طبعی سہولیات و عملے پر تیماداروں کی طرف سے تشدد کا بڑھتا ہوا رحجان،کیوں؟

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

قارئین ! ا ٓئے دنوں ہسپتالوں میں بڑھتے لڑائی جھگڑے اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں کھبی مریض کے لواحقین کا ڈاکٹر یا ہسپتال کے دوسرے عملہ سے لڑائی تو کبھی ڈاکٹر اور نرسز کی لڑائی عام دیکھنے کو ملتی ہیں۔لیکن موضوع کے لحاظ سے سب سے پہلے ہم طبعی سہولتوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں خاص کر دیہات میں رہنے والے لوگوں کے لئے طبعی سلولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔سب سے پہلی چیز کہ جتنے بھی ہسپتال دیہی علاقوں میں ہیں وہ کافی دور ہیں کیونکہ چھوٹے چھوٹے دیہات میں رہنے والوں کے لئے ہسپتال تک رسائی بہت مشکل ہوتی ہے خاص کر پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ بد قسمتی سے اکیسویں صدی ہونے کے باوجود آج بھی دیہات کے لوگوں کو ٹرانسپورٹ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر کوئی مریض ہسپتال تک لانا ہو تو ان کے لئے مزید دشواری کا باعث بن جاتا ہے۔ایک تو یہ مسئلہ ہے کہ دیہی ہسپتال لوگوں کی رہائش گاہوں سے فاصلے پر ہیں۔دوسرا ستم ان پر یہ ہے کہ ان ہسپتالوں میں عملہ اکثر غیر حاضر یا کم تعداد میں آتا ہے ۔اس کی وجہ سے بھی مقامی لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ایک تو وہ ذاتی ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے مریض کو کرائے پر پرائیوایٹ گاڑی سے ہسپتال لے کر آتے ہیں اور آگے سے اگر عملہ غیر حاضر ہو تو ان کے لئے یہ مزید کوفت کا باعث بن جاتا ہے۔کیونکہ وہاں پر زیادہ تر لوگ نہایت غریب ہیں اور وہ روزانہ کرائے کی گاڑی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔اس کے علاوہ بعض اوقات عملہ تو موجود ہوتا ہے لیکن ادویات ناپید ہوتی ہیں اور مریض کے لواحقین کو دور دراز کے میڈیکل سٹوروں سے لانے کو کہا جاتا ہے جو ان کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ حکومت اس طرف خاص طور پر توجہ دے اور ہسپتالوں میں عملہ اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

آج کل جعلی ادویات کے سکینڈل بھی منظر عام پر ہیں اور آئے دن اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں اس کی روک تھام کے لئے بھی حکومت کو سخت رویہ اپنانا ہو گا تاکہ سرکاری ہسپتاں کا کوئی بھی فرد اس دھندے میں ملوث نہ ہو سکے اور مریض کو خالصتاً بہتر ادویات مل سکیں ۔جعلی ادویات کا کاروبار کرنے والوں کا سختی سے محاصرہ کیا جانا چاہیئے۔کیونکہ جعلی ادویات کے استعمال سے بھی مریض کی جان کو خطرہ لاھق ہو جاتا ہے ۔مریضوں کو طبعی سہولتوں کے ساتھ ساتھ جعلی ادویات سے ہر ممکن طور پر محفوظ بنایا جائے۔

دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دیہات میں کوئی بھی ڈاکٹر جانے کو تیار نہیں ہوتا ۔دیہات میں اکثریت ان پڑھ لوگوں کی ہے جس کی وجہ سے عطائی ڈاکٹروں کو کلینک بنانے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ ناتجربہ کار ہونے کی وجہ سے مریضوں کی جانوں کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں۔ہماری حکومت اس مسئلے پر کام کر رہی ہے اور اس کے اچھے نتائج بھی آنا شروع ہو گئے ہیں لیکن محکمہ صحت میں ابھی بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جو ان کی پشت پناہی کرتے ہیں۔حکومت وقت کو ان پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور ان کے لئے بھی سخت قانین بنائے جائیں تاکہ کوئی بھی محکمہ صحت کا ملازم کسی عطائی ڈاکٹر کا ساتھ نہ دے سکے۔حکومت وقت کا فرض ہے کہ دور دراز کے دیہاتوں میں بھی چھوٹے چھوٹے ہسپتال یا کلینک کھولے جائیں خاص کر وہاں کی خواتین کے لئے اسی علاقے کی کسی پڑھی لکھی خاتون کو خواتین کے مسائل پر مبنی کورس کروانے چاہیں تاکہ وہ فوری طور پر مریض کو کم از کم فرسٹ ایڈ دے سکے۔اس طرح مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

