آپ بیتی قسط 3

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
ایسا تب ہی ہو سکتا ہے جب حکمران اسلام نافذ کریں جبکہ حکمران خود ہی اسلام کے فرائض و واجبات پرعمل نہیں کرتے دوسرے لوگوں کو کیا ہدایت کریں گے یا اسلامی قوانین پر عمل درامد کرائیں گے
جب شان کریمی جوش میں ہو رحمت کی ہوائیں چلتی ہیں
تقدیریں غم کے ماروں کی اک جنبش لب سے بدلتی ہیں

الحمدللہ میں صاحب کرامت ہوں اس بات کو میں بہتر انداز میں سمجھا نہیں سکتا مگر کوشش تو کی جا سکتی ہے چنانچہ جب میں 2010 میں سوتا ہوں تو جب میں بیدار ہوتا ہوں تو 2005 میں اپنے آپ کو پاتا ہوں اور اس بات کا مجھے آہستہ آہستہ علم ہوتا ہے کہ میں تو 2010 تک پہلے بھی زندگی جی چکا ہوں اس طرح میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ یا اللہ تیرا شکر ہے تو نے مجھے دوہری زندگی عطا فرمائی ہے اور اس طرح سے تو نے دنیا میں میری عمر میں بھی اضافہ فرما دیا اور رزق میں بھی اور اللہ نے قرآن میں سچ فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کا تقوی اختیار کرتے ہیں نیک اعمال میں مشغول رہتے ہیں ہم ان کو دو مرتبہ اجر عطا فرماتے ہیں اور آخرت میں ان کے لیے ہمیشہ کی جنّت اور عیش و آرام انعام و اکرام ہو گا لھم اجرھم مرتین کے الفاظ آتے ہیں مگر اللہ تعالی نے تو نیک لوگوں کے بارے میں یہ الفاظ بیان فرمائے ہیں مگر میں اپنے اندر نیک لوگوں والی خوبیاں نہیں پاتا مجھ میں بہت سی خرابیاں ہیں کمیاں کوتاہیاں ہیں لیکن میں الحمدللہ جب رات کو سوتا ہوں تو سب کو معاف کرکے سوتا ہوں اورکسی سے اپنی ذات کے لیے بغض نہیں رکھتا ہوں میں اللہ کے لیے ہی محبت کرتا ہوں اور اللہ کے لیے ہی بغض رکھتا ہوں اور میری اندر جتنی بھی صلاحیّتیں ہیں سب کو بروئے کار لا کر نیک بننے کی کوشش کرتا ہوں مگر میں بن نہیں سکتا ہوں تو اللہ تعالی سے خوب دعائیں مانگتا ہوں

