پیشہ فارمیسی کا المیہ

(Dr Taha Nazeer, )
قوموں اور ملکوں کی تعمیر و ترقی اس کی فلک بوس عمارتوں، نغمہ بکھیرتے طیاروں اور جبل قد بحری بیڑوں کی بجائے ان ہاتھوں سے عبارت ہے جو ان سب کے پس پردہ کار فرما ہوتے ہیں۔ اگر وہ ہاتھ بد دیا نت ہوں تو یہ سارا کارخانہ خاموش اور اگر وہ ہاتھ اعلی، با مقصد، اور غیرت و حمیت سے آراستہ ہوں تو انہیں چارچاندلگ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زندہ لوگ وقتی مصلحت تو کر سکتے ہیں لیکن غیرت و حمیت پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ وہ کسی بھی طرح کی مرعوبیت سے آزاداور اپنے نظریہ و فکر کے غلام ہوتے ہیں۔ وہ کبھی اپنی پہچان کو گم اور مقاصد کو معدوم نہیں ہونے دیتے۔ چنانچہ اس پس منظر میں ماہرین ادویات یا فارماسسٹ برادری کو بھی اپنی پیشہ ورانہ شناخت کی تعمیر اور ملک و قوم کو بہتر ادویاتی و طبی سہولیا ت کی فراہمی کے لئے نظریاتی و فکری اعتبارسے یکسو اور یکجان ہونے کی اشد ضرورت ہے ۔مجموعی طور پر اپنی پیشہ ورانہ نمائندہ تنظیم پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن PPA کو مستحکم و مضبوط کرکے ایک تحریک کی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ جو ہمہ گیر بھی ہو اور ولولہ انگیز بھی۔ جسکی راہنمائی کرنے والے نہ صرف بے باک ہوں بلکہ کسی بھی طرح کی مصلحت سے آزاد بھی ہوں۔ اپنی ملازمت کی غیر ضروری بندشوں کے پابند نہ ہوں۔ مادی و دنیاوی مفادات کے تحفظات و خدشات کا شکارنہ ہوں۔ با ضمیر و با ہمت ہوں۔ جو اﷲ کی رضاء کے بعد قوم ، انسانیت اور فارماسسٹ برادری کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں۔ مگر بد قسمتی سے PPA کی موجودہ کابینہ جو فارمیسی الیکشن 2014 کے نتیجہ میں معرز وجودمیں آئی، ان تمام صفات سے عاری ہے۔ یہ لوگ نوکریوں اور ملازمتوں کے پابند اور اپنے شخصی و ذاتی مفادات کے غلام ہیں۔ اندیکھے تحفظات و خدشات کا شکار ہیں۔ اپنے چھوٹے سے مادی مفاد کیلئے پوری فارمیسی برادری تک کو قربان کردینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ اپنے ذاتی و شخصی مفاد کے تحفظ کیلئے ملکی و قومی مفادکو ایک نہیں کئی چھرے گھوپنے کے جذبہ سے سرشار ہیں۔ یہ بظاہر گزشتہ دو دھائیوں سے پیشہ فارمیسی کی خدمت کر رہے ہیں اور یہ ان کی خدمت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج فارمیسی برادری مایوسی، انتشاراورکسمپرسی کی حالت میں ہے۔ ّ(جسے یقینا ہم دلائل و حجت سے ثابت بھی کر سکتے ہیں لیکن یہ آج کا موضوع نہیں ) انکی خدمت ہی کی وجہ سے آج ہم فکری، جذباتی اور اخلاقی پسماندگی کا شکار ہیں کہ:۔
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیا ں جاتا رہا

آج پاکستان میں فارماسسٹ برادری کو خصوصی اور پوری قوم کو عمومی آگاہی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہر طرح کی مصلحت سے بالاتر ہو کر حالات و واقعات پر بے لاگ تبصرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مسائل و وسائل پر بحث ہونی چاہئے۔ نئی جہت، نئی منصوبہ بندی اور نئی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے۔ کھل کر ان تمام پہلووں کو زیر بحث آناچاہئے جنہیں ہم مجموعی طور پر اکثر "مصلحتا" ـ نظر انداز کر جاتے ہیں۔ اس مصلحت سے مراد ذاتی کمزوری ، شخصی بزدلی، کسی چاہنے والے کی بدنامی یا فتنہ فسادکے برپاہونے کا اندیشہ ہے ۔ ان سب سے بڑھ کر عمر کے اعتبار سے بزرگ شخصیات کااحترام اور ان کا کسی نہ کسی حوالے سے خدمات کا اعتراف بھی آڑے آتا ہے ۔مگر اب تد بر و حکمت کا تقا ضا ہے کہ حقائق کی پردہ کشائی ہو جانی چاہیے۔ ورنہ پیشہ فارمیسی کا مقام جوں کا توں ہی رہے گا۔ نہ مسائل حل ہونگے نہ ملکی وقومی ادویاتی معیار بہتر ہو گا ۔نہ اس پیشے سے منسلک افراد کی ہنر مندی اورمعیار زندگی میں بہتری کی امید کی جا سکے گی ۔اور پھر ان سب سے بڑا اور قوی محرک جو اس تحریر کی وجہ بنا ۔وہ فکر آخرت اور حساب محشر ہے ۔اس فانی زندگی سے ابدی زندگی کا سفر ہے ۔جہاں علم و دانش ، جوانی و توانائی ، اسباب ووسائل اور عقل و فکر کی پرشش ہونی ہے۔ چنانچہ ہم پوری کوشش کرینگے کہ انتہائی دیانتداری کا مظاہرہ کریں۔ اﷲ کی تمام تر عنایات اور نعمتوں کا شکر کریں۔ ذاتیات و شخصیات سے ماورا ہو کر حالات و واقعات کا جائزہ پیش کریں۔ حقائق و دلائل کی راہ اپناتے ہوئے بہترین انداز میں اپنی بات کر یں۔ لیکن پھر بھی کسی دوست کی دل آزاری ہو جانے پر ہم پیشگی معذرت چاہیں گے۔