اب ہم شہروں کی جانب آتے ہیں یہاں ہسپتال تو بہت ہیں لیکن ان میں تاریخ لینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔چھوٹے چھوٹے ٹیسٹوں کے لئے بھی مریض کو دو دو ماہ کی تاریخ دے دی جاتی ہے جس کی وجہ سے مریض کی حالت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے دن بدن بگڑتی جاتی ہے ۔ہسپتالوں میں لوگوں کا اتنا رش ہے کہ ہر ایک کو وقت دینا ڈاکٹر کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ڈاکٹروں کی کمی بھی ہے۔روزانہ ہزاروں مریض ان سرکاری ہسپتالوں میں آتے ہیں لیکن یہاں سے بھی وہ مایوس ہی لوٹ جاتے ہیں کیونکہ ان ہسپتالوں میں بھی رش کی وجہ سے ان کی بہتر دیکھ بھال نہیں ہو سکتی ۔ایک بستر پر دو دو مریض لیٹے ہوتے ہیں۔بعض ہسپتالوں میں تو مریضوں کو فرش پر لیٹنا پڑتا ہے ۔اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو جائے اور زیادہ تعداد میں مریض لائے جارہے ہوں تو بھی ہمارے ہسپتالوں میں مریضوں کو فوری بستر مہیا کرنا ایک مسئلہ بن جاتا ہے ۔حکومت وقت کا فرض ہے کہ لوگوں کو ان کے صحت سے متعلق بنیادی حقوق کا پورا پورا خیال رکھے۔تاکہ ہر شہری عزت کے ساتھ اپنا علاج کروا سکے۔حکومت کو سڑکوں کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کی تعداد پر بھی توجہ دینی چاہیئے۔

اس کے علاوہ آئے دن اخبار میں ہم پڑھتے رہتے ہیں کہ فلاں ہسپتال کی مشین ناکارہ ہو گئی ہے اور فلاں ہسپتال میں یہ مشین نہیں ہے تو اس کے لئے بھی حکومت کو ایک ایسی کمیٹی تشکیل دینی چاہیئے جو ان تمام معاملات کا بغور جائزہ لے اور ان مشینوں کو وقت پر درست کروایا جائے تاکہ غریب لوگ ان سے بھر پور استفادہ اٹھا سکیں۔حکومت وقت ان مشینوں کا ہر ماہ معائنہ کروائے اور ان کی مکمل دیکھ بھال کے لئے علیحدہ سے ایک ٹیم تشکیل دے اور ایم ایس اس بات کا ذمہ دار ہو کہ وہ خراب مشین کی بروقت اطلاع دے اور اسے بروقت مرمت کروانے کا بھی ذمہ دارہو۔تاکہ عام لوگ ان مہنگے ٹیسٹوں سے جان چھڑا سکیں کیونکہ اگر مشینیں زیادہ عرصہ تک خراب رہے گی تو یہ غریب لوگ باہر سے مہنگے ٹیسٹ کروانے پرمجبور ہو جائیں گے۔جو کہ ان کی دسترس سے باہر ہے۔اگر حکومت ان مشینوں پر اتنا پیسہ لگاتی ہے تو ان کی دیکھ بھال کے لئے بھی کوئی انتظام کرے تاکہ خلق خدا کو بھی سکون مل سکے۔