یا اللہ یا رحمان بنا دے مجھ کو نیک انسان
دور کردے میرے قرضے تو ہے بڑا مہربان

اور اللہ رب العزّت پر مجھے پورا بھروسا ہے کہ وہ میری دعائیں سنتا اور قبول فرماتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور میرے حالات سے مجھ سے ذیادہ واقف ہے یہ بات میں وثوق سے نہیں کہتا کہ میں کتنے عرصہ کے بعد دوبارہ زندگی جینا شروع کرتا ہوں کیوں کہ جب میں اس چیز کو محسوس کرتا ہوں یعنی دوہری زندگی والی کرامت کو محسوس کرتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں 10 سال کے بعد پانچ سال گزرے ہوئے وقت میں اپنے آپ کو پاتا ہوں یا 12 سال بعد چھ سال گزرے ہوئے وقت میں بیدار ہوتا ہوں یہ مدّت اللہ کو معلوم ہے جیسا کہ اصحاب کہف کے واقع میں جب وہ تین سو نو سال بعد بیدار ہوئے تو انھوں ایک دوسرے سے سوال کیا کہ ہم کتنا وقت سوئے تو انھوں نے کہا کہ ہم ایک دن یا دن کچھ حصّہ سوئے رہے ہیں لیکن جب وہ باہر نکلے تو انھوں نے آثار سے پتا لگایا اوربادشاہ کے دربار میں ان کو چلا کہ وہ تو تین سو نو سال سوئے رہے اور اللہ نے ان کی دعا کو قبولیت بخشی ہے ربنا آتنا من لدنک رحمۃ وحیلنا من امرنا رشدا ۔۔۔ اے ہمارے رب ہمیں اپنی رحمت میں سے حصہ عطا فرمادے اور ہمارے معاملات درست فرما دے اور اللہ تعالی نے ان کے معاملات ایسے درست فرما دیے کہ جب وہ سوئے تھے اس وقت بت پرستوں کی حکومت تھی جو ان کے دین بت پرستی کی مخالفت کرتا تھا اس کو مجرم قرار دے دیا جاتا تھا اور ان کی زندگی تنگ کردی جاتی اور حتی کہ ان کو سزائے موت دے دی جاتی تھی لیکن جب اصحاب کہف بیدار ہوئے تو اس وقت ان کے دشمن صدیوں پہلے گیے گزرے بن چکے تھے اور توحید پرستوں کی حکومت آچکی تھی اور بت پرستوں کو سزائیں دی جاتی تھیں اس طرح سے اللہ نے اصحاب کہف کے معاملات کو درست فرمادیا اور قرآن میں اعلان فرمایا کہ ام حسبتم انّ اصحاب الکھف کانو من آیاتنا عجبا کیا تم گمان کرتے ہو کہ اصحاب کہف ہماری عجیب نشانیوں میں سے تھے ؟ اس آیت کریمہ سے پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ کیا تم یہ گمان کرتے ہوکہ وہ ہماری عجیب نشانیوں میں سے ہیں بلکہ جو بھی ہماری راہ میں مشکل وقت میں خالص ہو کر ہمیں پکارتے ہیں ہم ان کے معاملات درست کردیتے ہیں جب میں یہ دلائل اپنے والدین اور بہن بھائیوں اور قوم اور برادری کے لوگوں کو دیتا ہوں تو اکثر میری بات کو کاٹ دیا جاتا ہے اور میرے دلائل کو یوں رد کر دیا جاتا ہے جیسے میں جھوٹی اور من گھڑت باتیں کر رہا ہوں
عزیز جو میرا چھوٹے بھائی سے اور چھوٹی بہن سے چھوٹا بھائی ہے اکثر میرے ساتھ اس وجہ سے بدتمیزی کرتا ہے اور مجھے مالی جانی اور عزّت کے لحاظ سے نقصان پہنچاتا ہے اور مجھے مارتا بھی ہے اور باقی سب گھر والے اور گاوں والے اس کا ساتھ دیتے ہیں
میں: اے میرے والدین اور بہن بھائیو اللہ تعالی نے مجھے صاحب کرامت بنایا ہے مجھ پر ظلم نہ کرو کیوں کہ اللہ تعالی ظالم لوگوں کے اعمال قبول نہیں فرماتا
عزیز :میں تیری پٹائی کر دوں گا اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں کھانے پینے اور رہنے کودیتے ہیں اس لیے ہمیں کہتے ہو کہ مجھ پر ظلم نہ کرومیں تیرا وہ حال کرو گا کہ ظلم ہوتا کیا ہے تب تمھیں پتا چلے گا میں تجھے اور تیرے بچوں کو مسل کے رکھ دوں گا میں تیرا اور تیرے بچوں کا خون پی جاوں گا
میں : میرے بھائی مجھے تم لوگ پاگل خانے میں داخل کرا دیتے ہو اس لیے میں وہاں کی دوائیوں سے بیمار ہوجاتا ہوں اور کمزوری بہت ہو جاتی ہےاور سارا جسم مفلوج سا ہو جاتا ہے اس لیے جب تک میں صحت یاب نہیں ہو جاتا میں کوئی کام نہیں کرسکتا میرے لیے چلنا پھرنا دشوار ہو جاتا ہے تو میں کام کیسے کروں
