علامہ عبد الرحمن ابن جوزی کی تصنیفی خدمات

(Mirza Hafeez Aoj, )
نام و نسب
آپ کا نام عبد الرحمٰن ہے ـ‘ لقب جمال الدین‘ کنیت ابو الفرج اور ابن الجوزی کے نام سے مشہور ہیں۔ سلسلہ نسب یہ ہے :
عبد الرحمٰن بن ابی الحسن علی بن محمد بن علی بن عبید اﷲ بن عبد اﷲ بن حمادیٰ بن احمد بن محمد بن جعفر الجوزی بن عبد اﷲ بن القاسم بن النضربن القاسم بن محمد بن عبد اﷲ بن عبد الرحمٰن بن القاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیق‘ القرشی التیمی البکری البغدادی الحنبلیاور شیخ عبد الصمد بن ابی الجیش کہتے ہیں کہ یہ بصرہ کے ایک محلہ کی طرف نسبت ہے جس کا نام محلۃ الجوز ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ یہ نہیں بلکہ شہر واسط میں ان کے اجداد کے گھر میں جوز یعنی اخروٹ کا ایک درخت تھا‘ جس کے سوا وہاں اور کوئی اس کا درخت نہیں تھا۔(۱)
پیدائش
آپ کے سن پیدائش میں بھی اختلاف ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ ۵۰۸ھ ہے ۔ اور بعض کا قول ہے کہ ۵۰۹ھ ہے اور بعض کا قول ہے کہ ۵۱۰ھ ہے ۔ خوا ان کی تحریر ملی تھی جس میں لکھا ہوا تھا کہ ’’مجھ کو اپنی پیدائش کا سن ٹھیک معلوم نہیں۔ اتنا معلوم ہے کہ والد صاحب کا ۵۱۴ھ میں انتقال ہوا تھا اور والدہ کہتی تھیں کہ اس وقت تمہاری عمر تقریباً تین برس کی تھی۔ اس بنا پر آپ کا سن پیدائش ۵۱۱ھ یا ۵۱۲ھ ہو گا ۔ آپ بغداد میں درب حبیب میں پیدا ہوئے تھے ۔(۲)
ابتدائی حالات اور تحصیل علم
۵۰۸ء میں بغداد میں پیدا ہوئے ، گویا حضرت شیخ سے ۲۷ سال چھوٹے ہیں، بچپن ہی میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا، جب پڑھنے کے قابل ہوئے تو ماں نے مشہور محدث ابن ناصر کی مسجد میں چھوڑ دیا ‘ان سے حدیث سنی‘قرآن مجید حفظ کیااور تجوید میں مہارت پیدا کی ‘شیوخ حدیث سے حدیث کی سماعت اور کتابت کی اور بڑی محنت و انہماک اور جفاکشی سے علم کی تحصیل کی ‘اپنے صاحبزادہ سے اپنے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
’’مجھے خوب یاد ہے کہ میں چھ’’۶‘‘ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوا، بڑی عمر کے طلبہ میرے ہم سبق تھے ‘ مجھے یاد نہیں کہ میں کبھی راستہ میں بچوں کے ساتھ کھیلا ہوں یا زور سے ہنسا ہوں‘سات برس کی عمر میں جامع مسجد کے سامنے کے میدان میں چلا جایا کرتا تھا ، وہاں کسی مداری یا شعبدہ باز کے حلقہ میں کھڑے ہو کر تماشہ دیکھنے کے بجائے محدث کے درس حدیث میں شریک ہوتا، وہ حدیث و سیرت کی جو بات کہتا، وہ مجھے زبانی یاد ہو جاتی، پھر گھر جا کر اس کو لکھ لیتا، دوسرے لڑکے دجلہ کے کنارے کھیلا کرتے تھے اور میں کسی کتاب کے اوراق لے کر کسی طرف چلا جاتا اور الگ تھلگ بیٹھ کر مطالعہ میں مشغول ہو جاتا۔