اب ہم ذرا ایک نظر تیماداروں کی طرف بھی ڈالتے ہیں کہ آئے دن ہسپتالوں میں جھگڑے کیوں ہوتے ہیں؟ایک بات میں نے بھی دیکھی ہے کہ ایک مریض کے ساتھ دس سے بارہ مریض ہسپتال آ جاتے ہیں جو یقیناً وہاں کے عملے کے لئے باعث زحمت بن جاتے ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ مریض کے ساتھ اتنے لوگوں کو نہیں جانا چاہئیے۔جب مریض ہسپتال میں داخل ہو جائے تو بعد میں ایک ایک یا دو دو کر کے اس کی تیماداری کیے لئے جا سکتے ہیں۔اس سے مریض کو بھی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور ہسپتال میں موجود عملہ کے لئے بھی آسانی رہے گی۔لیکن یہاں بھی ایک مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے کہ چھوٹا عملہ مریضوں کے لواحقین سے پیسے لے کر ان کو وہاں ٹھہرا دیتے ہیں ۔جس کی وجہ سے اکثر ہسپتالوں میں باہر رش رہتا ہے اور لوگ وہیں زمین پر لیٹے رہتے ہیں اور جب تک ان کا مریض صحت مند نہ ہو جائے وہ وہاں سے گھر جانے کو تیار نہیں ہوتے۔ایم ایس کو اس پر سختی سے عمل درآمد کروانا چاہیئے اور عملے کا جو بھی بندہ اس میں ملوث ہو اس کو سخت سزا دینی چاہئیے۔مریض کے ساتھ آئے ہوئے لوگ اکثر عملے کے ساتھ الجھتے رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ دوسرا رخ یہ ہے کہ ہسپتال کے عملہ میں بھی کچھ بد تمیز لوگ ہوتے ہیں جن کا رویہ تیماداروں کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا جس کی وجہ سے وہاں لڑائی جھگڑا دیکھنے کو ملتے ہیں۔اس سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ مریضوں کے ساتھ آنے والے لواحقین کی تعداد پر کنٹرول کیا جائے اور ہسپتال کے عملے کو مریضوں اور تیماداروں کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کے لئے تربیت دی جائے۔تا کہ ہسپتالوں کا ماحول خوشگوار رہے۔

دوسرا مسئلہ ادویات کی کمی ہے گو کہ اب حکومت وقت اس بات پر زور دیتی ہے کہ ان ہسپتالوں میں ادویات وافر مقدار میں موجود ہیں لیکن بد قسمتی سے ابھی بھی کچھ ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں محکمہ صحت یا سرکاری ہسپتالوں کا عملہ ادویات کو فروخت کرنے میں ملوث پایا گیا ہے ۔اس کے لئے حکومت کوسخت سزائیں مقر ر کرنی ہوں گی تاکہ کوئی بھی ملازم ایسی حرکت دوبارہ نہ کر سکے۔کیونکہ ان ہسپتالوں میں زیادہ تر غریب مریض ہی آتے ہیں جو کم آمدنی کی وجہ سے ادویات نہیں خرید سکتے اس لیے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہسپتال میں آنے والے ہر مریض کو ادویات وہیں پر میسر ہوں۔تاکہ علاج معالجے کا اضافی بوجھ ان پر نہ پڑے۔ادویات کی کمی بھی جھگڑے کا سبب بنتی ہے۔

دوسرا ہسپتالوں میں یہ بھی دیکھا کیا گیا ہے کہ نئے ڈاکٹر مریضوں پر مختلف تجربات کرتے رہتے ہیں ۔جن کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے مریضوں کو بعض اوقات نقصان بھی اٹھانا پڑ جاتا ہے۔بعض اوقات ناتجربہ کار ڈاکٹر مریض کے مرض کی صحیح تشخیص نہیں کر پاتے اور اس کا علاج کوئی اور بیماری سمجھ کر کرتے رہتے ہیں لیکن اصل سبب جوں کا توں ہی رہتا ہے اور دن بدن مریض کا مرض بڑھتا رہتا ہے اور آخر کار مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس لئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ناتجربہ کار ڈاکٹروں اپنے کسی ماہر ڈاکٹر کی زیر نگرانی ہی مریض کو دیکھیں جب تک کہ وہ تجربہ حاصل نہ کر لیں۔

