جنرل راحیل کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔

(Maemuna Sadaf, Rawalpindi)
پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی مدت ِ ملازمت چند دنوں میں اپنے اختتام کو پہنچنے والی ہے ۔ جنرل راحیل شریف پاک فوج کے مشہور ترین, طاقت ور ترین سربراہ اور عوام کے دلوں پر راج کرنے والے جرنیلوں میں سے ایک ہیں ۔ جنرل راحیل شریف نے اپنی ملازمت کا آغازسن oct1976 میں کیا ۔جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کے سربراہ کی حیثیت سے 26 NOV 2013 منتخب ہوئے ۔جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کے پندرویں سربراہ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں ۔ پاک فوج کا کے سربراہ کی حیثیت سے جنرل راحیل نے ملکی سلامتی اور وقار میں اضافے کے لیے ان گنت کارنامے سرانجام دئیے ۔ جن میں آپریشن ضرب ِ عصب ، افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری ، روس اور چین کے ساتھ تعلقات میں نمایاں بہتری ، کراچی میں امن و امان کی بحالی ، بلوچستان میں جاری نام نہاد تحریک آزادی کو ختم کرنا شامل ہے ۔ جنرل راحیل نے عیدیں اور تہوارآئی ڈی پیز اور ان فوجی جوانوں کے ساتھ منائے جو اپنے گھروں سے دور ملک کی سلامتی کے لیے دہشت گرد عناصر کے ساتھ جنگ میں مصروف ِ عمل ہیں ۔

جنرل راحیل نے جب فوج کے سربراہ کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا اس وقت سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کی جنگ تھا ۔ اس وقت آپریشن ضرب ِ عصب جاری تھا جنرل راحیل کی سربراہی میں اس آپریشن میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ، شوال کے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کروا دیا گیا ۔ کئی علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کردیا گیا جن میں خصوصا وانا اور شمالی وزیر ِ ستان شامل ہیں ۔ وانا اور شمالی وزیر ِ ستان میں حکومت ِ پاکستان کی رٹ بحال ہوئی ۔جنرل راحیل کی سربراہی اور پاک فوج کی نمایا ں کامیابیوں کی وجہ سے ملک میں جاری بم دھماکوں اور دہشت گردی کی لہر میں کمی واقع ہوئی ۔بلوچستان میں بھارت کی کی سرگرمیوں اور بھار ت کی جانب سے نہام نہاد تحریک آزادی ِ بلوچستان کو کچل کر ملک کو مزید ٹکرے ہونے سے پچا لیا گیا ۔ کراچی میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنا کر ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنانے کی جانب قدم اٹھایا گیا ۔جنرل راحیل کی مدتِ ِ ملازمت میں سرحد پر ہونے والی دراندازیوں کا منہ توڑ جواب دیا گیا ۔ پہلی بار پاک فوج نے روس کے ساتھ جنگی مشقوں کا آغاز کیا اورروس کے ساتھ نئے معاہدے کئے ۔ روس اور پاکستان کے درمیان فوجی تعاؤن میں خاطر خواہ اضافہ ہو ا۔صرف یہی نہیں پورے ملک میں امن و امان کی حالت بہتر بنا کر گوادر پورٹ کو کام میں لانے کی کوششیں بھی کامیاب ہوئیں اور پہلا تجارتی قافلہ گوادر کے راستے چین روانہ ہوا۔ ان قافلہ کی روانگی اور گوادر کو کام میں لانے کا خواب فوج ہی کی بدولت ممکن ہو سکا ۔ جنرل راحیل شریف کی مضبوط قوت ِ فیصلہ نے پاکستان کو اقوام ِ عالم میں پھر سے سر اٹھا کر جینے کی صلاحیت فراہم کی اور پاکستان کا کھویا ہو اوقار بحال ہوا۔

جنرل راحیل کی عوام میں مقبولیت اور پاک فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافے کی وجہ سے خیال کیا جا رہا تھا کہ ان کی مدت ِ ملازمت میں اضافہ کر دیا جائے گا یا وہ از خود مدت ِملازمت میں توسیع لے لیں گے۔ یہ قیاس آرائیاں میڈیا اور سوشل میڈیا پر خاصی مقبول بھی رہیں ۔ تاہم یہ تما م قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوئیں ۔ جنرل راحیل نے ملازمت میں توسیع سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ اس کا اعلان بھی کیا کہ اس طر ح کی قیاس آرائیوں سے باز رہا جائے ۔میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایاس آرائیوں کے بعد جب جنرل راحیل شریف سے نئے سربراہ کی تقرری کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انھوں نے اس نہایت اہم ملکی معاملے کے بارے میں کسی سوال کا جواب نہیں دیا ۔