احباب گرامی!پیشہ ورانہ تنظیموں اور تجارتی گروہوں کا بنیادی مقصد اپنے پیشہ اور اس سے منسلک افراد کے تحفظ و ترقی کو یقینی بنانا ہے ۔لیکن اگر یہ مقصد حاصل نہ ہو رہا ہوتو یقینا تحقیقی جائزہ لینے، نشان منزل کی شناخت کرنے اور راستے میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے۔اگر ہم اپنی گزشتہ پچیس سالہ تاریخ پر سر سر ی نگاہ ڈالیں تو ہمیں پاکستان کی واحد قانونی اور سرکاری پیشہ ورانہ تنظیم پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن(PPA) پر "پروفیشنل گروپ" کے نام سے ایک ہی گروپ بلا شرکت غیرے حکمران دکھائی دیتا ہے۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان دو دھائیوں کے دوران کسی بھی مرکزی عہدے پر، کسی اور گروپ کا کوئی ایک فرد بھی کامیاب نہیں ہو سکا ۔ اس گروپ کو بنانے اورچلانے والے اکثر و بیشتر افراد پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ یا مرکزی وزارت صحت (DRA)کے افسران ہیں اور بظاہر ان کا کسی بھی بڑی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں اور بہت زیادہ امکان ہے کہ یہ گروہ اپنے مالی مفادت کے تحفظ ، سرکاری اختیارات کی وسعت، قیادت کی مراعات کے حصول اور پیشہ ورانہ مرتبہ و مقام کیلئے فارمیسی کے انتخابات میں بد دیانتی ودھاندلی کا ارتکاب کرتا ہے۔ جو فارمیسی کو نسل کے توسط سے ملک کے ادویاتی تعلیمی اداروں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ڈرگ رجسٹریشن اور ریگولیشن کے اداروں کے ذریعے فارماسیوٹیکل کمپنیوں پراپنے غیر قانونی اور بدعنوانی پر مشتمل فیصلے ٹھوستاہے۔ صوبائی محکمہ صحت خصوصاً پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ڈرگ انسپکٹر، ڈرگ کنٹرولر اور کوالٹی کنٹرولر آفیسر کے سرکاری اختیارت کا غیر قانونی،مکروہ اور مجرمانہ استعمال کرتاہے ۔یقینا ایسے غیرجمہوری و غیر قانونی طریقہ کار سے ایک کمزور بے توقیر، بے حثیت اور کھوکھلی قیادت ہی سامنے آسکتی ہے۔ جس کی بہترین مثال حالیہ پی پی اے (PPA) کے الیکشن 2014 ء کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی بظاہر منتخب قیادت ہے ۔جو کبھی آواری ہوٹل میں کسی پروگرام کا انعقاد کرتی ہے۔ کبھی پرل کانٹیننٹل ہوٹل میں فنکشن ہوتاہے ۔کبھی PPA ہاؤس میں بڑے کھانے(Grand Dinner) کا احتمام کیا جاتا ہے۔ ۔ کبھی کسی پرائیوٹ تعلیمی ادارے میں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کوئی تربیتی سیشن(Session)کرتے ہیں۔ اور کبھی یہ لوگ لاہورجمخانہ کلب میں جلوہ افروزہوتے ہیں۔ کبھی گورنر پنجاب جناب چوھدری محمد سرور صاحب کیساتھ فوٹو سیشن کرتے ہیں۔ کبھی پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری سے ملاقات کرکے اپنے مطالبات منوانے کی بجائے نئی حکومتی ہدایا ت لے آتے ہیں۔ یہ بات انہیں بھی پتہ ہے کہ اس دھندے بازی سے نہ فارماسسٹ برادری کے مسائل حل ہو سکتے ہیں نہ ہی ہم ملک و قوم کے لیے معیاری، ادویاتی سہولیات فراہم کر جا سکتی ہیں۔ جس طریق کار سے فارماسسٹ برادری کے پیشہ ورانہ مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں ۔ یہ اس راستے پر ایک قدم بھی چلنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ یہ لوگ ہوا کے رخ چلنے والے، زندگی کو کھیل تماشہ بنانے واے، سنجیدہ مسائل سے اختراز کرنے والے اور سسکتی انسانیت کے دکھوں میں اضافہ کرنے والے ہیں۔ یہ صریح قرآنی احکامات کی پامالی کرنیوالے، اخلاق و اصول کے منافی چلنے والے، اسلامی تعلیمات سے رو گردانی کرنیوالے، اور پیشہ ورانہ تقاضوں کو نظر اندا ز کرنے والے ہیں۔ جنکے خلاف جدوجہد یقینا جہا د ہے۔ یہ لوگ گورنر پنجاب سے ڈرگ رول Drug Rule 2007کا نفاذ نہیں کرا سکتے۔ سیکرٹری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے بین الاقوامی معیاری ملازمتی ڈھانچہ کی منظوری نہیں لے سکتے۔ ڈرگ ایکٹ میں ملک و قوم کے بہترین مفاد کی مذکورہ ترامیم نہیں کرا سکتے۔ ڈرگ سیل لائیسنس کے صرف کوالیفائیڈ فارماسسٹ کے اجراء کو یقینی نہیں بناسکتے۔ یہ تو سپریم کورٹ کے جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بننے والے حالیہ تین رکنی بنچ میں بہتر ادویا تی نظام کی تجاویز تک دینے سے قاصر ہیں۔ پنجاب حکومت کا وزیر صحت کوئی نہیں، جناب شہباز شریف صاحب وزیر اعلی پنجاب نے خاندانی و موروثی بادشاہت کی طرح یہ وزارت بھی اپنے پاس محفوظ رکھی ہوئی ہے۔ لیکن چلو برائے نام صحیح، مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کو ہی کئی معاملات میں عوام کو بہتر ادویاتی و طبی سہولیات کی فراہمی کے اسبا ب پیداکرنے کے لئے قائل کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ PPA کا حالیہ مقتدر پروفیشنل گروپ ایسا کرنے کی ہرگز جراٗت نہیں کرے گا۔

