موت کے سوداگر

(Farid Razzaqi, )
پاکستان میں تب تک حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگتی جب تک کوئی جانی و مالی نقصان نہ ہو جائے۔ 2014 میں ایک بل حکومت اپنی اکثریتی طاقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاس کرتی ہے کیمسٹ ، فارماسیوٹیکل ، دواساز کمپنیاں دہائی دیتی ہیں کہ ہمارا مؤقف بھی جان لیجیے ، لیکن مغل اعظم اپنے شاہی فرمان کے آگے کسی کی بات سننے کے کہاں قائل تھے۔ پھر دواساز کمپنیاں اپنی ہی حکومت کو متوجہ کرنے کے لیے اخبارات میں اشتہارات کا سہارا لیتی ہیں کہ خدارا ہمارا مؤقف بھی جان لیجیے کہ جعلی اور اصلی ادویات میں کیا فرق ہے ؟لیکن مغل اعظم نے نہ سننا تھی اور نہ سنی۔ دواساز کمپنیوں نے احتجاج کی کال دے دی۔ شہنشاہ کو کیا پرواہ شٹر ڈون سے اس کو کیا سروکار ہوسکتا تھا۔ تنظیم کے مرکزی صدر طاہراعظم نے ایکسپریس کے پروگرام کل تک جاوید چوہدری کے ساتھ یہ انکشاف کیا ہے کہ ہم خواجہ سلمان رفیق اور دیگر صوبائی وزرا سے ملے انہیں اپنا مؤقف دیا صوبائی وزیر نے اتفاق کرتے ہوئے اپنی بے بسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف ہی اس پر کوئی فیصلہ لے سکتے ہیں اور ہم اس پر کچھ نہیں کرسکتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ صوبائی وزرا اتنے بے بس ہیں اور فرد واحد نے تمام فیصلے خود ہی کرنے ہیں تو پھر یہ جمہوریت کا ڈرامہ کیوں ؟ بادشاہ اور شاہی خاندان نے ہی فیصلے کرنے ہیں تو اداروں کے خرچ عوام کیوں اٹھائے؟ عدالتوں کو تالے لگادینے چاہییں جاتی عمرہ اور وزیراعلی ہاؤس کے ساتھ ساتھ شاہی خاندان کے ہر فرد کو یہ باقاعدہ اعزاز دے دینا چاہیے کہ وہ ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ ظلِ الٰہی کی رضا ہوگی تو آپ کا موقف سنا جائے گا نہیں تو آپ جائیں بھاڑ میں۔ یہی ہوا کہ دواساز کمپنیاں مال روڈ پر احتجاج کے لیے جمع ہوتی ہیں لیکن حکومتی وزیروں کو فرصت ارے نہیں جرأت نہیں ہوتی کہ وہ ان سے جاکر مذاکرات کریں۔ جبکہ انٹیلی جنس رپورٹس یہ تھیں کہ لاہور میں 2 خودکش بمبار داخل ہوچکے ہیں پھر بھی فول پروف سیکیورٹی میں گھومنے والے خادم اعلیٰ کے دعویدار نے اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھی۔ لوگوں کی جان کو کوئی پرواہ تھی نہ ہے نتیجہ وہی نکلا جس کا خدشہ موجود تھابھیڑیوں کو بالکل آزادی دے دی گئی کہ وہ انسانیت کو چیرپھاڑ ڈالیں۔ ایک وحشی درندہ آتا ہے اورلاہور کے سب سے حساس ایریا میں دھرنے پربیٹھے لوگوں کو نشانہ بناتا ہے پولیس کے اعلی افسران کو نشانہ بناتا ہے اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہرتا ہے۔

