وہ ایک سمندر تھے - مولانا ابوالاعلیٰ مودودی

(Munir Bin Bashir, Karachi)
ستمبر کا اختتام ہے - تیسرا ست روزہ شروع ہو چکا ہے - موسم میں بھی تبدیلی کے آثار ہیں - صبح سویرے خنکی کا احساس ہو تا ہے - کچھ پھولوں کا سیزن ختم ہو رہا ہے اور کچھ نئے قسم کے پھول کھل رہے ہیں - یہ پھول اصرار کر رہے ہیں - یہ موسم ضد کر رہا ہے کہ اسلام کی عالم فاضل شخصیت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی رحمت اللہ علیہ - بانی جماعت اسلامی - کا تذکرہ کیا جائے جو اسی ماہ کے تیسرے ست روزے یعنی 25 ستمبر 1903 کو اورنگ آباد حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے اور 76 برس کی عمر میں اسی تیسرے ست روزے یعنی 22 ستمبر 1979 کو امریکہ میں اس جہان فانی سے رخصت ہوئے -

وہ ایک سمندر تھے
علم و حکمت کے اجالوں کا - شعور و آگاہی کی روشنیوں کا - دانش و فہم کی ضیاؤں کا -

میں ہر سال کوشش کرتا ہوں کہ اس سمندر میں اتروں اور انکے بارے میں کچھ موتی چن کر لاؤں لیکن میں کہاں اور ان کی عظمت کہاں - ناکامی ہی میرے دامن میں آتی ہے - اور آج بھی یہی ہوا - اب میں نے یہی سوچا ہے کہ ان کی یادوں کو ہی اپنی یاد میں لاؤں - - لوگ کیا کہتے ہیں وہی لکھ دوں

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی دو مرتبہ زیارت کا موقع اچھرہ میں ملا -لیکن ان سے پہلی واقفیت کتاب 'پردہ ' کی وساطت سے ہوئی - کتاب پڑھ کر میں دنگ رہ گیا کہ ایک بات کے حوالے دینے کے لئے آدھا صفحہ صرف کر دیتے تھے -

اسی پسندیدگی کے سبب ' میں نے انکی بے تحاشہ کتابیں پڑھ ڈالیں خصوصاً وہ کتب جو سوالاً جواباً تھیں‌ - اسلام کے بارے میں کافی آگہی ملی - مولانا مودودی کے بعد مولانا وحید الدین کی کتب سے استفادے کا موقع ملا تو اسلام ایک دوسرے زاوئیے سے آشکارا ہوا اور وہ امور جن کے بارے میں مولانا مودودی صاحب کی کتب پڑھ کر تذبذب کا شکار تھا سے آگاہی ہوئی - آخر امام ابو حنیفہؒ نے بھی تو فرمایا تھا “ جس پر ہم ہیں وہ ایک رائے ہے کسی کو اس پر مجبور نہیں کرتے اور نہ یہ کہتے ہیں کہ اس کا قبول کرنا کسی پر واجب ہے- “ اس کے باوجود مولانا مودودی کے علمی پہلو کو کسی بھی لحاظ سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا -
ایک مرتبہ سنگا پور میں واقع کسی ویب سائٹ میگزین کو قارئین کے اسلام سے متعلق سوالوں کے جواب دینے کے لئے کچھ افراد کی ضرورت پڑی تو انہوں نے مطلوبہ افراد کے انتخاب کے لئے آن لائن کیمرے کے سامنے ایک ٹیسٹ کا انتظام کیا -یہ اوپن بک ٹیسٹ تھا - ( یعنی کتابیں کھول کر جوابات دئے جاسکتے تھے لیکن کسی سے پوچھنے کی اجازت نہ تھی ) میں نے مولانا کی سب کتابیں اپنے سامنے رکھ لیں اور اس ٹیسٹ میں کمپیوٹر کا کیمرہ آن کر کے بیٹھ گیا - ان کے ٹیسٹ کا رزلٹ آیا تو کہا گیا کہ آپ کا ٹیسٹ دینے کا انداز دیکھ کر منتخب کیا جاتا ہے - لیکن سوالوں کے جواب اسی انداز میں اسی طرح حوالے دے کر دیا کریں - میرے علاوہ کچھ اور افراد بھی منتخب ہوئے تھے - قارئین کی طرف سے عموماً وہی عام قسم کے سوال ہوتے تھے جو کئی عشروں سے کئے جارہے ہیں - تاہم ویب سائٹ کے ناظرین میرے جوابات سے مطمئن تھے - حالانکہ ان جوابات میں میرا کچھ حصہ نہیں تھا -یہ تو مولانا مودودی رحمت اللہ علیہ کی کتب سے حاصل کئے ہوئے جواب ہوتے تھے -