محترم بھائیو اور بہنوں! حالیہPPA کے الیکشن 2014-16 میں پروفیشنل گروپ نے پورے پاکستان میں 100% کامیابی حاصل کی۔ جو بذات خود ان کے سرکاری اختیارات کے غیر قانونی استعمال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جناب(مرکزی) صدر سندھ گورنمنٹ میں ڈرگ کنٹرولر ہیں۔ کا بینہ کے 41.66% افرادسرکاری افسران ہیں۔25% ادویاتی تنظیم یاڈرگ ریگولیشن اور20.83% تعلیمی اداروں کے اساتذہ ہیں ۔چنانچہ مرکزی PPA پر ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور ڈرگ ریگولیشن کے افسران مسلط ہیں۔ جن کے انداز تکلم ،، شان بے نیازی اور جاہ و جلال سے یہ بات شدت سے محسوس کی جا سکتی ہے کہ فارمیسی برادری کایہ ٹولہ PPAکا انتہائی اعلی طبقہ ہے۔جو PPA اور فارماسسٹ برادری کی پیشہ وارانہ نمائندگی کو اپنے والد محترم کی جاگیر سمجھتا ہے ۔ فارمیسی کی قیادت و راہنمائی کو اپنا اصولی و قانونی حق تصورکرتا ہے۔ اور ماہرین ادویات کے حقوق کے لیے کسی بھی طرح کے خطرے اور نقصان سے اختراز (avoid) کرنا اپنی سرکاری ذمہ داری سمجھتا ہے ۔کیونکہ یہ بنیادی طور پر اپنے مفادت کے غلام ہیں ۔سرکاری ملازم ہیں۔ حکومتی نمائندے ہیں۔ ماہرین ادویات کے کسی بھی طرح کے پیشہ وارانہ مفادات کو کچل کر ہر صورت میں حکومتی فیصلہ جات کا نفاذ ان کے فرائض منصبی کا حصہ ہے۔ صوبہ پنجاب میں اس طرح کے سرکاری حرکاروں کی بہتات ہے۔یہاں PPA کی موجودہ منتخب کابینہ کے 54.16% پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے افسران ہیں ۔37.5% تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور 29.16% ڈرگ ریگولیشن کے سرکاری افسران ہیں ۔ گویاصوبہ پنجاب میں ان سرکاری ہرکاروں کی مکمل گرفت ہے۔ جنکی موجودگی میں پیشہ فارمیسی کے مفادمیں کسی بھی بڑے کام کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔

