کرسی کیسے بچائی جائے !(قسط نمبر 3)

(Shafqat Ullah, )
توجہ چاہے جتنی بھی بانٹنے کی کوشش کی گئی لیکن احتساب کے دیو کو اب عوام دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ کتنے ہیکل ساخت کا مالک ہے اور بہت حد تک بے تاب بھی کہ کرپشن کا جن اور معاشی دہشتگرد بڑے ہیں یا احتساب کو دیو !چھوٹو گینگ کا معمہ جب پنجاب پولیس کے دائرہ کار سے باہر ہو گیا تو آرمی اور رینجرز مشترکہ آپریشن کر کے چھوٹو کو پکڑ لیتے ہیں ۔اب آرمی کے پاس پنجاب میں آپریشن شروع کرنے کی ایک ٹھوس وجہ بن جاتی ہے اور ادھر سے تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک سمیت جماعت اسلامی کے کرپشن کے خلاف مظاہروں کا اعلان کرتی ہے ۔ پھر سے عوام کی توجہ بلوچستان کی طرف موڑ دی جاتی ہے کہ جب وہاں وکلاء برادری کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور صدر بار کوئٹہ سمیت ستر سے زائد وکلاء شہید ہو جاتے ہیں لیکن اس قومی سانحہ سے پہلے میاں صاحب کی طبیعت نا ساز ہو جاتی ہے اور وہ بائی پاس کروانے امریکہ چلے جاتے ہیں ان کے دل کا ایک میجر آپریشن ہوتا ہے جس میں چار بائی پاس کئے جاتے ہیں جس کے بارے میں عوام اور دیگر حلقوں کے بہت سے تحفظات ہیں جو خیر کبھی بھی دور نہیں ہو سکتے۔ اسی بیچ پنجاب کی سرحدوں پر ہونے والے چھوٹو گینگ والے آپریشن کے بعد پاک فوج کے پاس ایک ٹھوس وجہ تھی کہ وہ پنجاب میں رینجر ز کو تعینات کرکے آپریشن شروع کریں کیونکہ جیسے پنجاب میں لوگوں کو سرعام مارا گیا پھر ان کیسز کو دبا دیا گیا ایک نہایت غلیظ حرکت اور قانون کی بالا دستی پر دھبہ تھا ۔چونکہ بلوچستا ن میں پہلے بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را عدم استحکام کی صورتحال پیدا کرنے میں ملوث پائی گئی ہے اس لئے ان دنوں نیب کی کارکردگی کو متاثر کرنے کیلئے ایک سانحہ اور عوام کو دیا گیا اور وہ سانحہ ٹھیک ان دنوں کی بات ہے جب نیب نے بلوچستا ن کے وزیر اعلیٰ کو پکڑا جس سے کتنی ہے مقدار میں کالا دھن برآمد ہوا یہ بات یہاں اور آزاد کشمیر میں اسی سال کے اول دنوں میں ضمنی انتخابات منعقد ہوتے ہیں جس میں متوقع طور پر ن لیگ بھاری اکثریت سے حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ن لیگ کی امیج پھر سے عوام میں مثبت شکل اختیار کر تی ہے حالانکہ آزاد کشمیر میں حکومتی جماعت کی کامیابی کوئی نئی بات نہیں لیکن ن لیگ کے پاس اس حکومت کی صورت میں یہ ایک پلس پوائنٹ تھا اور دوسرے جانب پاناما پیپرز کا معاملا جوں کا توں رہتا ہے میاں صاحب اور ان کی فیملی کی جان بخشی ہوتی نظر نہیں آتی اور میاں صاحب امریکہ میں بیٹھے ویسے تو زیر علاج ہی رہتے ہیں لیکن بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اسٹیبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ تعلقات بحال ہو سکیں وزیر اعظم کی یہ ناراضگی نریندرا مودی کو اچھی نہیں لگتی اور لائن آف کنٹرول پر اچانک حالات کشیدہ ہو جاتے ہیں پھر سانحہ بلوچستا ن اور لائن آف کنٹرول ملکر پاک فوج اور حساس اداروں کی توجہ پنجاب سے ہٹا کر اپنی طرف مرکوز کر لیتے ہیں اور میاں صاحب اور ان کے حواریوں کو نئی سانس مل جاتی ہے جبکہ پورے پچاس دن اسی صورت حال میں گزر جاتے ہیں اور سابقہ آرمی چیف کیلئے یہ سیاسی پیچ و خم بہت برا چیلنج ثابت ہوتے ہیں ۔ادھر آئے دن جلسے جلوس کبھی جماعت اسلامی تو کبھی تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی دھمکیاں کہ وہ اب اور حکومت کو برداشت نہیں کر سکتے لیکن عملی طور پر کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھانا مفاد پرستی کی جانب اشارہ کرتا ہے انہیں دنوں سندھ کا وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کو تبدیل کر کے مراد علی شاہ مقرر کر دیا جاتا ہے جس کے پاس پیپلز پارٹی کو بچانے کیلئے واضح پالیسیاں موجود ہوتیں ہیں یہ پالیسیاں اس صورت میں مرتب ہوتیں ہیں جب کراچی میں صفائی کے معاملات گھمبیر صورت حال اختیار کر جاتے ہیں جن سے نمٹنے کیلئے سابقہ وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ ناکام نظر آتے ہیں اور پھر بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر نیب متحرک ہوتی ہے اور نادرا کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا جاتا ہے جس سے یہ انکشاف واضح ہوتا ہے کہ ملک میں دہشتگردی کو سہولت کاری کی ایک وجہ افغانستان سے آئے