نو منتخب حکومت کو درپیش چیلنجیز

(Ata Ur Rehman Chohan, )
آزادکشمیر کی نو منتخب حکومت کو ملنے والا بھاری مینڈیٹ جہاں اعتماد اور قوت کا باعث ہے وہاں عوامی توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے کا چیلنج بھی ہے۔ یہ مینڈیٹ مسلم لیگ کے محنت سے زیادہ گزشتہ حکمرانوں کے خلاف عوامی نفرت کا کھلا اظہار بھی ہے۔ مسلم کانفرنس، پی پی پی اور تحریک انصاف (جس کے امیدواروں کی اکثریت سابقہ حکمران جماعتوں سے وابستگی رکھتی تھیا)کو عبرتناک شکست دراصل کرپشن، اقربہ پروری، جیالہ نوازی اور بری حکمرانی کا انتقام ہے۔ جس میں نو منتخب حکمرانوں کے لیے سبق بھی ہے۔ عوام بجا طور پر نئی حکومت سے بڑی توقعات رکھتے ہیں۔ یہ تبدیلی ایک نئے ایجنڈے کا تقاضا کرتی ہے، امید ہے کہ نئی حکومت جلد اپنی ترجیحات کا اعلان کرے گی۔

حکومت کو سب سے بڑا چیلنج کرپشن کا درپیش ہے، جو نائب قاصد سے وزیراعظم تک سرایت کرچکا ہے۔ کرپشن کلچر نے تو عوام کو بھی کرپٹ کردیا ہے۔ اب ہمارے ہاں رشوت دینا کوئی عار نہیں سمجھا جاتا، اسے لوگ سکول کی فیس کی طرح ادا کرتے ہیں۔ کرپشن کے خاتمے کو اولین ترجیح دیتے ہوئے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو حکومت ایک فیصد بھی ڈلیور نہیں کرپائے گی۔بیوروکریسی بال بال کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے۔ کرپشن نے اسے کام چور اور نکھٹو بھی بنا دیا ہے۔ سیاستدانوں کی کرپشن اور سیاسی بنیادوں پر تقرریوں ور تبادلوں اور قواعد کی پامالی نے بیوروکریسی کو تباہ کر رکھا ہے۔ بیوروکریسی کی اصلاح کیے بغیر کاروبار حکومت درست طور پر چلانا ممکن نہیں۔اگر قائد ایوان اپنی کابینہ اور پارلیمانی پارٹی کو کرپشن اور غیر قانونی اقدامات سے باز رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو پھر بیوروکریسی کی اصلاح بھی ممکن ہے اور انہیں قابو میں بھی رکھا جاسکے گا۔یہ سب کچھ حکومت کی ترجیحات کے تعین پر ہی منحصر ہے۔

کرپشن کی طرح بیروزگاری بھی ہمارا بڑا مسئلہ اور چیلنج ہے۔ ہمارا خطہ انسانی وسائل کے اعتبار سے بڑا اہم ہے۔ ہمارے ہاں نوجوانوں (ورکنگ کلاس) کی تعداد زیادہ ہے، جو قدرتی طور پر صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔ ہمارے بدترین تعلیمی معیار اور عدم توجہی کی وجہ سے باصلاحیت نوجوان مثبت سرگرمیوں کے بجائے بے راہ روی کا شکار ہیں۔جو ہمارے مستقبل کے لیے تباہ کن ہے۔ اس لیے بیروزگاری کے خاتمے کو بھی اولین ترجیحات میں شامل کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے نظام تعلیم کی اصلاح اور فنی علوم کے اداروں کا قیام کرنا پڑے گا۔ فنی تعلیم تو موجودہ تعلیمی اداروں میں دوپہر کی کلاسیں شروع کرکے بھی دی جاسکتی ہے۔اگر حکومت پنجاب کی طرز پر فنی تعلیم پر توجہ دے تو ہم تین سالوں میں ہزاروں نوجوانوں کو ہنرمند بنا سکتے ہیں۔