یہ سانحہ ہوچکا ظل ِالٰہی فول پروف سیکورٹی کے حصار اور لواحقین کو ہسپتالوں سے بے دخل کرکے ہسپتال کا دورہ کرکے زخمیوں کے ساتھ سلفیاں لے چکے ہیں۔ عوام کو بھی لاشیں اٹھانے کی لت لگ چکی ہے۔ اس لیے اب اس پر کیا سوگ منانا لیکن عوام کی اکثریت تو یہی سمجھ رہی ہے کہ یہ موت کے سوداگر تھے جو خود موت کاشکار ہوگئے کیونکہ صبح و شام الیکٹرانک میڈیا پر مہنگے اشتہارات ، پرنٹ میڈیا پر پورے صفحے پر مشتمل موت کے سوداگر کے اشتہارات دیکھنے کے بعد عوام کیوں غمگین ہو کر ان کاغم منائے ۔ ایسے موت کے سوداگروں کو جینے کاکوئی حق حاصل نہیں تھا ۔ ان کوو یسے بھی بہت جلد سلاخوں کے پیچھے عمر قید یا سزائے موت کی سزا ہوجانا تھی۔ اگر ایک خود کش نے ان کاراستہ آسان کردیا تو غم کیسا ؟ یہ سطریں پڑھ کر آپ مجھے پاگل کاطعنہ دیں گے اور آپ کا بس چلے گا تو میرا گریبان بھی پکڑ لیں گے لیکن حضور تحمل سے کام لیجیے اور میری اگلی سطریں پڑھ کر خود فیصلہ کیجیے گاکہ میں نے کیا غلط کہاہے؟ کیا آپ بھی میری طرح اشتہارات دیکھ اور پڑھ کر اب تک اس نتیجے پر نہیں پہنچ چکے تھے کہ یہ سب موت کے سوداگر ہیں۔ مال رو ڈ پر پندرہ بیس ہزار یہ موت کے سوداگر کیوں جمع ہوئے اس کا پس منظر کیا ہے ؟ اس سے کم ہی لوگ واقف ہوں گے اور مجھے شکوہ ہے ان موت کے سوداگروں سے بھی ہے کہ جو یہ اعزاز لیے پھرتے رہے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے لیکن اپنے معاشرے میں موجود لوگوں کو اپنا مدعابیان نہ کرسکے ۔ انہیں اپنی صفائی نہ دے سکے ۔ پاکستان کا میڈیابھی مہنگے اشتہارات کے عوض ان کی آواز کو دبا تا رہا۔ اصل حقیقت کیاہے وہ جانیے اور اگر ہوسکے تو ان موت کے سوداگروں میں تمیز ضرور کیجیے گا۔ یہ 2012ء کی بات ہے جب پاکستان پر آصف علی زرداری صاحب مسلط تھے ۔ فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے 1976 کے ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے ڈرگز کی تعریف تک بدل کر رکھ دی تھی۔ اور ایک لفظ کی ہیر پھیر سے وہ بگاڑ پیداکیا جس کی تلافی نہیں کی جاسکتی ۔ 2012ء میں فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے ہر بل ادویات کو ایلوپیتھک ادویات کی نسبت جو استثنیٰ حاصل تھا اسے انگریزی کے ایک لفظ ’’Excluding‘کی جگہ ’’Including‘‘ کااستعمال کرکے بچوں کا دودھ فنائل ، صابن ، شیمپو وغیرہ تک سب کو ڈرگ کا درجہ دے دیا۔ یوں ایک نقطے کی غلطی نے محرم سے مجرم بنادیا۔ اداروں نے دہائی دی لیکن انہیں تسلی دی گئی کہ ہم اسے واپس لے لیں گے۔ خیر پھر شیر دھاڑا اور پاکستان کامالک بن بیٹھا ۔SRO-412کے تحت 2014ء میں وفاقی حکومت نے ہربل اداروں کو کہاکہ وہ اپنے آپ کو ان لسٹ کرالیں ۔ اداروں نے کہاہمیں کیا اعتراض ہے۔ ہم اپنانام درج کراتے جاتے ہیں۔ اسی دوران دھوکہ دہی سے ان اداروں کی رجسٹریشن کاآغاز کردیاجاتاہے ۔

