چھانگامانگا ڈزنی لینڈ بن سکتا ہے..

(Fatima Khan, Lahore)
انگریزوں نے جہاں برصغیر کے رہائشیوں کو بہت سی قیمتی اور نایاب عمارتوں کا تحفہ دیا ہے وہیں مصنوعی جنگل چھانگامانگا بھی انگریزوں کے دور کی ایک ایسی یادگار ہے جو اپنی خستہ حالی کے باوجود آج بھی ایک اہم تفریحی مقام کی حثیت رکھتی ہے. سالوں پہلے چھانگامانگا دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا اور ذہن میں اس مصنوعی جنگل کی ٹرام اور کشتی رانی نقش ہو کر رہ گئی تھی. اب بہت سالوں بعد دوبارہ اس جگہ جانے کا موقع ملا تو توقع تھی کہ یہاں پر بھی دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کچھ تبدیلیاں رونما ہو گئی ہوں گی. دنیا بھر میں تھیم پارک کے حوالے سے بہت سے دلچسپ تجربات کئے جا رہے ہیں اور لوگوں کو تفریحی مقامات کی طرف واپس لانے کے لئے ایک سے ایک دلچسپ چیز کا اضافہ کیا جا رہا ہے تو چھانگامانگا میں بھی ایسی ہی کچھ تبدیلی آ گئی ہو گی جو نظروں کو بھلی معلوم ہوگی ویسے بھی خادم اعلیٰ قلعہ لاہور , بادشاہی مسجد اور اس کے اردگرد کی جگہ میں بہت جدت لے کر آ رہے ہیں اب اس مصنوعی جنگل پر بھی نظرِکرم ہو گئی ہوگی مگر وہاں پہنچ کر سخت مایوسی ہوئی کیونکہ یہ مصنوعی جنگل سالوں پہلے والے چھانگا مانگا سے بھی بدتر حالت میں ہے. جابجا درختوں کوکاٹا جا رہا ہے اور صفائی کا بھی وہ معیار نہیں ہے جو ہونا چاہیے. وہی سالوں پرانی ٹرام ہے جو اب اکثر بند رہتی ہے اور کبھی کبھی چند خاص لوگ ہی اس کی سیر سے مستفید ہوتے ہیں. سُنا ہے انگریز دور میں یہاں سات ٹرینیں چلتی تھیں جو کہ سکڑ کر اب ایک رہ گئی ہے اور لگتا ہے اب وہ بھی نہیں رہے گی. نجانے کیوں مجھے چھانگامانگا کو دیکھ کر مجھے بار بار امریکہ میں موجود ڈزنی لینڈ کا خیال آ رہا تھا.والٹ ڈذنی کے ذہن میں جب پہلی بار ڈذنی لینڈ بنانے کا خیال آیا ہوگا تو شائد اُسے بھی اندازہ نہیں ہوگاکہ وہ دنیا کو ایک شاہکار دینے جا رہا ہے جس کے مکمل ہونے کے بعد دنیا میں ہر طرف اُسی طرز کے پارکس بنانے کا رواج چل پڑے گا.والٹ ڈزنی تو اس شاہکار کے مکمل ہونے کے چند برس بعد ہی اس دنیا سے چلا گیا تھا مگر جاتے جاتے ڈزنی لینڈ کی شکل میں ایک تحفہ دنیا کو دے گیا جس نے دنیا میں تفریح کے انداز ہی بدل دئیے.اب تو ہر ترقی یافتہ ملک میں آپ کو ڈزنی لینڈ کی طرز کے تھیم پارکس نظر آئیں گے جہاں بچوں اور بڑوں کی دلچسپی کا بہت سا سامان موجود ہوگا.چھانگا مانگا کو بھی ایک بہت خوبصورت تھیم پارک کی شکل دی جا سکتی ہے.وسیع و عریض رقبے پر مشتمل اس مصنوعی جنگل کو بہتر بنانے کے لئے سرمایہ لگایا جاے تو ڈزنی لینڈ کی طرز کا ایک شاہکار وجود میں آ سکتا ہے مگر ہماری حکومت اس معاملے میں روایتی بےحسی کا مظاہرہ کر رہی ہے.بات صرف چھانگامانگا تک محدود نہیں ہے اگر ہم اپنے پہاڑی علاقوں کی طرف دیکھیں تو وہاں پر بھی ہر طرف ہمیں وہی خطرناک راستے اور ٹوٹی سڑکیں نظر آئیں گی.کشمیر کے چند خوبصورت ترین پہاڑی مقامات ابھی تک چیرلفٹ کی سہولت سے محروم ہیں.وہاں سیاحوں کو خطرناک راستوں پر لوکل وینز پر سفر کرنا پڑتا ہے.سڑکوں کی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے.حکومت سیاحت کو فروغ دینے کی باتیں تو بہت کرتی ہے مگر عملی طور پر کارکردگی صفر ہے.ہر محکمہ کرپشن کے ریکارڈ قائم کرنے میں مصروف ہے اور حکومت کے پاس اتنی فرصت کہاں کہ وہ ان علاقوں کی طرف توجہ دے. چند سالوں سے عوام کی ایک بڑی تعداد تفریحی مقامات کا رخ کرنے لگی ہے. اب لوگ سیروتفریح کے لئے وقت نکالنے لگے ہیں اسی لئے تو ہر تفریحی مقام پر عوام کا بےپناہ رش دیکھنے میں آتا ہے.مگر اس کے باوجود حکومت وقت تفریحی مقامات پر وہ توجہ نہیں دیتی جو اُسے دینی چاہیے. صرف لاہور شہر کے تاریخی مقامات پر ہی نہیں بلکہ ہر تفریحی مقام کو جدت چاہیے. اب پوری دنیا میں روایتی پارکس کا تصور ختم ہو رہا ہے.تھیم پارکس نے روایتی پارکس کی جگہ لے لی ہے مگر ہمارے ملک میں ابھی اس طرف توجہ کم ہے. صرف حکومت کی حقیقی توجہ ہی ان تفریحی مقامات کو ایک نیا رنگ دے سکتی ہے. ابھی میں یہ سطور قلم بند کر ہی رہی تھی کہ چیرنگ کراس پر دھماکے کی خبر آ گئی جس پر دل ابھی تک خون کے آنسو رو رہا ہے. ابھی تو موسمِ بہار نے دستک دینی شروع ہی کی تھی کہ دہشت گردوں نے خوشبووں کی جگہ فضاء میں بارود کی بُو بھر دی.اب میری ہمت ہی نہیں ہے کہ اس پر کچھ لکھوں. آخر میں بس اتنا کہنا ہے.
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر آترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو. آمین
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fatima Khan

Read More Articles by Fatima Khan: 10 Articles with 4825 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Feb, 2017 Views: 717

Comments

آپ کی رائے