عملے یا ڈاکٹرز کے ساتھ لڑائی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ناتجربہ کاری کی وجہ سے بعض مریضوں کی جان چلی جاتی ہے تو پھر اس کے ساتھ آئے ہوئے تیمادار عملے کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔اس لئے ایمر جنسی میں تجربہ کار ڈاکٹروں کو ہی تعینات کیا جائے۔تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے وہ مریض کا اپنے ہی علاقے کے عطائی سع علاج کرواتے رہتے ہیں اور وہیں سے اس کی دوا بھی لیتے رہتے ہیں ۔لیکن پھر اچانک مریض کی حالت غیر ہونے پر وہ ہسپتال کا رخ کرتے ہیں تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔اب اگر وہ مریض ہسپتال میں دم توڑ جائے تو سارا ملبہ ہسپتال کے عملے پر ڈال دیا جاتا ہے اور یوں ان بے چارے عملے پر بے جا تشدد کیا جاتا ہے۔تواس کے لئے ہمیں عام لوگوں کو شعور دلانے کی ضرورت ہے اس کے لئے میڈیا بہتر کام کر سکتا ہے۔ جب بھی خدانخواستہ آپ کے گھر میں کوئی بھی بیمار ہوتا ہے تو اسے فوراً ہسپتال پہنچائیں تاکہ بر وقت تشخیص کر کے اس کا علاج کیا جائے اور اس کی جان بچائی جا سکے۔پاکستان میں دنیا کے بہت اچھے اچھے ڈاکٹر موجود ہیں۔اور وہ اپنے اپنے شعبے کے ماہر بھی ہیں۔ڈاکٹر کے ساتھ آپ لوگوں کو الجھنا نہیں چاہئے کیونکہ کوئی بھی ڈاکٹر مریض کی جان نہیں لیتا بلکہ اس کی جان بچانے کی اپنی آخری کوشش کرتا رہتا ہے۔اس لئے آپ بھی ڈاکٹر کی عزت کریں اور اس پر یقین رکھیں کہ وہ آپ کے مریض کے لئے اچھا ہی کرے گا۔اس طرح داکٹر حضرات کو بھی سوچنا چاہیئے کہ جس بیماری کا ان کو علم نہیں اس کا علاج نہ کریں بلکہ اس کو کسی دوسرے ماہر ڈاکٹر کے پاس روانہ کر دیں۔اس میں کو شرمندگی والی بات نہیں ہے۔بلکہ ایسا کر کے آپ کسی کی جان بچا سکتے ہیں۔

ہسپتالوں میں لڑائی کی ایک وجہ پرچی سسٹم بھی ہے اکثر دیکھا گیا ہے کہ لمبی لمبی قطاریں ہوتی ہیں اور جب تک اس کی باری آتی ہے ڈاکٹر صاحب کا بھی وقت ختم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے مریض کو کوفت اٹھانی پڑتی ہے ۔جس مریض نے روزانہ آنا ہو اس کے لئے وہی پرچی کافی ہے ناکہ وہ دوبارہ سے قطار میں کھڑا ہو اور پھر نئی پرچی لے ۔یہاں بھی اکثر جھگڑے دیکھے جاتے ہیں۔اس پرچی سسٹم کو بھی آسان بنانے کی ضرورت ہے۔یہاں میں ایک اور پرچی سسٹم کی بات کروں گا کہ اکثر سرکاری ہسپتالوں میں مریض اپنے کسی سرکاری افسر یا ایم پی اے حضرات کی پرچی لے کر آتے ہیں کہ ان کے مریض کو پہلے وقت دیا جائے اور سب سے پہلے چیک کیا جائے یہ بھی لڑائی کا ایک اہم مؤجب ہے۔کوئی بھی ہو اس کو اپنی باری پر ہی چیک کیا جائے کیونکہ وہاں سب مریض ہی آتے ہیں۔کسی ایک مریض کو دوسرے مریض پر فوقیت نہیں ہونی چاہیئے۔اس چیز کو بھی سرکاری ہسپتالوں میں روکنے کی ضرورت ہے۔

