مودی کی شاطرانہ چال......خبردار

(Sami Ullah Malik, )
بطل حریت جناب سیدعلی گیلانی نے مقبوضہ کشمیرکی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کومخاطب کرکے پوچھاہے کہ تمہیں اپنے اقتدار کی کرسی کیلئے ابھی کتنے اوربے گناہ معصوم کشمیریوں کے لہو کی ضرورت ہے؟ یہ ایک ایساسوال ہے جس نے کشمیرمیں ہونے دریدہ دہن ظالموں اور ذمہ داروں کے منہ سے نقاب نوچ لیاہے۔مقبوضہ کشمیرمیں ہونے والی معصوم خون کی ارزانی اور زہر ناک جاری سازشوں میں ننگ ملت معاون کی بدولت آج کل ایک طرف بھارت کے سابق وزیراوربی جے پی کے رکن یشونت سنہا اورسابق مرکزی وزیرکمل مرادوادی میں اپنی آمدپر میڈیاکے سامنے لوریاں سناکر اوردوسری طرف بھارتی مقننہ اورعدلیہ اسلامیانِ کشمیرکی پیٹھ میں خنجرگھونپ رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں سرینگرکے اخبارات نے ریاستی سرکارکی طرف سے جموں میں قیام پذیرمستقل لوگوں کوریاست کا باشندہ قراردینے کے جبری اورناجائزفیصلے کی ناپاک سازش کوطشت ازبام کیا۔ اخبارات نے لکھاکہ ریاستی سرکارنے چوری چھپے ایک انتہائی متنازع فیصلے کے تحت ہندومائیگرنٹس کے حق میں اقامتی اسنادڈومیسائل جاری کرنے کا فیصلہ شروع کررکھا ہے جن میں لکھا گیاہے کہ یہ لوگ جموں وکشمیرمیں رہتے ہیں۔

بھارتی حکمران۱۹۴۸ء سے مقبوضہ کشمیرمیں اپناغیرقانونی قبضہ اورتسلط قائم رکھنے کیلئے مختلف نوعیت کی سازشوں میں مصروف ہیں۔پہلے انہوں نے فوجی قوت کے ذریعے سے وادی پرقبضہ کرنے کی کوشش کی،جب اس میں ناکامی ہوئی تواس وقت کے وزیراعظم پنڈت جواہرلعل نہرواقوام متحدہ چلے گئے ۔ان کاخیال تھاکہ اقوام متحدہ ہی سے مقبوضہ کشمیرمیں قبائلی علاقوں کے جو مسلح نوجوان بھارتی فوجوں کامقابلہ کررہے ہیں انہیں جارح ثابت کرکے غیر قانونی مداخلت قراردلاتے ہوئے پاکستان کومقبوضہ وادی سے بے دخل کردیا جائے،اس طرح مقبوضہ کشمیرپرمستقل قبضہ کرلیاجائے گامگر یہاں بھی بھارت کوناکامی کاسامنارہااوراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ وادی کے تنازعہ کیلئے جوحل تجویزکیااس میں بھارت کواپنی شکست یقینی نظرآرہی تھی یعنی اگرمقبوضہ وادی میں استصواب رائے کرالیاجاتا۔چونکہ کشمیرمسلم اکثریتی علاقہ تھااورتمام مسلمانوں کی پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کی خواہش تھی ،اس لئے بھارت کواس قراردادپرعملدرآمدمیں اپنی شکست یقین نظرآئی لہندا اس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعملدرآمدمیں ٹال مٹول سے کام لیناشروع کردیااور بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کے خلاف بدترین سازشوں کاسلسلہ شروع کردیا۔

مشرقی پاکستان کوپاکستان سے علیحدہ کرکے بنگلہ دیش بنادیاگیااورایک کثیر تعداد کوجنگی قیدی بنالیاگیا۔مقصدیہی تھاکہ پاکستان سے دوٹوک سوال کیاجائے کہ اب بتاؤکشمیرچاہئے یاپاکستان؟ان مشکل حالات میں مذاکرات کی میزپربھٹو اوراندراگاندھی دونوں ایک دوسرے کوگھیرنے کی تدابیراختیارکررہے تھے اوربالآخر کشمیرکے تنازع کودوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بھارتی شرط ماننے کے عوض جنگی قیدیوں کی رہائی اورزیر قبضہ علاقہ واگزار کرایا گیا۔