یہ وفاقی معاملہ ہوتا یہاں صوبائی شیر کو ہوش آتاہے اور خواجہ عمران نذیر سٹینڈنگ کمیٹی فار ہیلتھ پنجاب کے چیئرمین بنتے ہیں اور اپنے فرنٹ مین بدنام زمانہ ڈرگ انسپکٹر شوکت وہاب کے ساتھ سرگرم عمل ہوتے ہیں۔ اور پنجاب کے میڈیکل سٹورز پر چھاپوں کاآغاز ہوتاہے۔ جائز و ناجائز جرمانے کیے جاتے ہیں ۔ خواجہ عمران نذیر میاں شہباز شریف کے ذاتی معالج پروفیسر فیصل مسعود جوکئی میڈیکل کالجز اور ہسپتالوں کے وائس چانسلر رہ کر بھی اپنا منصب نہیں کھوناچاہتے تھے کے ذریعے میاں شہباز شریف کو یہ کہتے ہیں کہ اس پر قانون سازی کی جانی چاہیے۔ اور پھر میاں شہباز شریف صاحب کی انگلی کھڑی ہوجاتی ہے ۔ یوں نیا قانون بن جاتاہے۔ بنانے والے ڈاکٹر اور وزارت قانون کے لوگ دواسازی کے عمل کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہوتے۔ یہ پاکستان میں جو صبح و شام جعلی ادویات کاخوف و ہراس پھیلایا جارہاہے آپ کو جان کر حیرانگی ہوگی کہ اس کی نسبت 3فیصد سے بھی کم ہے لیکن حکومت نے چالاکی کامظاہرہ کرتے ہوئے جعلی اور غیر معیاری ادویات کو ایک ہی تعریف دے ڈالی ۔ جبکہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ غیر معیاری ادویات جوکہ عموماً کسی انسانی غلطی یا موسم سے متاثرہ ہو اسے جعلی قرار دیاجاسکتاہو۔ چنانچہ شہنشاہ کی خواہش کے مطابق بل پاس کرلیاجاتاہے۔ جس کے تحت یہ طے پاتاہے کہ غیر معیاری ادویات اور رولز کو فالو نہ کرنے پر 5سے 15کروڑ روپے تک کاجرمانہ جبکہ 15سال تک قید کی سزا دی جائے گی ، اور یہ سزا ڈرگ انسپکٹر کی سفارش پر دی جائے گی۔ اس کے خلاف اپیل صرف ڈرگ کورٹ میں کی جاسکے گی۔ اب یہ ڈرگ کورٹ سے متعلق بھی جان کر آپ کو حیرت کے جھٹکے لگیں گے کہ لاہور میں واحد جج ہے اسی طرح ایک ملتان میں ہے پورے پنجاب میں کوئی 5ڈرگ کورٹ کے جج ہوں گے جن کی تقرری بھی سیاسی ہوتی ہے۔ ایسے میں یہ جج حکومت کے خلاف کیسے کوئی فیصلہ دے سکتا ہے۔ یہاں آپ پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے ۔ اب قید اور جرمانہ آپ کامقدر ٹھہرتا ہے اگر آپ اس کے خلاف ہائی کورٹ جانے کاارادہ رکھتے ہیں تو اس کے لیے ہائی کورٹ کا ڈبل بنچ بنے گا تو آپ کی بات پر کان دھرے جائیں گے جبکہ ایسا قتل کے مقدمے میں ہوتا ہے۔ اتنے سخت قوانین جبکہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ آپ کا سسٹم کرپٹ ہے کہ جہاں پر دس روپے رشوت نہ ملنے پر سرکارکے اہلکار غصے سے بے قابو ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں میڈیکل سٹور پر 24گھنٹے اسے سی کیسے چلائے جاسکتے ہیں جبکہ بجلی موجود نہ ہو؟ گردو غبار کاطوفان گلیوں اور بازاروں میں موجود ہو تو میڈیکل سٹور گردو غبار سے کیسے پاک ہوسکتے ہیں؟ ڈرگ انسپکٹر پہلے ہی اپنے اختیارات کاناجائز استعمال دھڑلے سے کررہے ہیں تو اس قانون کے تحت تو وہ فرعون بنے پھر رہے ہوں گے۔

