پہاڑی طبقہ کو ایس ٹی کا درجہ ملنا آسان نہیں، بڑے پیمانے پرمنظم عوامی تحریک ناگزیر

(Altaf HUssain janjua, Poonch, Jammu and kashmir (India))
ایڈوکیٹ وبودھ گپتا بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی نائب صدر اور قانون سازیہ کے ایوان بالاءکے رکن ہیں ۔موصوف کا تعلق ضلع راجوری سے ہے۔ 1991میں وہ بی جے پی یوتھ کے ضلع صدر بنائے گئے۔ 1996میں پہلی مرتبہ حلقہ انتخاب راجوری سے ناکام الیکشن لڑا۔ 1999میں انہیں بی جے پی ضلع صدر راجوری منتخب کیاگیا۔ 11برس تک وہ بی جے پی کے ریاستی سیکریٹری بھی رہے۔ سال 2008میں انہوں نے راجوری سے ایکبار پھر اسمبلی چناو¿ لڑاجس میں وہ محض1300ووٹوں کے فرق سے ہارگئے تھے۔ایم ایل سی وبود ھ گپتا نے متعدد سیاسی و اقتصادی معاملات پر روزنامہ اڑان کے سنیئر سب ایڈیٹرالطاف حسین جنجوعہ کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔
ایڈوکیٹ وبودھ گپتا بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی نائب صدر اور قانون سازیہ کے ایوان بالاءکے رکن ہیں ۔موصوف کا تعلق ضلع راجوری سے ہے۔ 1991میں وہ بی جے پی یوتھ کے ضلع صدر بنائے گئے۔ 1996میں پہلی مرتبہ حلقہ انتخاب راجوری سے ناکام الیکشن لڑا۔ 1999میں انہیں بی جے پی ضلع صدر راجوری منتخب کیاگیا۔ 11برس تک وہ بی جے پی کے ریاستی سیکریٹری بھی رہے۔ سال 2008میں انہوں نے راجوری سے ایکبار پھر اسمبلی چناو ¿ لڑاجس میں وہ محض1300ووٹوں کے فرق سے ہارگئے تھے۔ایم ایل سی وبود ھ گپتا نے متعدد سیاسی و اقتصادی معاملات پر روزنامہ اڑان کے سنیئر سب ایڈیٹرالطاف حسین جنجوعہ کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔

