فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی رحمۃ اﷲ علیہ

(Salman Usmani, )
آہ! میرے پیر و مرشد ،عالم اسلام کی عظیم روحانی شخصیت ، ولی کامل

قطب الا قطاب،ولی کامل مجدد وقت حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کا ندھلوی ؒ مہا جر مدنی قد س سرہ کے شاگرد رشید و خلیفہ اجل انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ کے مرکزی امیر اورعالم اسلام کی عظیم علمی و روحانی شخصیت فضیلۃ الشیخ حضرت مو لانا عبدالحفیظ مکی ساؤتھ افریقہ کے تبلیغی و خانقاہی دورہ کے دوران حرکت قلب بند ہو نے سے مورخہ 16جنو ری 2017ء مطابق 17ربیع الثانی 1438ھ بروزسوموارپا کستانی وقت کے مطابق رات 9بجے ساؤتھ افریقہ کے شہر پیٹر میرٹس برگ میں 70سال کی عمر میں انتقال کر گئے(انا ﷲ و انا الیہ راجعون)حضرت والا کا ڈربن میں بعد نماز مغرب بیان تھا ڈربن جا تے ہوئے جہاز میں طبیعت خراب ہو ئی ۔ ڈربن پہنچ کر پیٹر میرٹس برگ چلے گئے جہاں حضرت والا کی طبیعت زیا دہ خراب ہو گئی اور ڈاکٹر کو گھر بلوا یا گیا ڈاکٹر کے مشورہ سے ہسپتال منتقل کیا گیا اور انجیو گرافی کی گئی اور انجیو گرافی کے دوران دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اسی وقت حضرت والا نے جان جاں آفریں کے سپرد کر دی اور اﷲ کے پاس جا تے ہو ئے زبان پر یہ کلمات(سلام قولا من رب الرحیم)جا ری تھے حضرت والا کی پہلی نماز جنازہ ساؤتھ افریقہ میں ادا کی گئی جبکہ دوسری نماز جنازہ19جنوری2017ء بروز جمعرات بعد نماز فجر مسجد نبوی شریف مدینہ منورہ میں ادا کی گئی اور جنت البقیع میں تدفین کی گئی،مدینہ شریف میں نماز جنا زہ میں پاکستان سمیت پو ری دنیا سے کثیر تعدادمیں حضرات علماء کرام ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات نے شرکت کی،با لخصوص پاکستان سے جید علماء کرام قا ئد جمعیۃ مولانا فضل الرحمان،اہل سنت والجما عت کے سربراہ مو لانا محمد احمد لدھیا نوی ،مولانا محمد الیاس چنیوٹی ،مولانا مفی شاہد محمود ،مفتی محمد عتیق الرحمان و دیگربڑے حضرات نے شرکت کی۔

حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی ؒ نے پسماندگان میں 4بیٹے اور بیوہ سمیت لاکھوں عقیدت مند مریدین اور کارکن سوگوار چھوڑے ہیں،مولانا عبدالحفیظ مکی ؒ پاکستان سمیت پوری دنیا میں انتہائی قابل احترام اور ہر دل عزیز شخصیت تھے ،ان کی تمام زندگی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ ،تحریر و تصنیف ،دعوت و تبلیغ ،تصوف ،مدارس و خا نقاہوں کو قائم کر نے میں گزری ملک بھر کے جید علماء کرام سیا سی و مذہبی رہنماؤں نے حضرت والاکے روحانی و خا نقاہی اور تحریک ختم نبوت کیلئے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے ،مولانا عبدالحفیظ مکی ؒ کے مریدین کا حلقہ پو ری دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور وہ طویل عرصہ سے تحریک ختم نبوت کے عالمی سطح پر صف اول کے رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے ،ان کے انتقال سے پو ری دنیا میں تحریک ختم نبوت سے وابستہ لوگ سخت صدمہ سے دوچار ہوئے ہیں ۔

یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے ہم یتیم ہو گئے ہوں،حضرت کی محبت، شفقت، دعائیں، نصیحتوں سے سب ہی محروم ہوگئے ،حضرت کی محبت کا بھی عجیب انداز تھا جب بھی ہمارے گھر تشریف لاتے ہمیشہ پاس بلاتے پیار فرماتے تعلیم کا پوچھتے کئی مرتبہ مجھے حیرانی ہوئی کہ حضرت کو میری تعلیم میرے مشاغل میری ایک ایک بات کی خبر کیسی ہوتی تھی․․․․؟ اتنی محبت کرتے تھے اب کون کرے گا حوصلہ افزائی؟اب کون رکھے گا دستِ شفقت؟اب کس سے داد و تحسین کے ٹوکرے ملیں گے ،نہ اپنی صحت کا خیال، نہ پیرانہ سالی کی پرواجب بھی دیکھا حالتِ سفر میں ہی دیکھا زندگی گزاری تو اﷲ کے لئے گزاری اور وفات بھی ہوئی تو اپنے گھر سے میلوں دور ساوتھ افریقہ میں اﷲ کی راہ میں،مفتی شاہد محمود صاحب حضرت والاکے خادم خاص خلیفہ اجل اکثر کہا کرتے تھے حضرت سے کچھ باتیں پو چھ لیا کرو کسی نہ کسی بہانے حضرت کے علم کے سمندر سے موتی چنو بعد میں یہ مواقع ہاتھ نہیں آئیں گے، ہم نے غفلت کی، ناقدری کی آج اﷲ نے حضرت کو اپنے پاس بلا لیا۔

حضرت مو لانا عبدالحفیظ مکی ؒ بہت ہی انتھک تھے اور اتنی عمر کے با وجود امت کی اصلاح اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے تصوف کے میدان میں لو گوں اﷲ کی جانب راغب کر نے کیلئے لمبے لمبے اسفار کرتے اور متعدد ممالک میں اسفار کرتے اور ایک دن میں کئی پراگراموں میں جا تے اور بیان کرتے اور مجلس ذکر کراتے ،حضرت والا کے بیان میں اتنی تا ثیر ہو تی کہ جیسے ہی بیان کرتے اور وہ بات فوری طور پر دل میں اتر جا تی اور انسان پر سکتہ طاری ہو جا تا اور آخرت کی فکر دل میں پیدا ہو جا تی ۔

حضرت مو لا نا عبدالحفیظ مکی ؒ جب اپنے خانقاہی دورہ پرپاکستان آتے تو چناب نگر دفتر مرکزیہ انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ و جا معہ عثمانیہ ختم نبوت ضرور تشریف لاتے ،حضرت والد صاحب(مو لانا قا ری شبیر احمد عثمانی) چونکہ جماعت کے مرکزی نائب امیر ہیں سے حالات پر تبادلہ خیال کرتے اور ختم نبوت پر کام کر نے کی افادیت بیان کرتے اور ساتھ حوصلہ افزائی بھی کرتے اور دعا بھی دیتے کہ ختم نبوت کا کام کرنے کیلئے اﷲ نے آپ کو چنا ہے اور آپ کفر گڑھ میں بیٹھ کر کام کر رہے ہیں اور ختم نبوت کی برکت سے اﷲ آپ کو جنت الفردوس عطا فرمائیں گے جب بھی تشریف لاتے یا فون پر بات ہو تی تو حضرت دعاؤں سے نوازتے تھے ۔

