حضرت شیخ ابو الحسن خَرقانی سرکار رحمتہ اللہ علیہ کا بیس سال تک یہ معمول رہا

(Kami Jee, Faisalabad)

Meri Jaan E Man

میرے محبوب روحانی پیر کامَل حضرت شیخ ابو الحسن خَرقانی سرکار رحمتہ اللہ علیہ کا بیس سال تک یہ معمول رہا کہ خرقان سے بعد نمازِ عِشا حضرت بایزید رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر پہنچ کر یہ دُعا کرتے کہ اے اللہ! جو مرتبہ تُو نے بایزید کو عطا کِیا ہے وہی مُجھ کو بھی عطا فرما دے۔ اِس دُعا کے بعد خرقان واپس آکر نمازِ فجر ادا کرتے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ادب کا یہ عالم تھا کہ بسطام سے اِس نیت کے ساتھ اُلٹے پائوں واپس ہوتے کہ کہیں حضرت بایزید رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کی بے ادبی نہ ہو جائے۔ پَھر بارہ سال اپنے معمول پر قائم رہنے کے بعد حضرت بایزید رحمتہ اللہ علیہ کی قبر مُبارک سے یہ آواز سُنی کہ اے ابو الحسن! اب آپ کا بھی دور آگیا ہے۔ میرے روحانی پیر کامِل حضرت ابو الحسن خَرقانی سرکار رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دِیا کہ میں تو قطعی اُمی ہو نے کی وجہ سے علوم شرعیہ سے نا واقف ہوں اِس لیے میری ہمت افزائی فرمائیے۔ ندا آئی کہ مُجھے جو کُچھ بھی مرتبہ حاصِل ہوا ہے وہ صِرف آپ ہی کی بدولت حاصِل ہوا ہے۔ میرے شیخ ابو الحسن خَرقانی سرکار رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دِیا کہ آپ تو مُجھ سے اُنتالیس سال قبل دُنیا سے رُخصت ہو چُکے ہیں نِدا آئی کہ یہ قول تو آپ کا درست ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جِس وقت بھی میں سر زمینِ خرقان سے گزرتا تھا تو اُس سر زمین سے آسمان تک ایک نُور ہی نُور نظر آتا تھا اور میں اپنی ضرورت کے تحت بیس سال تک دُعا کرتا رہا لیکن قبول نہ ہوئی اور مُجھ کو یہ حُکم دِیا گیا کہ تُو اِس نُور کو ہماری بارگاہ میں شفیع بنا کر پیش کرے تو تیری دُعا قبول کر لی جائے گی چناچہ اِس حُکم پر عمل ہونے سے دُعا قبول ہو گئی۔ چناچہ اِس واقعہ کے بعد میرے محبوب روحانی پیر کامِل حضرت شیخ ابو الحسن خَرقانی سرکار رحمتہ اللہ علیہ خَرقان واپس ہوئے تو صِرف ٢٤ یوم میں مُکمل قُرآن ختم کر لِیا۔ لیکن بعض روایت میں یہ ہے کہ حضرت بایزید رحمتہ اللہ علیہ کے مزار سے ندا آئی کہ سورت فاتحہ شروع کرو اور جب میرے شیخ ابو الحسن خَرقانی سرکار رحمتہ اللہ علیہ نے سورت فاتحہ شروع کی تو خَرقان تک پہنچنے تک پورا قُرآن مجید مُکمل کر لِیا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kami Jee

Read More Articles by Kami Jee: 3 Articles with 4367 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Dec, 2016 Views: 525

Comments

آپ کی رائے