سوال:پہاڑی زبان بولنے والے طبقہ جات کو ایس ٹی درجہ دینے کے لئے حکومتی سطح پر کیا پیش رفت ہورہی ہے اور طبقہ کا یہ دیرینہ مطالبہ کب تک پورا ہوگا؟
جواب:پہاڑی زبان بولنے والے طبقہ کو ایس ٹی درجہ دلانے کے مدعا پی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط حکومت کے کم سے کم مشترکہ پروگرام کا حصہ ہے، یقینی طور پر حکومت اس کو پورا کرئے گی لیکن اس کے لئے بڑے پیمانے پر عوامی تحریک کی ضرورت ہے کیونکہ آج کل حقوق آسانی سے نہیں ملتے بلکہ چھین کے لینے پڑتے ہیں۔ طبقہ کے وکلائ، تاجر، ماہرین تعلیم ، دانشوروں، طلبہ اور نوجوانوں کو متحدہوکر ایک پلیٹ فارم پر آکر جدوجہد کرنا ہوگی۔ پہاڑیوں کے لئے ایس ٹی درجہ حاصل کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ ہرعلاقائی اور قومی سیاسی پارٹی میں اس کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد کافی ہے جوکہ ہر جگہ روڑے اٹکارہے ہیں ۔1989میں مرکزی سرکار کے پاس ریاستی سرکار کی طرف سے درج فہرست قبائل قرار دینے کے لئے جن طبقہ جات کی فہرست بھیجی گئی تھی ،اس میں پہاڑی زبان بولنے والا طبقہ سرفہرست تھا جبکہ گوجر اور بکروال طبقے بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر تھے، لیکن مرکز میں پہاڑیوں کا کوئی نمائندہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں سائڈ لائن کر کے political Consideration پرگوجر بکروال ودیگر طبقہ جات کو ایس ٹی زمرہ میں شامل کیاگیا۔ پرانی جوفائل مرکز میں بھیجی گئی تھی ا س کا اب کوئی اتہ پتہ ہی نہیں میں نے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ سے اس ضمن میںایک ملاقات کر کے گذارش کی تھی کہ پرانی فائل کو کہیں نکالاجائے۔ اس ضمن میں کوشش رہے گی کہ ریاستی سرکار کی طرف سے تازہ سفارشات مرکز کو بھیجی جائیں۔ سابقہ این سی۔ کانگریس مخلوط سرکار نے سیاسی حربہ کے طور عجلت میں پہاڑی طبقہ کو 5فیصد ریزرویشن دینے سے متعلق ایک بل گورنر کو بھیجاجس میں کافی کمیاں رکھی گئی تھیں جس سے وجہ سے گورنر نے بل پر اعتراضات ظاہر کر کے واپس بھیج دیا، ہماری کوشش رہے گی کہ ان اعتراضات کو جلد از جلد ہٹاکر پہلے5فیصد ریزرویشن بل کو منظورکرایاجائے۔یہاں میں ایکبار پھر یہ بات کہنا چاہتاہوں کہ پہاڑیوں کی چوطرفہ مخالفت ہورہی ہے،متحد رہنے کی سخت ضرورت ہے۔ حال میں جب پہاڑی ریاستی مشاورتی بورڈ بنا تو ایک منظم سازش کے تحت ڈوڈہ، رام بن اور ریاست جموں وکشمیر کے ان علاقہ جات سے بھی ممبران کو پہاڑی بورڈ میں شامل کیاگیا جہاں پہاڑی زبان بولنے والے طبقہ جات سے کوئی تعلق رکھنے والا نہیں ہے لیکن مجھے خوشی ہے کہ اس کی پہاڑیوں نے پرزور مذمت کی ایک منظم ہوکر احتجاج کیاگیا جس سے حکومت کو مجبوراًان غیر پہاڑی ممبران کو بورڈ سے نکالنا پڑا، اسی عزم کے ساتھ طبقہ کے ہر سیاسی لیڈر، ملازم، تاجر،معزز شہری، سول سوسائٹی ممبران، نوجوانوں اور طلبہ کو اپنا رول ادا کرنا ہوگا۔

سوال:بطور رکن اسمبلی خطہ پیر پنجال کے عوامی وترقیاتی مسائل کو حل کرنے میں اب تک آپ کی کیا حصولیابیاں رہیں....؟
جواب:ہاہا....(ہنستے ہوئے)ابھی تو مجھے ایم ایل سی بنے 8ماہ ہوئے ہیں لیکن میں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ میرے بس میں جتنا ہے، میں بہتر کرسکوں۔راجوری پونچھ اضلاع میں سڑک ڈھانچہ میں بہتری لانے کے لئے جموں پونچھ حلقہ کے رکن پارلیمان جگل کشور شرما کے ساتھ 4مرتبہ مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کے ساتھ ملاقات کی، ان ملاقاتوں کا ہی نتیجہ ہے کہ وزیر اعظم کے 80ہزار کروڑ روپے کے خصوصی مالی پیکیج میں جموں پونچھ تک فور لینگ(چار گلیاروں والی)سڑک کی تعمیر کے لئے 51سو کروڑ روپے دیئے گئے ہیں۔ راجوری میں میڈیکل کالج کا قیام جس کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیاگیاتھا ، کے معاملہ کو ذاتی طور وزیر اعلیٰ کے ساتھ اٹھایا جس کے بعد اس کے لئے 120کنال اراضی کی شناخت کی گئی ہے اور باقی کام بھی شدو مد سے جاری ہے۔ راجوری میں نرسنگ کالج اور انجینئرنگ کالج کی منظوری دلانے میں بھی اپنا رول نبھایا۔

