وسعت نظر

(Dr shaikh wali khan almuzaffar, Karachi)
ہمہ گیربننے کی ضرورت ہے
دینِ اسلام نے تو غالب ہونا ہے اور وہ چہاردانگِ عالم میں پھیل کر تمام ادیان وافکار کو چیلنج کر رہا ہے، مقابلے، مناظرے اور مسابقے کے ہر میدان میں اس وقت وہ فاتحِ اعظم ہے،ضد اور عناد کوتھوڑی دیر کے لئے اگر پرے ہٹایا جائے،تواسلام کے تصورِإلٰہ،تصورِرسالت،تصورِوحی،تصورِعبادت،تصورانسانیت کے سامنے قدیم وجدید فلاسفۂ ومذاہب سرِ تسلیم خم ہیں،موجودہ دنیا مشرکین ِمکہ کی طرح اسلام اورمسلمانوں سےبوجۂِ جہل،حسد،بغض یا وہم ونفسیات خائف ہے،افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ اسلام کے پھیلاؤ میں اہل اسلام کے اپنے ہی کرتوت ہیں،کہیں توفقط نام کے مسلمان ہونے کی وجہ سے ہمارا فہم اسلام ہے ہی نہیں،کہیں یہ فہم ناقص اور تنگ نظرہے،کہیں فرقہ وارانہ ہے،تو کہیں ہماری تفہیم،تفسیر اور تشریح عالمی معیار کی نہیں،بیشترمسلمانوں کے کردار کو دیکھاجائے تو اسلام کا نام ونشان بہت پہلےختم ہوجانا چاہیئے تھا،اور اگراسلام کی آفاقی تعلیمات کو پرکھا جائے تواب تک پوری دنیا کو حلقہ بگوشِ اسلام ہوجانا چاہیئے تھا،آج معلومات کا طوفان آیا ہوا ہے،افغان روس مسئلے سے لے کر شام کی حالیہ ہولناک تباہی تک موضوعِ سخن اتفاق سے زیادہ تر اسلام اور مسلمان ہیں،اس عرصے میں لا تعداد لوگ مشرف باسلام بھی ہوئے،کچھ اسلام کا مطالعہ کر رہے ہیں،کچھ مسلمانوں کو سمجھنے کی کوشش میں لگے ہیں،کچھ مسلمانوں ہی کو اسلام سمجھا رہے ہیں،ڈس انفارمیشن بھی بہت ہے،ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو چند نا رسیدہ ونا فہمیدہ مسلمانوں کے انفرادی یا جماعتی مکروہ اعمال کو اسلام کے پلڑے میں ڈال رہے ہیں،دردِ دل رکھنے والے مسلم وغیر مسلم سب ہی اس صورتِ حال سے کبیدہ خاطر اور نہایت پریشان ہیں۔ صومالیہ، نائجیریا،لیبیا،سینٹرل افریقہ،شام،عراق،لبنان،فلسطین،افغانستان اور برما(میانمار)میں اپنوں اورغیروں کے ہاتھوں ایسی ایسی انسانیت سوزاور شرمناک داستانیں رقم کی گئیں ہیں کہ اس کے تصور سے کلیجہ منہ کو آنے لگتاہے اورانسانیت سے نفرت ہونے لگتی ہے۔

سیاست نہیں دعوت یعنی مدنی کے بجائے مکی دورِ رسالت کو مدّ نظررکھ کربالکل جدید اور عالمی سطح پرکچھ حضرات جیسےڈاکٹر ذاکر نائک،یوسف اسلام ،غامدی،ٖوحید الدین خان ،ڈاکٹر عامر ،فرحت ہاشمی اور ڈاکٹر اسرار مرحوم کی ٹیم جیسےحضرات قرآن وسنت کے نشروإشاعت کے لئے اپنے اپنے اسلوب میں اس طور پر کام کررہے ہیں،جن لوگوں تک مستند علماء کی رسائی نہیں ہے،یا ٹھیٹھ علمی وفنی اصطلاحات کی زبان سے جو لوگ دور چلے گئے ہیں،وہاں ان کاکا م قابلِ قدر ہے،مروجہ مذہبی مسالک ومشارب سے یہ لوگ کیا ایک عام مسلمان بھی کنارہ کش ہے،مگرانہیں بھی اس طرف گھسیٹاجاتاہے،جب یہ نہیں آتے ،تو الزامات لگنے شروع ہوجاتے ہیں،کہیں کہیں بتقاضائے بشری ان سے بھی کچھ نامناسب باتیں یا حرکتیں ہوجاتی ہیں،لیکن ان سے اگر کہیں چوک ہوجائے،تو مجھے یقین ہے کہ دلیل کی بنیاد پر ان کی فہمائش کی جاسکتی ہے،یہ لوگ عام مسلک پرستوں کی طرح ضدی ،کوڑ مغز اور مائنڈسیٹ نہیں ہیں،مولویوں میں جو صحیح اہلِ علم اور ثقہ حضرات ہیں،ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ مذکورہ اشخاص کسی سے اُن کےاحترام میں کم ہیں نہ ہی ان سے استفادہ کرنے میں کوئی عار محسوس کرتے ہیں،،یہ عام مدرسوں کے پڑھے ہوئے عالم،مفتی یا قاری نہیں ہیں،اس لئے مزاجاً یہ لوگ ذرہ مختلف ہیں،لہذا گذارہ کیا جائے،انہیں اسی نگاہ سے دیکھا اور پرکھاجائے،تو بہتر ہوگا،معاشرےکےاسلامائزیشن اوراسلامی تہذیب وتمدن کے پرچار میں ہر مسلمان کا اتناہی حق ہے جتنا کسی بھی مفتی،عالم اور شیخ الإسلام کا ہے،باری تعالیٰ اپنے دین کے سربلندی کے لئے مختلف ومتنوع نیک وبدشخصیات اور حتی کہ حیوانات وجمادات سے بھی کام لیتے ہیں،موجودہ زمانے میں پوری دنیا اسلام کی طرف راغب ہے،اس میں ہمیں ہرکسی کی مدد چاہیے،ہم سب کےاکابر ،بزرگوںواساتذہ کا اپنااپنا انداز ہے،اور ہر ایک نرالا ہے،پر اس طرح کے لوگوں کے بھی ماننے والے یا ان سے عقیدت رکھنے والے بہت ہیں،ان کی عقیدتمندوں کا خیال کرتے ہوئے ہمیں ان کے خلاف بولتے وقت معقول ومؤدب پیرایہ اپنانا چاہیئے،تاکہ ہم باہمی اختلافات سے نکل کر نظریاتی جنگوں کے اس پُرفتن دور میں الحاد وزندقے کا مقابلہ کرسکیں،اپنے دین اور اپنے حبیبﷺ کی سیرت وسنت دنیا تک پہنچاسکیں۔