عزیز : جب میں کچن میں ہوتا ہوں تو میرے قریب نہ آیا کرو میں گھر کا مالک ہوں تم اپنی اوقات میں رہا کرو کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے
میں : اللہ سے ڈرو بھائی کیا میں تمھارا بھائی نہیں ہوں میں بڑا بھائی ہوں تیرا اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دوں والدین مجھے ٹوک دیتے ہیں کہ تم ادھر اودھر چلے جایا کروہم نے تمھیں علیحدہ برتن دیے ہیں اور علیحدہ کمرہ دیا ہے اس میں ہی رہا کرو
میں : امی جی ابو جی یہ نماز کیوں نہیں پڑھتا یہ بری مجلس میں کیوں جاتا ہے یہ سنّت کے مطابق داڑھی کیوں نہیں رکھتا یہ جہاد کو کیوں نہیں مانتا اسلام اور ملک پاکستان سے غدّاری کیوں کرتا ہے یہ سود کا اور بے حیائی کا رستہ کیوں اپناتا ہے میں بیمار ہوں میرا بس چلے تو اسے زبردستی ان برے کاموں سے روک دوں لیکن کم از کم اس کو تبلیغ تو کرنے دیا کریں
عزیز : تو اپنی نمازوں کو سنبھال ہماری نمازوں کی فکر نہ کر کام کیا کر گھر میں بدمزگی نہ پیدا کیا کرو ورنہ ہم تمھیں پاگل خانے میں داخل کرا دیں گے میں تمھیں گدھا بنا دوں گا اور وہ حال کروں گا جیسے ٹرین کے پیچھے بندھے ہوئے گدھے کا ہوتا ہے کبھی ایدھر اور کبھی اودھر گھسٹتے پھرو گے
اور بعض اوقات تو تو میں میں سے بات بڑھتی بڑھتی ہاتھا پائی اور مار کٹائی تک پہنچ جاتی ہے اور دوسرے گھر والے میرے بازو پکڑلیتے ہیں اور عزیزداڑھی پکڑکر مارتا ہے اور گھسیٹ کر باہر نکال دیتا ہے اور گھر والوں پر رعب جھاڑتا ہے کہ اس کو یہاں سے نکالو یہ سب گھر والوں کو پاگل کر دے گا
میں : عبدالعزیز میں تمھیں جہاد کی نماز کی تلاوت قرآن کی دعوت دیتا ہوں ملک پاکستان اور اسلام سے وفاداری کی دعوت دیتا ہوں اور سود سمیت فرقہ پرستی سمیت جادوگری سمیت تمام کبیرہ گناہوں سے بچنے کی دعوت دیتا ہوں مسلمان وہ ہے جس کے زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ ہے آج تم غیر عورتوں سے ناجائز تعلقات اختیار کرتے ہو اور برے لوگوں کی مجلس میں بیٹھتے ہو اور کل کو لوگ ہماری بہنوں بیٹیوں سے ناجائز تعلقات بنائیں گے تو پھر کیا کرو گے گھر کی عزّت کا خیال کرو کیوں تباہی اور بربادی کے راستہ پر چل رہے ہو
عزیز : تم ہم پر الزام لگاتے ہو ہم عورتوں پر پابندی نہیں لگا تے جیسے ہمارا دل کرتا ہے باہر گھومنے پھرنے کے لیے اسی طرح عورتوں کا بھی دل ہے ویسے بھی آج کے دور میں سب گھروالوں کو کمائی کرنی چاہیے تم بہنوں کو پڑھائی اور نوکری سے کیوں روکتے ہو ہم لیڈیز فرسٹ کے فلسفے کو مانتے ہیں
میں : میرا کہنا فرض ہے مجھے تو تم لوگوں نے ذہنی جسمانی جنسی اعصابی لحاظ سے بیمار کردیا ہے نہ مجھ پر ظلم کیا کرو اللہ کی پناہ جادوگروں کے شر سے فرقہ پرستوں کے شر سے منافقوں اور غدّاروں کے شر سے بے دین دشمنوں کے شر سے
اس طرح سے میں اپنا فرض پورا کرتا ہوں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا مگر ان کے دل دن بدن سخت ہوتے جارہے ہیں اور بے عملی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ابو بھی اب مسجد میں نماز کے لیے نہیں جاتے کیوں کہ نافرمان اور ناخلف اولاد نے جادو کر رکھا ہے اس بات کا مجھے مہینے دو مہینے بعد بتا چلا اور مجھے بڑا دکھ ہوا مگر میں کر کچھ نہیں سکتا کیوں کہ سب ملے ہوئے ہیں میری ساری کوششوں اور وعظ و نصیحتوں کو ناکام بنا دیتے ہیں اور ابو میری ناکامیوں سے ناراض ہو کر مجھے ہی قصوروار سمجھتے ہیں یا وہ لوگ میرے کاروبار کے لیےڈسکہ آ نے کے بعد ابو کو ڈرا دھمکا کر خوفزدہ کردیتے ہیں