سوال:خطہ پیر پنجال خاص طور سے پونچھ کے عوام کا مطالبہ رہا ہے کہ میڈیکل کالج جموں وپونچھ شاہراہ پر تعمیر کیاجانا چاہئے لیکن ایسا نہیں ہوا....کیوں؟
جواب:میں بھی یہی چاہتا ہوںکہ یہ میڈیکل کالج جموں پونچھ شاہراہ کے بالکل قریب تعمیر ہو، تاکہ اس سے راجوری پونچھ اضلاع کے لوگ زیادہ سے زیادہ فائیدہ اٹھاسکیں۔ میں نے اس معاملہ کو وزیر صحت کی نوٹس میں بھی لایالیکن ان کا کہنا تھاکہ سرکارکوشاہراہ کے قریب کوئی سرکاری اراضی نہیں ملی کیونکہ اتنازیادہ ملکیتی اراضی کا معاوضہ سرکارنہیں دے سکتی تھی، جس جگہ میڈیکل کالج کے لئے 120کنال اراضی کی شناخت کی گئی ہے وہ سرکاری ہے لہٰذا وہاں سرکار کو معاوضہ وغیرہ کے چکر میں نہیں پڑنا پڑے گا۔ یہ کالج شاہراہ پر تعمیر ہوتا تو زیادہ فائیدہ مند رہتا لیکن چلو جیسے تیسے ہوا تو سہی، میں نے پونچھ اور راجوری کے عوام کی مجوزہ میڈیکل کالج تک با آسانی اور راست رسائی کے لئے پنج پیر سے جواہر نگر بڈھالہ تک سینٹر روڑ فنڈ(سی آر ایف)کے تحت 18کروڑ روپے کا ایک پروجیکٹ منظور کروایا ہے جس کی تعمیر سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔

سوال: چھ سال بطور رکن قانون ساز کونسل خطہ پیر پنجال کے لئے آپ کا کیا ترقیاتی ایجنڈہ ہے؟
جواب:میرا مشن حلقہ ترقیاتی فنڈ (CDF)کے تحت ملنے والے چھ سالوں کے دوران 9کروڑ روپے کاموثر استعمال کرنا ہے تاکہ اس کا زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائیدہ پہنچے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگرصرف سی ڈی ایف فنڈ پیسے کا ہی صحیح استعمال کیاجائے تو اس سے بہت زیادہ عوام کو فائیدہ مل سکتا ہے۔ تاریخی مغل شاہراہ کو سال بھر ٹریفک آمدورفت کے لئے قابل بنانا، پونچھ ضلع کی 7جھیلوں کو سیاحتی نقشہ پر لانا، سرنکوٹ تا بفلیاز اور راجوری تا بفلیاز سڑک کی ڈبل لینگ کو یقینی بنانا میرا اہم ایجنڈا رہے گا۔ پونچھ ضلع میں سات جھیلیں انتہائی خوبصورت ہیں ، بدقسمتی سے انہیں آج تک سیاحتی نقشہ پر نہیں لایاگیا، یہاں تک بہتر رابطہ سڑک اور دیگر مطلوبہ بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر ضروری ہے۔ میں ٹورازم کے لئے حوالہ سے کونسل کی ایک کمیٹی کا چیئرمین بھی ہوں، اس کی ایک میٹنگ میں مجھے بتایاگیاکہ کیفٹریا تعمیر کر رہے ہیں، لیکن میں نے کہاکہ اس سے کیا ہوگا، یہاں مطلوبہ بنیادی ڈھانچہ کی ضرورت ہے۔ پونچھ تک ریل لنک لے جانے کے لئے جتنی بھی جدوجہد ہوسکی میں کروں گا، یہ میرا ایک خواب ہے، میں پونچھ میں ریلوے پلیٹ فارم دیکھناچاہتاہوں۔میری یہ بھی کوشش رہے گی کہ پونچھ میں کوئی بڑی انڈسٹری کا قیام عمل میں لانے کی کوشش کروں گا تاکہ یہاں روزگار کے وسیع ترمواقعے پیدا کریں۔ جہاں تک میں نے محسوس کیا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ خطہ پیر پنجال کہنے کو تو صوبہ جموں کا حصہ ہے، لیکن ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کے حوالہ سے اس کو جوحصہ ملنا چاہئے وہ نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی عوام خود کو صوبہ جموں کا حصہ ہوکر بھی اعلیحدہ تصور کرتی ہے۔ میری کوشش رہے گی کہ اس احساس کو ختم کیاجائے اور جموں کی لیڈرشپ کو احساس دلایاجائے کہ وہ خطہ پیر پنجال کو بھی وہ جائز مقام اور اہمیت دیں جتنی خطہ کے دیگر اضلاع کو دی جاتی ہے۔