دوسری طرف حضرت والا جب پاکستا ن میں خا نقاہی دورے پر آتے تو اسی ترتیب کے ساتھ ایک دن میں کئی پروگرامز ہو تے اور ہر پروگرام میں شرکت فرماتے اور بیان کرتے اور ساتھیوں کی حوصلہ افزائی فرماتے اور کبھی تھکاوٹ محسوس نہیں کی ،گرمی ہو یا سردی ،با رش ہو یا آندھی حضرت والا نے کبھی یہ نہیں کہاکہ آج بہت گرمی ہے یا آج بہت سردی ہے کبھی بھی نہیں کہا اس کے علا وہ حضرت والاتو ویسے بیشمار خو بیوں کے مالک تھے لیکن جو میں نے قریب سے دیکھا وہ یہ کہ کبھی تھکا وٹ محسوس نہیں کی ،کبھی اپنے مشن میں موسم کو رکا وٹ نہیں بننے دیااس کے علا وہ جہاں پرو گرام منعقد ہو تاوہاں جا تے اور وہاں جو کچھ کھانے کیلئے ملتا تنا ول فرماتے کبھی کسی کو کھا نے کیلئے کو ئی پیشکش نہیں کی کہ میں فلاں کھا نا کھاؤں گا فلاں نہیں ،کبھی نہیں سنا ،کبھی کسی کا گلہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی کا سننا پسند فرماتے اور یہ فرما دیتے کہ آپ اپنا کام کرتے رہو اﷲ آپ کی نصرت فرمائے گا ۔

حضرت والا سب سے والہانہ محبت و شفقت فرما تے اور ہر کسی سے خو ش اخلا قی اور خوش اسلوبی سے پیش آتے ۔حضرت کے اندر کمال درجے کی عاجزی و انکساری اور اخلاص تھا جس کا ہر شخص معترف تھا کم بولتے اورپُر تاثیر زیا دہ ہو تے اور تھوڑے ہی لمحات میں لو گوں کو اپنا گرویدہ بنالیتے اس کے علا وہ حضرت میں بے شمار اور بے مثال خو بیاں تھیں

حضرت والا ہر سال چناب نگر میں انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ کے زیر اہتمام جا معہ عثمانیہ ختم نبوت میں ہو نے والی 7ستمبر کی انٹر نیشنل ختم نبوت کا نفرنس میں شرکت کیلئے خصوصی طور پر سعودی عرب سے تشریف لاتے اور ہما ری سر پر ستی کرتے ہو ئے اسٹیج و علماء کی رونق بنتے اور حضرت گھنٹوں تک اسٹیج پربیٹھے رہتے اور بڑے انہماک سے حضرات علماء کرام کے بیا نات سنتے اور ان کو داد بھی دیتے یعنی ہر طرح سے عام لو گوں بالخصوص علماء کی حوصلہ افزائی فرماتے یہ حضرت کے اندر کمال کی خو بی تھی جس کی کوئی مثال نہیں ملتی ،حضرت ہمیشہ کا نفرنس کے اختتام تک اسٹیج پر بیٹھے رہتے اور اختتامی دعا کراتے جب کا نفرنس ختم ہو جا تی تو حضرت والا اپنا رات کا قیام ہما رے گھر ہی فرماتے اور صبح نا شتے کے بعد جماعتی امور پر تبا دلہ خیال فرماتے اورختم نبوت کے کام کر نے پر زور دیتے اور یہ فرماتے کہ جنت میں جانے کیلئے مختصر راستہ یہ ہے کہ ختم نبوت کے دفاع کا کام کرو اﷲ آپ کو سر خرو کرے گا ۔

اس کے علا وہ حضرت جب بھی پاکستان آتے حضرت والد صاحب (مولانا قا ری شبیر احمد عثمانی)سے رابطہ فرماتے اور حالات سے آگا ہی حاصل کر تے اس سے قبل جب حضرت والا دنیا کے کسی بھی ملک میں ہو تے حضرت والد صاحب سے رابطہ فرماتے اور چناب نگر کے حالات کے متعلق معلو مات حاصل کرتے اور ساتھ یہ بھی حکم فرماتے کہ میری طرف سے فلاں فلاں بیان بیان جاری کر دیں اور جب اخبارات میں بیان دیکھتے تو بہت خوش ہو تے اور دعاؤں سے نوازتے تھے ،حضرت والد صاحب نے اپنی زندگی کے اکثر اوقات حضرت کے ساتھ گزارے اور حضرت کے سفر میں ساتھ رہے ،حضرت والد صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت والا کیساتھ کا فی وقت گزارا ہے لیکن میں نے حضرت کی زبان سے کسی کی غیبت نہیں سنی اور نہ ہی انہوں نے کسی سے غیبت سنی ہے دوسرا یہ کہ حضرت والا کی طبیعت اگر کچھ ناساز ہے تو جہاں پروگرام طے ہے وہاں ضرور پہنچتے اور بیان و مجلس ذکر کراتے ،کھا نا کھانے میں بہت ہی عاجزی اختیار کرتے حضرت والا اخلاص ،تقویٰ ،عاجزی و انکساری میں اپنی مثال آپ تھے اس کے ساتھ ساتھ حضرت والا ہر کسی کا خاص خیال رکھتے کہ کسی کیساتھ کوئی زیا دتی نہ ہو ۔