آپ ذرا موجودہ صورت حال کااندازہ لگالیجیے کہ پاکستان کی ہربل انڈسٹری عملاً بند ہوچکی ہے۔ جس کا سہرا پنجاب حکومت کے سر پر ہے۔ دوا ساز کمپنیوں نے عدالت سے سٹے آرڈر لے رکھاہے اس کے باوجود چھاپہ مارٹیمیں سرگرم ہیں اور دواساز کمپنیوں کامعاشی اور سماجی استحصال جاری ہے۔ پاکستان کی دواساز کمپنیوں کامطالبہ ہے کہ ہمیں کچھ وقت دیاجائے ہم مزید بہترمعیار اپناتے ہیں لیکن حکومت اپنے پس پردہ مفادات پر ہرگز سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔

یہاں بھارت سرگرم ہوتاہے اور پاکستان کی دواساز کمپنیوں کے خلاف پراپیگنڈہ کرتاہے جن ممالک میں پاکستان کی ادویات فروخت کی جارہی ہوتی ہیں وہاں پنجاب حکومت کے اشتہارات پہنچائے جاتے ہیں۔ پاکستان کی کمپنیوں کو کہاجاتاہے کہ آپ کاوزیراعلیٰ آپ کو موت کاسوداگر کہہ رہاہے تو ہم کیونکرآپ کی دوائیاں خریدیں۔ افغانستان جیسا ملک پاکستان کی ادویات خریدنے سے انکاری ہوجاتاہے۔ حکیم اجمل جن کا قیام پاکستان میں کردار کوئی فراموش نہیں کرسکتا ان کے دواخانے پر تالے پڑ ے ہیں ۔ مرحبا ، قرشی اور دیگر پاکستانی ادارے جنہوں نے ایلوپیتھک کے مقابلے میں تحقیق کرکے پاکستان میں اور بین الاقوامی اداروں میں اپنا نام کمایا ہے ۔ ہیپاٹائٹس تک کا علاج دریافت کیا ہے انہیں موت کے سوداگر کہہ کر مخاطب کیاجارہاہے۔ خدانخواستہ آج پاکستان پر ایسے برے حالات آجاتے ہیں بیرون ممالک سے ادویات نہ مل سکیں تو پاکستان کیا کرے گا ؟ اس کاجواب آپ کی حکومت کے پاس نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس پر سوچنا چاہتی ہے۔ اب ذرا دیگر ممالک کو جانیے جنہوں نے اپنے روایتی طریقۂ علاج کی سرپرستی کرتے ہوئے پیش رفت کی ۔ بھارت سے محبت کے گن گائے جاتے ہیں تو پہلی مثال بھارت کی ہی لے لیجیے۔ بھارت میں باقاعدہ وزارت موجود ہے جو اپنے روایتی طریقۂ علاج کی پرموشن پر کام کررہی ہے۔ اور دنیابھر میں اپنی کمپنیوں کی برینڈنگ کا فریضہ سرانجام دے ر ہی ہے۔ ’’انڈین ٹریٹمنٹ ‘‘ کے نام پر روایتی طریقۂ علاج کو قدر کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔ اس وقت جب ہماری کمپنیوں کو تالے لگائے جارہے ہیں بھارت سے دھڑا دھڑ ادویات منگوا کر پاکستان کے گن گائے جارہے ہیں۔ بھارت کی 12دواساز کمپنیاں ڈابر ، ہمالیہ وغیرہ پاکستان میں ادویات سپلائی کررہی ہیں۔ چین ہمارا دوست اور ہمسایہ ملک اس کی لوکل انڈسٹری ہربل پر انحصار کرتی ہے۔ جاپان جیسا ترقی یافتہ ملک اپنے روایتی طریقۂ علاج ’’کومپو‘‘ کو اپنائے ہوئے ہے۔

