مودی کی آبی جارحیت۔۔۔۔۔کھلا اعلان جنگ دوسری قسط

(Sami Ullah Malik, )
پاکستان کی معیشت کاکلی انحصارزراعت پرہےکیونکہ۷۰ فیصدآبادی توبراہِ راست زراعت سے وابستہ ہے اورہماری صنعت نے نمایاں ترقی نہیں کی جوصنعت موجودہے اس کا بڑاحصہ بھی ایگروبیسڈ ہے۔ شکر، روئی، کپڑاسازی کے کارخانے،گنے کے باقی ماندہ شیرے اورپھونس سے ہی کئی مصنوعات تیارہوتی ہیں۔کھادبنانے کے کارخانے اور فرنیچر سازی کواگرنکال دیں توصنعتی کاروباری شعبہ بہت محدودہو جاتاہے۔زراعت کاکلی انحصارپانی پرہے جس کی قلت وجہ سے صوبے ایک دوسرے پرالزام تراشی کرتے رہے ہیں۔ وسیع منظرنامے میں دیکھا جائے توپانی کی قلت سے پیدا ہونے والے تمام مسائل دراصل بھارت کی آبی جارحیت کانتیجہ ہیں جس کاآغازاس نے یکم اپریل۱۹۴۸ کوکیاتھااور اب دوریاؤں کے پانی کے مسئلے کوہتھیار کے طورپرپاکستان کے خلاف استعمال کررہاہے۔ اس نے دریاؤں کے پانی کارخ موڑنے اور ساراپانی استعمال کرنے کیلئے ۶۲سے زائدچھوٹے آبی ذخیرے،پاورپروجیکٹس بنانے کاعمل شروع کررکھا ہے۔ زیادہ تر بڑے پروجیکٹس مکمل یامکمل ہونے کے قریب ہیں۔ان منصوبوں کی تعمیرمیں اسرائیلی ماہرین اورامریکی امدادکی پوری معاونت حاصل ہے۔یہی نہیں بلکہ دریائے کابل کے پانی کارخ موڑنے کیلئے بھی بھارت نے افغانستان کومالی معاونت فراہم کرنے کی باربار پیشکش کررہاہے تاکہ افغانستان کی طرف سے بھی پاکستان پرپانی کی زدپڑسکے۔

