سسکتے مریض :ذمہ دار کون ؟

(Maemuna Sadaf, Rawalpindi)
میڈیکل سٹورز ، پچھلے تین دن سے بند پڑے ہیں ۔ مریضوں کے لیے ادویات ناپید ہیں ۔مریض ادویات وقت پر نہ ملنے کی وجہ سے پریشان ہیں ۔مریضوں کو ادویات نہ ملنے کی وجہ سے دہری تکلیف سہنا پڑ رہی ہے ۔میڈیکل سٹورز کی یہ ہڑتال ڈرگ ایکٹ 1976ء میں ترمیم کے بعد شروع ہو ئی تھی ۔چئیرمین فارماسوٹیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹرطاہر اعظم کی کال پر ادویات کے ہول سیل ڈیلر ، فیکڑی مالکان ، میڈیکل سٹورزبروز پیرسے بند ہیں اور بعض مقامات پر پرامن ریلیاں بھی نکالی گئی ہیں ۔

کسی بھی بحث سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ ڈرگ ایکٹ ۱۹۷۶ ء ہت کیا ۔ ڈرگ ایکٹ ۱۹۷۶ ء میں آئین کا حصہ بنایا گیا جس کا مقصد غیر معیاری اور زہریلی ادویات کی روک تھا م تھا ۔ایسی تمام ادویات جن کی تیاری میں بین الاقوامی سٹنڈرڈ کو مدِ نظر نہ رکھا گیا ہو یا جن کی تیاری میں حفظان ِ صحت کے اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہو ان کی تیاری ، ترسیل اور فروخت کو روکنے کے لیے آئین میں اس ایکٹ کا اضافہ کیا گیا ۔ ادویات کی فروخت کے لیے باقاعد ہ لائسنس کا اجراء ضروری قرار دیا گیا ۔ اسی ایکٹکے ذریعے معیاری ادویات کی تیاری اور فروخت کو ممکن بنانے کے لیے ایک اپیلیٹ بورڈ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ۔حال ہی میں پنجاب حکومت نے ادویات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اور غیر معیاری ادویات کی فروخت کو روکنے کے لیے اس ایکٹ میں ترمیم کی ہے ۔ اس ترمیم کے بعد ڈرگ انسپکٹر کے اختیارات میں اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ کسی بھی جرم کی صورت میں براہ راست ایف آئی آر درج کی جائے گی ۔ صرف یہی نہیں غیر معیاری ادویات کی تیاری اور فروخت پر کیمسٹ کا لائسنس کنسل ہو سکتا ہے یا میڈیکل سٹور کو سیل بھی کیا جا سکتا ہے ۔ کسی بھی جرم کی پاداش مین دس سال قید جبکہ دس لاکھ سے پچاس لاکھ تک جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے ۔ ایسے کیسز میں پولیس کی براہ راست مداخلت بھی ممکن بنا دیا گیا ہے ۔اصل ادویات کے لیے ایک مخصوص درجہ حرارت درکار ہوتا ہے جبکہ جعلی ادویات کے لیے کسی قسم کے درجہ حرارت کی شرط نہیں ہوتی ۔اس ایکٹ کے تحت میڈیکل سوڑز کوایک مخصوص درجہ حرارت برقرار رکھنے کا کہا گیا ہے جبکہ جرمانہ اور قید کی سزا فارماسوٹیکل کمپنیوں کے لیے رکھی گئی ہے ۔

ڈرگ انسپکٹر کے اختیارات میں اس حد تک اضافہ کو میڈیکل سٹورز مالکان اور ادویہ ساز کمپنیوں نے نامنظور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرگ ایکٹ ۱۹۷۶ء اور ڈراپ ایکٹ ۲۰۱۲ ء میں ترمیم نے ڈرگ انسپکٹر کو غیر معمولی اختیارات دیئے ہیں ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا ضرور ملنی چاہیے لیکن معمولی جرم کی پاداش میں لائسنس کنسل کر دینا یا میڈیکل سٹور سیل کر دینا زیادتی ہے ۔

ڈرگ اینڈ کیمسٹ ایسویسی ایشن کے خلاف سول سوسائٹی کی جانب سے لیاقت باغ میں مظاہرہ کیا گیا ۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جن پر انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف نعرے درج تھے ۔یہ مظاہرہ اس لیے کیا گیا کہ بڑی تعداد میں مریض میڈیکل سٹورز بند ہونے اور ادویات کی عدم فراہمی کی وجہ سے شیدید مشکلات کا شکار ہیں ۔سول سوسائٹی کی جانب سے کیے گئے احتجاج کے بعد پنجاب بھر کے میڈیکل سٹور مالکان اور فارماسوٹیکل کمپنیز نے ہڑتال ختم کر نے کا اعلان کیا ہے ، پنجاب حکومت نے ترمیمی ایکٹ 2017ء میں ترامیم اور سزاؤں کے حوالے سے نظرِ ثانی کرنے کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔ کمیٹی میں میڈیکل سٹور مالکان بھی شامل ہوں گے ۔میڈیکل سٹور مالکان سے صوبائی وزیر رانا ثنا اﷲ، خواجہ عمران نذیر نے مذاکرات کئیے اور ان مذاکرات کے بعد صوبہ بھر میں میڈیکل سٹور ز کو کھول دیا گیا ہے ۔

