سفر نامہ(دبئی جانے والے افراد ضرور پڑھیں)

(Shahid Raza, )
پورے خاندان میں یہ بات آگ کی طرح پھیل گئی تھی کے میرا دبئی کا ویزہ لگ گیا ہے اور یہ بات صحیح بھی تھی کیوں کہ میں نے ۳ ماہ کا ویزہ لگوایا تھا 32000 روپے میں ،پہلے ارادہ تھا ایک ماہ کے لئے جاؤں پھر میں نے سوچا ایک ماہ تو میں راستے یاد کرنے میں گذار دوں گا 3 ماہ کا ویزہ لیا اور فروری کے مہینے میں Air Blue کی فلائیٹ سے رات 11:30 پر دبئی کے لئے روانہ ہوا(Air Blue کا ٹکٹ
25000 کا لیا تھا)رات ایک بجے دبئی پہنچا اور تمام ایئر پورٹ کے معاملات طے کرتے کرتے ۱ گھنٹہ لگ گیا ایئر پورٹ بہت خوبصورت تھا اور سیکورٹی بھی اچھی تھی کیوں کے میں پہلی بار گیا تھا مجھ کو راستے نہیں پتا تھے ،پاکستان میں ایک دوست نے ایک بندے کا نمبر اور ایڈرس دیا تھا کے دبئی میں جا کر ان سے ملنا وہ آپ کو Bed Space دے دیں گے اب جب میں ایئر پورٹ سے باہر آیا تو میرے پاس دبئی کی سم نہیں تھی کے میں اُس بندے سے رابطہ کرتا اور رات کے ۲ بج رہے تھے میں نے اﷲ کا نام لیا اور ائیر پورٹ سے باہر آیا ٹیکسی مل گئی میں نے اُس کو اپنا مسئلہ بیان کیا وہ کوئی ہمارا پٹھان بھائی تھا اُس نے اپنے نمبر سے اُس بندے کو فون کیا اور ایڈرس لیا اور پھر میرا دبئی کا سفر شروع ہو گیا،مجھ کو پٹھان بھائی نے اُس بندے کے پاس پہنچایا اوروہاں ٹیکسی کا کرایہ طے نہیں ہوتا میٹر چلتے ہیں میرا کرایہ بنا 18 درھم جو میں دے کر اپنےBed Space پر پہنچ گیا تھکا ہوا تھا سُو گیا پہلی صبح دبئی میں ہوئی سب کام پر گئے ہوئے تھے شام کو Bed Space کے مالک سے ملاقات ہوئی اور اُس نے جگہ،گدا اور تکیہ کے 465 درھم لئے ،میں باہر چلا گیا تو وہاں سڑکوں پر گھوما پھراوہاں بسیں بھی چلتی ہیں اور میٹرو ٹرین بھی ،میں نے50 درھم کا کارڈ لیا کیوں کے وہاں کارڈ سسٹم ہے پیسے بس والے کو یا ٹرین والے کو نہیں دئیے جاتے جب آپ کا سفر شروع ہو یا ختم ہو دونوں دفعہ کارڈ کو مشین کے ساتھ Touchکرتے ہیں پیسے کٹ جاتے ہیں آپ کے کارڈ میں جب 8 درہم رہ جائیں تو آپکو کارڈ میں دوبارہ لوڈ کروانا پڑتا ہے 5 درھم سے آگے جتنا آپ کی مرضی،اس کے علاوہ میں نے وہاں کی مارکیٹ دیکھی جیسے One to Ten جہاں ہر چیز ۱سے ۱۰ درھم کی ملتی ہے مارکیٹ اچھی ہے چیزیں بھی اچھی مل جاتی ہیں،یہ میرا پہلا دن تھا دوسرے دن سے میں نے جاب کی کوشش شروع کی پہلے میں نے اپنے جاننے والوں کو CV دی لیکن کوئی کام نہیں بنا کیونکہ وہاں کسی کے پاس وقت نہیں ہے کوئی راستہ بتانے والا مدد کرنے والا وہاں نہیں ملا جس کو دیکھا بس اپنے ہی بارے میں سوچتا نظر آتا ہے اس لئے اگر آپ دبئی جا رہے ہیں تو سوچ کر جائیے گا اپنی مدد آپ کے تحت آپ کو کام کرنا ہے۔