انہالیشن

(Shahid Shakeel, Germany)
دنیا بھر میں پھیلی کئی بیماریوں کا علاج ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا ہے تاہم محقیقین ریسرچ میں مصروف رہتے ہیں کہ ہر بیماری کا فوری علاج دریافت کیا جائے ،دنیا بھر میں کئی افراد اپنی زندگی میں کبھی کسی حکیم یا معالج کے پاس نہیں گئے کہ مجھے نزلہ زکام ،کھانسی یا بخار ہے اور ہمیشہ اس بات پر انحصار کیا ہے کہ قدیم گھریلو علاج ہی بہت سی عام بیماریوں کا حل اور صحت کی ضمانت ہے کیونکہ اکثر و بیشتر محقیقین کی ریسرچ بھی اس بات پر متفق ہے اور تلقین کرتی ہے کہ عام بیماریوں میں کسی معالج سے رجوع کرنے کی بجائے قدیم گھریلو علاج سے ہی کئی بیماریوں سے چھٹکارہ پایا جا سکتا ہے مثلاً پیاز،اور شہد کو محقیقین اور معالجوں نے عام نزلہ زکام و کھانسی کا بہترین علاج قرار دیا ہے ہوم ٹریٹمنٹ کی لسٹ اگرچہ کافی طویل ہے لیکن معالجین کا کہنا ہے سرد موسم میں نزلہ زکام اور کھانسی کا قدیم گھریلو علاج ہی صحت یابی کی ضمانت ہے،دوسری طرف ماہرین اکثر شکوک وشبہات میں بھی مبتلا رہتے ہیں کہ کیا واقعی قدیم گھریلو علاج انسانی جسم کے لئے مفید ہے یا محض ایک کہانی گڑھی گئی ہے،بہرکیف حقائق کے پیش نظر موسم سرما میں دنیا کا ہر فرد عام طور پر کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہوتا ہے وہ معمولی نزلہ زکام اور کھانسی بخار ہو یا سیریس بیکٹیریل انفیکشن ہو جائے کسی بھی صورت میں علاج لازمی ہوتا ہے۔جرمنی کے شہر بریمن کے ایک جنرل پریکٹیشنز ہنس مائیکل جو فیملی ڈاکٹرز یونین کے صدر بھی ہیں کا کہنا ہے کہ نزلہ زکام اور کھانسی سرے سے کوئی بیماری ہے ہی نہیں بلکہ انسانی جسم ،اعضاء اور محرکات کا رد عمل ہے بیکٹیریا کا ری ایکشن ہے جو چند دن جسم کے اندر رہتا ہے اور انسان کو جسمانی و نفسیاتی طور پر الجھن میں مبتلا رکھتا ہے تاکہ انسان انفیکٹڈ ہونے کے بعد دوبارہ صحت مند ہو یعنی یہ ایک مثبت اور بامعنی رد عمل ہے اور ہر انسان کے لئے ضروری بھی ،یہ جسم کا ایک نیچرل ریفلیکس ہے تاکہ جتنی جلدی ہو سکے تمام جسمانی جراثیم انسان کے جسم سے اخراج کریں اور ان جراثیم کے اخراج کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے وہ سانس کی نالیوں کو صاف کرتے ہوئے اور اس دوران نزلہ زکام میں مبتلا کرتے اور کھانسی کے دورے سے آغاز کرتے ہوئے رفتہ رفتہ مکمل طور پر ختم ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر مائیکل کا کہنا ہے تین چار دن انسان تکلیف میں مبتلا رہتا ہے اور ہر طرح سے علاج کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے لیکن ان جراثیم کی ایک ٹائم لمٹ ہوتی ہے مخصوص وقت پر شروع ہوتے اور اپنی حدود کو تجاوز کرنے کے بعد ختم ہوجاتے ہیں لیکن یہ تین چار دن انسان کے لئے شدید کوفت کا باعث بنتے ہیں۔نزلہ ،زکام،کھانسی اور بلغم کو کم کرنے کا آسان طریقہ انہالیشن ہے اگر آپ کے پاس انہیلر مشین نہیں ہے تو قدیم علاج کو آزمایا جائے یعنی کسی برتن میں گرم پانی ڈالیں اور میڈیکل سٹور پر دستیاب وِکس ویپورب کاآدھا چمچ پانی میں ملانے کے بعد سر اور منہ کو کسی تولئے سے ڈھانپنے کے بعد گہری اور لمبی سانسیں لیں جب تک بھاپ خارج نہ ہو جائے یا پانی ٹھنڈا ہونے تک یہ عمل جاری رکھیں ہر تین چار گھنٹے بعد انہالیشن کریں کیونکہ اس عمل سے سانس کی نالیوں کے جراثیم خارج ہونگے اور نزلہ زکام اور بلغم میں کمی واقع ہوگی بدیگر صورت کسی ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے یا مشین کی پیکنگ میں درج ہدایات پر عمل کریں اور ہمیشہ بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔ڈاکٹر کا کہنا ہے مینتھول بھی قدیم علاج ہے ،کئی جڑی بوٹیوں سے اگرچہ الرجی ہو سکتی ہے لیکن عام طور پر جڑی بوٹی بھی سردی کی بیماریوں کا علاج ثابت ہوتی ہیں ۔پیاز کا رس اور شہد برونچی کی شکایت میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ،پیاز میں شامل کئی خاص اقسام کے قدرتی اروما اور فلیور شامل ہوتے ہیں جو کھانسی کو روکتے ہیں ،پیاز اور شہد کو مکس کرنے اور بعد ازاں ایک سیرپ تیار ہونے پر اسے چمچ سے پیا جا سکتا ہے،محقیقین نے شہد پر طویل ریسرچ کے بعد بتایا کہ موسم سرما میں خاص طور پر شہد کا استعمال کیا جائے کیونکہ شہد نہ صرف انسانی جسم کیلئے مفید غذا ہے بلکہ کئی بیماریوں کی روک تھام میں اہم اکردار ادا کرتا ہے۔ علاوہ ازیں گھریلو علاج کا سب سے بہترین نسخہ یہ بھی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مشروب کا استعمال کیا جائے مثلاً زیادہ سے زیادہ پانی پیا جائے یا عام چائے کے علاوہ آج کل ہر قسم کے پھولوں اور پودوں سے تیار کردہ چائے دستیاب ہے اور مخصوص چائے جسم کو ایکٹو رکھتی ہے جراثیم کو ختم کرنے بلغم کو خارج کرنے اور کھانسی کی روک تھام میں اہم ثابت ہوتی ہے احتیاط لازمی ہے کہ اگر کسی کو گردوں کی بیماری یا امراض قلب میں مبتلا ہے تو کسی قسم کی اشیاء کو استعمال کرنے سے قبل فیملی ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے تاکہ وہ مخصوص غذاؤں کی ترکیب استعمال کا طریقہ بتا سکے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Shakil

Read More Articles by Shahid Shakil: 250 Articles with 156487 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Nov, 2016 Views: 575

Comments

آپ کی رائے