مہاجروں کو آسانی سے پاکستانی شناختی کارڈز کا میسر ہونا ہے جسکے بعد افغانی مہاجر باشندوں پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا جاتا ہے جو کہ خیبر پختونخواہ حکومت کی سیاست پر ایک گہرا اثر ڈالتی ہے بنیادی طور پر یہ اقدام پی ٹی آئی کو کے پی کے میں کمزور کرنے اور ن لیگ کو پھر سے متحرک کرنے کا راستہ بنانے کیلئے اٹھایا جاتا ہے کیو نکہ یہ نہ اہلی بنیادی طور پر پیپلز پارٹی اور اس سے پہلے کی حکومتوں کی تھی کہ جب افغانی مہاجر یہاں آباد ہوئے تھے اور مزے کی بات یہ کہ انہی دنوں میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک اقتصادی راہداری منصوبے میں وفاقی حکومت کی جانب سے اعتماد میں نہ لئے جانے اور کرپشن ہونے پر گہرے رنج و تشویش کا اظہار کرتے ہیں جنہیں پرویز رشید مختلف صورتوں اور کوششوں سے منانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انکی تمام کوششیں بے سود ہوتیں ہیں ۔وفاق کی جانب سے کہیں بھی جمہوریت کے تقاضوں کو اولین ترجیح نہیں دی گئی بلکہ اس کے بر عکس آمریت دکھائی گئی لیکن پاک فوج کی طرف سے جو شعور عوام میں پھیلایا دیا گیا وہ اس بار اندھیروں میں ڈوبتا نظر نہیں آ رہایہی وجہ تھی کہ پاناما پیپرز کے معاملات اسی قوت سے بڑھتے رہے جس طرح اول دن سے تھے ۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں جو صفایا کرنا تھا وہ کر کے دکھایا ایم کیو ایم کے جتنے بھی دفاتر غیر قانونی یا تجاوزات میں آتے تھے گرا دئیے گئے یہ کام پچھلے کئی سالوں میں کوئی نہ کر پایا جو سید مراد علی شاہ نے چند دنوں میں کر دکھایا اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ ایم کیو ایم حقیقت میں بھارتی اور ملک دشمن عناصر سے فنڈڈ ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں اچانک سے تحریک آزادی کی ہوا زور پکڑ لیتی ہے جو ابھی تک تھمنے کا نام نہیں لیتی کہ جب وہاں تحریک آزادی کے مرکزی کردار برہان وانی کو شہید کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وزیر اعظم پاکستان کو پھر سے عوام میں اپنا مثبت امیج بنانے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ اسے کیش کر کے دکھاتے ہیں بھارت کا چہرہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے سامنے بے نقاب کرتے ہیں جو ان کے بزنس پارٹنر اور دوست نریندر مودی کو ناگوار گزرتا ہے اور وہ کبھی سندھ طاس معاہدے تو ڑنے کی دھمکی دیتا ہے تو کبھی لائن آف کنٹرول پر صورتحال اتنی کشیدہ ہو جاتی ہے کہ دونوں ممالک میں جنگ لگنے کی خبریں پھیل جاتیں ہیں یہ خبریں بھارتی کانگریس ،سماجی حلقوں اور سکھ برادری میں ایک نیا جوش بھر دیتیں ہیں جو نریندر مودی اور اپنی فوج کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یہ سبق دیتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ کسی صورت جنگ نہ کی جائے جبکہ مسلمان اور سکھ طبقہ وہاں ایک نئی ریاست کے حصول کیلئے تحریک کا آغاز کر دیتے ہیں اس طرح دونوں ممالک کے وزرائے اعظم ناکام خارجی اور داخلی پالیسیوں کے متحمل ہوتے ہوئے ایک دوسرے کو پوری دنیا میں اکیلا کرنے کی کوششوں میں مگن ہو جاتے ہیں ان دنوں میں دیکھا جائے تو میاں صاحب کا مزاج قدرے برہم نظر آتا ہے کیونکہ ان کے اپنے گھر سے انہیں یہ پیغام دیا جا رہا ہوتا ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ کی نشست سے برخواست ہو جائیں اور کسی دوسرے کو موقع دیں اس صورت حال میں ن لیگ کے اندر ہی دھڑے بن جاتے ہیں ایک چوہدری نثار مخالف اور پیپلز پارٹی کا حامی دھڑا اور دوسرا چوہدری نثار کا حامی دھڑا یہ باتیں ابھی چل رہی ہوتیں ہیں کہ پی ٹی آئی شیخ رشید اور پاکستان عوامی تحریک سمیت دیگر جماعتیں وزیر اعظم کو ڈیڈ لائن دے دیتیں ہیں لیکن جب وزیر اعظم ن لیگ کو دوبارہ متحد کرنے اور چوہدری نثار کو وزیر اعظم بنائے جانے کو رد کر دیتے ہیں تو پیپلز پارٹی خود بخود پیچھے ہٹ جاتی ہے اور پاکستان عوامی تحریک بھی عدالت پر اعتماد کرتے ہوئے پی ٹی آئی کا ساتھ دینے سے انکار کر دیتے ہیں اسی دوران پی ٹی آئی دھرنا دینے لگتی ہے جسکی وجہ سے وفاقی حکومت اور کے پی کے حکومت کے مابین ٹھن جاتی ہے(جاری ہے)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 209 Articles with 88358 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
02 Jan, 2017 Views: 443

Comments

آپ کی رائے