ابھی مجھ کو دو دن ہوئے تھے اور میں پریشان تھا کیوں کہ میں کچھ نہیں جانتا تھا وہاں پر،اسی دوران اﷲ نے امید کی ایک کرن روشن کی اور ایک میرا دوست بنا محسن کاظمی جو جاب کی تلاس میں آیا تھا لیکن ۲ سال پہلے جاب دبئی میں کر چکا تھا پھر پاکستان چلا گیا اب دوبارہ واپس آیا تھا وہ بھی جاب کی تلاش میں تھا میری ملاقات ہوئی اور دوستی ہو گئی اور پھر ہم ساتھ جاتے تھے وہ بھی خوش تھا کے کوئی ساتھی مل گیا اور میں بھی خوش تھا کے راہنما مل گیا ۔صبح ہم لوگ جاب کی تلاش کرتے رات کو گھومنے نکل جاتے،اُس کے پاس Driving Liecence تھا اس لئے ایک ماہ میں اُس کو جاب مل گئی لیکن میں اب مکمل طور پر راستے جان چکا تھا میں اکیلا ہی اپنی کوشش میں لگا رہا اور اس کوشش میں میں اجمان،شارجہ،اور دبئی میں جاب کی تلاش جاری رکھے ہوئے تھا وہاں مسجد میں نماز پڑھتا اور پیش نماز سے گذارش کرتا کے جاب دلوانے میں میری مدد کریں اور اُن کی کوشش سے ایک ڈاکٹر صاحب کے پاس جاب مل گئی Accounts کی ،یہ بات بھی میں آپ کو بتاتا چلوں وہاں جاب کرنا بہت مشکل کام ہے اتنا کام کرواتے ہیں کے بندہ ایک ماہ میں ہی ۱ یا ۲ بار بیمار ہو جاتا ہے ڈاکٹر صاحب بھی فرماتے تھے صبح آٹھ بجے سے ۱۱ بجے تک ،پورے ہفتے کوئی چھٹی نہیں ،کام کام اور صرف کا م تنخواہ 1800درھم ،1800 میں 500 درھم Bed Space کا ،400 درھم Convence کا اور 400 درھم کھانے کا ،تقریباً 1500 درھم کا خرچہ تھا میرے پاس بچتے تھے 300 درھم پاکستانی 9000 روپے میں نے سوچا اس سے پاکستان میں میرے گھر والوں کا کیا بنے گا میں نے ۲۰ دن جاب کی اور پھر جاب چھوڑ دی اور دوسری جاب کی تلاش شروع کی کیوں کہ پہلی بات کوئی بھی چھٹی نہیں تھی دوسری بات پیسے بھی کم دے رہے تھے میں نے پھر کوشش شروع کی اور کئی کام کر کے دیکھے مثلاً فیکٹری میں جاب کی ،سیلز میں کام کیا ،پھر بھی کہیں بھی ایسا نہیں ہوا کے میں وہاں اور میرے گھر والے یہاں خوش ہوں نہ ذہنی اعتبار سے نہ مالی اعتبار سے،اور یہ بات بھی میں آپ کو بتا دوں کہ پاکستان میں،میں لیکچرار تھا تو میں اسی کوشش میں تھا کے اپنی فیلڈ کی جاب مل جائے اس سلسلے میں میں نے وہاں ٹیوشن بھی پڑھائی کام بہت کئے لیکن کہیں بھی وہ مزہ وہ سکون نہیں ملا جو مجھ کو اپنے ملک میں کام کر کے آتا تھا۔