سوال:راجوری یونیورسٹی سکالرشپ گھوٹالہ کو منظر عام پر لانے میں آپ کا بھی کافی رول رہا، کیا اس میں ملوث افراد کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی یا یہ معاملہ ٹھنڈے بستے میں چلاجائے گا؟
جواب:باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کا نام ایک عظیم روحانی شخصیت سے منسوب ہے ،میں چاہتاہوں کہ یہ ادارہ ترقی کی منازل طے کر کے پورے برصغیر ہند میں اپنا منفرد نام کمائے لیکن افسوس سے کہنا پڑ تا ہے کہ اس کے اندر کچھ ایسے افراد بھی شامل ہیں ، جنہوں نے اپنے عہدے کا استعمال ذاتی مفادات کیلئے کیا۔یونیورسٹی میں سکالرشپ گھوٹالہ کو سامنے لانے میں سول سوسائٹی کا بھی اہم رول رہا، اس کے خلاف پور ی راجوری پونچھ کی عوام سڑکوں پر آگئی تھی، یہی وجہ ہے کہ وائس چانسلر تبدیل ہوئے۔ اب جونئے وائس چانسلر آئے ہیں، وہ دور اندیش ہیں۔ امید ہے کہ وہ نظام میںسدھار لائیں گے۔ سکالرشپ گھوٹالہ میں ملوث افراد کے خلاف بھی یقینی طور کارروائی ہوگی۔ وائس چانسلر بالکل ٹھیک لائن پر جارہے ہیں۔آنے والے دنوں میں اس کے اچھے نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔

سوال:آپ کو نہیں لگتا کہ بھاجپا۔ پی ڈی پی کے اقتدار میں آنے سے خطہ پیر پنجال بالخصوص راجوری میں فرقہ پرستی کے واقعات میں بڑھوتری ہوئی ہے ؟
جواب:راجوری پونچھ کے مسلم نرم رویہ ہیں،انہوں نے کبھی بھی حریت یا اعلیحدگی پسند تنظیموں کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کی حمایت نہیں کی ۔یہ بات یہاں کے ہندو طبقہ کو بھی اچھی طرح سے سمجھنی ہوگی۔ سبھی کو آپس میں مل جل کر رہنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک فرقہ پرستی کا سوال ہے یہ کبھی بھی ختم نہیں ہوسکتی البتہ مذہبی تنظیمیں، سماج کے ذی شعور افراد اور سیاسی رہنما دونوں فرقوں کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرنے میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ حالیہ دنوں مویشی سمگلنگ کے رد عمل میں جوواقعات سامنے آئے، وہ کسی بھی طریقہ سے ٹھیک نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایسی صورتحال کے لئے یہاں کی پولیس کافی حد تک ذمہ داری رہی ہے۔ تاریخی مغل شاہراہ کی تعمیر سے جہاں راجوری پونچھ کے لئے ترقی کے نئے ادوار کھلنے کی بات کی جارہی ہے، وہی یہ مویشی سمگلروں اور منشیات سمگلروں کے لئے ایک جنت ثابت ہورہی ہے۔ کشمیر سے راجوری پونچھ میں بڑے پیمانے پر چرس، افہیم، گانجا ، کوکین وغیرہ کی سمگلنگ کی جارہی ہے جبکہ راجوری پونچھ سے کشمیر مویشی سمگل کر کے لے جائے جاتے ہیں۔ مغل شاہراہ پر پولیس چوکیاں قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے، یہ معاملہ میں نے قانون ساز کونسل میں بھی اٹھایاتھا۔راجوری میں مویشی سمگلنگ کے چھ واقعات ایسے سامنے آئے جہاں پر فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی۔ کلر، مراد پور اور پوٹھہ میں پیش آئے واقعات کے دوران میں انے اپنے ورکروز بھیج کر حالات کو قابومیں کیا لیکن آخر عام لوگ بھی کب تک صبر کریں گے۔ کوئی مانے یا نہ مانے مویشی سمگلنگ سے ہندو طبقہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ آپ دیکھیں کہ ٹاٹا موبائل، ٹاٹامیجک اور ٹیمپو جس میں سواریوں کی جگہ سیٹیں نکال کر ان میں مویشیوں کو بھر کر کشمیر منتقل کیاجاتاہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے لئے پولیس بہت ذمہ داری ہے، پولیس کی ملی بھگت سے یہ سب ہورہا ہے۔ اس کی روک تھام کے لئے مغل شاہراہ پر چوکیاں قائم کرنے کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ پولیس، انتظامیہ،متعلقہ سیاسی لیڈران پر جوابدہی فکس کی جانی چاہئے۔ اگر ان کے متعلقہ علاقہ میں ایسا کوئی واقع پیش آتا ہے تو ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہو۔ پولیس ٹھیک ڈھنگ سے کام نہیں کر رہی۔یہاں یہ بات بھی کہنا چاہتاہوں کہ مویشی سمگلنگ کے کاروبار میں ہندو طبقہ کے لوگ بھی شامل ہیں، اس کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ میر ی راجوری پونچھ کی عوام سے اپیل کی ہے کہ جہاں بھی ایسے معاملات سامنے آئیں انہیں فوری طور پولیس کی نوٹس میں لایاجائے،قانون کو اپنے ہاتھوں میں نہ لیاجائے اور ساتھ ہی معاملات کو فرقہ وارانہ رنگت نہیں دی جانی چاہئے۔ راجوری پونچھ پرپوری ریاست کی نظریں رہتی ہیں۔ایسے واقعات کو سلجھانے کے لئے آپس میں بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ بات چیت ہی مسائل کا واحد حل ہے۔