انتہائی عزیز ساتھیو!PPA کے اکثر و بیشتر لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ لاہور شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ مجوزہ منتخب صوبائی کابینہ کے 54.16% منتخب نمائندگان لاہور شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ صوبائی دارالحکومت میں مقیم ہونا بھی پروفیشنل گروپ کے نزدیک ایک معیار ٹھہرا ۔جس سے نہ صرف علاقائی عصبیت کی بو آتی ہے بلکہ شہروں کی بنیاد پر ماہرین ادویات کی منفی تخصیص کا پہلو اجاگرہوتا ہے۔آپ باقی شہروں کے ماہرین ادویات کی پیشہ ورانہ صلاحیت، تعلیمی قابلیت، ادویاتی تجزیہ کاری اور سائنسی و تکنیکی جانکاری کی نفی کرتے ہیں۔ جو نہ صرف فارماسسٹ برادری کے لیے زہر قاتل ہے بلکہ ملکی و قومی سلامتی کیلئے بھی خطر ناک ہے ۔جہاں بلوچستان میں پہلے ہی احساس محرومی ہے ، KPK میں سیاسی و انتظامی بے چینی ہے۔کراچی خون آلودہ ہے۔ اور اندرون سندھ کے باسی پورے پنجاب خصوصاً لاہور کے لیے اپنے مخصوص منفی جذبات رکھتے ہیں۔ چنانچہ پروفیشنل گروپ کیPPAکو قابو رکھنے اور شہر لاہور تک ہی محدود رکھنے کی منفی سوچ پیشہ فارمیسی ہی کا قتل نہیں بلکہ ملکی نظریاتی ساکھ، قومی سلامتی اور ملی وحدت کو بھی پارہ پارہ کر دیتی ہے۔ جس سے سندھودیش ، جناح پور ،عظیم بلوچستان، کشمیر اور پختونوں کی مخصوص متعصبانہ سوچ کو تحریک ملتی ہے۔ مزید برآں ؛اس ٹولے نے تنظیمی اور روائتی طور پر بھی جنرل سیکرٹری کے لیے لاہور میں مقیم ہونا کر دیا ہے ۔PPAکا مرکزی دفتر بھی لاہور میں بنا ڈالا ہے ۔حالانکہ اصولی و تکنیکی بنیاد پر کراچی ادویات سازی ، خرید و فروخت اور درآمد و برآمد کا سب سے بڑا مرکز ہے ۔اورسرکاری وقانونی اورتجارتی و پیدواری اعتبار سے اسلام آباد دوسرے نمبر پر آتا ہے ۔جو جغرافیہ اعتبار سے بھی کشمیر، KPK اور شمالی علاقہ جات کے ماہرین ادویات کیلئے موزوں ہے۔مگر PPAپر غیر قانونی و غیر اخلاقی تسلط برقرار رکھنے کے لیے اس ٹولے نے یہ غیر منطقی اور غیر دانشمندانہ فیصلے ٹھونس دئیے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ PPA کے تنظیمی ڈھانچہ کو صرف مرکزی و صوبائی سطح پہ رکھا ہوا ہے۔جبکہ آج کے دور میں تو اخباری و نشریاتی صحافت تک مقامی و شہری سطح تک آچکے ہیں ۔وزارت صحت بھی تحلیل ہو چکی ۔ ادویات و طبی شعبہ جات کو سرکاری طور پر بھی صوبائی و مقامی سطح پر منتقل کر دیا گیا ہے۔مگر ہم شاید اپنی بددیانتی و بدنیتی کی وجہ سے اپنی پیشہ ورانہ نمائندہ تنظیم کو موثر انداز میں وضع نہیں کرناچاہتے۔ PPA کو ڈویژن ضلع اور تحصیل کی سطح پہ نہیں لانا چاہتے۔ جو ہماری ناکامی و ہم سے تو حکما، ہو میو پیتھک ڈاکٹرز ،صحافی برادری اور تجارتی تنظیمیں کئی درجے بہترہیں۔جنہوں نے شروع دن سے ہی مقامی سطح پہ مسائل حل کرنے کے لیے اپنا شاندار پیشہ ورانہ ڈھانچہ وضع کیا۔

محترم فارماسسٹ بھائیو اور بہنو!الیکشن2014-16 میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا امید وار مرکزی صدر ہے۔ جنہیں کل 1532 ووٹ ملے جو پوری فارمیسی برادری کا صرف 7.29% ہے ۔یعنی یہ صاحب اپنے تمام تر شخصی وزن ،گروہی مادی وسائل ،پیشہ ورانہ پس منظر اور سرکاری جاہ وجلال کو بروئے کار لا کر بھی ماہرین ادویات کے 92.71% لوگوں کااعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔جنہوں نے بوجہ موجودہ کا بینہ پر بھروسہ نہیں کیا یاانتخابی عمل میں حصہ ہی نہیں لیا ۔سب سے کم ووٹ جنرل سیکرٹری کو ملے۔ جسے صرف7.09% (1473) فارماسٹوں کا اعتماد حاصل ہے ۔جبکہ بقیہ 92.99% لوگوں نے انہیں قطعی طور پر مسترد کر دیا ۔اسی طرح صوبہ پنجاب کے صدر محترم نے اپنی تعلمی قابلیت، تدریسی پس منظر، گروہی سرکاری اختیارات کے غیر قانونی اور تنظیمی اسباب وو سائل کے غیر اخلاقی استعمال کے باوجود صرف711 ووٹ لے سکے۔ جو صوبہ پنجاب کی کل فارمیسی برادری کا 7.11% ہے۔ چنانچہ یہ صاحب اپنے تمام تر جاہ وجلال ،شان وشوکت اور اسباب و وسائل کو بروئے کا ر لا کر بھی92.89% ماہرین ادویات کے پیشہ ورانہ اعتماد سے محروم رہے۔ سب سے کم ووٹ نائب صدر راولپنڈی کو ملے ۔جنہیں6.23% (623) افراد کا اعتماد حاصل ہے جبکہ بقیہ93.77% لوگوں نے انہیں مسترد کر دیا ہے ۔چنانچہ یہ بات طے ہو چکی موجودہ PPA کی مرکزی وصوبہ پنجاب کی منتخب قیادت کو 90% سے زائد فارماسسٹ برادری نے مسترد کر دیا ہے ۔جو یقینا قابل غور پہلو ہے۔

