’’وادیٔ کیلاش‘‘…… کافر حسیناؤں کا مسکن

(Mufti Muhammad Waqas Rafi, )
پہلی قسط:
چترال شہر سے کوئی 35 کلو میٹر کے فاصلے پر فلک بوس پہاڑوں میں گھرے ہوئے تین بڑے بڑے گاؤں (بُمبوریت ‘رُمبوراور بِریر) ہیں ، جہاں ’’کیلاش‘‘ مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ ’’ بُمبوریت‘‘ میں کیلاش کے مقابلے میں مسلمان زیادہ ہیں ، اس کی وجہ کیلاش قوم کا مسلمان ہونا ہے ۔’’رُمبو ‘‘گاؤں میں مسلمان اور کیلاش برابر ہیں ، جب کہ’’ بِریر ‘‘میں کیلاش مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ مسلمانوں کی بہ نسبت زیادہ آباد ہیں ۔

کیلاش قوم کے چترال آنے کی مختلف وجوہات اور متضاد قسم کے بیانات نقل کیے جاتے ہیں ، تاہم اکثرلوگوں کا خیال ہے کہ یہ قوم 334سال قبل مسیح سکندر اعظم کے ساتھ یہاں آکر آباد ہوئی تھی ۔

اس قوم کا ایک سردار تھا جس کا نام ’’کیلاش ‘‘ تھا ، وہ جانتا تھا کہ اس کا تعلق سکندر اعظم کے قبیلے سے ہے، جو یونان سے یہاں آکر آباد ہوا ہے اور یہ کہ سکندر اعظم گھوڑے پر سوار ہوکر چترال آیا تھا ، اس لئے اس نے گھوڑے پر سوار سکندر اعظم کا مجسمہ بنایا جس کی تعظیم کرتے کرتے بالآخر اس کو معبود کا درجہ دے دیا گیا ، اور جس جگہ اس گھوڑے کا مجسمہ نصب ہے ، وہ جگہ اب عین عبادت گاہ ہے جسے ’’مالوش‘‘ کہا جاتا ہے ۔ اس طرح اس مذہب کا نام اس کے سردار کے نام پر ’’کیلاش‘‘ موسوم ہوا۔

وادیٔ کیلاش میں تقریباً 90 فیصد لوگ مسلمان ہوچکے ہیں اور صرف 10 فیصد لوگ ابھی تک کیلاش مذہب کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں ، جس کا بھر پور فائدہ اٹھا کر یورپ کے عیسائی سیاحت کے نام پر یہاں آتے ہیں ، ان لوگوں پر ڈالروں کی بارش کرتے ہیں ، یورپ میں اعلیٰ تعلیم کا لالچ دیتے ہیں اور وہاں لے جاکر ان کو عیسائی بنادیتے ہیں ۔اور چوں کہ ’’وادیٔ کیلاش‘‘ کافر حسیناؤں‘‘ کا مسکن کہلاتا ہے، اس لئے کچھ انگریز مرد یہاں آکریہاں کی پری پیکر حسین و جمیل دوشیزاؤں سے شادی بھی کرلیتے ہیں ، بلکہ کچھ عرصہ پہلے تو ایک یورپی دوشیزہ نے کیلاش مرد سے اس بنیاد پر شادی کی کہ وہ یورپ میں کیلاش نسل آباد کرنا چاہتی تھی۔

کیلاش قوم جن گھروں میں اپنی زندگی بسر کر رہی ہے وہ چھوٹے چوٹے سے مکانات ہیں ، جن میں سے بعض مکانات سہ منزلہ لکڑی کے بنے ہوئے ہیں ، اور چوں کہ یہ لوگ اپنے مکانات کے عین وسط میں آگ جلاتے ہیں اس لئے اندر سے ان کے مکانات دھوئیں کی وجہ سے سیاہ رنگ کے ہوجاتے ہیں ۔مکان کے ایک کمرے میں یہ لوگ بکرے کے دوسینگ اور کسی دیو دار درخت کے پتے مع شاخ کے لٹکا دیتے ہیں اور چوں کہ اس درخت کی شاخین اور اُن کے پتے اِن کے یہاں متبرک سمجھے جاتے ہیں، اس لئے کسی بھی اجنبی شخص کو ان کے قریب تک نہیں بھٹکنے دیتے ، کیوں کہ اس بارے میں ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان شاخوں یا پتوں کو چھولے تو وہ بہت جلد بیمار ہوجاتا ہے اور پھر بیمار ہوکر مر جاتا ہے ۔ گویا ان کے عقیدے کے مطابق ان کی سلامتی اور ان کے امن و امان کا تمام تر دار و مدار انہیں درخت کی شاخوں اور ان کے پتوں پر ہوتا ہے۔