کسی معاملےمیں منفی کے بجائےمثبت سوچ اپنانے کی ضرورت سے انکار نہیں کیاجاسکتا،منفی سوچ ہمیشہ سوچنے والے کو ذہنی مشکلات میں ڈال دیتی ہے،مثبت سوچ صرف فکر ونظر ہی نہیں جسمانی صحت کے لئے بھی بے حد نافع اور فائدہ مند ہے،دوسروں کے تعاقب کے بجائے اگر ممکن ہو،توہمیں آگے بڑھ کر زمام کار ہاتھ میں لینا چاہئے،حضرت مجددالف ثانیؒ اکبر جیسے ہٹے ہوئے شخص کو اپنی مکاتیب کے ذریعےراہِ راست پر لاسکتے ہیں،تو ہم کم ازکم ان کی پیروی میں اس طرح کی کاؤشیں کیوں نہیں کرتے،ہدایاوتحائف کا تبادلہ کرکے ،کیا ایسے لوگوں کو قریب نہیں لایا جاسکتا،بعض چیزوں میں انہیں داد دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرکے اِن کو ہمرکاب بنایاجائے۔

مسئلہ صرف مذکورہ اشخاص کا نہیں ،اسلام کے حوالے سے چہاردانگِ عالم میں اس وقت تحقیق وریسرچ جاری ہے،مختلف مسلم وغیر مسلم افراد وادارے رات دن ایک کرکے کام کررہے ہیں،اُن تمام پر حکمت وبصیرت سے بھرپور نگاہ کی شدید ضرورت ہے،جہاں جہاں محسوس ہو،کہ اس طرح کے لوگ غلطی کررہے ہیں،ان ہی کے لب ولہجے میں ان کے ساتھ تعاون کرکے انہیں صحیح صورتِ حال سے آگاہ کیاجائے،انہیں اپنی خدمات فراہم کی جائے، طعن وتشنیع سے گریز کرتے ہوئےاسلام اور مسلمانوں کے مقابلے میں لا کھڑاکرنے کے بجائے،انہیں بڑے توسع،تحمل ،صبر اور برداشت کے ماحول میں سچ اورحق دکھایاجائے، یوں بڑے بزرگوں اور ماہرین ِ میدان سے مشاورت کرکے ،ان کی نگرانی وإشراف میں الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا کو مہذب طریقے سے استعمال کرکے تقریب کی کوششیں کی جاسکتی ہےاور ہمارے اوپر بلاوجہ ‘‘دین کی ٹھیکہ داری’’کا الزام بھی عائد نہ ہوگا۔

نیز مذکورہ شخصیات کی خدمت میں بھی عرض ہے،کہ دینی معاملات میں احتیاط سے کام لیاکریں،جب ایک مرتبہ آپ مذہب کے حوالےسے پہچانے جانے لگے، تو پھر اپنی ذاتی زندگی اور نجی مجالس میں بھی اپنی اس حیثیت کو ملحوظ ِخاطر رکھا کریں،پھونک پھونک کر قدم اٹھایا کریں،تاکہ آپ کے کردارسے دینی اقدار کی مزید سربلندی اور پرچار ہو،ساتھ ساتھ خدائے بزرگ وبرتر کی طرف سے آپ کواجر بھی ملتا رہے،اگر معتدل ومستند اہل علم آپ کی کسی رائے سے اختلاف کریں،تو بلاتردد اس سے ترک فرمایا کریں-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 489971 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
13 Aug, 2016 Views: 772

Comments

آپ کی رائے