مولانا عبدالوحید خان بھارت کے سیاسی نظریات ‘ جماعت اسلامی سے مختلف ہیں لیکن وہ جماعت اسلامی کے ایک مخلص کارکن کی جد و جہد کا قصہ لکھتے ہیں ----

پاکستان بننے کے بعد بھارت میں جماعت اسلامی تقریبآ ختم ھی ھو گئی تھی لیکن جو مخلص کارکنان تھے انہوں نے اپنی محبت ختم نہ کی -انھی میں ایک نام عبدالغفار ندوی کا ھے -
مولانا وحیدالدین خان کہتے ہیں کہ انکی مولانا عبدالغفار ندوی سے 1948 میں ملاقات ھوئی تھی - پورے لکھنو میں جماعت اسلامی کے وہ واحد رکن تھے - لیکن اس کے باوجود وہ اپنی جماعت کا اجتماع کر وایا کرتے تھے - اور وہ اکیلے ہی اس میں شریک ھوتے تھے - خود ہی جماعت اسلامی کی کتاب پڑھتے اور خود ہی سنتے - ان کی اکیلی ذآت کے سوا وہاں کوئی ممبر ہی نہ تھا - جب مولانا وحید ان مولانا عبدالغفار ندوی سے ملاقات کو گئے تو وہ اسی قسم کے اجتماع کی تیاریاں کر رھے تھے - مولانا عبدالغفار ندوی نے ان سے بھی اجتماع میں شرکت کی دعوت دی - مولانا وحیدالدیں اس اجتماع کے لئے رک گئے - اس اجتماع میں اس روز دو افراد نے شرکت کی ایک مولانا وحید الدیں خان اور دوسرے مولانا عبدالغفار ندوی - مولانا ندوی نے مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کی کسی کتاب کا ایک حصہ پڑھا - اجتماع میں اضافے کا اللہ کے حضور میں شکر ادا کیا اور یوں اجتماع اختتام کو پہنچا -
آج (1994)لکھنو میں جماعت اسلامی کے پانچ اجتماعات ھوتے ہیں ان میں
شر کاء کی تعداد اب ڈیڑھ ھزار تک جا پہنچی ھے

(حوالہ الرسالہ دسمبر 1994 صفحہ 34)

میں نے ان کا تذکرہ بطور اسکالر یا عالم کے کیا ہے -

لیکن جب سیاست کے میدان میں ان کے بارے میں قلم چلانے لگتا ہوں تو قلم ذہنی الجھنوں کا شکار ہو جاتا ہے اور میں خود بھی - بہتر ہے کہ اسے نہ ہی چھیڑوں - چنانچہ سیاست کے چٹیل ، بے آب و گیا میدانوں سے نکل کر ان کے علم سے لہلہائے ہوئے پھولوں کے تختوں پر چلتے ہوئے ان کے لئے دعائے مغفرت کے لئے ہاتھ اٹھا دیتا ہوں
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 103 Articles with 178983 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More
23 Sep, 2016 Views: 1681

Comments

آپ کی رائے