جنرل راحیل کی الوداعی ملاقات 25 نومبر کو صدر کے ساتھ الوداعی ملاقات کر یں گے اور 26 NOV 2016 کو پاک فوج کے سربراہ کے عہدے کو نئے چیف کے سپرد کر کے سبقدوش ہو جائیں گے ۔
جنرل راحیل کی مدتِ ملازمت کے خاتمے کے ساتھ ہی یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ پاکستان فوج کی اعلیٰ کمان کی یہ ذمہ داری اب کون سنبھالے گا ؟ پاک فوج کے سربراہ کے لیے منتخب ناموں کی فہرست مندرجہ ذیل ہے لیفٹینٹ جنرل زبیر محمود ، لیفٹینٹ جنرل نجیب اﷲخان ، لفٹینیٹ، لیفٹینٹ جنرل اشفاق ندیم ، جنرل واجدالحسن ، لفٹینٹ جنرل جاوید اقبا ل ، لیفٹینٹ جنرل قمر جاوید باجوہ شامل ہیں ۔

ان تمام افسران میں سینئر ترین لیفٹینٹ جنرل زبیرمحمود ہیں جن کا تعلق آرٹلری سے ہے ۔ جنرل زبیر محمود اپنی ملازمت کے دوران بہاولپور کراپس کے کمانڈر اور ڈائریکڑ جنرل سٹریجیک پلان کے طور پر بھی خدمات سرانجام دی ۔ لیفینٹ جنرل زبیر سابق چیف آف آرمی سٹاف کت دور میں پرنسپل سٹاف آفسر کے طور پر بھی کام کیا ۔

لیفینٹ جنرل زبیر بعد سنیئر ترین آفسر لیفٹینٹ جنرل نجیب اﷲہیں جن کا تعلق انجیئرنگ کور ہے اور حال میں ڈائیریکٹر جنرل جوائیٹ سٹاف کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ لیفٹینٹ جنرل نجیب کوارٹر ماسٹر جی ایچ کیو اور ڈائریکڑجنرل ایف ڈبلیو او بھی رہ چکے ہیں ۔

تیسرے نمبر پر سنیئر ترین آفسر لیفٹینٹ اشفاق ندیم ہیں جو کہ چیف آف جنرل سٹاف رہ چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ ڈائریکڑ جنرل ملٹری آپریشنز کے طور پر بھی اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے اور حال ہی میں ملتان کراپس کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ لیفینٹ جنرل قمر جاوید باجوہ حال میں بہاولپور کراپس کے کمانڈر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ آپ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر بھی رہ چکے ہیں ۔
 
پاکستان میں فوج کے سربراہ کا عہدہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔پورے ملک کی سلامتی ، بقاء اور امن وامان اور سیکیورٹی کی صورت حال بہتر ہونے کے لیے فوج کے کردار سے کسی کو انکار نہیں ۔پاک فوج کے سربراہ کے چناؤ کا فیصلہ وزیر ِ اعظم کو کرنا ہوتا ہے ۔ اب جبکہ فوج کے سربراہ کی تقرری کا عمل قریب آرہا ہے بھارت کی جانب سے سرحد پر جاری دراندازیوں میں اضافہ ہو ا ہے ۔ بھارت کی جانب سے سرحد پر ہونے والی دراندازیوں اور ملکی سلامتی کی صورتحال نے پاک فوج کے نئے سربراہ کی تقرری یا جنرل راحیل شریف کی مدت ِ ملازمت میں توسیع کے فیصلے کو از حد مشکل بنا دیا ہے ۔ بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ پاک فوج ایک انسان کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو سربراہ کوئی بھی ملک کی حفاظت کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں رکھے گا ۔

پاکستان آرمی کے تمام آفسران کے دل جذبہ ء حب الوطنی سے لبریز ہیں ۔ فوجی چاہے وہ افسر ہو یا جوان وطن کی سلامتی عزت اوربقاء کی خاطر اپنی جان کی قربانی تک سے گریز نہیں کرتے ۔نئے سربراہ کوئی بھی ہوں پاکستان کے عوام ان کے ساتھ ہیں اور انھیں خوش آمدید کہتے ہیں ۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maemuna Sadaf

Read More Articles by Maemuna Sadaf: 165 Articles with 92728 views »
i write what i feel .. View More
21 Nov, 2016 Views: 329

Comments

آپ کی رائے