اب ذرا الیکشن کمیشن کا احوال ملاحظہ ہو ۔جس کی کلی بناوٹ (comprosition) سرکاری ملازمین پر مشتمل ہے۔ جناب چیف الیکشن کمشنر صاحب ،پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں صوبائی کوالٹی کنٹرول بورڈ کے افسر ہیں (امکان ہے کہ اس تحریر کی اشاعت تک ریٹائرہو چکے ہوں)۔یہ صاحب ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے پیشہ فارمیسی کے انتخابات میں اختیارات کے غیر قانونی استعمال اوربددیانتی و دھاندلی کرانے کا معاہدہ کیا ہواہے ۔یہ کسی ذمہ دار ٹھیکدار کی طرح یہ مکر وہ دھندا برپا کرتے ہیں۔جو شخص اپنی انتخابی ذمہ داری کے اخلاقی و قانونی تقاضوں سے انصاف نہیں کر سکا ۔اس نے اپنے رزق کا وسیلہ بننے والی تعلیم، ہنر اور ملازمت کے تقاضے کیسے پورے کئے ہوں گے۔ اس کی سرکاری کارکردگی خاک ہو گی؟ صوبہ پنجاب کے ادویاتی معیار کی بہتری میں کیا خدمات انجام دی ہو نگی؟

دنیاکے کسی بھی انتخابی عمل میں چیف الیکشن کمشنر اور اس کے متعلقہ تنظیمی عملہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہو تی ہے ۔چنانچہ ہم یہاں امیدواروں کی سیاسی ،گروہی اورفکری وابستگی سے ہٹ کر صرف انتخابی عمل ہی کا تحقیقی جائزہ لیں۔ تو یہ بات با آسانی محسوس کی جا سکتی ہے کہ سرکاری و حکومتی اختیارات کا غیر قانونی اور کھلم کھلا استعمال کیا گیا ۔لاہور میں جناب چیف الیکشن کمشنر صاحب اور ان کو ہدایات جاری کرنے والے صوبہ پنجاب کے چیف ڈرگ کنٹرولر اور ان کے تمام تر سر کاری کارندے جلوہ افروز تھے ۔ملتان ، خانیوال، بہاولپور ، مظفر گڑھ، ڈی جی خان، راجن پور اور لیہ کو قابو کرنے کی ذمہ داری نشتر ہسپتال کے چیف فارما سسٹ کو سونپی گئی ۔بہاولپور لودھراں اور بہاولنگر کے لیے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ایک پروفیسر کو نامزد کیا گیا ۔رحیم یار خان کے لیے مقامی ڈرگ انسپکٹر کو احکامات جاری کیے گئے ۔راوالپنڈی اور اسلام آباد کے علاقہ کے لیے مقامی ڈرگ کنٹرولر کو نامزد کیا گیا۔ کراچی کے لیے ایک سابقہ ڈرگ کنٹرولر کو انتخابی منتظم بنایا گیا۔جبکہ فیصل آباد اور سرگودھا کے لیے مقامی ڈرگ کنٹرولر کو انتخابی عمل کے انتظامات کا نگران نامزدکیا گیا ۔بلوچستان میں بھی ایک ہاسپٹل فارماسسٹ کو انتخابی منتظم مقرر کیا گیا ۔پشاور کیلئے مقامی ڈرگ ٹسٹنگ لیبارٹری کے فارماسسٹ کو نامزد کیا گیا۔ گویا پورے پاکستان میں جہاں شرح تناسب (ratio proportion)کے اعتبار سے بھی غیرسرکاری فارماسسٹ سرکاری سے کہیں زیادہ ہیں ۔ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت طے شدہ انتخابات (engineerd election) کرائے گئے۔ الیکشن کمیشن نے اعداد و شمار اور عددی قوت کو نظر انداز کر کے سرکاری اختیارات کے غیر قانونی استعمال کا بہترین سامان فراہم کیا ۔ حالانکہ یہ مراعات یافتہ طبقہ پوری فارماسسٹ برادر ی کا 15% سے زیادہ نہیں ہے۔ جو سرکاری ادویاتی اختیارات کا حامل ہے ۔بین الاقوامی ادویات و صحت کے اداروں پر قابض ہے ۔ پیشہ فارمیسی کے سیاہ و سفید کا مالک اور ادویات کی دنیا کا بے تاج بادشاہ ہے۔ گویا یہ ایک محدود طبقہ سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال سے نہ صرف ماہرین ادویات کی مضبوط پیشہ ورانہ نمائندگی کو مجروح کرتا ہے ۔بلکہ ملک و قوم کو معیاری ادویاتی نظام کی فراہمی میں رکاوٹ بننے کا مجرمانہ کرداربھی ادا کررہا ہے ۔جو یقینا ایک غیر منطقی اور مکر وہ فعل ہے ۔جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
فارماسسٹ الائینس (Pharmacist Alliance) پاکستا ن فارماسسٹ اسوسی ایشن (PPA)کے اکابرین نے ملک کی موجودہ جملہ انتخابی بے قائدگی اور دھاندلی کے عنوان سے پیدا ہونے والے سیاسی و انتظامی بحران کے حوالے سے کئی دفعہ مختلف انداز میں ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ہم یقینا ایک پیشہ ورانہ گروپ ہونے کی وجہ سے کسی بھی سیاسی ، گروہی اور فرقہ ورانہ وابستگی کا انکار کرتے ہیں۔ اورہر طرح کے سیاسی عزائم کو ایک طرف رکھتے ہوے صرف اور صرف پیشہ فارمیسی کی ترقی و بڑھوتری کو ترجیح دیتے ہیں۔ مگر اسکے ساتھ ساتھ یقینا ہم مجموعی ملکی سیاسی ، معاشی اور سماجی حالات سے الگ نہیں رہ سکتے۔ اور فارمیسی کے الیکشن 2014 میں ہونے والی مبینہ دھاندلی، بددیانتی اور سرکاری اختیارات کے غیر قانونی استعمال کا جناب میاں شہباز شریف صاحب وزیر اعلی پنجاب کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ جنکی سرکردگی میں جناب ایاز علی خان صاحب (چیف ڈرگ کنٹرولر پنجاب )نے سرکاری اختیارات کا غیر قانونی استعما ل کیا اور انتخابی بددیانتی اور دھاندلی برپا کی۔ اسی مقصد کیلئے انہیں راولپنڈی سے پنجاب سیکٹریٹ بلایا گیا۔ انکی چیف ڈرگ کنٹرولر پنجاب کی پوزیشن کیلئے مکمل اہلیت نہ ہونے کے باوجودتعینات کیا گیا۔ جناب میاں صاحب ہی کے ایماء پر، خان صاحب نے پیشہ فارمیسی کے ــــگلوبٹ کا بہترین کردار ادا کیا۔اپنی بغل میں بیٹھے پنجاب کوالٹی کنٹرول بورڈ کے نگران کو چیف الیکشن کمیشن متعین کیا۔ پورے پنجاب کے الیکشن کنوینرز اپنے ماتحت سرکاری افسران متعین کئے۔ پورے الیکشن کی براہ راست نگرانی کی۔ تمام اہم شہروں میں بنفس نفیس تشریف لے گئے۔ اسکے علاوہ جناب موصوف نے تقریبا تمام اہم اداروں میں بذات خود رابطہ فرمایا۔ جسکے نتیجے میں آج کی موجودہ PPAکی غیر موثر، کمزوراور لاغرپیشہ ورانہ نمائندے سامنے آئے۔ ان تمام حقائق کی تفاصیل ہمارے جاری کردہ قرطاس ابیعض (White paper) نمبر 317/14-PA ؛ مورخہ July 21, 2014 (http://pharmareview.wordpress.com/2014/08/03/the-dilemma-of-pharmacy-profession-in-pakistan-white-paper-regarding-p pa-election-2014/ ) میں پہلے ہی سے موجودہیں۔ جنا ب وزیر اعلی پنجاب کا ہمارے جاری کردہ قرطاس ابیعض پرکسی قسم کی کاروائی عمل میں نہ لانا انکے اس مکروہ دھندے میں ملوث ہونے کی کھلی نشاندھی کرتاہے۔ لٰہذا ہم جناب شریف برادران اور PML (N) کے انتخابی دھاندلیاں برپا کرنے اور سرکاری و سائل و اختیارات کے غیر قانونی استعما ل کے قائل ہیں۔اور فارمیسی برادری، پاکستانی عوام، ملکی عدلیہ اور اہل علم ودانش سے امید کرتے ہیں کہ ملک میں قانون و انصاف کی بالا دستی کیلئے ہماری جہدمسلسل کی حمائت جاری رکھیں گے۔ سسکتی اور بیمار انسانیت کی خدمت میں ہمارا ساتھ دینگے۔ غریب مریضوں کو بہترین اور معیاری ادویاتی سہولیا ت کی فراہمی میں ہماری مدد کرینگے۔ اور اﷲ سے دعا کرتے ہیں کہ ملک وقوم کو ظلم وبد دیانتی برپاکرنے والے شر پسند عناصر سے نجات عطا فرمائے۔ آمین

