وہ دیکھو گورنر کا بھائی جارہاہے۔

(Rao Imran Salman, )
یہ صرف مرحوم جنرل(ر) محمد عمر کے خاندان کی کہانی نہیں ہے کہ ایک بھائی حکومت میں تو دوسرا پوزیشن میں پاکستان میں بہت سی بڑی فیملیز ہیں جن کے ممبران مختلف پارٹیوں کا حصہ ہوتے ہیں ،یہ لوگ سیاسی بیانات میں تو ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہیں لیکن ان میں موجود خاندانی رشتے جوں کہ توں قائم رہتے ہیں ،اس قسم کی سیاست کا ایک فائدہ یہ ہے کہ حکومت کسی کی بھی ہوخاندان کہ ایک یا چند افراد ہر دور میں حکومت میں ہوتے ہیں ،اور ان خاندانوں کا اثر روسوخ حکومت اور اپوزیشن دونوں میں ہی قائم رہتاہے ،ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں،سندھ اور پنجاب کے زمیندارانہ اور خوب پیسے والی فیملیوں میں ایسی مثالیں آسانی سے مل جاتی ہیں سب سے کم غور کرنے والی مثال یہ ہے فیلڈمارشل صدر ایوب خان کے بھائی سرداربہادرخان اپوزیشن میں تھے میں سمجھتاہوں کہ یہ موروثی سیاست کا مخصوص رخ ہے یہ رخ اس بات سے مختلف ہے کہ جب پاکستان میں بہت سے فیملیاں اپنے علاقوں میں سیاسی اثرورسوخ قائم رکھنے کے لیے پارٹیاں بدلتی ہیں یہ سب زاتی مفادات کی بنیاد پر ہوتاہے اور سیاسی نظریات کا اس عمل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، ویسے ملکر اقتدار میں رہنے کا یہ ایک پرانا نسخہ ہے ، ،یہ وہ اپر چونس بلڈ یعنی موقع پرست گروہ ہے جو ہر قیمت پر اقتدار میں ہی رہنا چاہتاہے ،بعض دفعہ یہ بھی ہوتاہے کہ اگر آپ کا سیاسی مخالف کسی دوسری پارٹی میں چلا گیا ہے تو آپ بھی فوراًاس کے مقابلے کے لیے کسی بڑی پارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں اس قسم کی سیاست اس لیے چلتی رہتی ہے کہ ووٹرعام طور پر زاتی وفاداری یا زاتی فائدے کے لیے بھی ووٹ دیتاہے اگر کسی مقامی سیاسی لیڈر سے کسی ایک فرد یا گروہ کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے تو وہ اسی لیڈر کو ووٹ دینے کو ترجیح دینگے چاہے وہ کتنی ہی پارٹیاں بدل لے مگر اس کی شخصیت قائم ہی رہتی ہے اس طرح ووٹر اس بات کو بھی اہمیت نہیں دیتاکہ ایک خاندان کے دو بھائی مختلف پارٹیوں میں ہیں ۔جیسا کہ موجودہ وقتوں میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف صاحب نے نجکاری کمیشن کے سربراہ محمد زبیر عمر کو سندھ کا گورنر نامزد کیا ہے جبکہ اس کا ایک بھائی اسد عمر پی ٹی آئی میں چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیئے جاتے ہیں،یقیناً جس انداز میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی جانب سے اسدعمر سے مٹھائی مانگی گئی ہے ہوسکتاہے عمران خان نے یا تحریک انصاف کے کسی رہنما نے ان سے مٹھائی تو مانگی ہی ہوگی ؟۔اگر ایسا نہیں ہے تو کیااسد عمر کی شخصیت میں تبدیلی بھی نہیں پیداہوگی ؟ اگر یہ بھی نہیں ہے تو ایک بات تو سو فیصد ہے کہ جب کبھی بھی وہ کہیں سے گزریں گے لوگ ان کو یہ تو ضرور کہیں گے کہ وہ دیکھو گورنر سندھ کا بھائی جارہاہے ،"یعنی دونوں ہاتھوں میں لڈوـ"