کیلاش قوم کی عورتیں بڑی محنتی اور جفا کش ہوتی ہیں، یہ عورتیں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں ، جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتی ہیں ، کھیتوں میں کام کرتی ہیں،مردوں اور عورتوں کا لباس اپنے ہاتھ سے تیار کرتی ہیں ، اور یہاں تک کہ اپنے گھر کا سارا کام و کاج بھی یہ خود ہی کرتی ہیں ، لیکن بایں ہمہ کیلاش قوم میں عورت ذات کی اہمیت لونڈی کے چیتھڑے یا جوتے کے تسمے کے برابر بھی نہیں سمجھی جاتی۔

کیلاش قوم کی عورتوں کا لباس عموماً سیاہ رنگ کا ایک لمبا لباس ہوتا ہے جس میں کمر کے گرد ایک پٹی ہوتی ہے اور اس کے کناروں پر مختلف قسم کی رنگ برنگی دست کاری ہوئی ہوتی ہے، اسے وہ زیب تن کرتی ہیں، اور گلے میں مختلف قسم کے زیورات پہنتی ہیں، سر کے بالوں میں بہت زیادہ پربیچ قسم کی چٹیاں بناتی ہیں، اور سر پر اپنے ہی ہاتھوں سے بنائی ہوئی ایک خوب صورت قسم کی تاج نما ٹوپی سجاتی ہیں ، جب کہ ان کے مقابلہ میں ان کے مرد بہت سادہ قسم کا لباس پہنتے ہیں۔

وادیٔ کیلاش میں کچھ مکان خصوصی طور پر عورتوں کے لئے مختص کردیے جاتے ہیں جہاں وہ عورتیں اپنے ماہواری کے دن یا بچے کی پیدائش کے وقت سے کچھ پہلے سے لے کر زچگی کے بعد کے چالیس دن تک ٹھہرتی ہیں ۔ حیض والی عورتیں 10 دن تک ، جب کہ نفاس والی عورتیں 40 دن تک یہاں آکر قیام کرتی ہیں ، اس کے بعد نہا دھوکر صاف قسم کا لباس پہنتی ہیں ، اپنے بالوں میں کنگھی کرتی ہیں ، ٹوٹے ہوئے بالوں کا گچھا بناکر مکان کی کسی درز میں گھسادیتی ہیں اور پھر یہاں سے چلی جاتی ہیں ، ان کی زبان میں اس مکان کو ’’ باشلینی‘‘ کہا جاتا ہے ۔ ان کے عقیدے کے مطابق اگر کوئی عورت اپنے مخصوص ایام میں اس مکان سے نکل کر واپس اپنے گھر کی طرف لوٹ جائے تو اس گھر پر بلائیں اور آفتیں ٹوٹ پڑتی ہیں ۔چنانچہ ایسی عورتوں کے لئے کھانے پینے کی چیزیں ان کو ’’باشلینی‘‘ میں ہی پہنچادی جاتی ہیں، جہاں رہ کر وہ انہیں کھا پی سکتی ہیں ، ان کے برتن بھی علیحدہ رکھے جاتے ہیں، چنانچہ اگر کوئی عورت اپنے مخصوص ایام میں کسی دوسرے برتن کو ہاتھ لگادے تو ان کے عقیدے کے مطابق وہ برتن ناپاک ہوجاتا ہے۔

کیلاش قوم کے یہاں دنوں ، ہفتوں ، مہینوں اور سالوں یا کیلنڈروں کا جھنجھٹ نہیں ہوتا ، وہ بس اپنے مخصوص حساب و کتاب کے ذریعہ غمی و خوشی اور دوسرے اہم اور نادر قسم کے واقعات یاد رکھتے ہیں ۔

یہ لوگ نہ ہی مرغیاں پالتے ہیں اور نہ ہی ان کا گوشت کھاتے ہیں ،کیوں کہ کیلاش مذہب میں مرغی کھانا حرام ہے ، اس لئے کہ مرغی شیطان کا مظہرہوتی ہے۔

ان لوگوں کے گلے میں قومیت کا ایک نشان ہوتا ہے ۔یہ لوگ( مرد ہوں یا عورت) اپنی حیثیت کے مطابق سات سال کی عمر میں چاندی یا لوہے کا حلقہ بناکر اپنے گلے میں ڈالتے ہیں ، یہ حلقہ ان کی قومیت کا نشان ہوتا ہے تا کہ معلوم ہوسکے کہ یہ شخص ’’وادیٔ کیلاش‘‘ کا رہنے والا ہے اور اس کا تعلق ’’ کیلاش‘‘ قبیلہ سے ہے ۔ اور جس وقت یہ قومیت کا نشان سات سال کی عمر کے بچے کے گلے میں ڈالتے ہیں تو اس وقت باقاعدہ طور پر یہ لوگ رقص و سرود کی ایک محفل منعقد کرتے ہیں۔
(جاری ہے……)
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mufti Muhammad Waqas Rafi

Read More Articles by Mufti Muhammad Waqas Rafi: 185 Articles with 132477 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Aug, 2016 Views: 1120

Comments

آپ کی رائے