میں اساتذہ و شیوخ کے حلقوں میں حاضری دینے میں اس قدر جلدی کرتا تھا کہ دوڑنے کی وجہ سے میری سانس پھولنے لگتی تھی، صبح اور شام اس طرح گزرتی کہ کھانے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا تھا ، مگر اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مخلوق کی احسان مندی سے بچایا۔(۳)
آپ کے والد بچپن میں انتقال کر گئے تو آپ کی والدہ اور پھوپھی نے آپ کی پرورش کی ۔ آپ کے ہاں تانبے کی تجارت ہوتی تھی اس وجہ سے آپ کی بعض قدیم سندوں میں ابن الجوزی الصفار لکھا ہوا ہے ۔ جب آپ بڑے ہوئے تو آپ کی پھوپھی حافظ ابوالفضل ابن ناصر کے ہاں لے گئیں تو آپ نے ان کی طرف توجہ کی اور ان کو حدیث سنائی ۔ بعض کا قول ہے کہ آپ کی ابتدائی تعلیم ۵۱۶ھ میں ہوئی تھی ۔ قرآ ن مجید حفظ کیا اور ائمہء قراء ت کی ایک جماعت سے تحصیل علم کی ۔ بڑے ہونے کے بعد شہر واسط میں علی بن الباقلانی سے قرآن مجید روایات کے ساتھ پڑھا۔ (۴)
علم حدیث
یوں تو علامہ ابن جوزی جملہ علوم متدادلہ میں بڑا اونچا مقام رکھتے تھے مگر جس علم میں انہیں ابد ی و آفاقی شہرت حاصل ہوئی وہ علم حدیث ہے ۔ اس علم میں آپ کی بہت سی تصانیف ہیں حتیٰ کہ اپنے مقام علم و تجربہ پر اعتماد کی وجہ سے کہا کرتے تھے کہ :
’’میرے زمانے تک رسول اکرم ﷺ سے روایت شدہ کوئی بھی حدیث میرے سامنے بیان کی جائے تو میں بتا سکتا ہوں کہ یہ صحت و ضعف کے کس درجے پر ہے ‘‘۔(۵)
حدیث کی سماعت و کتابت میں اتنا اشتغال رہا ، اور اپنے ہاتھ سے مرویات حدیث کی اتنی کتابت کی کہ بعض مورخین کا بیان ہے کہ انہوں نے انتقال کے وقت وصیت کی کہ ان کے غسل کا پانی اس کترن اور بُرادہ سے گرم کیا جائے‘ جو حدیث کے لکھنے کے لیے قلم بنانے میں جمع ہو گیا تھا ، چنانچہ وہ اتنا تھا کہ پانی گرم ہو گیا اور وہ بچ رہا ۔(۶)
مشائخ
آپ نے اپنے مشائخ میں ستاسی (۸۷) اشخاص کا ذکر کیا ہے ۔ حالانکہ ان کے سوا بھی اورکئی علماء سے علم حاصل کیا ۔ چند بڑے بڑے اساتذہ کے نام یہ ہیں: ابو القاسم بن الحصین، قاضی ابو بکر الانصاری، ابو بکر محمد بن الحسین المزرنی (المزرتی)، ابو القاسم الحریر ، علی بن عبد الواحد ینوری، ابو السعادات احمد بن احمد المتوکلی، احمد بن احمد المتوکلی، ابو غالب بن البناء، اور ان کے بھائی یحییٰ ، ابو عبد اﷲ الحسین بن محمد ابارع، ابو الحسن علی بن احد الموحد، ابو غالب محمد الحسن الماوردی فقیہ ابو الحسن ابن الزا غونی، ابو منصور بن خیرون، ابو القاسم بن السمر قندی، عبد الوہاب الانماطی، عبد الملک الکروجی، خطیب اصبہان ابوالقاسم عبد اﷲ بن محمد، ابو سعید الزوزی، ابو سعد البغدادی یحییٰ بن الطراح، اسماعیل بن ابی صالح المؤذن، ابو القاسم بن علی بن علی العلوی الہروی الواعظ، ابو منصور القراز، عبد الجبار بن ابراہیم بن عبد الوہاب ابن مندہ، ہبتہ اﷲ بن الطبر اور ابو الوقت السنجزی۔(۷)
تلامذہ
آپ کے تلامذہ میں آپ کے صاحبزادے محی الدین اور پوتے شمس الدین یوسف بن قزاد غلی واعظ اور حافظ عبد الغنی ‘ ابن الدبیثی‘ ابن النجار‘ ابن خلیل‘ التقی الیلدانی‘ ابن عبد الدائم اور النجیب عبد اللطیف قابل ذکر ہیں۔(۸)