ہمارا تباہ شدہ نظام تعلیم نئی نسل کی صلاحیتوں کو سلب کرنے اور انسانی وسائل کا قتل عام کرنے کا مرتکب ہورہا ہے۔ اربوں روپے کے بجٹ، بہترین مراعات اور دیگر سہولتوں کے باوجود معیار تعلیم کی تباہی اساتذہ کی عدم توجہی اور محکمہ تعلیم کی واضح نااہلی کے باعث ہے۔ نئی نسل کی تعمیر کے لیے یہ سب سے بنیادی مسئلہ ہے، جسے ترجیح اول یا دوئم قرار دیتے ہوئے تین سالوں کے لیے ’’تعلیمی ایمرجنسی ‘‘ لگا کر ہی قابو کیا جاسکتا ہے۔ جس کے تحت بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل نہ کرنے والے والدین پر بھاری جرمانے اور محکمہ تعلیم کے ملازمین کو ناقص کارکردگی پر سزا کے فوری نفاذ سے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔شعبہ تعلیم میں اقدامات پر تفصیلی گزارشات الگ سے پیش کرونگا۔

تعلیم پر توجہ دینے سے بیروزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی اور اس کے ساتھ ساتھ خطہ جنت النظیر کو بنیادہ وسائل فراہم کرکے سیاحت کا مرکز بنایا جاسکتا ہے۔ سٹرکوں کی بحالی اور رہائش کی سہولتوں کے لیے پرائیوٹ سیکٹر کو کچھ مراعات دے کر اربوں روپے کے وسائل میسر آسکتے ہیں۔ موجودہ نااہل افسران کے دوسرے محکموں میں کھپا کر سیاحت کے شعبے میں مہارت رکھنے والے افراد کو کنٹریکٹ پر کام دیا جائے اور ان سے ماہانہ رپورٹ لی جائے تو چند ماہ میں سیاحت سے وسائل حاصل ہونے شروع ہو جائیں گے۔ یہاں فنڈز سے زیادہ درست حکمت عملی وضع کرنے ضرورت ہے۔ پاکستان میں بڑی سیاحتی کمپنیاں یہ کام چند ہفتوں میں کرسکتی ہیں، جس کے لیے ہمارا سرکاری عملہ سالوں لگائے گا۔

صحت عامہ ہمارے خطے کا چوتھا بڑا چیلنج ہے۔ سرکاری ہسپتال ڈاکٹروں اور ادویات سے محروم ہیں۔ ریکارڈ میں ڈاکٹرز بھی تعینات ہیں اور ادویات کی خریداری بھی ہوتی ہے لیکن غریب عوام تک کچھ نہیں پہنچتا۔ کرپشن کے خاتمے، تعلیمی ایمرجنسی، سیاحتی انقلاب کے بعد اگر صحت عامہ پر موجودہ بجٹ درست طور پر خرچ کیا جائے تو عوام کو بڑا ریلیف ملے گا۔ المیہ یہ ہے سرکاری ہسپتالوں میں ٹیکنکل پوسٹوں پر نان ٹیکنکل افراد کو رشوت لے کر بھرتی کیا گیا ہے۔ اس لیے محکمہ صحت کا پہلے آپریشن کرنا ہوگا تب ہسپتال اور دیگر طبی ادارے کچھ کر پائیں گے۔ جولوگ مریض کی ادویات اور خوراک پر ڈاکہ ڈالتے ہیں، ان سے بڑا سفاک اور کون ہوسکتا ہے۔ یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور عوام کی اکثریت اس سہولیات سے استفادہ کرتی ہے۔