مجھ سے ان کی حالت دیکھی نہیں جاتی اور میں اللہ سے دعائیں کرتا رہتا ہوں ان کے لیے ایک دن میں نے ان کی اس قدر خراب حالت دیکھ کر کہا _
ابو آپ کے دل پر بوجھ تو نہیں ہے
نہیں بیٹا میری طبیعت بہت خراب میرے لیے دعا کرو
جی ابو جی اللہ آپ کو شفاء کاملہ عاجلہ عطا فرمائے اسئل اللہ العظیم رب العرش العظیم ان یشفیک
میرے بیٹے مجھے دم کرو مجھے ٹھیک سے نیند نہیں آتی
جی ابو جی اور میں دم کرنے لگ جاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اللہ کی پناہ جادوگروں کے شر سے اللہ کی پناہ منافقوں اور سود خوروں کے شر سے
میرے بڑے بیٹے میرے مرنے کے بعد اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ ظلم نہ کرنا میرا آخری وقت آگیا ہے
ابو جی آپ کی آنکھوں کے سامنے وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میرا مال جان عزت سب کچھ برباد کردیا ہے اور آپ مجھے ہی کہتے ہیں کہ ان پر ظلم نہ کرنا میرا بس چلے تو میں ڈنڈے مارمار کر ان کو راہ راست پر لے آوں اور نماز پڑھاوں
نہیں بیٹا تیرا کہنا فرض ہے وہ پورا کرتے ہی ہو نا دین میں زبردستی نہیں ہے ابو جی آپ بھی سیکولر بےدین لوگوں والے عقیدہ کو اہمیّت دیتے ہیں
یہ جو لوگ کہتے ہیں دین میں زبردستی نہیں ہے اس کا تو یہ مطلب نکلتا ہے کہ انسپکٹر صاحب گھر گھر جاکردروازہ کھٹکھٹا کر کہتا پھرے کہ اے فلاں آدمی براہ کرم قانون کا احترام کیا کرو
کسی اسلامی ملک کا انسپکٹر لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے گھر گھر جا کر دروازہ کھٹکھٹا کر کہتا پھرے کہ بھائی صاحب براہ کرم نماز پڑھا کرو یہ اللہ کا حکم ہے اس کو پورا کرنا ہم سب کا فرض ہے نہیں بلکہ اسلامی قانون پر سب کو عمل درامد کرانے کے لیے انسپکٹر صاحب کو یقیناّّ زبردستی کرنی ہوگی کہ جو آدمی نماز نہیں پڑھے گا اس کو تین درّے لگائے جائیں گے یا اس کو اتنا عرصہ قید کیا جائے گا
ابو : ہاں بیٹا ایسا تب ہی ہو سکتا ہے جب حکمران اسلام نافذ کریں جبکہ حکمران خود ہی اسلام کے فرائض و واجبات پرعمل نہیں کرتے دوسرے لوگوں کو کیا ہدایت کریں گے یا اسلامی قوانین پر عمل درامد کرائیں گے
میں : جی ابو واقٰعی یہ ہمارے حکمرانوں کی غفلت ہے کیوں کہ ہمارے حکمران اللہ سے ڈرتے ہی نہیں ہیں بلکہ امریکہ سے ڈرتے ہیں اس لیے امریکہ کی خوش نودی حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اوپر سے ہمارے دانشور تجزیہ نگار حکمرانوں کو ڈرانے میں لگے رہتے ہیں کہ امریکہ کو سپر پاور مانے بغیر کوئی حکومت نہیں چل سکتی جو امریکہ کو سپر پاور نہیں مانے گا اس کا حشر ضیاء الحق جیسا ہوگا شاہ فیصل جیسا ہوگا جان سب کو پیاری ہوتی ہے اب اپنے آپ کو قربانی کا بکرا بنانے والی بات ہے امریکہ کی نافرمانی کر کے شرط لگا کر دیکھ لیں تجربہ کرکے دیکھ لیں اسلام کی بات کرنے والے جب پولیس آتی ہے اور مقرر اور واعظ کو پکڑ کر لے جاتی ہے تو جلسہ میں چاہے لاکھوں کا مجمع ہو سب پتلی گلی سے اپنے اپنے گھر کی راہ لیتے ہیں اور حکمرانوں تم اگر امریکہ کی نافرمانی کرو گے تو کوئی سیاست دان کوئی پولیس کوئی فوج تمھیں نہیں بچائے گی سب اپنی اپنی جان کی فکر میں لگ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 40 Articles with 32275 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Nov, 2016 Views: 1396

Comments

آپ کی رائے