پانچ کروڑ سے کم کرپشن

(Wisal Khan, Karachi)
خیبرپختونخوا حکومت نے تمامترمخالفتوں کے باوجودصوبے میں شفافیت کے نام پر احتساب کیلئے ایک نئے ادارے کی بنیادرکھی ادارے کی مخالفت کرنے والوں کاکہناتھاکہ چونکہ ملک میں پہلے سے اینٹی کرپشن کے بہت سے ادارے فعال ہیں اورکام کررہے ہیں توایک نئے ادارے کی ضرورت بھی کیاہے مگرصوبائی حکومت چونکہ شفافیت ،انصاف اورتبدیلی کے نام پرمعرض وجودمیں آئی ہے لہٰذا یہ حکومت’’سرپرائز‘‘کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی حکومت نے حسب سابق اس نئے ادارے کے قیام کے وقت بلند بانگ دعوے کئے اورکرپشن کے خاتمے کے نعرے لگائے یہ نعرے اس وقت تک جاری رہے جب تک سابق ڈی جی احتساب کمیشن جنرل (ر)حامدخان اوروزیراعلیٰ پرویزخٹک کے اختلافات کھل کرسامنے آئے حامدخان نے کھل کروزیراعلیٰ اورانکی ٹیم پرکرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے انہوں نے ٹی وی ٹاک شوزمیں شرکت کی ،انٹرویوزدئے اورآرٹیکل لکھ کرصوبائی حکومت کی کرپشن میں ملوث ہونے کے دعوے کئے انکے ان دعوؤں کی پاداش میں انہیں استعفیٰ دیکرعہدہ چھوڑناپڑاجس کے بعدوزیراعلیٰ پرویزخٹک نے انکے الزامات کی ناصرف تردیدکی بلکہ یہ دعوے بھی کئے کہ وہ اورانکی حکومتی ٹیم کسی قسم کی کرپشن میں ملوث نہیں اوراگرکسی کے پاس اس قسم کاکوئی ثبوت ہوتوسامنے لائے اس افراتفری اورالزامات وجوابی الزامات میں ملکی روایت کے مطابق اصل بات کہیں پیچھے رہ گئی اورآج تک یہ علم نہ ہوسکاکہ کس کی بات درست تھی اورکس کی غلط ؟ کون الزام لگارہاتھااورکون سیاسی فائدہ حاصل کررہاتھا؟بہرحال جنرل حامدخان کی ’’دھوم دھام سے رخصتی‘‘ کے بعدسے آج(ایک سال پوراہوچکاہے) تک احتساب کمیشن کونیاڈی جی نصیب نہ ہوسکاسربراہ کے بغیراس محکمے کاحال ایساہے جیسے کسی گھرکاسربراہ اچانک فوت ہواورپورے گھرکانظام درہم برہم ہوجاتاہے گزشتہ دنوں میں نے اس سلسلے میں ایک کالم بھی لکھاتھامجھے احتساب کمیشن کواندرسے دیکھنے کااتفاق ہواہے جہاں سے مجھے ایسانہیں لگاکہ یہ ادارہ اس صوبے یااسکے خانماں بربادعوام کی کوئی خدمت کرسکے گاادنیٰ یااعلیٰ کسی بھی اہلکارکے ساتھ آپ دوچارمیٹھے بول بولیں وہ اپنادل کھول کے آپکے سامنے رکھ دیگاایسے ہی ایک اہلکارکے ساتھ جب ہم نے بات کی توان کاکہناتھاکہ ڈی جی صاحب کے جانے کے بعد احتساب کمیشن کی کوئی وقعت نہیں رہی وہی ایک آدمی تھاجونہایت ایمانداری ،محنت اوردیانت سے کام کررہاتھاناخودفارغ بیٹھتاتھااورناہمیں بیٹھنے دیتاتھاانکے جانے سے احتساب کمیشن یتیم ہوچکاہے بلکہ اگرکوئی ان جیسادوسرانہ ملاتویہ ادارہ بھی سٹیل ملزجیساہی بن جائیگاحیرانگی اس بات پر ہے کہ حامدخان نے کھل کرچندحکومتی اعلیٰ عہدیداروں کے کرپشن میں ملوث ہونے کی باتیں کی تھیں ناصرف باتیں بلکہ انہوں نے ٹی وی ٹاک شوزمیں متعددافرادکے نام بھی لئے تھے کہ انکے خلاف ناصرف کارروائی آخری مراحل میں تھی بلکہ ان لوگوں کے خلاف کمیشن کے پاس ٹھوس ثبوت بھی موجودہیں اسکے باوجودانکے جانے کے ایک سال بعدبھی کسی فردیاافرادکے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ناکوئی قابل ذکر گرفتاری عمل میں لائی جاسکی بلکہ آئے روزیہ خبریں آرہی ہیں کہ احتساب کمیشن کے قوانین میں ترامیم کاڈرافٹ تیارہے اوران قوانین میں جلد ترامیم کی جائیں گی بلکہ چندترامیم توہوبھی چکیں جن کے تحت احتساب کمیشن کوکمیشن کی بجائے احتساب ڈائیریکٹوریٹ میں تبدیل کیاگیااب حکومت کی جانب سے ترمیم کاایک نیاڈرافٹ تیارہے گزشتہ دنوں مشیراطلاعات اورصوبائی حکومت کے ترجمان مشتاق غنی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ’’صوبائی