بیسویں صدی سے اکیسویں صدی تک کا سفر ۔ باب۔7۔کولڈوار کی اصطلاح

(Arif Jameel, Lahore)
ریاستِ ہائے متحدہ امریکہ و سویت یونین(روس) نیٹو ، وارسا تنظیموں اور کولڈ وار جیسی اصطلاح کا سہارا لیکر دُنیا ۔۔۔۔عرب ممالک نے امریکہ سے اچانک مایوس ہو کر روس کی طرف رُخ کر لیا تا کہ اُس سے اسلحہ حاصل کر کے اسرائیل کے۔۔۔۔ایک حاکم کیسے کسی کو محکوم بنا سکتا ہے اُس کے گُر جانتے ہوئے ایک طرف اپنے اتحادیوں کو مالیاتی اداروں سے امداد و قرضے کا اجراء کروانا ۔۔۔۔فلسطین کا مسئلہ اور اُس پر جنگ ، کشمیر کا مسئلہ اور اُس پر جنگ ، کوریا کی جنگ، عرب اسرائیل جنگ ، کیوبا پر قبضے کی کوشش وغیرہ جیسے واقعات۔۔۔۔

مسلم ممالک، اقوامِ متحدہ، کولڈوار

 مسلم ممالک میں اشتراکی نظریات:
ریاستِ ہائے متحدہ امریکہ و سویت یونین(روس) نیٹو ، وارسا تنظیموں اور کولڈ وار جیسی اصطلاح کا سہارا لیکر دُنیا کے سامنے ایک ایسا کھیل کھیلا گیا جس سے سب سے پہلے تو عرب مسلم ممالک کو دھچکا لگا اور یہ ثابت ہو ہی چلا تھا کہ یہ دونوں ممالک مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہیں کہ پچاس کی دہائی کے وسط میں عرب ممالک نے امریکہ سے اچانک مایوس ہو کر روس کی طرف رُخ کر لیا تا کہ اُس سے اسلحہ حاصل کر کے اسرائیل کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ یہاں بھی اُن عرب ممالک کو کوئی خاص فائدہ نہ ہوا جن کی سوچ یہ تھی۔ بلکہ اُلٹا اسلحے کی آڑ میں مصر سے شام تک اور یمن و الجزائر میں اشتراکی نظریات کے اثرات نظر آنے لگے۔ اِن حالات میں یورپ کے عیسائیوں کو بھی چونکہ یہودیوں سے کوئی خاص ہمدردیاں نہیں تھیں لہذا اُنکے ذہین میں یہ بات یقینی طور پر سمائی ہوئی تھی کہ وقت آنے پر ہمارے ساتھ بھی اچھا ہونے والا نہیں لہذا کوئی بندوبست تو ضروری ہے لیکن اظہار کیئے بغیر ۔ بس ایک دوسرے کے خلاف آپسی غیبت چغلیوں کا سہارا لیتے ہوئے ایک ملک دوسرے سے دوسرا تیسرے سے تیسرا پہلے سے نے کسی نہ کسی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف نوعیت کے معاہدے کرنے شروع کر دیئے۔ اس ہی دوران فرانس وہ واحد ملک نِکلا جس نے 1966 ء میں نیٹو تنظیم کی فوجی سرگرمیوں سے قطع تعلق کر لیا اور 1967ء میں پیرس میں اس کا ہیڈکواٹر بھی بند کر دیا۔

امریکہ و روس کے سامنے اقوامِ متحدہ کمزور:
امریکہ کیلئے یہ سب حالات کتنے اہم تھے وہ ایک طرف لیکن ایک حاکم کیسے کسی کو محکوم بنا سکتا ہے اُس کے گُر جانتے ہوئے ایک طرف اپنے اتحادیوں کو مالیاتی اداروں سے امداد و قرضے کا اجراء کروانا اور دوسری طرف دفاعی نظام کی مضبوطی کیلئے اُن کو اسلحہ خریدنے کی ترغیب دے کر اُن ہی ممالک کو اسلحہ فروخت کر دینا انتہائی دلچسپی کا مظہر تھا۔ اب یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ محسن سے طاقت حاصل کر کے اُس ہی محسن کے مقابلے میں کھڑا ہو جایا جائے۔ کچھ ایسا ہی کمیونسٹ بلاک میں بھی ہو رہا تھا اور اس بلاک سے منسلک روس سے اسلحہ خرید رہے تھے۔ آگے کیا ہونے والا ہے اسکا خوف فی الوقت رد کر دیا جاتا تھا کہ اب کسی قسم کی نئی جنگِ عظیم کا خطرہ نہیں کیونکہ اقوامِ متحدہ جیسا ادارہ موجود ہے جہاں پر بیٹھ کر بغیر لڑے حل نِکلا جا سکتا ہے۔ لیکن پھر فلسطین کا مسئلہ اور اُس پر جنگ ، کشمیر کا مسئلہ اور اُس پر جنگ ، کوریا کی جنگ، عرب اسرائیل جنگ ، کیوبا پر قبضے کی کوشش وغیرہ جیسے واقعات رُونما کیوں ہو رہے تھے ؟ اقوامِ متحدہ کا کردار اِن معاملات میں کم اور امریکہ اور روس کا زیادہ نظر آ رہا تھا۔ اِن معاملات میں دُنیا کی سب سے بڑی آبادی والا کمیونسٹ ملک چین اکیلا اِن دونوں طاقتوں کا مقابلہ اُن کی پالیسیوں سے اختلاف کی صورت میں کر رہا تھا اور اُن ممالک کے ساتھ ہر صورت تعاون کر رہا تھا جو اِن دونوں ممالک کے ڈسے ہوئے تھے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 173202 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
06 Aug, 2016 Views: 346

Comments

آپ کی رائے