جاب کا انداز
دبئی میں صبح سے رات تک کی جاب کرنی ہے وہاں کوئی چھٹی ویسے نہیں کر سکتے ایک دن بروز جمعہ وہاں چھٹی ملتی ہے باقی دن آپ کو کام کرنا ہے آپ ہمیشہ اچھا کام کریں کوئی تعریف نہیں کرے گا لیکن اگر آپ نے ایک کام بھی غلط کر دیا تو آپ کو خطاب ملے گا آپ کو تو کچھ آتا ہی نہیں آپ تو کچھ کر سکتے ہی نہیں وغیرہ وغیرہ،الحمد ﷲ میں ایک سچا پاکستانی ہوں خدا کے علاوہ نہ کسی سے ڈرتا ہوں نہ کسی کی سُنتا ہوں مجھ سے اس طرح کسی نے بات نہیں کی لیکن ہاں میرے سامنے میرے پاکستانی بھائیوں کو کہا گیا جو رات دن کام کرتے تھے کہ آپ کام صحیح نہیں کرتے آپ کو کام آتا نہیں اور میں دیکھتا تھا اور میں دیکھتا تھا ہمارے پاکستانی جن کا جوش اور جذبہ پوری دنیا جانتی ہے وہ خاموشی سے اُن کی باتیں سنتے تھے نہ جانے اُن کی کیا مجبوری تھی ۔حکومت ِ پاکستان اس بات پر توجہ فرمائے اور کوشش کریں کے اپنے ملک میں اتنے وسائل پیدا ہوں کے ہم کو دوسرے ملک جاب وغیرہ کے لئے نہ جانا پڑے۔

کھانا پینا اور رہائش
چائے وہاں ایک درھم کی ملتی ہے ،ناشتہ میں پراٹھا اور چنے مل جاتے ہیں 4 درھم میں دوپہر اور رات کے کھانے کے لئے 6 درھم چاہیں آپ کو نارمل زندگی گذارنے کے لئے۔رہی بات رہائش کی تو وہاں آپ کو ایک بیڈ پر اپنی زندگی گذارنی ہے،کھانا خود بھی بنا سکتے ہیں،روم والوں کے ساتھ مل کر بھی کھا سکتے ہیں اور باہر سے لا کر بھی کھا سکتے ہیں میری نظر میں باہر سے لا کر کھانا کھانا بہتر ہے،اور کوشش کریں کے روم کسی پاکستانی بھائی کا لیں تا کہ اگر خدا نخواستہ کوئی طبیعت وغیرہ خراب ہو جائے تو وہ آپ کا خیال رکھ سکیں میں جن کے پاس رہتا تھا وہ انڈین تھے اس وجہ سے مجھ کو مشکل ہو جاتی تھی،مثلاًباہر جاؤ تو UAEکے قانون اور روم میں آؤ تو روم والے کے قانون کب لائٹیں بند کرنی ہیں کب AC کھلے گا کب Fan چلے گا ،کب کھانا بنے گا وغیرہ وغیرہ۔(دبئی میں گیس نہیں ہے سیلینڈر میں کھانا بنتا ہے اس لئے احتیاط سے کام کریں)

گھومنے پھرنے کا انداز:
وہاں آپ جہاں بھی جائیں ۵ درھم جانے کے لگتے ہیں ۵ درھم آنے کے لگتے ہیں اور باقی سفر آپ کو پیدل کرنا پڑتا ہے ورنہ بس پر جائیں گے تو دوبارہ پیسے دینا پڑیں گے اس لئے دبئی جانے والے پہلے پاکستان میں ہی چلنے کی پریکٹس کر لیں ۔وہاں گرمی بہت پڑتی ہے اگر آپ کو نہاناہے تو رات کا انتظار کریں جب ٹنکی کا پانی ٹھنڈا ہو جائے ورنہ دن میں نہانا نا ممکن ہے۔گھومنے پھرنے کی جگہیں وہاں بہت ہیں اور ویسے دیکھا جائے تو UAEبہت خوبصورت ملک ہے.