اب جانیے ! کچھ حقائق ادویات کے کاروبار کے حوالہ سے ۔ پاکستان میں جعلی ادویات کا کاروبار عروج پر ہے ۔ جعلی ادویات کی فروخت پر میڈیکل سٹورز مالکان کو پچاس فی صد جبکہ اصل ادویات کی فروخت پر پانچ سے دس فی صد منافع دیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ جعلی ادویات بنانے والے کو بھی کثیر منافع حاصل ہو تا ہے ۔ اگرچہ یہ قانون کسی بھی طبقے کا معاشی قتل کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا تاہم چونکہ میڈیکل سٹور مالکان کو منافع کی مد میں کمی نظر آ رہی اس لیے میڈیکل سٹور مالکان سٹرکوں پر نکل آئے ہیں ۔ ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں ادویات کی فراہمی معطل کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے زیر علا ج مریضوں کو ادویات نہیں مل پا رہی ۔ ادویات کی عدم فراہمی کی وجہ سے بڑی تعداد میں جانوں کے ضیا ع کا خدشہ ہے۔

جعلی ادویات بنانے والے ہی نہیں ، موت کا کاروبار کرنے والے میڈیکل سٹور مالکان بھی ہیں جو اپنے منافع ے لیے جعلی ادویات کے خلاف بنائے جانے والے قانون کے خلاف سٹرکوں پر نکل آئے ہیں ۔ صرف یہی نہیں ادویات کی عدم فراہمی نے مریضوں کو قبل از وقت موت کا مسافر بنا دیا ہے ۔

اس تمام صورت حال میں جو سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے وہ عام آدمی ہے ۔ ایک جانب تو جعلی ادویات انسانی جانوں کے لیے آلہ قتل بنتی جا رہی ہیں ۔ اصل اور جعلی ادویات میں فرق کرنا تقریبا نا ممکن ہو چکا ہے ۔ مارکیٹوں میں جعلی ادویات عام ملتی ہیں اور ان ادویات کو پہچاننے کا کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے ۔ جعلی ادویات بنانے والے ازخود انسانیت کے دشمن ہیں ۔یہ ادویات بنانے والے میڈیکل سٹور مالکان کو کثیر منافع دے کر یہ ادویات سٹورمیں رکھوا دیتے ہیں ۔ میڈیکل سٹور مالکان اپنے منافع کے لیے یہ ادویات فروخت کرتے ہیں ۔ صرف یہی نہیں ڈاکٹر حضرات بھی اس کاروبار کا حصہ ہیں ۔ انھیں بھی مخصوص ادویات تجویز کرنے پر کمشن دیا جاتا ہے ۔ یہ ایک ایسی کڑی ہے جس میں صحت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے سبھی شامل ہیں ۔ ہر ایک اپنی اپنی سطح پر منافع کمانے کی غرض سے انسانی جانوں سے کھیل رہا ہے ۔ صحت کا شعبہ اس حد تک نازک شعبہ ہے کہ اس کا تعلق براہ راست انسانی جان سے ہے ۔

جعلی ادویات کا کاروبار کرنے والے ، ان کو فروخت کرنے والے درحقیقت موت کے سوداگر ہیں جو انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں ۔ موت کے یہ سوداگر اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ اگر آج کوئی اور یہ ادویات استعمال کرنے کے باعث اپنی جان کی بازی ہار رہا ہے تو کل کو ان کا کوئی پیار ا بھی اسی راہ کا مسافر ہو سکتا ہے ۔ ان کی ادویات کا شکار ہوکر ان کا کوئی عزیز بھی نقصان اٹھا سکتا ہے ۔دنیا کے قانون کے خلاف مظاہرہ کرکے اگر اس قانون کو لاگو ہونے سے روک بھی دیا جائے تو اﷲ کی پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا ۔ ہم میں سے ہر ایک اﷲ کی بارگاہ میں اپنے عمل کا جوابدہ ہے ۔ہر ایک کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے ۔ دنیاوی ددولت کے حصول کے لیے کسی اور کی جان کا سودا کرنا کسی طور جائز نہیں ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maemuna Sadaf

Read More Articles by Maemuna Sadaf: 165 Articles with 95456 views »
i write what i feel .. View More
17 Feb, 2017 Views: 508

Comments

آپ کی رائے