بہت محترم فارماسٹ بھائی اور بہنوں ! یہ بات طے ہو چکی کہ سیکرٹری ہیلتھ نے پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے فارماسسٹ افسران کو اختیارات کے ناجائز استعمال کی کھلی چھٹی دی ہے۔ خصوصاً چیف الیکشن کمشنر صاحب جو صوبائی کوالٹی کنٹرول کے انچارج بھی ہیں ۔اور چیف ڈرگ کنٹرولر جو پروفیشنل گروپ کے سربراہ (god father) ہیں،نے سرکاری اختیارات کا ببانگ دہل استعمال کیا ۔اور منطقی اعتبار سے اس کاسہرا جناب وزیر اعلیٰ پنجاب کے سر ہے ۔جو سارے اداروں کے سربراہ اور تمام تر سرگرمیوں کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ متعلقہ سرکاری افسران کے ہر فیصلے پالیسی ، نوٹیفیکشن اور ریگولیشن میں ان کی منشاء اور مرضی شامل ہوتی ہے ۔چنانچہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فارماسسٹ برادری کے اس پیشہ ورانہ انتخابات میں سرکاری اختیارات کے غیر قانونی استعمال کی سرکاری سطح پر تحقیق کی جائے ۔ متعلقہ افراد کے اس مکروہ جرم کی تفتیش کی جائے ۔ ان کو ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ آئندہ کسی سرکاری افسر کو اپنے سرکاری اختیارات کے غیر قانونی استعمال کی جرأت نہ ہو۔ورنہ پوری قوم کے ساتھ فارمیسی برادری بھی پینتیس(35) پینکچر کی افسانوی کہانی کو سچ مان لے گی۔ مقناطیسی سیاسی کی عدم دستیابی کا یقین نہیں کریں گے۔ الیکشن کمیشن کے بے حثیت ہونے کے قائل ہو جائینگے۔ نادرا کے سربراہ کو انتخابی عمل کی معائنہ کاری سے انکار نہ کرنے کی پاداش میں برخاست کرنے کے پس منظر سے آگاہ ہو جائینگے۔