اس کے بعددونوں ملکوں میں مختلف سطحوں پرمذاکرات کے متعدددورہوئے لیکن بھارتی ہٹ دھرمی اوربددیانتی کی وجہ سے معاملات مزہدپیچیدہ ہوگئے۔ پھربھارت نے ایک اورسازش پرعمل شروع کردیاکیونکہ اس وقت کشمیری آبادی کی اکثریت مسلمان تھی،اس لئے بھارت کوخوف تھاکہ اگررائے شماری کرائی گئی تومسلم اکثریت پاکستان کے حق میں ووٹ دے گی لہندابھارت نے مقبوضہ وادی میں آبادی کاتناسب بدلنے کیلئے سازش شروع کردی اورجموں کے علاقے سے اس کاآغازکیا۔جموں میں پہلے سے ہندواکثریت آباد تھی لہندابھارت نے جموں میں غیرکشمیری ہندوؤں کی آبادکاری کاسلسلہ شروع کیا۔اس وقت بھی کشمیری عوام نے اس پرشدیدترین احتجاج کیااورعالمی برادری کی توجہ اس طرف مبذول کروائی،جس کے بعدبھارت نے بظاہراس سازش پر عملدرآمدکوروکالیکن بعدازاں خاموشی سے اس عمل کودرپردہ جاری رکھا لیکن کشمیری حریت پسندشہریوں کی جانب سے بھارت کے خلاف احتجاج اور بھارتی فورسزکاکشمیری عوام پر غیرانسانی تشدد کاسلسلہ جاری رہا۔

بھارتی فوج کاجتناتشددبڑھتااتناہی کشمیری عوام کے جذبہ آزادیٔ وجہاداورشوقِ شہادت پروان چڑھتاگیااورکشمیری نوجوانوں کے ساتھ ساتھ خواتین اوربچے بھی بھارتی فوجیوں کے سامنے سینہ سپرہوکرگولیاں کھانے لگے،پھربھارتی فوجیوں نے درندگی کاثبوت دیتے ہوئے پیلٹ گنوں کابے دریغ استعمال شروع کردیا اور ہزاروں نوجوانوں کی بینائی چھین لی لیکن اس کے باوجودکشمیریوں کے جذبہ آزادیٔ میں کمی نہ لائی جاسکی۔اب ایک بارپھر پرانی سازش پر عملدرآمدشروع کیاہے اورکشمیریوں نے حسبِ معمول اس کے خلاف احتجاج شروع کردیاہے ۔ گزشتہ دنوں ریاستی اسمبلی کے رکن انجینئرعبدالرشید کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی رہائش گاہ کے باہرسخت سردی میں رات بھربیٹھے رہے۔ان کاکہناتھاکہ دہلی حکومت کی آشیرآبادپر ریاستی کٹھ پتلی انتظامیہ غیرکشمیریوں کوڈومیسائل سرٹفکیٹ کااجراء کرکے کشمیرکی آبادی کاتناسب تبدیل کرنے کی سازش میں شریک ہے جسے آزادی پسندکشمیری قوم کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

ا نجینئرعبدالرشیدنے محبوبہ مفتی کی رہائش گاہ کے باہرمنفی چارڈگری کی شدید سردی میں ساری رات اپنی پارٹی کے دیگرکارکنوں کے ساتھ احتجاجی کیمپ میں گزاری۔اسی طرح میرواعظ عمرفاروق کی رہائش گاہ میر واعظ منزل میں منعقدہ سیرت کانفرنس میں شریک یاسین ملک،میرواعظ عمرفاروق، آغاحسن بدغامی اور دیگر رہنماؤں نے بھی اس عزم کااظہارکیا کہ مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی سازش کسی طورپربھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔

یہ عجیب معاملہ ہے کہ بھارت کی وہ سیاسی جماعت جواقتدارمیں ہوتی ہے ،وہ کشمیری عوام پرظلم وتشددکے تمام ذرائع استعمال کرتی ہے اورجوحزبِ اختلاف میں ہوتی ہے قدرے معقول اندازاپناتی ہے۔اس مرتبہ بھی بھارت کے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہانے کشمیرپرمذاکرات کی حمائت کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیر پر مذاکرات شروع کرنے کایہ بہترین وقت ہے اورجتنے زیادہ گروپوں کومذاکرات میں شامل کیاجائے گااسی قدرکامیابی کاامکان ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیرکی صورتحال انتہائی غیرمستحکم ہے،مذاکرات میں حریت کانفرنس کوبھی شامل کیا جائے۔سنہانے اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری عوام محسوس کررہے ہیں کہ ان سے غداری کی گئی،آج کشمیرکی صورتحال ١٩٩٠ء،٢٠٠٨ ء اور ٢٠١٠ء سے یکسر مختلف ہے۔کشمیری عوام پربے رحمانہ اندازمیں پیلٹ گن کاستعمال کیاگیاجوکسی بھی ملک میں عوام پراستعمال نہیں کی گئی،اب کوئی چھوٹی سی بات بھی پھرسے جذبات کوبھڑکاسکتی ہے۔

کشمیری نوجوانوں کے ذہنوں اوردلوں میں یہ راسخ ہوگیاہے کہ بھارت نے کشمیرپرناجائزقبضہ کیا ہوا ہے۔سابق بھارتی وزیروزیر خارجہ نے مطالبہ کیاکہ واجپائی دورمیں شروع کئے گئے مذاکرات کاعمل دوبارہ شروع کیا جائے۔ یشوت سنہاکے بیان میں کتناخلوص ہے ،اس سے قطع نظران کابیان حقیقت کے قریب ہے۔اس حقیقت سے انکارنہیں کیاجاسکتاکہ بھارت کشمیریوں پرجتنے ظلم کے پہاڑتوڑے گا اتناہی کشمیریوں کےدلوں میں بھارت کے خلاف نفرت کے جذبات پروان چڑھیں گے۔