وفات
۵۹۷ ؁ھ میں شبِ جمعہ کو اس داعی الی اﷲ نے انتقال کیا ، بغداد میں کہرام مچ گیا، بازار بند ہو گئے ۔ جامع منصور میں نمازِ جنازہ ہوئی‘ یہ وسیع مسجد کثرت اژدحام سے تنگ اور ناکافی ثابت ہوئی، یہ بغداد کی تاریخ میں ایک یادگار دن تھا ‘ ہر طرف غم کے آثار اور گریہ کی آوازیں بلند تھیں‘ لوگوں کو ان سے ایسا تعلق تھا کہ رمضان بھر لوگوں نے راتیں ان کی قبر کے پاس گزاریں اور قرآن مجید کے ختم کیے۔ (۹)
ابن جوزی نے بغداد میں انتقال کیا۔ (۱۰)
تصنیفی و دینی خدمات
علامہ ابن الجوزی رحمۃ اﷲ علیہ نے زبانی وعظ و تقریر پر اکتفا نہیں کیا ۔ آپ نے متعدد کتابیں ایسی لکھیں ‘جنہوں نے علمی طبقہ پر بڑا اثر ڈالا اور غلط رجحانات کی اصلاح کی ۔
حافظ ابن الدبیثی نے ذکر کیا ہے کہ ہمارے شیخ امام جمال الدین ابن الجوزی رحمۃ اﷲ علیہ کی بہت سی تصانیف مختلف فنون میں ہیں ۔ جیسے تفسیر،فقہ، حدیث، وعظ و رقائق، تاریخ وغیرہ حدیث اور علوم حدیث کی معرفت، صحیح و ضعیف حدیث کی واقفیت میں اس آپ کو درجہ کمال حاصل تھا اور اس فن میں آپ کی بہت سی تصانیف ہیں ۔ جیسے مسانید، ابواب اور اماء الرجال اور ان احادیث کی معرفت جن سے احکام اور فقہ میں استدلال کیا جاتا ہے اور ان احادیث کی معرفت جو قابل استدلال نہیں ہیں ۔ جیسے ضعیف و موضوع حدیثیں اور جیسے انقطاع اور اتصال کا بیان۔ وعظ میں آپ کی تقریر شستہ ہوتی تھی۔ اشارات عمدہ، معانی لطیف اور استعارات نفیس۔ آپ کا کلام پاکیزہ ہوتا تھا۔ انداز کلام شائستہ ، زبان شیریں اور بیان اعلیٰ تھا ۔آپکے علم اور عمر میں رکت دی گئی تھی ۔
ابن النجار آپ کی چند تصانیف کا ذکر کر کے کہتے ہیں کہ جس نے آپ کی تالیفات میں غور کیا اس کو آپ کا حفظ ‘ ضبط اور علمی مرتبہ معلوم ہوا ۔ آپ باوجود ان فضائل اور وسیع علوم کے وظائف اور عبادات کے بھی پابند تھے ۔آپ کو ذوق صحیح کا حصہ اور شرینی مناجات کا بہر ہ بھی تھا۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ’’الاجوبتہ المصریتہ‘‘میں لکھا ہے کہ آپ مفتی اور بڑے صاحب تصنیف و تالیف تھے ۔ بہت سے فنون میں آپ کی تصانیف ہیں۔ میں نے ان کی تالیفات شمار کیں تو ہزار سے زیادہ پایا اور اس کے بعد اور بھی دیکھیں جو پہلے نہیں دیکھی تھیں ۔ حدیث و فنون حدیث میں آپ کی ایسی تصنیفات ہیں جن سے لوگوں کو بہت فائدہ پہنچا اور اس میں آپ کو کمال مہارت تھی ۔ وعظ اور فنون وعظ میں آپ کی ایسی تصنیفات ہیں کہ ان جیسی کوئی تصنیف نہیں ہوئی اور بہتر تصنیف آپ کی وہ ہے جس میں سلف کے حالات جمع کیے ہیں مثلاً وہ مناقب جو آپ نے تصنیف کیے ہیں کیونکہ آپ معتبر تھے لوگوں کی تصنیفات سے آپ کو بہت واقفیت تھی ۔ ترتیب اور تفصیل اچھی کرتے تھے جمع کرنے اور لکھنے پر قادر تھے ۔ ان فنون میں آپ کو دیگر مصنفین سے اچھی تمیز تھی کیونکہ بہت سے لوگ ہیں جن کی اس فن میں تصانیف ہیں لیکن ان کو سچ اور جھوٹ میں تمیز نہیں ہے ۔