پاکستان کی یاد:
کسی بھی خاص موقع پر،کسی بھی تہوار پر یا جمعہ چھٹی والے دن پاکستان کی بہت یاد آتی ہے گھر والے ،رشتہ دار بہت یاد آتے ہیں۔

دبئی جانے سے پہلے یہ کام کر لیں:
آپ اگر دبئی جانا چاہتے ہیں مجبور ہیں تو پھر آپ دبئی جانے سے پہلے4 چیزیں نوٹ کر لیں۔
۱)Ms Office ۲)Web Desiging ۳)Grafix Desiging ۴)Air Tickting وغیرہ کے کورس کر لیں یہ آپ کو فائدہ دیں گے جاب ملنے میں بہت آسانی ہو جائے گی۔لیکن ایک بات بتا دوں ایک بار پھر، اپنی کمر کس کر جائیے گا وہاں ہر قسم ہر ملک ہر تہذیب کے افراد ہوتے ہیں جن کے ساتھ زندگی گذارنے کے لئے آپ کو Manage کرنا پڑے گا۔

قانون:
وہاں کے قانون بہت سخت ہیں مثلاً سڑک کب اور کہاں سے پار کرنی ہے،کسی سے لڑنا نہیں ہے،بس اور ٹرین پر سفر کرتے وقت کارڈ ضرور Punch کرنا ہے وغیرہ وغیرہ،یہ قوانین جاتے ہی آپ کسی بھی پاکستانی سے پوچھ سکتے ہیں تا کہ آپ پر جرمانہ نہ ہو،اور وہاں سب اُردو بولتے اور سمجھتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کے آپ وہاں کسی پر اعتماد کریں میرے خیال سے پردیس میں کہیں بھی، انسان کو اپنے سائے سے بھی ڈرنا چاہئے۔(نوٹ:میرے حساب سے جو بھی ۳ماہ کے لئے دبئی جائے اُس کے پاس 3000 درھم ہوں اور ایک ماہ کے لئے 1500درھم ہوں وہاں کسی سے امید نہ رکھیں مشکل میں کوئی کام نہیں آئے گا)

نتیجہ:
بہر حال میں دبئی گیا وہاں رہا جاب تلاش کی ویزہ بھی مل گیا لیکن کوئی بھی کام میرے مطلب کا نہیں تھا کیوں کہ میں 1996سے پڑھانے کی فیلڈ سے منسلک میں ہوں،میں پڑھانا چاہتا تھا اور الحمد ﷲ پڑھایا بھی لیکن دل بے چین تھا کے میں اپنے علم کا فائدہ کسی غیر ملک میں کیوں صرف کروں پیسے کے لئے ،تو اس سے زیادہ پیسا اور عزت تو پاکستان مجھ کو دے رہا ہے اور میں بھی پاکستان میں خوش ہوں کے میرا علم میرے اپنے بچوں پر صرف ہو رہا ہے۔ پردیس جا کر احساس ہوا کے اپنا ملک کیا ہوتا ہے،پھر جا کر پتا چلا قائد اعظم،علامہ اقبال،سر سید احمد خان،چوہدری رحمت علی،لیاقت علی خان ،فاطمہ جناح وغیرہ کیوں چاہتے تھے کہ ایک اپنا ملک ہو جہاں ہم مسلمان پاکستانی بھائی مل جُل کر ہنسی خوشی رہیں ۔آخر میں دعا کرتا ہوں مولی تمام پاکستانیوں کی حفاظت کرے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Raza

Read More Articles by Shahid Raza: 162 Articles with 152178 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Aug, 2016 Views: 966

Comments

آپ کی رائے