اس وقت مسئلہ کشمیرصرف کشمیریوں کاہی نہیں بلکہ سکھوں اوردلتوں سمیت دیگربہت سے قوموں کامسئلہ بن چکاہے جوبھارت سے آزادی چاہتی ہیں۔ان کی تحاریک آزادیٔ کا بنیادی سبب بھی یہی ہے کہ بھارتی ہندوذات پات کے چکرمیں دیگرمذاہب نچلی ذات کے ہندوؤں سے بھی اچھوتوں کاساسلوک کرتے ہیں اوراس اندازمیں انسانیت کی تذلیل کرتے ہیں جس کابیان کرناممکن ہی نہیں۔انسانیت کی اس قسم کی تذلیل ہمیشہ متاثرہ افراد کے ذہنوں میں بغاوت کے جراثیم جنم دینے کاسبب بنتی ہے۔بھارت میں اس وقت تیس کے قریب تحاریک آزادی ٔاگرچل رہی ہیں تواس میں آزدی کے متوالوں کی آزادی سے محبت کاعمل دخل نہیں بلکہ بھارت انتہاء پسندوں کاخودکواعلیٰ ذات کاحامل اوردوسروں کواچھوت سمجھنا بنیاد ہے۔بھارتی ہندوؤں کایہ امتیازی سلوک دیگراقوام ومذاہب کے لوگوں کے دلوں میں بھارتی انتہاء پسندہندو سرکارکے خلاف شدیدترین نفرت کاباعث بن رہا ہے اورانسانیت کی تذلیل سے اب وہ اس حدتک تنگ آچکے ہیں کہ جانیں قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کررہے۔مقبوضہ کشمیرکی مسلم شناخت پربھارت سرکار کاتازہ واراور ان کے جذبہ حریت واحتجاج میں یقینا شدت ہی کاموجب بنے گا۔

سرینگرکے کثیرالاشاعت اخبارات کے ذریعے اس موضوع پرجواطلاعات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق دلی حکومت کے حکم نامہ پرریاستی سرکار نے جموں ریجن میں محکمہ مال سے وابستہ نائب تحصیلداروں کویہ اختیاردیاہے کہ وہ جموں میں عارضی قیام کرنے والے ان مائیگرنٹس کے حق میں مستقل اقامتی اسنادجاری کریں اوران پرلکھاجائے کہ یہ لوگ پاکستان سے آئے ہیں اورفی الوقت جموں کشمیرمیں فلاں پتہ پرمقیم ہیں۔اس سلسلے میں صوبائی کمشنرجموں ڈاکٹرپون کوتوال نے ذرائع ابلاغ کوایسی اسنادجاری کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ ہندومائیگرنٹس کودلی حکومت کی نوکریوں کیلئے درخواستیں دینے میں بے حدمشکلات کاسامناتھا،اس لئے حکومت ہندنے ریاستی حکومت کے نام ایک ہدائت نامہ جاری کردیاکہ وہ ان مائیگرنٹس کے حق میں ایک مخصوص فارمیٹ پراسنادجاری کریں۔بھارتی پارلیمانی انتخابات کے دوران ہیرانگر جموں میں منعقدہ عوامی ریلی میں وزیر اعظم نریندرمودی نے بنگالی ہندومائیگرنٹس کامسئلہ انسانی بنیادوں پرحل کرنے کی وکالت کرتے ہوئے انہیں ووٹ کاحق اور شہریت دینے پر زور دیا تھا ۔مودی کے اس خاکے میں جب رنگ بھردیا گیا تو اسے جائزقراردینے کیلئے بھاجیاکے ریاستی صدرست شرمانے بتایاکہ کہ یہ قدم ریفیوجیوں کی بقاء کیلئے ضروری تھا۔

سوچنے کی بات ہے کہ اگربھارت ہندومائیگرنٹس بساناہی چاہتاہے تواس کے پاس ۲۷ریاستیں ہیں وہ انہیں کہیں اوربھی بساسکتاہے،جموں وکشمیرسے ان مائیگرنٹس کاکیالینادینا۔دراصل ریاست جموں وکشمیرمیں ان کوبساکربھارتی عزائم مزید عیاں ہوچکے ہیں۔کشمیرایک متنازع ریاست ہے اورجب تک اس کے سیاسی مستقبل کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوتا یہاں کسی قسم کی آبادکاری نہیں ہوسکتی ،اس لئے اسلامیان جموں وکشمیریکجاہوکراس کے خلاف مزاحمت کریں گے کیونکہ وہ بجاطورپراسے مسلم اکثریتی کردارپرحملہ سمجھتے ہیں۔اس لئےبھارتی حکمرانوں کی فسطائیت زعفرانی بریگیڈ اور ترشول سینک پریوار کو واضح پیغام دینے پرکمربستہ نظرآرہے ہیں کہ ایسی دھوکہ دہی ،مکاری اوردجل وفریب سے پوری قوم کوتادیرغلام بناکرنہیں رکھاجاسکتا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 226778 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Feb, 2017 Views: 458

Comments

آپ کی رائے