ابن الجوزیؒ فرماتے ہیں کہ میری پہلی تصنیف اس وقت ہوئی تھی جب میری عمر تقریباً تیرہ برس کی تھی ۔
ابن القطیعی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ’’ابن الجوزی نے مجھ کو اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک رقعہ دیا اور کہا کہ یہ میری تصنیفات کی فہرست ہے ۔ وہ فہرست یہاں درج کی جاتی ہے :(۱۱)
آپ ایک فصیح البیان واعظ ، بلند پایہ محقق اور عظیم المرتبت مصنف تھے ۔ اندازاً تین سو کتابیں لکھیں‘ جن میں سے المنتظم فی تاریخ الملوک الامم، کتاب حنفتہ الصفوہ (اولیاو صوفیہ کے حالات)، کتاب القصاص دواستان سراؤں کا ذکر)، سیرۃ عمر بن عبدالعزیز، الوفاء فی فضائل المصطفیٰ ،قصص الانبیاء ، مولد النبی ﷺ، فی مفردات القرآن بہت وقیع واہم ہیں ۔ آپ نے ایک کتاب تلقیح فہوم الاثر کے نام سے حضور ﷺ کے حالات پر بھی لکھی تھی جسے مولانا محمد یوسف بریلوی نے ۱۲۸۶ھ ،۱۸۶۹میں مفیدحواشی کے ساتھ شائع کیا ۔ یہ جید برقی پریس دہلی میں چھپی تھے ۔ یہ کتاب ۳۸۴ صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں ایک ہزار کے قریب عنوانات ہیں ۔ ان میں سے چند عنوانات کا ملحض حاضر ہے۔(۱۲)
قدرت نے آپ کو تصنیف کا ملکہ اور موقعہ بڑی فیاضی سے عطا کیا تھا ، یہاں تک کہ کثرتِ تصنیف میں آپ کا نام بطور ضرب المثل مشہور ہو گیا ابن عماد کا کہنا ہے ۔
علامہ ابن جوزی سے ایک مرتبہ ان کی تعداد تصانیف کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا جواب یہ تھا کہ میری تصنیفات تین سو چالیس سے کہیں زیادہ ہیں ۔ جن میں کئی کتابیں بیس بیس جلدوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔
اسمائے رجال کے امامِ فن علامہ ذہبی فرماتے ہیں کہ میں نے زندگی میں ابن جوزی جیسا صاحب تصانیف کثیرہ نہ دیکھا نہ سنا ہے ۔ ابن خلکان تو یہاں تک کہہ گئے کہ حکایت کرنے والے اگرچہ ابن جوزی کی تعداد کتب کے بارے میں مبالغہ سے بھی کام لیتے ہیں لیکن پھر بھی آپ کی تالیفات کو احاطہ تحریر میں نہیں لایا جا سکتا ۔مگر افسوس صد افسوس کہ آپ کے حالات میں رقم شدہ تعداد و مصنفات ایک سو کے عدد سے تجاوز نہیں کر پاتی ۔ باقی کتب کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ صر صر زمانہ نے ان پر گرد نسیان ڈال دی ہے ۔ (۱۳)
قرآن اور علوم قرآن کے متعلق چند تصنیفات
(1) المعنی فی تفسیر القرآن (2) زاد المسیر فی علم التفسیر (3) تیسیر البیان فی تفسیر القرآن (4) تذکرۃ الاریب فی تفسیر الفریب (5) غریب الفریب(غریب العزیز) (6) نزبتہ (الاعین) النواظر۔ فی علم الوجوہ والنظائر( اس میں مفردات امام راغب کی طرز پر معانی قرآن کا بیان ہے ) الوجوہ النواضر (7) فی الوجوہ والنظائر(8) مختصر کتاب نزبتہ العیون(9) الاشارہ الی القراء ۃ المختارۃ (10) تذکرۃ المنتبہ فی عیون المشتبہ( یہ قرات میں ہے ) (11) فنون الافنان فی (عیون) علوم القرآن(12) ورد الاغصان فی فنون الافنان(13) عمرہ الراسغ فی معرفتہ المنسوخ و الناسغ(14)المصفی بالف اہل الرسوخ من علم الناسغ والمنسوخ۔(۱۴)