میں نے اوپر ذکر کیا تھا کہ بعض علاقے شہروں کے بڑے ہسپتالوں سے کافی دور ہیں تو ایسے مریضوں کو جو کسی خطرناک مرض میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ہسپتال تک لانے میں کافی وقت لگ جاتا ہے جس سے مریض کی حالت بگڑ جاتی ہے اور وہ جان بحق ہو جاتا ہے ۔اب ایسی حالت میں عملے کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔لیکن ایسے موقعوں پر بھی مریض کے لواحقین کا عملے سے جھگڑا دیکھا گیا ہے۔اس کی ایک وجہ ملک میں بے روز گاری،دہشت گردی،مہنگائی بھی ایک سبب ہیں کیونکہ جب لوگوں کے پاس روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے پیسہ نہیں ہوگا تو ان کے مسائل تو بڑھیں گے ہی لیکن ان کو ذہنی پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔شاید اسی لئے لوگ چڑچڑاپن کا شکار ہو گئے ہیں۔اور آئے دن سڑکوں اور ہسپتالوں میں لڑائی جھگڑے روز کا معمول بنتے جا رہے ہیں ۔اب ہر بندے کو تو ذہنی پریشانی سے بچنے کا سبق نہیں دیا جا سکتا لیکن اس کو ہمارے علماء کرام اور میڈیا بڑی کامیابی سے پورا کر سکتے ہیں ۔علماء کرام مساجد میں لوگوں کو مشکلات سے نکلنے کے لئے قران اور دین کی باتیں بتائیں تاکہ لوگ اس پر عمل کر کے سکون حاصل کریں۔آج ہم میں تشدد اسی لئے بڑھ رہا ہے کہ ہم دین سے بہت دور ہوتے جا رہے ہیں۔میڈیا کو نفسیات سے متعلق پروگرام پیش کرنے چاہیں اس طرح اخبارات میں بھی ایسے مضامین شامل کئے جائیں جن میں ذہنی پریشانی میں مبتلا لوگوں کے لئے مفید مشورے دیئے گئے ہوں۔

اگر کسی بھی وجہ سے مریض کی جان چلی جائے تو تیماداروں کو عملے اور اس ہسپتال یا کلینک میں توڑ پھوڑ نہیں کرنی چاہیئے۔بعض اوقات مریض کی حالت اتنی خراب ہو چکی ہوتی ہے کہ اس کی جان بچانا نا ممکن ہو جاتا ہے ۔اس کے ساتھ ڈاکٹر حضرات ،نرسز اور دوسرے عملے کو تیمارداروں کے ساتھ اچھا سکوک کرنا چاہئے تاکہ کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔لواحقین کا بھی فرض ہے کہ ہسپتال کے عملے سے تعاون کریں تاکہ آپ کے مریض کا بہتر علاج کیا جا سکے ۔پہلے کی نسبت آج کل ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے لئے بہتر سہولتیں موجود ہیں۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب ہسپتالوں میں بھی یونین بن گئی ہیں اور آئے دن ڈاکٹروں اور نرسز کی ہڑتالیں ہوتی رہتی ہیں اس سے بھی مریضوں کی دیکھ بھال پر برا اثر پڑتا ہے ۔حکومت وقت کو بھی چایئے کہ ان کی جائز مطالبات کو مانے تاکہ ہسپتالوں میں ان کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور آئے دن جو لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں ان کو بھی ختم کیا جا سکے۔یہاں ہسپتال کے عملے کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ مریضوں اور ان کے ساتھ آئے ہوئے تیماداروں کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھیں۔مریض کی بیماری کی وجہ سے ساتھ تیماردار بھی بہت پریشان ہوتے ہیں۔

ملک میں بڑھتی آبادی بھی ایک مسئلہ بنتی جا رہی ہے ۔دیہاتوں سے لوگوں کا شہروں کی طرف نقل مکانی بھی ایک بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔جس کی وجہ سے شہر کے ہسپتالوں میں رش بڑھتا جا رہا ہے۔اگر حکومت شہر کے ہسپتالوں میں رش کم کرنا چاہتی ہے تو اس کو دیہات کی سطح پر بھی اچھے ہسپتال اور کلینک تعمیر کرنے ہوں گے اگر لوگوں کو ان کی رہائش گاہوں کے قریب طبعی سہولتیں میسر ہوں گی تو پھر وہ شہر کا رخ نہیں کریں گے ۔اس کے علاہ دیہاتوں میں بھی روز گار کے مواقع پیدا کئے جائیں تاکہ شہر کی طرف لوگوں کے ہجوم کو کم کیا جا سکے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1327036 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
28 Dec, 2016 Views: 647

Comments

آپ کی رائے