحریک انصاف نے آتے ہی بہت بڑا گراف دیا اور پاکستان کی طاقتور سیاسی پارٹی ہونے کا ثبوت دیا کہ خیبر پختون خواہ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے کئی وعدے اور نعرے بلند کئے اور اب تک حکومت کے خلاف کرپشن کی تحریک چلا رہے ہیں لیکن خیبر پختون خواہ میں بھی خاطرخواہ ترقی نہیں ہو سکی ۔ دھرنوں ، ریلیوں اور جلسے جلوسوں کی وجہ سے عمران خان بھی اپنی پارٹی کا گراف گرا چکے ہیں جسکو پھر سے اوپرلانے کیلئے پاناما کا سہارا لے کروفاقی حکوت کو گرانے کیلئے تابڑ توڑ کوششوں میں مگن ہیں اس کیلئے ان لوگوں کے ساتھ بھی کھڑا ہونے کیلئے تیار ہیں جن کے ساتھ وہ کبھی کلام کرنا گوارا نہیں کرتے تھے ۔آزاد کشمیر میں کھڑے ہو کر ہر سیاسی پارٹی ہر بار مقبوضہ کشمیر میں موجود کشمیری بھائیوں کو آزاد کروانے کی باتیں کرتیں ہیں لیکن یہ تمام بیانات کشمیریوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتے کیونکہ انتہا کی بربریت ،ظلم و زیادتی یہ لوگ روک نہیں پائے تو کشمیر کو آزاد کیسے کروائیں گے! اقوام متحدہ کیوں بھارت پر زور نہیں دیتی کہ استصواب رائے سے سرزمین کشمیر اور اس کی عوام کو انکا حق دیا جائے؟ آخر کیسے مفاد ہیں یا کیسا خوف ہے جو انہیں اس کلمہ حق کو بلند کرنے سے روکتا ہے ؟سیاست کے ان پیچ و خم میں جیت کس کی ہوتی ہے یہ تو اﷲ ہی جانتا ہے! لیکن عوام کس کی طرف جاتی ہے یہ وقت کی کروٹ ہے جس اوڑ بدل جائے! عوام کو بھی چاہئے کہ وہ اپنا مینڈیٹ ،اپنی امانت سوچ سمجھ کر امانت دار شخص کے ہاتھ میں دے کیونکہ جمہوریت بھی خلافت کا ہی ایک رخ ہے فرق صرف اتنا ہے کہ خلافت میں کسی بھی ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرنی ہوتی ہے اور اپنا حکمران چننا ہوتا ہے اور سیاست میں بھی لوگوں پر اعتبار اور یقین کر کے اسے اپنے ووٹ کے ذریعے اقتدار میں لانا ہوتا ہے ۔اگر عوام سچے اور ایمان دار لوگوں کو اقتدار میں لے کر آئیں گے تو ہی عوام کیلئے تمام تر مسائل کا حل ممکن ہوگا اور اگر کرپٹ اور انجمن افزائش نسل کی بڑھوتری کیلئے کام کرنے والے لوگوں کو مینڈیٹ دیا جائے گا تو دن بدن صورتحال بد سے بدتر ہوتی جائے گی اور ملک کا استحکام نا ممکن ہو جائے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 213 Articles with 91458 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
21 Jul, 2016 Views: 320

Comments

آپ کی رائے