اُصول دین میں چند تصنیفات
(15) منتقد المعتقر(16) منہاج الوصول الی علم الاصول (17) غفلتہ القائل لعدم افعال العبار (18) غوامض الا لہیات (19) مسلک العقل (20) منہاج اہل الاصابہ فی مھبتہ الصحابہ (21) السر المصون(22) دفع تبہتہ التشبیہ (دفع شبہ المشتبہ)(23) الرد علی المتعصب العنیر
علم حدیث اور زہدیات میں تصانیف
(24) جامع المسانید (والقاب) بامضر الاسانید (25) الحدائق لاہل الحقائق فی الموعظتہ(26) نقل العقل (نفس النقل) (27) المجتبی (فی انواع مں العلوم) (28) النزبتہ (29) عیون الحکایات (30) ملتقط لاحکایات (31) ارشاد المریدین فی حکایات (سلف) الصالحین (32) روضتہ الناقل(33) غرر الائر (34) التحقیق فی احادیث التعلیق (الخلاف) (35) المدیع (36) الموضوعات من الاحادیث المرفوعات (37) العلل المتنابیہ فی احادیث الوابیتہ (الوابیات) (38) الکشف لمشکل (حدیث) الصحیحین (39) (مشکل الصماع) (40) الضعفاء والمتروکین (41) اعلام العالم عد رسوخہ بمقائق ناسغ الحدیث و منسوخہ (42) اخبار اہل الرسوخ فی الفقہ و التحدیث بمقدار المنسوخ (من الحدیث) (43) السہم المصیب (44) اخائر الذخائر (45) الفوائد عن الشیوخ (46) مناقب اصماب الحدیث (مناقب جماعتہ) (47) موت الخضر (48) مختصر موت الخضر (49) المشیختہ (50) المسلسلات (51) المحتسب فی النسب (52) تحفتہ الکلیات(53) تنویر مدلہم السدف (54) القاب (55) فضائل (مناقب) عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنہ (56) فضائل (مناقب) عمر بن عبد العزیز رحمتہ اﷲ علیہ(57) سیرۃ عمر بن عبد العزیز (یہ علیحدہ بڑی کتاب ہے) (58) فضائل سعید بن المسیب (59) فضائل الحسن بصری(60) مناقب الفضیل بن عیاض(61) مناقب بشر الحافی (62) مناقب ابراہیم بن ارھم (63) مناقب سفیان التوری (64) مناقب احمد بن حنبل(65) مناقب معروف الکرخی (66) مناقب رابعتہ العدویتہ (67) مسیر العزم (مشیر الغرام)الساکن الی اشرف الاماکن (68) صفوۃ الصفوۃ (جو حلیۃ الاولیاء کا مختصر ہے) (69) منہاج القاصدین (یہ کتاب احیاء علوم الدین کے اسلوب پر ہے ) (70) المختار من اخبار الاخیار (71) القاطع لمجال اللجاج القاطع بمحال الالحلاج (72) عجالتہ المنتظر فی شرح حال الخضر (73) النساء وما یتعلقہن باد ابہن (احکام النساء) (74) بیان علتہ الحدیث المنقول فی ان ابابکر ام الرسول (75) الجواہر (جواہر المواعظ) (76) المقلق
علم فقہ میں چند تصانیف