سوال:قانون ساز کونسل میں اجاگر کئے جانے والے مسائل کو حکومت کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے؟
جواب:کہنے کو تو قانون ساز کونسل کو قانون سازیہ کا ایوان بالا(اپرہاؤس)کہاجاتاہے لیکن افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں پر زیر بحث آنے والے مسائل کو حکومت سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ممبران قرارداوں، توجہ دلاؤ تحریک، قرار داد، سوالات کے ذریعہ عوامی نوعیت کے مسائل کو حکومت کی نوٹس میں لاتے ہیں لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ کم سے کم جس محکمہ سے متعلق سوال ہو، اس کے افسران اور متعلقہ وزارت کواس طرف توجہ دینی چاہئے اور ان معاملات پر کارروائی ہو۔ کونسل میں اٹھائے جانے والے معاملات ریکارڈ میں آجاتے ہیں لیکن ان کے حل کا کوئی ٹائم فریم نہیں۔ ایوان بالاءکی بالادستی، اہمیت اور افادیت کو بنانے کے لئے حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ یہاں اٹھائے جانے والے ہرمسئلہ کو سنجیدگی سے لیکر اس کا جلد سے جلد نپٹارا کیاجائے تاکہ لوگوں کو لگے کہ واقعی یہ سب سے بڑاجمہوری ادارہ ہے جہاں ان کے مسائل کی سنوائی ہوتی ہے۔ میں نے گذشتہ بجٹ اجلاس اور پھر سرینگر میں مختصر خزاں اجلاس کے دوران لوگوں کے زیادہ سے زیادہ مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ میں نے فیس بک پر اپنا نام ڈالاتھا اور لوگوں سے گذارش کی تھی کہ وہ اپنے مسائل میرے نوٹس میں لائیں، میں انہیں ایوان کے اندر اٹھاؤں گا۔ سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے مجھے سوال بھیجے، ان میں سے بیشتر کو میں اٹھایابھی، کونسل کا ریکارڈ گواہ ہے کہ میں نے راجوری پونچھ کے سینکڑوں مسائل کو اجاگر کیا، کونسل کے اندر کا ایک ایک منٹ کا صحیح اور جائز استعمال کیا، لیکن بیشتر مسائل کا متعلقہ محکمہ اور منسٹری نے کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا۔میں نے بجٹ اجلاس2016کی تیار ی آج سے ہی شروع کر دی ہے، خطہ پیر پنجال کی عوام سے اپیل ہے کہ وہ اپنے مسائل مطالبات میرے نوٹس میں لائیں میری پوری کوشش رہے گی کہ ایوان کے اندر اٹھاکر، حکومت سے اس کا جواب طلب کیاجائے۔