بھارت نے آزادی کے فوری بعددریائے راوی،ستلج اوربیاس کاپانی بندکرکے پاکستان کوسنگین مسائل سے دوچار کر دیا تھا،یہ وہ موقع تھاجب کہ منہ میں رام رام کرنے والی چانکیہ بھارتی قیادت کی شہ پرپاکستان آنے والے قافلوں،مسافروں سے لدی ٹرینوں پرحملہ کرکے قتل عام کرنے کاسلسلہ ابھی تھمانہیں تھا، ہرطرف لاکھوں مہاجرخاندانوں کوسنبھالنے،ان کی خوراک اورسرپرسائے کاانتظام کرنے اوران کی آبادکاری کے بڑے بڑے مسائل درپیش تھے۔ جسمانی اعضا سے محروم زخمی عورتوں،مردوں ،بچوں،بزرگوں اورجوانوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ایسی انتہائی ہنگامی صورتحال میں بھارت نے پاکستان کاپانی بندکرکے کربلاجیسا بھیانک ماحول پیداکرنے کی سازش کی جس پروزیراعظم لیاقت علی خان نے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہرلال نہروسے رابطہ کرکے اس پرشدید احتجاج اورتشویش کااظہارکرتے ہوئےپانی پر قدغن لگانے کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیاجس کے بعدبات چیت کیلئے مرکزی وزیر خزانہ غلام محمدکی سربراہی میں ممتازدولتانہ اور شوکت حیات پرمشتمل وفدبھارت گیا۔اس نے بھارتی حکومت سے مذاکرات کئے اور۴مئی ۱۹۴۸ کو دریاؤں کاپانی بحال ہو سکا۔عارضی طورپرجومعاہدہ طے پایااس کے بارے میں بھارت نے عالمی سطح پرپروپیگنڈہ کیاکہ پاکستان بیاس ، ستلج اور رواں دریاؤں سے دستبردارہوگیاہے۔ اس کے ساتھ کئی سال تک بات چیت چلتی رہی جس میں کئی اتارچڑھاؤآئے۔ امریکانے روایتی منافقت برقراررکھی ،اس کیلئے بھارت، پاکستان پردباؤ برقرار رکھنے کی پوزیشن میں رہا،آگے چل کرورلڈبینک بھی بات چیت میں سہولت کار اورمددگارکے طورپرشامل ہوگیااوربالآخرجیسے تیسے دریائی پانی کی تقسیم کا سندھ طاس معاہدہ طے پاگیالیکن اس میں بھی ڈنڈی مارکرپاکستان کونقصان پہنچایا گیاتھا لیکن اس وقت آمرایوب خان اوران کے دستِ راست وزیرپانی وبجلی ذوالفقارعلی بھٹواوردیگرحکومتی ذمہ دارکیااتنے مجبور اوربے بس تھے کہ وہ ناانصافی پرمبنی اس دستاویزکوقبول کرنے پرآمادہ ہو گئے یاانہوں نے بھی مجرمانہ غفلت ولاپرواہی اورفرض ناشناسی کا ثبوت دیا؟اس پربحث ہوتی رہی ہے اورآئندہ بھی جاری رہے گی ۔خودسابقہ صدر ایوب خان نے بھی لکھاہے کہ’’یہ ۱۹۵۵کی بات ہے ،میں اس وقت کمانڈرانچیف تھا، ان دنوں اخبارات میں سندھ طاس جھگڑے کابڑاچرچاہورہاتھا،ہندوستان والے ہماری نہروں کاپانی بندکرنے پرتلے ہوئے تھے،اگرپانی بندہوجاتا توعجب نہیں تھاکہ دونوں ملکوں میں ایک بڑی جنگ چھڑجاتی۔مجھے اس مسئلے کازیادہ علم نہیں تھااورمیں پوری واقفیت حاصل کرناچاہتاتھا۔اس پرمغربی پاکستان حکومت نے دوانجینئرمیرے پاس بھیجے،انہیں نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس معاملے کو مجھ پرواضح کردیا۔مجھے سب سے زیادہ پریشانی پاکستان کےغیرمحفوظ ہونے کی تھی۔ہمارے دریاؤں کے ہیڈورکس بھی ہندوستان میں تھےاورمنبع بھی۔ ہندوستان نے پانی کارخ بدلنے دینےکےانتظامات کررکھے تھے اورہندوستان کی فوج بھی ہماری فوج سے تگنی تھی۔میں نے دل میں کہاکہ کہ اگرہندوستان کے ساتھ ہماری بات چیت کاسلسلہ ٹوٹ جائے اورہندوستان والے دریاؤں کارخ بدلنے کافیصلہ کر لیں توہمیں جنگ کاسامنا کرنا ہوگا۔ہربات ہمارے خلاف پڑتی تھی،اس لئے مصلحت اسی میں تھی کہ ہندوستان سے سمجھوتاکرلیاجائےخواہ اس میں ہمیں کچھ خسارہ ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔اگرہم ایسانہیں کریں گے توممکن ہے ہم اپناسب کچھ کھو بیٹھیں ۔اکتوبر ۱۹۵۸کے فوری بعدمیں نے اس مسئلے کابڑے غورسے مطالعہ شروع کردیا،اس کے تمام پہلوؤں سے آگاہی حاصل کی ،پھرمیں نے بڑے مضبوط ارادے کے ساتھ چندفیصلے کئے ۔ ‘‘