(77) الانصاف فی مسائل الخلاف(78) الانتصار فی مسائل الخلاف (79) جنتہ النظر وجنتہ المنتظر(یہ متوسط تعلیق ہے )(80) معتصر المختصر فی مسائل النظر (یہ اس سے چھوٹی تعلیق ہے ) (81) عمدۃ الدلائل فی مشتہر المسائل (الدلائل فی مشہور المسائل) (82) المذہب فی المذہب (83) مسبوک الذہب فی المذہب(84) العبارات الخمس (85) اسباب الہدایتہ لارباب البرایتہ (86) کشف الظلمتہ عن الضیاء فی رد الدعوی (87) درء اللوم والضیم فی صوم یوم الغیم(۱۵)
علم تاریخ میں چند تصانیف
(88) تلقیع فہوم اہل الائر فی عیون التاریغ والسیر(ابن قیتبہ کی المعارف کی طرز پر) (89) المنتظم فی تاریغ الملوک والامم (90) شذور العقود فی تاریغ العہود (91) طرائف الظرائف فی تاریغ السوالف (92) مناقب بغداد (93) الذہب المسبوک فی سیر الملوک
علم وعظ میں چند تصانیف
(94) الیواقیت فی الخطب (المواقیت فی الخطب الواعظیہ) (95) المنتخب فی النوب (96) نخب المنتخب (97) منتحل المنتخب (98) نسیم الریاض (فی الموعظتہ) (99) اللؤلؤۃ (فی المواعظتہ) (100) کنز المذکرین (فی المواعظ) (101) الارج (فی المواعظتہ) (102) اللطیف (فی المواعظ) (103) اللطائف (104) کنز الرموز (105) النفیس (106) زین القصص (107) موافق المرافق (108) الشاہد ومشہود (109) واسطات العقودمن شاہد و مشہود (110) الملہب (111) المدہش (فی المحاضرات) (112) صبانجد(فی الموعظہ) (113) محاوشتہ العقل (114) لقط الجمان (115) مغانی المعانی (116) فتوح الفتوح (فیوح الفتوح) (117) اتعازی الملوکیہ (118) المقعد المقیم (119) ایقاظ ابوسنان (120) الرفدات باحوال الحیوان و النبات (121) نکت المجالس البدریہ (122) نزبتہ الاریب (123) نسیم السحر (124) (روح الارواح) (125) منتہی المنتہی (126) تبصرۃ المبتدی (التبصرۃ) (127) الیاقوتیہ(فی الوعظ(کشف الظنون میں اس کا نا م ’’یا قوتتہ الواعظ والموعظتہ‘‘ درج ہے ۔ (128) تحفتہ الواعظ(ونزہتہ الملاحظ
مختلف فنون میں چند تصانیف
(129) نم الہوی (130) صید الخاطر (131) احکام الاشعار باحکام الاشعار (132) القصاص والمذکریں (133) تقویم اللسان (فی سیاق درۃ الغواص) (134) الازکیاء (135) (اخبار)الحمقی ولمغفلین(136) تلبیس ابلیس(137) لقط المنافع فی الطب (منافع الطب) دوجلد(138) مختار المنافع(یہ لقط المنافع کا مختصر ہے ) (139) حسن الخطاب فی الشیب والشباب (140) اعمار الاعیان (فی التاریغ والتراجم) (141) الشبات عند الممات (142) تنویر الغبش فی فضل السودان والحبش (تنویر الغبش فی احاول الاعیان من الحبش) (143) الحج علی حفظ (طلب)العلم وذکر کبار الحفاظ (144) اسراف الموالی (اشرف الموالی) (145) اعلام الاحیاء باغلاظ الاحیاء (للغزالی) (146) تحریم المحل المکروہ(147) المصباح المضی لدعوۃ الامام المستضئی (148) عطف العلماء علی الامراء علی العلماء (149) النصر علی المصر(150) امجد العضدی (151) الفجر النوری (الفخر النوری) (152) مناقب الستر الرفیع (153) ماقلتہ من الاشعار (154) المقامات (الجوزیتہ فی المعانی الوعظیتہ رح الکلمات اللغویتہ (155) من