قائرین کرام جب تک ہمارے ووٹر کا سیاسی شعور بیدار نہیں ہوجاتا تب تک نہ تو وہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرسکیں گے اور نہ ہی وہ ان حکمرانوں کی سیاسی منطق کو سمجھ سکیں گے منطق کا لکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ سندھ میں ایک عرصہ سے مسلم لیگ کے بڑے بڑے نام گورنری کی آس میں بیٹھے تھے ان میں سے کسی نے بڑی بڑی وزارتوں کو ٹھکرایاتو کسی مسلم لیگی نے وزیراعظم کے استقبال یا جلسے کے لیے اپنی اکلوتی ہی گاڑی بیچ ڈالی یہ ساری چیزیں اور خدمات اس وقت دھری کی دھری رہ جاتی ہے جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ سندھ کا گورنر ایک ایسے شخص کو بنادیا گیاہے جو کہ سنیارٹی میں ان سے نہ صرف بہت چھوٹاہے بلکہ وہ پہلے ہی سے ایک عدد تگڑی وزارت پر بیٹھاہے یقیناً دلوں کے ٹوٹنے کی آوازیں تو میاں صاحب کے کانوں تک پہنچی ہونگی مگر میرے ایک زرائع نے مجھے بتایا ہے کہ سندھ کے موجودہ نئے گورنر کا فیصلہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے اسحاق ڈار صاحب کی فرمائش پر کیاہے کہ آپ ادھر ادھر نہ دیکھیں بلکہ زبیر عمر کے سر پر اس تاج کو رکھ دیں ،میرے ایک زرائع نے مجھے یہ بھی بتایا کہ وزیرریلوئے خواجہ سعدرفیق نے کچھ بڑے اور پرانے مسلم لیگیوں کے سندھ میں نام بھی گنوائے تھے مگر بے سود جب جمہوریت میں سمدھی بھائی باپ بیٹا اور سالی بچے موجود ہو اور ان کے مفید مشوروں سے کابینہ بنائی جارہی ہو تو ایسے میں پرانے کارکنوں اور رہنماؤں کے دلوں کے ٹوٹنے کی آوزیں کسے سنائی دے سکتی ہیں ، ہوسکتاہے کہ میرا زرائع درست نہ ہو؟ اور سندھ کے نئے گو رنر کا فیصلہ وزیراعظم نے میرٹ کی بنیاد پر کیاہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ میاں نوازشریف نے زاتی وفاداری کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے ہرروزٹی وی پر بیٹھ کروزیراعظم کی مداح سرائی کرنے اور عمران خان کے بیانات اور اقدامات کی مذمت کرنے میں زبیر عمر صاحب اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ان کا زیادہ وقت اپنی وزارت کی بجائے سیاسی بیان بازی پر خرچ ہوتاتھا۔،اصل بات تو وزیراعظم ہی بتاسکتے ہیں کہ انہوں نے گونر سندھ کا انتخاب کن بنیادوں پر کیاہے ،کیا وہ کراچی میں پی ٹی آئی کی سیاست کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔؟یا میاں صاحب اسدعمر کے اند ر کا زہر نکالنا چاہتے ہیں؟۔ خیر بات جو بھی ہے یہ مٹھائی ایسی مٹھائی ہے کہ جسے پی ٹی آئی اور نواز لیگ کے کارکنان مل بانٹ کر کھا سکتے ہیں ،ہم نے دیکھا کہ کس طرح موجودہ سیاست میں ا صول پسندی کی بجائے مصلحت کوشی اورزاتی وفاداری کے اظہار کوسب سے زیادہ اہمیت ملتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاست زاتیات اور وقتی مفادات سے آگے نہیں بڑھ پائی ہے میں نے اس تحریر میں فیلڈ مارشل ایوب خان اور ان کے بھائی کی سیاست کا زکر کیا اور چند ایک مزید مثالیں دی جسے دیکھ کر یہ ہی لگتاہے کہ موروثی سیاست مختلف انداز میں زندہ رہے گی پھر بھی ہم تو یہ ہی کہے گے کہ انتخابات تسلسل سے اور شفاف انداز میں ہو ممکن ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ووٹر کو اپنے ووٹ کی اہمیت کا احساس ہوہی جائے گا،فی الحال سندھ اور کراچی کے حالات اس وقت دیگر صوبوں کی نسبت بہتر نہیں ہے ہمیں یہ امید رکھنی چاہیے کہ نئے گورنر صاحب اپنی سیاسی بصیرت کو سامنے رکھتے ہوئے صوبے کے حالات کو بہتر سے بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرینگے ،پی ٹی آئی اور نواز لیگ کے رہنماؤں سے معذرت کے ساتھ کے وہ میری اس تحریر کو دل پر نہیں لیں گے ۔ختم شد
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rao Imran Salman

Read More Articles by Rao Imran Salman: 75 Articles with 37281 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Feb, 2017 Views: 476

Comments

آپ کی رائے