ان اندرونی چیلنجز کے ساتھ ساتھ نئی حکومت کو تحریک آزادی میں متحرک کردار کے تعین اور مرکز کی طرف سے فریال تالپور اور چوہدری ریاض جیسے مداخلت کا چیلنج بھی درپیش رہے گا۔ ستر سال گزرنے کے باوجود تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ہمارے پاس کوئی پالیسی ساز فورم نہیں۔ ہم بس کشمیر پر کچھ ایام مناکر مجاہد کہلاتے ہیں۔ ہم نے دفاعی ذمہ دار مرکز کو تفویض کی ہے تحریک آزادی کا ٹھیکہ نہیں دے رکھا۔ تحریک آزادی ہی آزادریاست جموں وکشمیر کی بنیاد ہے وگرنہ پانچ ہزار مربع میل کا انتظام تو پاکستان کے دیگر صوبوں میں ایک ڈپٹی کمشنر چلاتا ہے۔ صدر، وزیراعظم، کابینہ کی پوری فوج، قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل جیسے سارے تکلفات مسئلہ کشمیر ہی کے مرہون منت ہیں۔چار ہزار مربع میل علاقے کے انتظام کے لیے اتنی بھاری بھرکم انتظامیہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ یہی وسائل اگر تعلیم، صحت عامہ اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر صرف کیے جائیں تو یہ علاقہ پیرس بن سکتا ہے۔ اس لیے تحریک آزادی میں ایک متحرک کردار ادا کرنے کے لیے کسی مناسب فورم کی تشکیل اور ریاستی بجٹ میں مناسب حصہ بھی درکار ہوگا۔ یہ وقت کی ضرورت اور تحریک کا تقاضا ہے۔

اختیارات کے گرد ہمیشہ مالشیوں اور پالشیوں کا گروہ مکھیوں کی طرح گھیرا ڈالے رکھتا ہے۔ کونسلر سے وزیراعظم تک سب میراثی نما عیاروں کے گھیرے میں بند ہوتے ہیں۔ مالش اور پالش ہر انسان کی کمزوری ہے، موجودہ حکمران اگر اس کمزوری پر قابو پالیں تو حالات کا درست ادراک اور اپنی کارکردگی پر حقیقی فیڈ بیک حاصل کرپائیں گے۔

وزیر اعظم پر لازم ہے کہ وہ اپنی کابینہ کو ایک ویژن پر یکسو رکھیں۔ پوری ٹیم ایک ہدف اور ایجنڈے پر کاربند ہو۔ وزراء کی طرف سے اپنے اضلاع میں متوازی حکومتیں بنانے کے رواج کو ختم کرنا ہوگا اور انہیں اپنے محکموں اور ذمہ داری تک محدوو کرنا ہوگا بصورت دیگر ماضی کی طرح ریاست کے اندر نو دس ریاستیں قائم رہیں گی۔

وزیراعظم راجہ فاروق حیدر ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ قدرت نے انہیں خدمت کا موقع دیا ہے، انہیں درست حکمت عملی سے ان سارے چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے عوامی توقعات پر پورا ترنا ہے۔کرپشن کے خاتمے، نظام تعلیم کی اصلاح، صحت عامہ اور سیاحت پر توجہ سے بیروزگاری کا خاتمہ بھی ہوگا اور عوام خوشحال بھی ہوں گے۔حکومت کو سادگی کو رواج دے کر قومی وسائل کو قومی امانت کے طور پر استعمال کرنے کا احساس بیدار رکھنا ہوگا۔ہماری دعا ہے کہ موجودہ حکومت عوامی توقعات پر پورااتر کر ریاستی تاریخ میں نئے ریکارڈ قائم کرئے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Atta ur Rahman Chohan

Read More Articles by Atta ur Rahman Chohan: 125 Articles with 65261 views »
عام شہری ہوں، لکھنے پڑھنے کا شوق ہے۔ روزنامہ جموں کشمیر مظفرآباد۔۔ اسلام آباد میں مستقل کالم لکھتا ہوں۔ مقصد صرف یہی ہے کہ ایک پاکیزہ معاشرے کی تشکیل .. View More
01 Aug, 2016 Views: 425

Comments

آپ کی رائے