رسائلی (156) عجائب النساء یا اخبار النساء (157) الطب الروحانی (158) (عجائب البدائع) (159) (منتہی المشتہی) (160) (المنشور فی المواعظ) (161) (المزعج) (162) (مولد النبی) (163) تنبیہ النائم الغمر علی (حفظ) مواسم العمر) یہ ان کتابوں کی فہرست ہے جنہیں ابن القطیعی ن ے خود ان کے خط سے نقل کیا ہے اور ان کو سنایا ہے ہمارا خیال ہے کہ ابن القطیعی نے اس میں کچھ اپنی طرف سے اضافہ کیا ہے ۔ (۱۶)
آپ کی اس فہرست کے علاوہ اور بھی بہت سی تصانیف ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ کے بعد کی تصانیف ہیں ۔اُن میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔
علم تاریخ میں چند تصانیف
(164) بیان الخطاؤ الصواب من احادیث الشہاب (165) البازی الالشہب المنقض علی مخالفی المذہب الوفاء فی فضائل المصطفی (166) مناقب الامام الشافعی (167) النور فی فضائل الایام والشہور (168) تقریب الطریق الابعد فی فضل مغفرۃ احمد (169) العزلتہ (170) الریاضتہ (171) فنون الباب (172) مناقب (الصدیق) ابی بکر (173) مناقب علی(174) فضائل العرب(175) درۃ الاکلیل (فی تاریغ) (176) الالمثال (177) المنفعتہ فی المذاہب الاربعتہ (178) المختار من الاشعار (179) رؤس القوایر (فی الخطب والمحاضرات والوعظ والتذکیر) (0) المطرب للمذنب (181) المرتحل فی الوعظ (182) کبیر نسیم الریاض (183) ذخیرہ الوعظ (184) الزجر المخوف (185) الذند الوری فی الوعظ الناصری (186) الفاخر فی ایام الامام الناصر (187) المجد الصلاحی (188) لغتہ الفقہ (189) عقد الخناصرفی زم الخلیفہ الناصر(یہ بھی آپ کی طرف منسوب ہے ) (190) المطرب للمذنب (191) الذند الوری فی الوعظ الناصر(192) الفاخر فی ایام الامام الناصر (193) المجد الصلاحی (194) لغتہ الفقہ (195) عقد الخناصر فی زم الخلیفہ الناصر(یہ بھی آپ کی طرف منسوب ہے ) (196) غریب الحدیث ملع الاحادیث(ملع المواعظ) (197) فصول (الماۃ) الوعظیتہ (حروف کی ترتیب پر ہے ) (198) سلوۃ الاحزان (سلوۃالاخوان بماور رعن زوی العرفان) (199) الشوق فی الوعظ (200) المجالس الیوسفیہ فی الوعظ (یہ آپ نے اپنے بڑے لڑکے یوسف کے لیے لکھی تھی) (201) الوعظ المقبری(202) قیام اللیل (203) المحادقتہ (204) المناجات (205) جواہر الزواہر فی الوعظ (زاہر الجواہر) (206) انجاۃ بالخواتیم (207) المرتقی لمن اتقی (208) اخبار الظراف والمتماجنین۔
کہا جاتا ہے کہ صحاح الجوہری پر آپ کا (209)حاشیہ ہے اور آپ نے اس پر بعض مقامات میں گرفت کی ہے ۔ نیز آپ نے فنون ابن عقیل کو کچھ اور دس(210) جلدوں میں مختصر کیا ہے ۔(۱۷)