پھرآگے چل کرایوب خان نے ورلڈبینک کے سربراہ یوجین بلیک سے معاہدے اوراس کے نتیجے میں ڈیمزاورنہروں کاکی بات چیت کاذکرکیاہے اورلکھاہے ’’پہلے میں اپنی فنی ماہروں اورمنتظموں کی مخالفت کاحال بیان کردیناچاہتاہوں جس سے میں دوچارہوا۔مجھے اندزہ ہوگیاکہ انہیں صورتحال کی نزاکت کاپورا ادراک اوراحساس نہیں ہے اورایسی صورتحال میں کہ ہماری حالت ہرلحاظ سے کمزورہے۔وہ انہونی باتوں کامطالبہ کررہے تھے،وہ بزوراپنی پالیسی منوانے کی بھی کوشش کررہے ہیں اورمعاملے کواس کی انتہائی حدتک لے جاناچاہتے ہیں۔ تقریباًتیس چالیس آدمی لاہورکے گورنمنٹ ہاؤس میں جمع ہوئے جہاں میں نے ان سے خطاب کیا۔میں نےکہا:صاحبو!یہ مسئلہ ہمارے لئے بڑے دوررس نتائج کا حامل ہے۔میں تمہیں بتادیناچاہتاہوں کہ ہربات پاکستان کے خلاف ہے اورمیں یہ بھی نہیں کہناچاہتاکہ ہمیں اپنے حقوق سے دستبردارہوجاناچاہئے لیکن اس کے ساتھ ہی میں یہ کہے بغیرنہیں رہ سکتاکہ اگرہم کوئی ایساحل تلاش کرلیں جس کے ذریعے ہم زندہ رہ سکیں توکیاایسے حل کومنظورکرناسخت بے وقوفی کی بات ہوگی۔یہ بات میں آپ سے نہیں بلکہ حقیقت میں اپنے آپ سے بھی کہہ رہا ہوں کیونکہ اس کے حل کی ذمہ داری مجھے لیناہوگی چونکہ آپ میں سے کسی پربھی اس کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔اس لئے میں صاف صاف بتادیناچاہتاہوں کہ پالیسی بھی میری ہی ہوگی۔فنی تفصیلات کے سلسلے میں جب بھی مجھے کوئی شک ہوگاتومیں آپ حضرات سے مشورہ طلب کروں گالیکن آپ میں سے کسی نے میری پالیسی میں دخل دیاتو میں اسے خودسمجھ لوں گا۔ اگر اس مسئلے کوسمجھ بوجھ کے ساتھ حل نہ کیاگیاتوعجب نہیں کہ ملک کاہی خاتمہ ہوجائے۔ میں نے جوکچھ کہاہے اس کاایک ایک لفظ صحیح،اس لئےاس کے بارے میں آپ میں سے کسی کوکوئی غلط فہمی نہیں رہنی چاہئے!

بہرحال ۱۹ستمبر۱۹۶۰کوطاس سندھ آبی معاہدے پرصدرایوب خان اورپنڈت جواہرلال نہرونے دستخط کردیئے،اب تک یہ معاہدہ ایک حقیقت ہے اورعالمی بینک اس کاضامن ہے ۔اس معاہدے کے تحت پاکستان میں متبادل آبی نظام کی تعمیر کیلئے دس سال کاوقت دیاگیا تھا لہندایہ وقت گزرنےکے بعددریائے راوی، ستلج اوربیاس مکمل طورپربھارت کے پاس چلے گئے۔اب سیلاب کی صورت میں ہی اضافی پانی ان دریاؤں میں پاکستان کی طرف آتاہے۔معاہدے کے تحت دریائے چناب ،جہلم اورسندھ پرپاکستان کامکمل حق تسلیم کیاگیالیکن اس میں ڈنڈی یہ ماری گئی کہ خصوصاًچناب اورجہلم جزوی طورپرسندھ پربھی بھارت کوہائیڈرو پاورپراجیکٹس اس طرح بنانے کی اجازت دے دی گئی کہ پانی کابہاؤمتاثرنہ ہو مگربھارت اس کافائدہ اٹھاکرجگہ جگہ پاورپراجیکٹس اس طرح بنارہاہے کہ دریاوں کے بہاؤ کارخ موڑاجا سکے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 225715 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Dec, 2016 Views: 353

Comments

آپ کی رائے