جبکہ ہم بے بسی کے بت بنے بیٹھے ہیں اور منتظر ہیں اگلے کسی کاری وار کے۔ مغل اعظم کو نہ تو کسی شہید کے لہو کی پرواہ ہے اور نہ ہی کسی زخمی کے سسکنے سے کوئی فرق پڑنے والا ہے۔ انہوں نے تو اپنے صاحبزادوں کو آزادی دی ہے کہ وہ جیسے چاہیں پاکستانی رعایا کے ساتھ سلوک کریں۔ بھارت سے ادویات منگوائین یا ترکی سے معاہدے کریں انہیں مکمل آزادی حاصل ہے وہ جیسے چاہیں تجارت کریں پاکستانی کمپنیاں جائیں بھاڑ میں۔ ارے یہ کیا طب نبوی اور ہومیوپیتھک سستا علاج ہے غریبوں اور متوسط طبقے کو فائدہ پہنچ رہا اس پر بھی مکمل پابندی عائد کردو جبکہ خود یہ سیاہ ست دان انہی حکماء اور ہومیو پیتھک ایکسپرٹ سے اپنی مردانہ کمزوری اور بانجھ پن کا علاج شاہی خرچ سے کروائیں لیکن عوام کیوں کرائے؟ سیانے کہتے رہے قوم نے کان نہ دھرا کہ کسی تاجر کے ہاتھ حکومت نہ دی جائے۔ پاکستان میں کپڑا لوگ زیب تن کریں تو انہی کے یار دوست کی ملز کا، چینی استعمال ہو تو شریف ملز کی ،سریا بکے تو اتفاق فا ؤنڈری کا، پولٹری کی ضرورت ہوتو چھوٹے میاں کی دودھ چاہیے ہوتو شاہی دودھ فروخت ہوگا، ٹرانسپورٹ چلے گی تو اپنے لوگوں کی کمپنی کی چلے گی۔ چاہے ابر اور کریم سستی ہی کیوں نہ ہو۔ کوڑا کرکٹ اٹھانا ہوتو اپنے مفادات کے تحت۔ پھر بھی پاکستانیوں کی آنکھیں نہیں کھلتیں ، لاشیں اٹھاتے جاتے ہیں بغاوت نہیں کرتے اور نعرہ لگتا ہے ہم زندہ قوم ہیں اور آزادی کے شادیانے بجائے جاتے ہیں۔ اس ساری صورت حال میں معذرت کے ساتھ پاکستان ایک قوم کہیں کھڑی دکھائی نہیں دے رہی بلکہ ایک رعایا ہے وہ بھی وہ رعایا جو کرائے کے لیے دستیاب ہے جسے قومی غیرت کا اٹھتا جنازہ دکھائی نہیں دیتا۔ پاکستان میں تجارت کا حق صرف شاہی خاندان کو حاصل ہے وہ کسی بھی ملک کے ساتھ ہو یا کسی لوکل انویسٹر کے ساتھ۔ اس لیے لوگ مرتے رہیں گے اور انکی تجارت چلتی رہے گی۔ ترکی اور بھارت سے مہنگی ادویات منگوا کر کمیشن مافیا سرگرم عمل ہے۔ اور جو پاکستان کی انڈسٹری کا پہیہ چلاکر پاکستان کی رگوں میں زندگی کی روانی چاہتے ہیں انہیں موت کے سوداگر کہہ کر مخاطب کیاجارہاہے۔ ان موت کے سوداگروں کا یہی انجام ہونا چاہیے تھا۔ اس لیے رعایا کو چاہیے کہ وہ شہنشاہوں کے گن گائیں اور پاکستان کی انڈسٹری کی تباہی کاجشن منائیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Farid Razzaqi

Read More Articles by Farid Razzaqi: 15 Articles with 6590 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Feb, 2017 Views: 546

Comments

آپ کی رائے