اسمٰعیل پاشاالبغدادی نے اپنی تالیف ہدیہ العارفین میں ابن الجوزی کے تذکرہ میں ان کی تصانیف میں ان کتابوں کو بھی درج کیا ہے ۔(211) آفتہ اصحاب الحدیث والرد علی عبد المغیث (212) اخبار الاخیار (213) اخبار البرامکتہ (214) اسباب النزول (215) انس الفرید وبغیتہ المرید (216) بستان الصادقین (217) بستان الواعظین وریاض السامعین (218) البلغتہ فی الفروع (219) تذکرہ الخواص (220) تقریر الخواص (221) الاجمال فی اسماء الرجال (222) الجلیس الصالع والانیس الناصع (223) حسن السلوک فی مواعظ الملوک (224) الدرالثمین من خصائل النبی الامین ﷺ (225) الدر الفائق بالمجالس والاحادیث الرقائق (226) درر الائر (227) الد لائل فی منشور المسائل (228) دریاق الذنوب فی الموعظتہ (229) دواء ذوی الفلات (230) الذیل علی طبقات الحنابلتہ (231) روضتہ المجالس ونزہتہ المستانس (232) روضتہ المریدین (233) الزہر الانیق(234) سیرۃ المستغنی (235) شرف المصطفی ﷺ(236) کتاب الروالصلتہ (237) کتاب الخطب (238) عقائد المرافق (239) فضائل المدینہ (240) قصیدۃ الاعتقاد (241) کتاب الروالصلتہ (242) کتاب الفروسیتہ (243) کتاب المتعلقین(244) کتاب الملتقط (245) کماۃ الذھر وفریدۃ الدھر (246) کنز الملوک فی کیفیتہ السلوک (247) اللالی فی خطب المواعظ (248) لباب فی قصص الانبیاء (249) مایلحن فیہ العامتہ (250) لقط فی حکایات الصالحین (251) ما یلحن فیہ العامتہ (252) مشیر الغرام لنساکنی الشام (253) المقتراح الشامل المقتضب فی الخطب (254) مناقب الحسین (255) منتخب الزیر من رؤس القواریر فی الوعظ والتذکیر (256) نشور العقود فی تجرید الحدود (257) منظومتہ فی الحدیث (258) المغش مختصر المدہش منہاجتہ النظر وجنتہ الفطر (259) المورد والعذب فی المواعظ والخطب (260) نرجس القلوب والدال علی طرق المحبوب (261) النطقی المفہوم (262) نظم الجمان (263) نفع الطیب (264) ہادی الارواح الی بلا دالا فراح۔
علامہ ذہبی کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ کسی عالم نے ایسی تصانیف کیں جیسی آپ نے کیں۔(۱۸)



حوالہ جات
۱۔ ابن جوزی، (مترجم)عبد الحق اعظم گڑھی،تلبیس ابلیس،مکتبہ رحمانیہ،اردو بازار لاہور (س۔ن) ،ص3
۲۔ تلبیس ابلیس،ص4
۳۔ ندوی،ابو الحسن،علی،تاریخ دعوت و عزیمت،مکتبۃ الحسن،اردو بازار لاہور (س۔ن)،ج1،ص225
۴۔ تلبیس ابلیس،ص4
۵۔ ابن جوزی، (مترجم)علامہ محمد اشرف سیالوی،الوفا باحوالِ مصطفی ﷺ،فرید بک سٹال ،اردو بازار لاہور،(س۔ن)، ص5
۶۔ تاریخ دعوت و عزیمت،ج1،ص226
۷۔ تلبیس ابلیس،ص5
۸۔ تلبیس ابلیس،ص17
۹۔ تاریخ دعوت و عزیمت،ج1،ص251
۱۰۔ ابن جوزیhttp://ur.wikipedia.org/
۱۱۔ تلبیس ابلیس،ص9
۱۲۔ محمد طفیل،نقوش رسول نمبر،ادارہ فروغِ اردو لاہور،1982ء،ج1،ص701
۱۳۔ الوفا باحوالِ مصطفی ﷺ، ص10
۱۴۔ تلبیس ابلیس،ص10
۱۵۔ ایضاً ص12
۱۶۔ ایضاً ص14
۱۷۔ ایضاً ص15
۱۸۔ ایضاً ص17
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mirza Hafeez Aoj

Read More Articles by Mirza Hafeez Aoj: 6 Articles with 9902 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Nov, 2016 Views: 3419

Comments

آپ کی رائے