کابینہ احتساب کمیشن ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی جس کے تحت احتساب کمیشن ایکٹ میں ترمیم کے بعدکمیشن کسی بھی ملزم کواحتساب عدالت کے احکامات کے بعدہی گرفتارکرسکے گی احتساب کمیشن ایکٹ 2017کے نفاذکے بعداحتساب کمیشن 5کروڑروپے سے زائدکی کرپشن پرہاتھ ڈالنے کامجازہوگاجبکہ 5کروڑروپے سے کم کرپشن کیسزنمٹانے کی ذمے داری اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی ہوگی، احتساب کمیشن اپنی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ اسمبلی میں پیش کرنے کی پابندہوگی ،کمیشن میں غلط شکایت درج کرانے پرکمیشن مذکورہ شخص کے خلاف کارروائی کی مجازہوگی،ڈی جی احتساب کمیشن اورکمشنرزکی تعیناتی کیلئے طریقہء کارمیں انکی PROSECUTIONکے تجربے کومدنظررکھاجائیگا،نئے احتساب کمیشن کے ڈی جی کی تقرری نہ ہونے کوسکروٹنی کمیٹی کی نااہلی قراردیاگیااوراس سلسلے میں حکومت کوحسب روایت برالذمہ قراردیاگیا ،احتساب کمیشن جاری ترقیاتی سکیموں میں کرپشن کی تحقیقات نہیں کرسکے گاانہوں نے مزیدفرمایاکہ احتساب کمیشن ایکٹ 2014میں ترمیم کے بعداحتساب ترمیمی ایکٹ 2017کہلائے گا‘‘یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ اگراحتساب کمیشن کے قوانین میں مذکورہ ترامیم منظورہوجاتی ہیں توعملاً یہ ادارہ ایک ڈاکخانے کی صورت اختیارکرلے گاجاری ترقیاتی سکیموں میں احتساب کمیشن دخل اندازی نہیں کرسکے گایہاں توبعض سکیمیں اورمنصوبے سالہاسال سے جاری ہیں نوشہرہ میڈیکل کمپلیکس کوشروع ہوئے تیرہ سال کاعرصہ گزرچکاہے یعنی دو حکومتیں جاچکی ہیں جبکہ تیسری حکومت بھی اپنا75%وقت گزارچکی ہے اورمنصوبہ ابھی تشنہء تکمیل ہے اسی طرح ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال مردان تخت بھائی فلائی اوور اور دیگردرجنوں منصوبے جنکی تکمیل میں کئی سال لگتے ہیں اس دوران کئی حکومتیں بدل جاتی ہیں پندرہ بیس سال بعدکہیں احتساب کمیشن کسی منصوبے میں کرپشن کی کیاتحقیقات کرے گااور’’مرحومین ومغفورین ‘‘کوکیاسزادے گااس طرح تو ہرحکومت میں صرف اپوزیشن احتساب کے شکنجے میں ہوگی اورانتقامی کارروائیوں کے شورمیں کوئی احتساب نہیں ہوسکے گاحقیقت یہ ہے کہ ڈی جی حامدخان کی’’جبری رخصتی‘‘ کے بعداحتساب کمیشن برائے نام ادارہ رہ چکاہے اسے کوئی بھی نام دے دیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکمیشن کے ’’پر‘‘کاٹنے مقصودہیں جولازمی کاٹے جائیں گے بے لاگ احتساب یہاں کسی کو’’سوٹ‘‘نہیں کرتاپانچ کروڑ سے کم کرپشن کواحتساب کمیشن کے دائرۂ اختیارسے نکال کرایک اورمذاق کیاگیاہے اس سے شائدیہ ظاہرکرنامقصودہے کہ اس صوبے میں ’’بڑے بڑے کیس‘‘ بہت ہورہے ہیں اس لئے ان کیلئے ایک الگ ادارہ بناناپڑا اینٹی کرپشن کے دیگراداروں کی کارکردگی کسی قابل ہوتی تو احتساب کمیشن کی کیاضرورت پڑتی؟نیب یادیگراینٹی کرپشن اداروں کے مقابلے میں احتساب کمیشن تب ہی ممتازمقام حاصل کرپائے گاجب یہ مکڑی کے جالے سے مشابہہ قوانین سے آزادہوگااور جاری منصوبوں ،سرکاری وغیرسرکاری اہلکاروں اوراعلیٰ وادنیٰ حکومتی عہدیداروں کی کرپشن کے خلاف بلاامتیازکارروائی کامجازہوگایہ کرپشن چاہے پانچ سوروپے کاہی کیوں نہ ہوپانچ کروڑسے کم کرپشن دیکھتے ہوئے بھی کیااحتساب کمیشن آنکھیں بندرکھے گا؟ یاپھرپانچ کروڑسے کم کرپشن جائزہوگی؟
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Wisal Khan

Read More Articles by Wisal Khan: 80 Articles with 31909 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Feb, 2017 Views: 326

Comments

آپ کی رائے