میرے محترم فارماسٹ بھائیو اور بہنو! بات صرف یہی ختم نہیں ہو جاتی۔ بلکہ اس کے اثرات و نتائج دور تلک جاتے ہیں۔ کیونکہ پیشہ فارمیسی کی یہ غیر قانونی ،بے بس اور کسی بھی اخلاقی جواز سے خالی قیادت کوئی نمایاں کام کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔ بلکہ شاید انہیں پیشہ فارمیسی کے مسائل کا صحیح ادراک بھی نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہ کبھی آواری ہوٹل میں ہوتے ہیں۔ کبھی کسی ادویاتی تعلیمی ادارے میں کسی ورکشاپ کی صدارت فرمارہے ہوتے ہیں۔کبھی کسی شخصیت کو استقبالیہ دیتے ہیں۔ کبھی بڑے کھانے کا احتمام کرتے ہیں۔ کبھی گورنر پنجاب کیساتھ فوٹو سیشن کراتے ہیں۔ کبھی سیکرٹری ہیلتھ سے ملاقات کر کے تجاویز دینے کی بجائے نئی ہدایا ت لے آتے ہیں۔ یہ دو سال اسی طرح عیاشیاں کریں گے۔ قیادت کی مراعات سے محضوض ہونگے۔ پھر دوبارہ اپنے عہدوں اور سرکاری اختیارات کا غیر قانونی استعمال کریں گے۔ماہرین ادویات کو ہراساں کرکے اپنا مکروہ تاریخی کھیل کھیلیں گے۔ لیکن فارمیسی کے حقیقی اور بنیادی مسائل کو کبھی حل نہیں کرینگے۔ یہ تو ابھی تک شہر فیصل آباد کے رہائشی حافظ صدیق سیفی کی داد رسی نہیں کرسکے۔ جس نے18 جنوری2011کو اسی گروپ کےPPA کے سابق صدر کے نام پیشہ ورانہ ظلم و ناانصافی کے خلاف مددکے درخواست کی تھی۔ آج اس خط کو چوتھا سال ہو گیاہے۔ مگراسکا انتظارختم نہیں ہوا۔ اگرہم ان کے مکروہ کردار کو مزید کھل کے بتانا چاہیں۔ تو صورتحال کچھ یوں ہو گی ۔کہ مریض دوائی مانگے اور یہ کہیں کہ لسی پیو۔ جانا کراچی ہو یہ کہیں پشاور کا ٹکٹ لے لو۔ بھوکا روٹی مانگے یہ کہیں نماز پڑھو۔ سوال گندم کریں یہ جواب چنادیں ۔چنانچہ جو بتانے والی بات ہے ۔وہ یہ ہے کہ اس بددیانت گروہ کو توماہرین ادوایات کے حقیقی مسائل تک کاادراک نہیں ۔ان لوگوں کی ترجیحات ہی کچھ اور ہیں۔یہ کبھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کرینگے۔

اگلی بات جو ہم اپنے فارماسٹ بھائیوں اور بہنوں کے گوش گزار کرنا چاہیں گے ۔کہ PPA کی موجودہ منتخب کابینہ، عملی طور پر حکومت پاکستان اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی متبادل اجتماعیت ((B-team ہے ۔ یہ و ہی بات کریں گے جو سیکرٹری ہیلتھ، وزیر مملکت یاوزیر اعلی صاحب انہیں بتائیں گے۔ یہ حکومتی فیصلے سے ہٹ کر، فارماسسٹ برادری کے مفاد میں ایک لفظ بھی کہنے کی جرات نہیں رکھتے۔ یہ اپنی برادری کے حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ سرکاری فیصلوں کا نفاذ کریں گے۔ سرکاری حکمت عملی (Policies)لاگو( Enforcement )کریں گے۔ چنانچہ اصولی اعتبار سے PPA اپنی حقیقی افادیت کھو چکی ہے۔ یہ ایسا چراغ ہے جس کی روشنی نہیں۔ ایسی دوا ہے جس میں اثر نہیں۔ ایسی گاڑی ہے جو چلتی نہیں۔ ایسا کارخانہ ہے جہاں کچھ نہیں بنتا ۔ایسی تنظیم ہے جسکے اپنے ارکان کی کثیر تعداد انہیں نا پسند کرتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس چراغ کو روشن، دوا کو موثر ، گاڑی کو چلتا ہوا، اور تنظیم کو ہر دلعزیز کیسے بنایا جائے ۔تو احباب گرامی اس کا حل تلخ اور دشوار ضرور ہے ۔مگر ناممکن نہیں ۔ ہمیں PPA ہی نہیں بلکہ پروفیشنل گروپ سے بھی ملک دشمن ،غدار اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن جانے والے لوگوں کو نکالنا ہو گا۔ ان بددیانت لوگوں کی شناخت قطعاً دشوار نہیں ۔کیونکہ گزشتہ دو دھائیوں سے نہ ان کے لچھن بدلے۔نہ لہجے میں تبدیلی آئی۔ نہ انداز و بیان میں تغیربرپا ہوا ۔چنانچہ ہمیں ان کے خلاف یکسو ویکجان ہونا ہو گا۔ ان کی شناخت اور پہچان میں پوری برادری کی راہنمائی کرنا ہو گی۔ ان کی کڑی نگرانی اور ہر سطح پر ہر نوعیت کا پیچھا کرنا ہو گا۔