سوال:کیا آپ سال میں دو مرتبہ ہونے والے اجلاس(بجٹ/خزاں)سے مطمئن ہیں....؟
جواب:نہیں، یہ مدت بہت کم ہے۔ سال میں کم سے کم تین اجلاس ہونے چاہئے اور ہر ایک کی مدت 25ورکنگ دن ہو تبھی جاکر عوام کے مسائل کو اجاگر کیاجاسکتا ہے۔ اس وقت اجلاس کی مدت بڑی کم ہے۔ جموں میں بجٹ اجلاس کے زیادہ دن بھی اپوزیشن کے غیر ضروری ہنگامہ کی نذر ہوجاتے ہیں، کشمیر میں طور خزاںاجلاس محض ایک خانہ پوری ہی ہے۔کشمیر میں ہونے والے اجلاس کو اگر میں خزانہ عامرہ پر بوجھ اور ایک بھدا مذاق کیوں تو غلط نہیں ہوگا۔ حال ہی میں کشمیر میں جواجلاس ہوا وہ محض چھ دن کا تھا، اس میں دو دن تو این سی اور کانگریس کے ہنگامہ کی نذر ہوگئے، دو دن چھٹیاں تھیں ، صرف دو دن اجلاس چلا۔اس میں کیاکیاجاسکتا ہے۔ قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے ہر رکن کو چاہئے کہ وہ ان ایوانوں کے تقدس، اہمیت اور افادیت کو بنانے کے لئے اہم رول ادا کرئے۔ سیشن کی مدت زیادہ ہونی چاہئے۔ شور شرابہ سے کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں، ایک ایک منٹ کا استعمال کیاجانا چاہئے۔ میں نے اس بارے کوشش کی ہے۔

سوال:راجوری شہر کے حوالہ سے آپ کا کیا ترقیاتی ایجنڈہ ہے؟
جواب:راجوری شہرمیری پہچان ہے،اس کی ترقی میری ترجیحات میں شامل ہے۔ شہر میں ٹریفک جام، بھیڑ بھاڑ کو کم کرنے کے لئے میری کوشش رہے گی کہ سی آر ایف کے تحت ایک سرکولر روڑ منظور کراو ¿ں، 30-35کروڑ روپے کے پل بھی میں نے منظور کروائے ہیں۔ پارکنگ شہر میں بڑا مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے لیکن یہاں میں یہ بات کہوں کہ راجوری میں آپ ایک پتھر بھی اکھاڑ نہیں سکتے کیونکہ ایک ایک انچ جگہ الاٹ شدہ ہے۔ ملی ٹینسی کے دوران یہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے سرحدی علاقہ جات سے مائیگریشن کی، جس سے غیر قانونی کالانیاں بن گئیں۔ روشنی ایکٹ کے تحت بہت زیادہ اراضی کے مالکانہ حقوق تفویض کئے گئے ہیں۔ اس وقت راجوری قصبہ میں سرکاری اراضی بہت کم ہے۔ کوئی بھی پروجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے میں انتظامیہ کو اراضی کی بڑی پریشانی سامنے آتی ہے۔ اراضی حصولیابی قانون موجود ہے، انتظامیہ کو چاہئے کہ اس کے تحت ضروری منصوبوں کی تعمیر کے لئے اراضی حاصل کی جائے۔

سوال:اسمبلی انتخابات2014میں راجوری نشست کھونے سے متعلق آپ کیا کہیں گے؟
جواب: میں نے پارٹی قیادت کے فیصلہ پر لبیک کہہ کر خود الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے طالب چوہدری کی حمایت کی۔ میں نے راجوری حلقہ کی نشست پر کامیابی حاصل کرنے کیلئے ورکروں کے ساتھ مل کر دن رات ایک کیا لیکن کامیابی نہیں ملی۔ طالب چوہدری کی ہار سے مجھے بہت زیادہ دکھ اور افسوس ہے اور یہ شاہد زندگی بھر رہے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Altaf HUssain janjua

Read More Articles by Altaf HUssain janjua: 33 Articles with 13355 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jul, 2016 Views: 259

Comments

آپ کی رائے