بندہ نے حضرت کا آخری بیان خانقاہ خلیلیہ مکیہ لا ہور میں سنا جس کے مولانا مفتی محمد عتیق الرحمان ذمہ دار ہیں اس میں حضرت والد صاحب(مولانا قا ری شبیر احمد عثمانی)مولانا حافظ گلزار احمد آزاداور قاری عبدالرحمن تبسم بھی ہمراہ تھے یہاں بھی حضرت کے ساتھ مصا فحہ ہوا حضرت کا تفصیلی اور ایمان افروز بیان ہوا جیسے کہ ہر بات دل میں اتر رہی ہو اس کے بعد حضرت کے حکم پر مفتی محمد عتیق الرحمان نے مجلس ذکر کرائی اور حضرت نے رقت آمیز دعا کروائی اس موقع پر حج کے ایام قریب تھے اور 7ستمبر کی ختم نبوت کا نفرنس بھی انہی دنوں میں تھی حضرت نے فرما یا کہ اگر میرے پاس تھوڑا سا وقت بھی ہوا میں 7ستمبر کی ختم نبوت کا نفرنس میں ضرور آؤں گا لیکن ان دنوں حضرت کی طبیعت بھی کچھ نا ساز تھی اور طبیعت نا سازی کی وجہ سے حضرت چناب نگر تشریف نہ لا سکے اور ٹیلیفونک خطاب کیا۔اس کے بعد ختم نبوت کا نفرنس کے کامیاب انعقاد پر حضرت والا نے والد صاحب کو مبارک باد پیش کی اور کوششوں کو سراہا اور دعاؤں سے نوازا۔

کسی بھی دینی جماعت کو جب بھی جس محاذ پر جس میدان میں بھی ضرورت پڑی حضرت نے تب ان کی سرپرستی فرمائی جب سب پیچھے ہٹ چکے ہوتے تھے۔

ختمِ نبوت کا میدان ہو یا دفاعِ صحابہ کا محاذ مجاہدین کے لئے شفقت ہو یا تبلیغی جماعت کے لئے محبت مدارس کا دفاع ہو یا مساجد کا قیام خانقاہوں کی آبادی ہو یا مکاتب کی سرپرستی حضرت کو ہمیشہ بے لوث ان سب امور میں سرگرم پایاتمام جماعتوں کے سرپرست ہزاروں زندگیاں تبدیل کرنے والے لاکھوں دلوں پر حکمرانی کرنے والے کروڑوں نیکیوں سے مستفید کرانے والی شخصیت میرے پیر و مرشد ،مربی و محسن ،پیر طریقت ،رہبر شریعت ،عالم اسلام کی عظیم روحانی شخصیت ولی کامل،قطب الاقطاب حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی ؒ آج ہم میں نہیں رہے اور وہ اس زندگی سے بہتر آخرت کی ابدی زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے آقا سر کا ر مدینہ ا کے سامنے جنت البقیع جنت سے بھی اعلیٰ جنت میں آرام فرما رہے ہیں ،اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اﷲ رب العزت حضرت والا کی کامل مغفرت فرمائے اور حضرت کی قبر کو جنت کا باغیچہ بنائے ۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salman Usmani

Read More Articles by Salman Usmani: 85 Articles with 38086 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jan, 2017 Views: 301

Comments

آپ کی رائے