اب جبکہ یہ طے ہو چکا کہ موجودو PPAکو 90% سے زائد فارماسسٹ برادری نے مسترد کر دیا ہے۔ تو پھر یہ کس منہ سے مختلف سر کاری و غیر سر کاری اداروں،پاکستان فارمیسی کونسل، صوبائی فارمیسی کونسلز، رجسٹریشن بورڈز ،Appeliated board، Licensign board ، ہیلتھاتھارٹیز ، مرکزی وزارتوں اور صوبائی محکمہ جات میں ہماری نمائندگی کرتے ہیں۔ اصولی طور پر متعلقہ اداروں کو اس غیر نمائندہ کابینہ کو ہرگز قبول نہیں کرنا چاہئے۔ انکے نمائند وں کو مسترد کر دینا چاہئے۔ قانون و انصاف کی بالادستی قائم کر دینی چاہیے۔ متعلقہ محکمہ جات کواپنی حقیقی افادیت اجا گر کرنی چائیے۔متعلقہ نگران شعبہ جات کو ایک زندہ و تابندہ قوم کا فرد اور با ضمیر انسان ہونے کا ثبو ت دینا چاہیے۔ اسے ساتھ ساتھ پروفیشنل گروپ کے تمام مخالف لوگو ں کو متحد ہو کر پوری فارمیسی برادری اور پاکستانی قوم کے لیے بھر پور کردار ادا کرنا چاہئے۔ کیونکہ بہت زیادہ امکان ہے کہ یہاں کوئی جج سو مو ٹو ایکشن نہیں لے گا۔ لیکن پھر بھی پیشہ فارمیسی کے استحکام اورقوم کو بہتر ادویا تی سہولیا ت کی فراہمی کیلئے ہم مایوس نہیں ہیں۔ ہم اس پیشہ کے مستقبل کیلئے پر امید ہیں۔ اور ویسے بھی ہمارا کام جدوجہد کرناہے۔اثرات و نتائج اﷲ کا اختیا ر ہے۔ ہمیں دنیا کے کسی بھی طرح کے انعام سے بے پروہ ہوکر یہ محنت کرناہوگی۔

آخری بات جو آج کی اس تحریرکے توسط سے ہم فارمیسی برادری سے خصوصااور پوری قوم سے عموماکہنا چاہیں گے۔وہ یہ ہے کہ PPA پر مسلط پروفیشنل گروپ کو اپنی طاقت کا بہت زعم ہو گا ۔سرکاری اختیارات اور جاہ و جلا ل کا بہت مان ہوگا ۔مگر ہم فارماسسٹ الائینس کے توسط سے ان کے تمام تر غرور وتکبر ، شان و شوکت اور جاہ وجلا ل کو اپنے پاؤں کی نوک پر رکھتے ہیں ۔ہم ان کے سرکاری اختیارات کے غلط استعمال سے ماہرین ادویات کو خوفزدہ و ہراساں کرنے کی تمام ترترکیبوں کو ان کے منہ پر مارتے ہیں ۔ہم جناب وزیر اعلیٰ پنجاب کو یہ پیغام دینا چاہیں گے۔ جناب اعلی آپ اپنے ان سرکاری حر کاروں کے ذریعے فارماسسٹ برادری کو غلام بنانے کی کوششیں چھوڑ دیں ۔ہم چیف سیکرٹری، سیکرٹری ہیلتھ اور قابل احترام وزیر مملکت ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی محترمہ سارہ افضل تارڑسے بھی گزارش کریں گے کہ سرکاری اختیارات کے غیر قانونی استعمال کے ذریعے قوم کو بہتر ادویاتی سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کرنا چھوڑ دیں ۔ کیونکہ یہ صرف فارماسسٹ برادری ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے ساتھ بددیانتی و ناانصافی ہے۔ ہم نہ ان کے سرکاری اختیارات سے مرعوب ہیں۔ نہ ان کے اسباب و مسائل سے خوفزدہ ہیں ۔ہم ان کاسینہ سپر ہو کر مقابلہ کریں گے۔ ان کے مکرو فریب کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے۔ قوم کو غیر معیاری ادویاتی نظام کی فراہمی کے خلاف کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اور اپنی مقدس جدوجہد کو ہمیشہ جاری رکھیں گے ۔کیونکہ دنیا میں فیصلے اسباب و وسائل اور قوت و اختیارات کی بنیاد پر نہیں ہوتے بلکہ مقصد کی سچائی اور منزل کی اونچائی کی بنیاد پر ہوتے ہیں ۔جس کا قرآن نے بھی فیصلہ کیا ہے؛۔

کم من فئتہ قلیلہ غلبہ فئتہ کثیرا باذن اﷲ۔)البقرہ(249:2 ترجمہ: ــ’’کئی دفعہ ایک چھوٹا گروہ بڑے لشکر پراﷲ کے حکم سے غالب آ گیا‘‘۔

جاء الحق و ذ ھق الباطل ان الباطل کان ذھوکا۔ ترجمہـ :’’ جب حق آتا ہے تو باطل چلاجاتا ہے ۔ بیشک باطل جانے ہی کیلئے ہے ‘‘۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Taha Nazeer

Read More Articles by Dr Taha Nazeer: 2 Articles with 1210 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jan, 2017 Views: 585

Comments

آپ کی رائے