میراپاکستان کیسا ہو ؟؟ میرا پاکستان ایسا ہو

(Muhammad Anwar, Karachi)
ملک کی 69سالگرہ گزارنے کے بعد ’’ہماری ویب ‘‘کی جانب سے بھیجے گئے موضوع ’’میرا پاکستان کیسا ہو؟‘‘پر نظر پڑی ۔سوچنے لگا کہ یہ مضمون کا موضوع ہے یا قوم سے سوال۔لیکن ذہن میں آیا کہ سوال کو مقابلہ کا موضوع بناکر دماغ کی دہی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح ہوتے تو وہ یہ بات سوچ کر ہی مرجاتے کہ کس قوم کے لیے ہم نے 20 لاکھ افراد کی قربانی دیکر یہ ملک آزاد کرایا جو 69 سال بعد ملک میں ہنسی خوشی اور ہر قسم کی پابندی سے آزاد ہوکر رہنے کے باوجود یہی سوال کررہی ہے کہ ’’ میرا پاکستان کیسا ہو ؟ ‘‘

شکر ہے کہ مزید چالیس سال گزار کر یہ سوال نہیں کیا گیا ۔ حالانکہ پاکستان تو آئیڈیا نظریہ کی بنیاد پر بنا اور بہت خوب بنایا گیا ۔بہتر ہوتا کہ اس مقابلے کا موضوع ہوتا کہ ’’ میرے ہم وطن کیسے ہوں ؟‘‘۔اس کا جواب ہی موضوع کا جواب ہے ۔

آج 69سال بعد پاکستان نہیں پاکستانی کیسے ہوں یہ ہم کو سوچنا ہے ۔ ہم کو خود اسلامی مملکت کے باسی بن کر اسلامی کے اصولوں کے مطابق جینا ہے جب ہم سب ایسا کریں گے تو پاکستان بھی وہی پاکستان بن جائے گا جو قائد اعظم کا خواب تھا اور ہم سب کی خواہش ۔ معاف کیجیے کہ ہم نے اپنے سیاستدانوں کا انتخاب غلط کرکے ان کے ہاتھوں میں اس ملک کی باگ دوڑ دیکر جو عظیم غلطی کی اسی کی سزا ہم بھگت رہے ہیں کیوں کہ اسی کوتاہی کے باعث ہم سب اس پاکستان کو جو محمد علی جناح کا خواب و خیال تھا کو کھوکر اب اسے زرداری کا ، نواز کا ، عمران کا اور نہ جانے کس کس کا پاکستان بنا چکے ہیں ۔

ارے بھائی اب بھی ہم اپنے وطن کو ویسا ہی ملک بناسکتے ہیں جیسا کہ بانیان پاکستان بنانا چاہتے تھے ۔ ایسا ملک جو حقیقی اسلامی ملک ہو ، جہاں انصاف ، امن ہو اور چادر اور چہاریواری کاتحفظ ہو ۔ بس ہم سب کو اپنی خواہشات کی غلامی سے آزاد ہوکر سب سے پہلے اس میڈیا سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا ۔ جس میں کوئیز پروگرام کے نام پر انعام گھر دکھائے جاتے ہیں ۔ جس میں خبروں کے بجائے صحافت کا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔جس کے اشتہارات میں ’’ داغ اچھے ہوتے ہیں ‘‘ کا سبق دیکر قوم کے بچوں کا داغدار کیا جاتا ہے ۔
ہم سب کو ایسا پاکستان چاہئے جس میں جج صاحبان مضحکہ خیز ریمارکس دینے کے بجائے سنجیدہ اور سخت حکم دیں ۔جہاں پولیس polite ,Obedient, Loyal ,Intelligent ,Clever ,Efficient ہوجائے جہاں حکمران اپنے آپ کو عوام کے خادم سمجھیں نا کہ عوام کو اپنے غلام ۔ ایسا ہی ملک ہمارا پاکستان ہوگا ۔مگر اس کے لیے ہم کو دوسروں کا احساس اور ان کے حقوق کا بھی خیال کرنا ہوگا وہ حقوق جو اسلامی تعلیمات مین بیان کیے گئے ہیں۔پھر ہم فخر سے کہہ سکیں گے کہ ’’ ہم پاکستانی ہیں ‘‘۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Anwer

Read More Articles by Muhammad Anwer: 179 Articles with 107032 views »
I'm Journalist. .. View More
17 Aug, 2016 Views: 762

Comments

آپ کی رائے